تہذیبِ مشرق و مغرب سیکولرازم اور دیسی لبرل

بے حجاب آج چلی لیلیٰ سوئے دشتِ جنوں۔ ویلنٹائن ڈے سپیشل


 ناخوشگوار حیرت اور افسوس ہوا کہ عام دوکانوں کے ساتھ ساتھ اب تعلیمی کتب فروخت کرنے والی بک شاپس پر بھی بڑے خوشنما مگرجذبات بھڑکانے والے پیغامات کے ساتھ ویلنٹائن کارڈز اورریڈ ہارٹ غباروں کے بینرز آویزاں ہوتے ہیں ۔ گویا غیبی آواز میں خظرے کی گھنٹی ہے کہ لیجیے جناب چودہ  فروری کا اخلاق شکن مغربی وائرس اب ٹین ایجزر طلبا و طالبات تک بھی آن پہنچا ہے۔ آج سیاسی اور رومانوی ویلنٹائن معرکوں کیلئےدیسی مرغی ولائیتی انڈہ برانڈ سیاسی مسخرے اورموبائیل پیکجزکے تربیت یافتہ کاکے کاکیاں زور وشور اور جوش و جذبہ کے ساتھ ولائتی آہنگ و انداز لیے میدان عمل میں موجود ہیں۔ ۔ پھولوں کی دکانوں اوردل نما تحائف کے بازاروں میں ایسی رونق کہ مانو کل دس عیدیں اکٹھی سر پر آن پڑی ہیں۔ جن بدنصیبوں کی کوئی محبوبہ نہیں وہ بیچارے بازارحسن کا رخ کئے ہوئے اس بازار کی منڈی میں سجے خوش رنگ جنس اوردل کی علامت والے تحفے تحائف دیکھ کر ہی دل بہلا رہے ہوں گے۔ ہمارے ذرائع ابلاغ، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی بھی کیا خوب چاندی ہے کہ ایک طرف انڈین گیتوں سے مزین سلائیڈز چلا کر روشن خیال سیاست دانوں سے” مبارکبادیں” لے رہے ہیں اور دوسری طرف ویلٹائن ڈے کےحوالے سے گوری ملٹی نیشنل کمپنیوں کے رومانٹک پروگرامز کی سپانسرشپ اور ویلنٹائن ڈے کے ہوشربا اشتہارات سے ڈالروں اور پاؤنڈوں کی گٹھریان بھی سمیٹ رہے ہیں۔ بیہودگی کی رہی سہی کسر کو پورا کرنے کیلئے سوشل میڈیا اور فیس بک کے دل پھینک عاشقین و معشوقین کے روح پرور پیغامات اور دلربا فوٹو شیئرنگ ہی کافی ہیں۔ اور پھرموبائیل فونز پر والہانہہ عشق کے مقدس میسیجزکا کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا دریا عاشقوں کی وادی کے اس رنگ رنگیلے منظر کے حسن میں چار چاند لگا دیتا ہے۔ آج پاکستان کی ملکہ عالیہ بننے کے خواب دیکھنے والی محترمہ حنا ربانی کھر صاحبہ نے بھی اپنےخوابوں کے شہزادے بلاول زرداری بھٹو اورمیڈم شیریں رحمان نے زرداری صاحب کو محبتوں بھرا سلام ضرور بھیجا ہو گا۔ آج سمیرا ملک اور عائلہ ملک جیسی تمام سیاسی مٹیاروں کو بھی اپنے اپنے سیاسی قائدین کی طرف سے خوبصورت ویلنٹائن کارڈ موصول ہوئے ہوں گے۔ سو ہم بھی امریکہ کے پسندیدہ اسلام کےعلمبردار، کرسمس کیک کاٹ کر صلیبی جنگوں کے مقدس مجاہدین سے والہانہ راہ و رسم بڑھانے کی تحریک کے مرکزی کردار کینیڈین کرسمس قادری صاحب اور لندن  مافیہ کے خصوصی مہمان الطاف بھائی کی خدمت اقدس میں مبارکباد پیش کرکے کنٹینری مہمات میں پے در پے ناکامیوں اور سکاٹ لینڈ یارڈ کی بناؤٹی یلغار سے لگے کھٹے میٹھے صدمات ضرورکم کریں گے۔

val3اس مقدس عیسائی تہوار کے موقع پر ایک بار پھر اس دن کے حوالے سے حقائق معزز احباب کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔ یاد رہے کہ دیوی اور دیوتاؤں کے پجاریوں کے دیس روم میں عیسائیت منظرعام پرآئی تو عیسائیوں نے کلیسائے روم کو مرکز قرار دے کر جشن منانے کیلیے اسی 14 فروری کے دن کا انتخاب کیا تھا۔ کیونکہ یہی وہ دن تھا جب رومیوں نے ایک عیسائی پادری عاشق مسٹر ویلنٹائن کو سزائے موت دی تھی۔ مسٹر ویلنٹائن کی پھانسی کے قصے کے پس منظر میں حالات و واقعات کا مختصر بیان کچھ یوں ہے۔ کہ رومی بادشاہ کلاڈیئس دوئم کے دور اقتدار میں جاری جنگ و جدل میں اس حد تک قتل و غارت ہوئی کہ فوج میں بھرتی کیلیے مرد کم پڑ گئے تھے۔ لہذا نوجوان مردوں کی طرف سے بیویوں کو چھوڑ کر جنگ میں جانے سے کترانے پر، بادشاہ نے اسے مسلہ کا حل سمجھتے ہویے شادیوں پر ہی پابندی عائد کر دی تھی ۔ جس کے ردعمل میں اس عیسائی پادری ویلنٹائن نے عیسائیت کی طرف سے مذاحمت اور تبلیغ مذہب کیلئے خفیہ شادیوں کا پروگرام بنایا۔ مابعد اس تحریک کے افشا ہونے پر اسے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔ پھراس لازوال داستانِ عشق کا آغاز ایسے ہوا کہ سب دل پھینک عاشقوں کے آئیڈیل ویلنٹائن کا معاشقہ جیل کے داروغہ کی بیٹی سے چل نکلا اور یوں  ویلنٹائن اور اس کی محبوبہ کا سلسلہء وصل، شہرہء آفاق مقتلِ محبت تک جا پہنچا ۔ چونکہ عیسائی مذہب میں ان کے پادریوں کے شادی کرنے پر پابندی تھی، سو شاہ نے ویلنٹائن کو یہ پیشکش کی کہ اگر وہ عیسائیت چھوڑ کر  دیوی دیوتائوں کا مذہب اختیار کر لے تو اسے معافی کے ساتھ ساتھ شاہی محل میں قربتِ بادشاہی اور شہزادی کا رشتہ بھی دیا جائے گا۔ لیکن ویلنٹائن کی طرف سے ایک سچےعاشق کی طرح انکار کے بعد رومی جشن سے ایک روز قبل یعنی 14 فروری 270 عیسوی میں اسے سزائے موت دے کر شہید محبت بنا دیا گیا۔ مرنے سے پہلے اس نے جیل انچارج کی بیٹی کو جو آخری خط لکھا اس کے الفاظ تھے تمہارے ویلنٹائن کی جانب سے پھر یوں یہ رسم چلی اور چلتی گئی۔ عیسائیوں نے اپنے مقدس پادری کی اس رسم کو عقیدت کے طور پر اپنایا لیکن آج صدیاں گزرنے کے بعد، بالخصوص گزشتہ چند سالوں سے جب ہمارے ہاں بے لگام و مادر پدرآزاد میڈیا ابلاغیات کا طوفان لیکر آیا ہے۔ مغربی تہذیب کی کافرانہ تقلید کرنے والے روشن خیال اندھیرے مسلمانوں نے بھی اسے کسی عید اور قومی تہوار کی طرح کھلم کھلا منانا شروع کر دیا ہے۔ اور پھر دعویء مسلمانی بھی بالکل ایسے ہی ہے جیسے عاصمہ جہانگیر، ماتھے پر جوگیا تلک لگایے اور گلے میں رامائن و دیوی کی مالا پہنے بھارتی مندروں میں کالی دیوی اور گنیش جی کے بتوں کی پوجا پاٹ کے بعد بھی ” پکی مسلمان ” ہیں۔

val2محبت اور رومانس کے نام پر مغرب برانڈ عریانیت اور امریکی طرز کی کھلی فحاشی کو فروغ دینے والا یہ رنگین تہوار پہلے پہل صرف امریکہ اور مغرب کی اخلاق واقدار سے عاری مدہوش محفلوں اور شراب کے نشے میں جھومتے گاتے نائٹ کلبوں میں روایتی جوش و خروش سے منایا جاتا تھا۔ مگر اب مغرب پرست روشن خیالوں، ننگ اسلاف دانشوروں اور مغربی دھنوں پررقصاں مشرقی میڈیا کی خصوصی عنایات کی بدولت شہر شہرگاؤں گاؤں مغرب اوراس کی بدبخت تہذیب کی اندھی تقلید اور مادر پدرآزادی کا دور دورہ شروع ہے۔ مغربی افکار و انداز سے متاثر روشن خیال اہل مشرق بھی ننگے مغرب کی بیہودگی اورعریانیت کی نقالی اور فحش رسم ورواج کو اپنانے ہی میں زندگی کی رعنائی سمجھتے ہیں۔ لیکن جنسی جرائم کی آماجگاہ امریکہ اور مغرب کے اخلاق واقدار کی دھجیاں بکھیرنے والے رسم و رواج، دہریانہ تہوار اور خصوصی دنوں کو اپنے دین وشریعت کی کسوٹی پر پرکھے بغیر بلاچون و چرا ماننے، منانے اور جشن برپا کرنے کو روشن خیال اور مہذب ہونے کی علامت سمجھنے والوں سے صرف ایک سوال ہے کہ ان کی غیرت یہ کیونکر برداشت کر پاتی ہے کہ کہیں ان کی بہن یا بیٹی بھی اسی طرح کسی غیر و نامحرم کی بانہوں میں جھول کر مدہوش ویلنٹائن بن رہی ہوگی جیسے وہ کسی کی بہن یا بیٹی کے ساتھ ویلنٹائن ڈے کی بدمستیوں میں مست ہیں۔ حق بنتا ہے کہ جاتے جاتے شکستہ دل کینیڈین قادری صاحب کے صلیبی آقاؤں اور چہیتے عیسائی دوستوں کے روشن خیال تہوار ویلنٹائن ڈے کی رنگ رنگیلیوں کے مبارک موقع پر انگلستان میں یہودی سرپرستوں کی پناہ میں بیٹھے ویل۔ اینڈ ۔ ٹایٹ جلا وطن پیر آف لندن شریف الطاف حسین اور دین اسلام و مملکت پاکستان کے بدترین دشمن گروہ، انجہانی مرزا قادیانی کے دجالی خلیفہ مرزا مسرور کلٹ جیسے سب صلیبی کارندوں کو بھی معرکہء عشق کے انجہانی عیسائی پادری ویلنٹائن کے” یوم شہادت ” کی مبارک باد پیش کریں۔ افسوس کہ قادری صاحب کی پیاری بہن محترمہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ اس سال بھی اپنے محبوب لیڈر انجہانی بال ٹھاکرے جی کو ویلنٹائن کارڈ نہیں بھیج سکیں گی۔ پاکستانی وزیر اعظم بننے کے خواب دیکھنے والی ،اوبامہ جی اور سرحدی گاندھی کی لاڈلی، نئی نویلی  دوشیزہ میڈم ملالہ جی نے کسے کسے ویلنٹائن کارڈ بھیجا ہے، کسی کو کچھ معلوم نہیں۔۔۔

val1

بے حجاب آج چلی لیلیٰ سوئے دشتِ جنوں
پارسائی کسی مجنوں کی کہاں ٹھہرے گی

شیخ و واعظ کا بیاں، فلسفہ ء عشق بتاں
عاشقی دیر و کلیسا کی اذاں ٹھہرے گی

(  فاروق درویش۔۔۔ واٹس ایپ ۔۔ 03224061000 )

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

1 Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

  • دیوی اور دیوتاؤں کے پجاریوں کے دیس روم میں عیسائیت منظرعام پرآئی

    a land mark in history of which much are ignorant

Featured

%d bloggers like this: