بین الاقوامی تہذیبِ مشرق و مغرب حالات حاضرہ نظریات و مذاہبِ عالم

دہشت گردی یا نائن الیون ڈرامہ پارٹ ٹو ۔۔ پیرس اٹیک


مغرب و سامراج کی منافقت در منافقت پر مبنی اسلام دشمنی اور ہر پل رنگ بدلنے والی دوغلی پالیسیوں کی فہرست بھی کسی مغربی طوائف کے معاشقوں کی رنگین داستان جیسی طویل ہے۔عالمی بادشاہ گروں اور ان کے پالک دانشوروں کیلئے دہشت گردی کیخلاف جنگ کی آڑ میں ڈرون حملوں سے نہتے شہریوں اور معصوم بچوں کا قتل عام جائز مگر پاکستان کی طرف سے  دہشت گردوں کو پھانسی کی دینا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ توہین رسالت کے مرتکب فرانسسی جریدے چارلی ایبڈو نے کئی بار نبیء آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم  کے بارے ایسے قابل صد اعتراض اور تضحیک آمیز خاکے شائع کئے تو تمام مسلمانوں کے جذبات کا شدید مجروح ہونا فطری امر تھا۔ جس کے ردعمل میں چند شدت پسند مسلمانوں نے پیرس میں واقع اس ادارے کے دفتر پر مسلح حملہ کر کے سترہ افراد کو ہلاک کر دیا۔ ادارے کی ہسٹری اور ریکارڈ کے مطابق یہ جریدہ زیادہ تر سیاسی طنز و مزاح کا مواد شائع کرتا ہے۔ اور اس کے ساتھ زیادہ تر ایسے سیکولر صحافی وابستہ ہیں جو مذہب پسند سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ قابل توجہ امر ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والا یہ صحافتی ادارہ اپنی  طنز و مزاح پر مبنی اشاعتوں میں صرف اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کیخلاف نہیں،  بلکہ کیتھولک ازم اور یہودی ازم  پر بھی کھلی تنقید کرتا ہے۔ عالمی مبصرین کے مطابق قرآن و رسالت کے علاوہ دوسرے مذاہب کے بارے بھی توہین آمیز کارٹون اور خاکے شائع کرنے سے ایسے شکوک پیدا ہوتے ہیں کہ متذکرہ ادارہ بین المذاہب منافرت پھیلا کر کسی بین الاقوامی امن دشمن سازش کا حصہ بنا رہا ہے۔

paris-attack1

 خیال رہے کہ ایسے سنگین  معاملات یک دم  رونما نہیں ہوتے۔ ماضی کے حالات و واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مختلف اداروں اور طریقوں کی مدد سے مغربی مسلمانوں کیخلاف نفرت کی فضا پیدا کر کے، پابندیاں لگوانے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔ تعجب خیز ہے کہ  فرانس میں خواتین کو جسم فروشی اور قحبہ خانے چلانے کی اجازت تو ہے مگر مسلمان خواتین کو حجاب کی اجازت نہیں۔ شراب خانوں پر کوئی پابندی نہیں لیکن ہاں بعض اداروں میں نماز کیلئے وقت نہیں دیا جاتا۔ اور پھر سب سے بڑھ  کر جو ناقابل برداشت زیادتی ایک تسلسل کے ساتھ  ہو رہی ہے ۔ وہ اسلام اور پیغمبر اسلام  سے متعلق توہین آمیز مواد کی قابل صد مذمت اشاعت ہے۔ ایسے حربے استعمال کرنے کا مقصد مسلمانوں کو اشتعال دلا کر، اسلام اورمغرب میں صلیبی جنگوں جیسے  تصادم کی راہ ہموار کرنا ہے۔ تاکہ پورے مغرب کو امریکہ کے ساتھ متحد ہو کرعالم اسلام  کیخلاف عراق و افغانستان جیسے “جوابی اقدامات” کا جواز فراہم ہو اور امریکہ اور یورپ میں اسلام کی ترقی و ترویج اور مسلمانوں کی آباد کاری کو بتدریج ختم کیا جائے

اس قابل مذمت واقعہ میں ملوث  افراد کی فرانس کے شہری ہونے کی تصدیق مقامی مسلمان آبادی سے مذہبی استحصال کے ردعمل کی طرف اشارہ دیتی ہے۔ تاہم عراق و شام میں  سرگرم  مسلم عسکری تنظیم داعش کے خلیفہ ابومصعب کی طرف سے اس حملے کی حمایت کے بعد۔  اب اس واقعہ کی کڑیاں بھی شدت پسندوں کی کاروائیوں سے ملائی جا رہی ہیں ۔ لہذا اس واقعہ کے بعد مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کو اسلام کے امن پسند ہونے کا دفاع بھی کرنا ہو گا اور امریکی و مغربی شکوک و شبہات میں اپنے کاروبار زندگی میں بھی شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس حوالے سے مسلمانوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے مواقع تلاش کرنے والے صدر اوبامہ نے اس موقع پر بھی فتنہ انگیز بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ، ” یہ حقیقت کہ یہ حملہ صحافیوں پر، ہماری آزاد پریس پر کیا گیا، اُس انتہا کی نشاندہی بھی کرتا ہے جس انتہا تک یہ دہشت گرد آزادی ۔ یعنی آزادیِ تقریر اور آزادیِ پریس سے خوفزدہ ہیں۔ لیکن ایک چیز جس کے بارے میں میں پُر اعتماد ہوں وہ ہماری اور فرانسیسی عوام کی مشترکہ اقدار ہیں، یقین ہے ۔ یعنی آزادیِ اظہار میں ایک آفاقی یقین جو ایک ایسی چیز ہے جسے چند ایک لوگوں کے بیہمانہ تشدد کی بنا پر خاموش نہیں کیا جا سکتا “ ۔

 اوبامہ کے  مطابق امریکہ اور مغرب کیلئے پیغمبر اسلام کی توہین، ایک معمولی بات اور آزادی رائے کا آظہار ہے۔ لیکن یاد رہے کہ  امریکہ اور مغرب میں عام آدمی کی توہین کرنا تو ایک جرم گردانا جاتا ہے لیکن آزادیء رائے اور آزادیء صحافت کے نام  پر اسلام اور ناموس رسالت کو تختہء مشق بنانے کی حمایت کرنا امریکی اور مغربی قیادتوں کا مقدس فریضہ ہے۔ اسی امریکہ اور مغرب میں  بلند آواز میں میوزک بجانا ممنوع ہے کہ اس سے ہمسایوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔  سڑکوں پر ہارن بجانا بھی خلافِ قانون ہے مگر توہین رسالت کی کھلی تقریر و تشہیر سے  ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کو آگ لگا کر دلوں پر خنجر چلانے کی مکمل آزادی ہے۔ اوبامہ  کے اپنے ملک کی کئی  ریاستوں میں توہین مسیح کے جرم کی سزا موت ہے۔ لیکن وہاں کسی شخص کو اس قانون اور سزا کیخلاف آواز بلند کرنے کی جرات نہیں۔ برطانیہ سمیت کئی مغربی ممالک میں توہین مسیح کی سزا عمر قید ہے۔ جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام کی توہین کرنے والے مغربی لوگ خود اپنے مذہب کے معاملات میں تو سخت گیر ہیں۔ لیکن مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اپنے نبیء برحق صلی اللہ علیہ وسلم  کی حرمت و  ناموس کی حفاظت کا حق نہیں دینا چاہتے۔

حقائق سے ثابت شدہ ہے کہ اسرائیل اپنے ” گریٹر اسرائیل ” کے منصوبہ کی تکمیل میں جو رکاوٹیں محسوس کرتا ہے، امریکہ نے ان رکارٹوں کو دور کرنے  کے یہودی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے نائن الیون کا خود ساختہ ڈرامہ رچایا تھا۔ اور پھر اس ڈرامہ کی آڑ میں وار اگینسٹ ٹیرر اور افغانستان پر فوج کشی کا بہانہ تراشا گیا۔ دراصل یہودی لابی نے امریکہ کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کو جنگ میں جھونک کر ایک تیر سے دو نشانے لگائے۔ یہودی لابی کی سازشوں کا تسلسل اور مغرب کا تڑپنا بتاتا ہے کہ اسرائیل اور اس کا سرپرست سامراجی و مغربی استعمار عالم اسلام  کی  واحد ایٹمی طاقت، پاکستان کو برداشت ہی نہیں کر رہے ۔ لہذا گزشتہ پندرہ برس سے ہم ان طاقتوں کی خفیہ اور اعلانیہ سرگرمیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ آج پاکستان میں ہونے والی ہر بیروبی و اندرونی دہشت گردی اسرائیل کی دولت و دماغ اور بھارت اور امریکہ کے گٹھ جوڑ کی بدولت ہے۔ عرصہ دراز سے بہروپ بدل بدل کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی دجالی کوششیں جاری ہیں۔

paris-attack2

لیکن یہ 1971 نہیں 2015 ہے اور الحمد للہ آج پاکستان کی مسلح افواج ایک منظم اور طاقت ور عسکری قوت بن چکی ہے۔ دنیا گواہ ہیں کہ ہم نے پچاس ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے کر چھپے اور ظاہری دشمنوں کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ آج امریکہ اور یہود و نصاریٰ اور ان کے ایجنٹ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں ناکام ہو کر اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔ لہذا اب یہ لوگ اپنے مذموم ارادوں کی تکمیل کیلئے نئے حربے لیکر آئے ہیں۔ یقین ہے کہ پیرس کی مبینہ دہشت گردی کے پیچھے بھی یہی ابلیسی لوگ کار فرما ہیں۔ ان کیلئے یہ بات قابل برداشت نہیں کہ اسلام امریکہ اور مغرب میں تیزی سے پھیلنے والا مذہب بن کر ابھر رہا ہے۔ اسلام کی اس ترقی اور ترویج سے خوفزدہ سامراج کی طرف سے نائن الیون جیسے خود ساختہ ڈرامے رچائے جا رہے ہیں، تاکہ اسلام سے نفرت پھیلا کر اس کی ترقی کا راستہ روکا جائے۔ ان کا مقصد بیرون ممالک آباد مسلمانوں کو تنگ کر کے وہاں سے نکلنے پر مجبور کرنا اور امریکہ اور یورپ میں جدید تعلیم حاصل کر رہے یا اپنے ملکوں کو زر مبادلہ بھیجنے والوں کیلئے مشکلات پیدا کرنا ہے۔ خٰیال رہے کہ پاکستان کے معاشی استحکام کیلئے بیرون ممالک سے بھیجا ہوا زر مبادلہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ عسکری دباؤ اور دہشت گردی کی سرپرستی کے بعد ان دشمنان پاکستان کا نشانہ اب ہماری معشت ہے۔ امریکہ اور مغربی دنیا نت نئی سازشوں سے مسلمانوں اور خصوصاً پاکستانیوں کا جینا محال کر رہی ہے۔ خدشہ ہے کہ اب پیرس جیسے واقعات کو بنیاد بنا کر مغرب میں مقیم  مسلمانوں کیلئے نفرت اور شدید مشکلات پیدا کی جائیں گی ۔

مغربی عوام کو غور کرنا ہو گا کہ پیرس جیسے  واقعات کی اصل وجہ کیا ہے۔ انہیں خیال رہے اسلام  کی طرف سے دوسرے مذاہب کا احترام مصدقہ حقیقت ہے۔ مسلمانوں کیلئے اپنے نبی کی ناموس کی طرح حرمت عیسی و موسی سمیت تمام انبیاء  کا احترام  فرض ہے۔ میرا دعوی ہے کہ شدت پسندی کیخلاف احتجاج کرنے والے مغربی اگراس مثبت پیغام کا بینر اٹھا لیں کہ ۔۔۔۔ ” جب مسلمان ہمارے نبیوں کا احترام کرتے ہیں تو مغرب کو بھی مسلمانوں کے نبی کی توہین کا سلسلہ روک دینا چاہئے” ۔۔۔۔  تو ایسی تمام ” دہشت گردیوں ” کا سلسلہ یہیں رک جائے۔ امید ہے پیرس کے اس ناگوار واقعہ پر مغربی عوام،  سامراجی اور یہودی فتنہ گروں کے پراپیگنڈا کا شکار نہیں ہوں گے۔ امید ہے کہ دنیا حقائق کو مد نظر رکھتے اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بین المذاہب ہم آہنگی میں مذید دراڑ پیدا نہیں ہونے دے گی۔ اور تمام امن پسند لوگ تمام مذاہب کے باہمی احترام کو فروغ دینے کے پیغام بر بن کر ان عناصر کو ناکام بنا دیں گے جو توہین اسلام و رسالت کے ذریعے مسلمانوں کو اشتعال دلا کر شدت پسندی کی جلتی ہوئی آگ پر تیل ڈالنے کی عالمی سازش کا حصہ ہیں۔ اسلام امن کا دین ہے مگر امن یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ احترامِ مذاہب ہی سے ممکن ہے۔

( فاروق درویش 03224061000–3324061000)

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: