حالات حاضرہ ریاست اور سیاست سیکولرازم اور دیسی لبرل

این جی او جاسوس مافیوں پرعسکری ضربِ غضب


حالات و واقعات سے عیاں ہے کہ عسکری ادارے ملکی حالات، سیاسی منظر اور داخلی معاملات پر مسلسل عقابی نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔  فوجی قیادت امن دشمن عناصر پر ضرب عضب کے ساتھ ساتھ اب دیگر مشکوک عناصر پر کاری” ضربِ غضب ” لگانے کیلئے میدان عمل میں کود پڑی ہے۔ جنرل راحیل شریف کامیاب رہے تو ان کے جراتمندانہ اقدامات کے ثمرات خوش رنگ امن انقلاب اور حقیقی تبدیلی کا سبب ضرور بنیں گے۔ خوش آئیند ہے کہ اب حکومت بھی اپنے سیفما برانڈ مشیروں اور عاصمہ جہانگیر جیسی غیرملکی ایجنٹ این جی او شہزادیوں کے خوشامدی چنگل سے آزاد ہو کرعسکری اداروں کے ساتھ بہتر ورکنگ ریلیشن شپ بناتی نظر آتی ہے۔ گذشتہ دنوں حساس اداروں کی طرف سے چھاپے کے دوران پاکستان مخالف سرگرمیوں کے شواہد سامنے آنے پر امریکی این جی او آئی میپ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔ اداروں کی طرف سے اس امریکی این جی او کا دفتر سیل کر کے  ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ جنرل راحیل شریف کی طرف سے حساس نوعیت کے خطرات کی نشاندہی سے واضح  ہے کہ عسکری اداروں نے وسیع تر ملکی مفادات میں ہر طرح کے سیکورٹی تحفظات دور کرنے کا اٹل فیصلہ کر لیا ہے۔ ان کے مطابق غیر ملکی این جی اوز اور ملٹی نیشنل کمپنیاں ملکی سلامتی اور ریاست کیلئے براہ راست خطرہ ہیں، ان پر قابو نہ پایا گیا تو صورت حال سنگین ہوسکتی ہے۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل پاشا  کا یہ بیان بھی بڑا چشم کشا تھا کہ کئی این جی او ادارے غیر ملکی ایجنسیوں کی اطلاعات اور رسائی فراہم کرتے ہیں۔  ان کے مطابق سی آئی اے کی خواہش تھی کہ ایسی این جی اوز کے ساتھ  اس کے تعلقات پاکستانی اداروں کے علم میں نہ آئیں۔ جنرل پاشا کے مطابق ڈی جی  سی آئی اے نے ان سے درخواست کی تھی کہ امریکی تنظیم ” سیو دی چلڈرن ” کا خفیہ کردار پاکستان میں بے نقاب نہ کیا جائے۔ یقین  ہے کہ جنرل راحیل نے وہ تاریخ پڑھ لی ہے، جس سے سیاسی قیادت آج تک بے بہرہ رہی ہے ۔ غیر ملکی عناصر کو اندھی مراعات اور آزادانہ تجارت کی اجازت دینے والی عثمانی خلافت کے شاہوں کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا ، جو ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو حاتم طائیانہ مراعات دینے والے رنگیلے شاہوں کے ساتھ ہوا تھا۔ حکومت کو انٹیلی جنس رپورٹس ملتی رہیں کہ کئی اداروں کو بیرون ممالک سے ملنے والی خیراتی رقوم کا بڑا حصہ شدت پسندی اور ملک دشمن سرگرمیوں کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ عوام و خواص تماشائی بنے ہیں کہ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک سے سالانہ اربوں ڈالرز کی ” آڈٹ فری ڈونیشنز ” حاصل کرنے والی کئی این جی اوز اشرافیہ کا مقدس بچھڑا بنی رہی ہیں۔ جبکہ حقائق یہ ہیں کہ ان میں سے اکثر تنظیمیں انسانی حقوق اور تعلیم کے نام پر ملک و قوم کی بدنامی اور انارکی پھیلانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ مگر جب بھی ان کیخلاف کوئی کاروائی ہونے لگتی ہے تو مغربی آقا انہیں بچانے کیلئے سفارتی مہمات پر نکل آتے ہیں ۔

شواہد موجود ہیں کہ پاک دشمن ایجنسیوں نے اپنے ایجنٹ بھیجنے کی بجائے زرخرید این جی اوز اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے حساس معلومات حاصل کرنے کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے۔ قومی پریس اینڈ میڈٰیا کے مطابق، بھارت نے اسلام آباد میں ایک وسیع و فعال مرکز قائم کر رکھا ہے جس میں ہائی سوسائٹی کی نوجوان نسل امن کی آشا برانڈ آزادانہ ماحول میں ملتی جلتی ہے۔ مبصرین کے مطابق ایسے کئی مراکز دراصل  سی آئی اے ، را اور موساد کے اڈے ہیں۔ لیکن ایسے ادارے این جی اوز کی آڑ کے پردے میں چپھے ہونے کے باعث کسی کارروائی سے محفوظ ہیں۔ خطرناک امر ہے کہ دشمن ممالک کی کئی این جی اوز سرحدی علاقوں، فوجی چھاؤنیوں کے قریب و جوار اور آفت زدہ علاقوں میں بحالی یا ترقیاتی کاموں کی آڑ میں حساس معلومات  اپنے ڈونر ممالک کو بھیج کر مخبری کردار ادا کر رہی ہیں۔ بلوچستان میں جاری دہشت گردی اور تخریب کاری کا بڑا سبب ایسی ہی لاتعداد مشکوک این جی اوز کی موجودگی ہے

اسی این جی او مافیہ کی ایک کوئین عاصمہ جہانگیر وہ حیا باختہ خاتون ہے، جس کی گستاخیء رسالت کیخلاف پارلیمنٹ کی آئینی تحریک کی بنا پر قانونِ توہین رسالت کی دفعہ 195- سی وجود میں آئی تھی۔ یہی وہ دو رنگی این جی او کردار ہے جو کبھی بھارت کے مندروں میں رامائن تھامے پوجا پاٹ ، بال ٹھاکرے کی قدم بوسی اور پاکستان دشمن بنگلہ دیشی قیادت سے ایوارڈ وصول کرتی نظر آتی ہے۔ یہی وہ ننگِ وطن ہے جو اپنی مشکوک سرگرمیوں کے باعث کسی کاروائی سے بچنے کیلئے آئی ایس آئی جیسے قومی اداروں پر اپنے قتل کی سازش کے من گھڑت الزامات کا شور مچا کر خود ساختہ مظلوم بننے کے فن سے واقف ہے۔ غور کیجئے تو عاصمہ جہانگیر، ماروی سرمد اور انصار برنی جیسے این جی او کرداروں کی مشکوک سرگرمیوں ہی سے یہ حقیقت عریاں ہوجاتی ہے کہ ایسی کئی این جی اوز یقینی طور پر بھارتی یا مغربی ایجنسیوں کیلئے کام کرتی ہیں۔ ایسی تنظیمیں نان ایشوز کو مہان ایشوز بنا کر پوری دنیا میں ایسا واویلا مچاتی ہیں کہ جس سے پاکستانی معاشرے اور اور اسلام کا تشخص بدنام ہوتا ہے

نظریہ پاکستان اور ملکی سلامتی کیخلاف کام کرنے والی تنظیموں کا طریق واردات کھلی عیاری ہے۔ پہلے یہ سیاسی اور آئینی معاملات کے بارے مخصوص پروپیگنڈا کے ذریعے اپنے سرپرست ممالک کے مفادات و موقف کے حق میں رائے عامہ ہموار کرتی ہیں۔ اور پھر عوامی دباؤ بنا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرتی ہیں۔ ماضی میں ایسی ہی ایک تنظیم سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کی جعلی ویڈیو کے ذریعے پاکستان کی کردار کُشی کی مہم  میں ملوث پائی گئی تھی۔ اسی طرح لال مسجد اپریشن کے حوالے سے آنٹی شمیم کے انسانی حقوق اور مبینہ مساج سینٹروں کا دفاع کرنے والی تنظیموں کا پراسرار کردار بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سامراج، مغرب اور بھارت کی ہمنوائی میں پاکستانی معاشرت کو رسوا کرنے کی مہم میں این جی او مافیہ نے مختاراں مائی کا کیس ایک مدت تک بانس پر چڑھائے ” ہائے ہائے پاکستانی معاشرہ” کا واویلا مچائے رکھا ۔ اسے انسانی حقوق کی جدوجہد کے ایوارڈ اور ایشین ہیروئن کے خطاب سے نوازا گیا۔  انہی دنوں فیصل آباد کی  سونیا ناز اور بلوچستان کی ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ  ہونے والے وحشیانہ واقعات بھی انتہائی افسوس ناک تھے۔  مگر دو چہرہ این جی او مافیہ نے ان کا کوئی ساتھ نہیں دیا۔ یاد رہے کہ  جب مختاراں مائی اقوام متحدہ  میں خطاب کررہی تھی ، عین اسی وقت ڈاکٹر شازیہ لندن کی پریس کانفرنس میں یہ دہائی دے رہی تھی کہ ’’ مجھے انصاف دینے کی بجائے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا  گیا “۔

 اسی این جی او مافیہ کے آقاؤں نے ” سیو دی فیس ” کو آسکر ایوارڈ سے نواز کر پاکستانی معاشرت کو تو خوب بدنام کیا، لیکن اس واقعے کی مضروب خاتون اور اس  فلم کی مرکزی اداکارہ کو معاوضہ نہ ملنے اور خطرناک نتائج کی دھمکیوں پر کوئی تنظیم ان کی مدد کیلیے نہیں آئی۔ دورنگی کردار کی انتہا یہ تھی کہ چیچن خواتین کے قتل اور خواتین کو زندہ درگور کرنے کے واقعات پر کسی این جی او نے شمعیں روشن نہیں کیں۔  پریس اینڈ سوشل میڈیا  پر ایسی رپورٹس بھی منظر عام پر آ چکی ہیں کہ کئی بڑی این جی اوز سفارت خانوں اور پارلیمنٹ ہوسٹل میں جواں سال جنسی تتلیاں فراہم کرنے کے دھندے میں ملوث رہی ہیں۔ کئی میڈیا حضرات اپنے مشترکہ آقاؤں کی منظور نظر این جی او ہستیوں کے سہولت کار ہیں۔ دراصل یہ ایک ٹیم ورک ہے کہ جہاں انٹی پاکستان قوتیں میڈیا کے موثر ہتھیار کو امن کی آشا برانڈ مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہیں، وہاں چند ضمیر فروشوں کا زر خرید  این جی او مافیہ انہیں اینٹی پاکستان طاقتوں کیلئے خفیہ جاسوس کا کردار ادا کرتا ہے۔

امید ہے کہ جنرل راحیل نے جن عناصر کو بینقاب کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے، جلد ہی وہ کردار بھی فوجی عدالتوں کے فوری انصاف کے ذریعے پھانسی کے پھندوں پر نظر آئیں گے۔ خوفناک حقیقیت یہ ہے کہ دشمن ممالک کے کٹھ پتلی یہی این جی او مافیے اپنے یا اپنے آقاؤں کیخلاف اٹھنے والی ہر آواز کو ریمنڈ ڈیوس جیسے خادمین کے ذریعے دبانے میں بھی کمال مہارت رکھتی ہیں۔ مگر چور مچائے شور۔۔۔۔ وہ بال ٹھاکرے کی نظریاتی وارثہ این جی او مافیہ کوئین عاصمہ جہانگیر ہو یا افواج پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنانے والے گروہ کا سرپنچ میڈیا مافیہ کنگ حامد میر، دونوں بھارتی مافیہ کے سیاسی اداکاروں کی طرح آئی ایس آئی کے ہاتھوں قتل کی سازش کے ڈرامہ کے مظلوم کردار نبھانے کیلئے مہان اداکار ہیں ۔۔۔۔ حقیقیت یہ ہے کہ ایسے دجالی عناصر کیخلاف ببانگ دہل صدائے حق بلند کرنے والے کئی قلمی درویشوں کے نام  قرطاس حیات ہی سے مٹا دیے گئے ہیں ۔ مگر ہنوز کئی درویش اتحاد قوم و ملت اور سربلندیء اسلام و نظریہ پاکستان کی علمبرداری کے ” سنگین جرم ” کی پاداش میں خاک نشیں ہو کر، موت کے سائوں میں بھی ” پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ ” ہی کی تسبیح کرتے ہیں ۔۔۔۔ جنرل راحیل شریف صاحب اس ملک و قوم کے سپہ سالارِ اعلی ہونے کے ناطے، ملک دشمن مافیوں کیخلاف صدائے پاکستان بلند کرنے والے پر امن قلمی مجاہدین کو جانی و مالی تحفظ فراہم کرنا بھی اب آپ کا قومی و ملی  فریضہ ٹھہرا ہے۔ افسوس کہ نام نہاد عوامی حکومتیں عوام کی فلاح و بہبود  کی طرح اس  فرض کی ادائیگی میں بھی کلی نااہل و ناکام ثابت ہوئی ہیں ۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد ۔ افواج پاکستان پائندہ باد ۔

فاروق درویش — واٹس ایپ کنٹیکٹ — 00923224061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: