بین الاقوامی حالات حاضرہ

عورت سے کائنات و سیاست میں حسن ہے ۔۔ عورت کہانی حصہ اول


آج مقبوضہ کشمیر میں غاصب بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں مسلمان خواتین کی حرمتوں کی پامالی، دراصل ہندوتوا کی قدیمی و دائمی فطرت کی عکاس ہے۔ تاریخ معاشرت گواہ ہے کہ ہندوتوا معاشرہ ازل ہی سے تقدیس عورت کا مجرم و قاتل رہا ہے۔  قدیم و جدید ہندو معاشرت کے حقائق بولتے ہیں کہ ان کے ہاتھوں اپنی ہندو خواتین کی عزت بھی محفوظ نہیں رہی۔ درحقیقت امن کی آشا کے پیامی میڈیائی دانشوروں کے محبوب دیش کی تہذیب ہی مغرب اور سامراج کی تعفن آمیز تہذیبوں کی ماں ہے۔ قدیم ترین ہندو معاشرے نے صنف نازک کو زیر عتاب رکھ کر جس قدر جسمانی اور روحانی تذلیل کی، تاریخ میں اس کی مثال مشکل ہے۔ مفتیء مصر ڈاکٹرعلی جمعہ لکھتے ہیں کہ قدیم ہندو تہذیب میں عورتوں کو غلاموں کا درجہ دیا گیا تھا۔ ان کے بعض فرقوں میں بیوی اور ماں، بہن و بیٹی میں کوئی فرق ہی نہیں تھا۔ ان کے عقیدے کی پلیدگی کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنی ماں بہن یا بیٹی جیسے مقدس رشتوں سے جنسی تعلقات جیسے پلید فعل کو عورت کی بنیادی ضرورت پوری کرنے کا فریضہ گردانتے ہوئے اپنے لئے ذریعہ نجات تصور کرتے تھے۔ حسن نثار، نجم سیٹھی اور عاصمہ جہانگیر جیسے سیکولروں کو بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ مغرب میں اپنی بہنوں بیٹیوں کے ساتھ  جنسی تعلقات کا قابل نفرت رحجان قدیم ہندو تہذیب سے ہو بہو مماثل ہے۔ ویدوں کے احکام کے مطابق عورتیں کسی مذہبی کتاب کو چھو ہی نہیں سکتیں تھیں۔ انہیں بیوہ ہونے پر زندہ لاشیں بن کر جینے پر مجبور کر دیا جاتا تھا۔ مشہور مغربی مورخ ویسٹرمارک اپنی کتاب ” ویو آف  دی ہسٹری آف ہندو” میں لکھتا ہے  کہ اس ہندو معاشرے میں اگر کوئی عورت کسی متبرک بت کو چھو لیتی تو اس ” محترم بت ” کی الوہیت اور تقدس کو ” خلاص و ختم شد ” سمجھ کر پھینک دیا جاتا تھا۔۔

علوم فلسفہ کے بانی یونان کی تہذیب میں عورت کو صرف نفسانی ہوس کی تسکین کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ ان کے نزدیک عورت ’’ شجرة مسمومة‘‘ یعنی ایک زہر آلود درخت اور ’’رجس من عمل الشيطان‘‘ یعنی شیطان سے زیادہ ناپاک سمجھی جاتی تھی۔ قانون سازی میں شہرت کے حامل روم  کے آئین میں عورت کی حیثیت بیحد کمتر تھی۔ ان کا عقیدہ تھا کہ عورت کوئی روح نہیں بلکہ دیوتاؤں کے عذاب کی ایک شکل ہے۔ چونکہ قانون نے اسے تمام بنیادی حقوق سے محروم کر دیا تھا، لہذا وہ سیاست میں استعمال تو ہوئی مگر کسی عہدہ پر فائز ہونے کی اہل ہی نہ تھی۔ مصر کی ملکہء خوش رنگ قلوپطرہ اسی رومن تہذیب کے نمائیندہ سیاست دانوں کے عشق میں مبتلا ہو کر زندگی کی بازی ہار گئی ۔ ایرانی قدیم تہذیب میں بھی عورت کا جسمانی و جنسی استحصال عام تھا۔ یہاں باپ کا بیٹی اور بھائی کا بہن سے جنسی تعلق یا شادی کر لینا قطعی میعوب نہیں سمجھا جاتا تھا۔ شوہر اپنی بیوی کو کسی جج اور جلاد کی طرح سزائے موت دینے کا مجاز تھا۔ عورت کی نمائش اور جنسی عیش و عشرت کیلئے استعمال باشاہوں اور صاحبان ثروت کا محبوب مشغلہ تھا۔ عیسائی معاشرہ رہبانیت کے زیر اثر آیا تو عورت کے وجود کو تسلیم کرنا اُن کے نزدیک گناہ کبیرہ بن گیا۔ اسے گرجا کی نن بنا کر عام مردوں کیلئے تو حرام قرار دیا گیا مگر وہ راہبہ بن کر  پادریوں کی جنسی ہوس کی تسکین کیلئے حلال ہوتی رہی۔ برطانیہ کے شاہ ہنری کے دور میں یہ قانون پاس کیا گیا کہ عورت ناپاک روح ہے لہذا  انجیل کی تلاوت نہیں کرسکتی۔  قبل اسلام کے خطہء عرب میں بھی عورت کے کوئی حقوق نہ تھے۔ اس کی حیثیت  ماننا تو درکنار، اسے ایک ناگوارلاش کی طرح زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ وہ ایک مظلوم جنس تھی اور ہر فضیلت مردوں کیلئے تھی۔ ان کیلئے دنیا میں برائی کی جڑ اور موت کی اصل وجہ عورت کا وجود ہی تھا۔ ویسٹر مارک کے بقول جدید تہذیب بھی عورت کو وہ مقام نہیں دے سکی جس کی وہ مستحق تھی۔ اس کے مطابق ارتقائے تہذیب نے عورت و مرد کے درمیان فاصلوں کو بڑھا کر عورت کی حیثیت کو مذید گرا دیا ہے ۔ مگر اسلامی تہذیب نے عورت کو عظیم مقام ہی نہیں، بلکہ کائنات کا اہم ترین جز قرار دیا ہے۔

اور پھر میرے نبیء آخر الزماں صلی الہ علیہ وسلم کی آمد عورت کیلئے ہر غلامی، ذلت اور جنسی و جسمانی ظلم و استحصال سے ابدی آزادی اور رحمت کا پیغام حقیقی بن گئی۔ وہ خورشید رسالت چمکا تو عورت کے مقدر پر ازلوں سے چھائے ہوئے اندھیرے دور ہوئے۔ اسلام نے ان تمام  فرسودہ رسومات کو باطل کر دیا جو حوا کی بیٹی کے وقار کے منافی تھیں۔ میرے رحمت اللعالمین نے عورت کو وہ محترم حیثیت بخشی کہ وہ معاشرے میں مرد کے برابر عزت و تکریم کی مستحق ٹھہری۔ میں مغربی  مسخروں کے اس الزام کو سختی سے مسترد کرتا ہوں کہ اسلام عورتوں کی آزادی اور اقتصادی عوامل میں شرکت کیخلاف ہے۔ اسلام عورت کے حصول تعلیم کی راہ میں رکاوٹ ہے نہ معاشی ترقی میں اس کے فعال کردار کیلئے کوئی خطرہ، لیکن ہاں مذہب عورت کیلئے کچھ نظریاتی و اخلاقی حدود ضرور متعین کرتا ہے۔  مغرب میں عریاں جسم پر ملالہ کے نام کا ٹٹو سجا کر سرعام برہنہ  ہونے والی گلوکارہ میڈونا اور عریاں بدن کی نمائش کرنے والی  بریٹنی سپیئر جیسی خواتین کامیاب سمجھی جاتی ہیں۔ لیکن ماضی میں ” کامیاب ترین خواتین ”  سمجھی جانے والی گلوکارہ وٹنی ہوسٹن اور اداکارہ مارلن منرو کی پراسرار اموات کا ابھی تک حل طلب معمہ ان کی ” کامیابی ” پر سوالیہ نشان ہے۔ انجہانی گلوکارہ وٹنی ہوسٹن کی طرف سے اپنی ” کامیاب شخصیت ” کے بارے یہ بیان زمانے کیلئے بڑا معنی خیز ہے کہ ، ” سب سے بڑی شیطان میں ہوں،  میں خود یا تو اپنی سب سے اچھی دوست ہوں یا سب سے بُری دشمن “۔ یہ امر مغربی تہذیب کی تقلید کیلئے جنونی لوگوں کیلئے قابل غور ہی نہیں شاید قدرت کی طرف سے ایک تنبیہہ بھی  ہے ۔ زرا سوچیئے کہ کہیں یہ خدا کا قہر تو نہیں کہ اکثر ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ چھ  گریمی ایوارڈز جیت کر کامیاب عورت سمجھی جانے والی بارہ بوائے فرینڈ یافتہ  برطانوی گلوکارہ ایمی وائن ہاؤس ستائیس سالہ جواں عمری ہی میں اپنے گھر پر پراسرار طور پر مردہ  پائی گئی ہیں۔

مسلم معاشرے ميں خواتين کي موجوگی اور کامیابی کا مثالی نمونہ مغربی خواتين کی نام نہاد آزادی سے قطعی مختلف ہے. مغربی تہذیب ميں عورت کو مرد کی خدمت کا وسيلہ سمجھا جاتا ہے ۔ مغربی معاشرے کی پہلی ترجیح ” جنسی خدمات” کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ مغربی لوگ اپنے انہیں  باطلی و انحرافی نظريات کو آزادی کا نام ديتے ہيں۔ مگر اسلام آزادی کے نام پر اس ” مادر پدر آزادی” کی مخالفت کرتا ہے جو اسلامی اقدار سے متصادم ہوں۔ سیاسی احتجاج و انقلابی جہد کے نام پر پر سرعام رقص و دھمال اور مخلوط میوزک شو ، انقلاب اور آزادی نہیں تہذیب کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ قوم کی بدقسمتی ہے کہ یہاں منافق راہبروں کے قول و فعل میں تضادات کا شمار مشکل ہے۔ گفتار کے شیخ الاسلام کو دختران اسلام سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ لیکن مذہبی شعبدہ بازی میں ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں۔ احباب کی یاداشت کیلئے ان کے ” قول کے مطابق ”  ان ہی کا اقتباس پیش خدمت ہے ۔۔ فرماتے ہیں۔۔۔۔ کہ ” اے دختران اسلام آج اسلام کو آپ کی ضرورت ہے۔ دین اسلام پر حملے ہورہے ہیں۔ آج دین کو بچانے کیلئے آپ کو اپنے گھروں سے نکلنا ہوگا۔ عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا ہوگا۔ آج پھر سیدہ کائنات رضی اللہ عنہا کی سیرت کے سانچے میں ڈھلنا ہوگا۔ آپ کا کردار ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا، حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے رنگ میں رنگا ہونا چاہئے “۔۔۔ لیکن کہ ان کے ” فعل کے مطابق ” وہ بیٹیوں کو اسلام کی ان عظیم خواتین کے کردار سے بالکل الٹ چوراہوں پر رقص کے  پروگراموں میں لا کر میڈونا اور ملالہ بنانے کی صلیبی خواہشات کی تکمیل کیلئے سرگرم ہیں۔  سیدہ زینب نے یزیدی دربار میں کربلائی شہدا کے خون کا سیاسی سودا کر کے دین سے غداری نہیں کی ۔ جبکہ شہادت کے جعلی طلبگار قادری صاحب  شہدا کے خون کا سودا کر کے سترہ لاکھ کی بزنس کلاس ٹکٹ پر واپس صلیبی آقاؤں کے دیس فرار ہو چکے ہیں۔

خانوادہء رسالت کی مطہر ہستیاں مغربی تہذیب کی نمونہ عورتوں سے کلی مخلتلف، دین و ملت سے مخلص اور باوقار تھیں۔ وادی مکہ میں صدائے حق بلند ہوئی تو سب سے پہلے لبیک کہنے والی خدیجۃ الکبریٰ رض نے اپنی پوری زندگی جان و مال سب کچھ اسلام کیلئے وقف کردیا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رض نے جعلی خواب نہیں سنائے بلکہ امام الانبیاء کی سیرت اقدس کو اس انداز میں امت تک پہنچایا کہ تفصیلی احوال جاننے کے بعد کوئی تشنگی باقی نہیں رہتی۔ توہین اہل بیت کے مرتکب میڈیا چینلز اور گستاخ جنسی داشتائیں کیا جانیں کہ فاطمۃ الزہراء رض کی ذات اقدس ہر حوالے سے ایک کامل عورت کا روپ اور پیغمبر اسلام کے وجود عظیم کا خلاصہ ہیں۔ اس سیدہء النسا رضی اللہ عنہا کے لعل،  امام عالی مقام  نے سارا خانوادہ اور پھر سر کٹوا کر دین برحق کا پرچم سربلند کیا۔ مگر انقلابی مجاہدین  اور اسلامی فلاحی ریاست کے داعی کارزار گرم ہونے پر اپنے بیٹوں کو لندن اور کینیڈا اور عوامی بیٹے آگ میں جھونک  کر خود محفوظ  کنٹینر میں گھس جاتے ہیں ۔ اسلامی اقدار کو ترقی اور آزادیء نسواں کیلئے قید قرار دینے والے،  نوبل انعام جیتنے والی پہلی عرب خاتون توکل کرمان کی مثال سامنے رکھیں۔ کسی صحافی نے اس سے حجاب کے بارے میں سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ ” آپ قدامت پسندوں جیسا حجاب کیوں پہنتی ہیں جبکہ آپ باشعور اور اعلٰی تعلیم یافتہ بھی ہیں۔۔؟ توکل کرمان نے خوبصورت الفاظ میں اس صحافی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ  “۔ ۔ ۔  درحقیقت لباس اور حجاب ہرگز قدامت پسندی نہیں ہے۔ بلکہ قدامت پسندی یہ ہے کہ انسان اپنے لباس کو مختصر کرتا ہوا پتھر کے اسی زمانہ قدیم کی طرف واپس لوٹ جائے جس میں انسان بے لباس و عریاں تھا ” ۔  کامیاب مسلمان عورت کی تازہ ترین مثال فلسطینی مظلوموں پر روا ظلم و بربریت کیخلاف احتجاج کے طور پر وزارت کے منصب سے استعفی دینے والی برطانوی خاتون سعیدہ وارثی ہے۔ پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کیلئے ایک روشن مثال قائم کرنے والی سعیدہ وارثی کی حق گوئی  نے ثابت کیا ہے کہ امت کیلئے درد دل رکھنے والی مغربی مسلمان عورت  مغربی  استعمارکی غلامی اور ڈکٹیشن  قبول نہیں کرتی۔

 شیریں مزاری صاحبہ جیسی اعلی تعلیم یافتہ خواتین سے عرض ہے کہ سیاسی مخالفین کے اعتراضات پر سیخ پا  دہریانہ ردعمل سے قبل اسلامی اقدار اور تہذیب عالم  کے بارے اپنا مطالعہ وسیع کریں۔  ہم جنس پرست شادیوں کے قوانین پاس ہونے پر صدر اوبامہ کو مبارک دینے والی ماڈرن جینز پوش بیٹی کے ہمراہ سر محفل  رقص و دھمال مسلمان عورت اور غیرت مند  مزاری قبائل کا شیوہ  و کردار نہیں۔ یاد رہے  کہ عورت زمانہ قدیم سے کئی سفاک و عریاں تہذیبوں کے جسمانی مظالم اور جنسی استحصال کا سامنا کرتی ہوئی نئے زمانوں  میں داخل ہوئی ہے۔ اس سفر میں کبھی وہ یونان، اطالیہ اور صحرائے عرب کے بازاروں میں بکی، کبھی داشتہ بن کر امراء کا ذریعہء عیاشی بنی اور کبھی جبری طوائف بنا دی گئی۔ مگر عالم دہر کی سب تہذیبوں کے تھپیڑے کھانے کے بعد اسے دائمی پناہ و تحفظ میرے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت رحمت پر دین محمدی ہی نے عطا کیا ۔ خدارا اسے اس محبت و تحفظ بھری مقدس آغوش سے مانوس و آشنا  رہنے دیجئے۔ بے شک کہ عورت کا وجود مرد کی زندگی کے نشو و ارتقائے حیات کیلئے ایک حسین محرک اور راحت و سکون کا باعث ہے۔ مگر اسے صرف ہوس مردانگی کی تسکین کا وسیلہ اور عیش کوشی و عشرت پرستی کا  ذریعہ مت بنائیے۔ معاشرے اور ایوان سیاست میں اس کی حیثیت کنیز اور پرستار کی سی نہ بنائیے۔ یاد رکھئے کہ دنیا کی بیشتر تہذیبوں کی تباہی کے اسباب میں ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ وہاں کی عورت معاشرے میں اپنی جائز حیثیت کھو کر خود سر مرد کے قاہرانہ ہاتھوں میں آلہ کار بن کر رہ گئی تھی۔ عورت اس گلشنِ کائنات میں گلاب کا وہ گلِ نازک و حسین ہے جس کیلئے حیا گویا شبنم اور دینی و اخلاقی اقدار مسحور کن خوشبو کی طرح ہیں ۔۔۔۔۔ خدارا حوا کی مقدس بیٹی کو گلِ گلاب ہی رہنے دیجئے، چوراہوں پر حسن و شباب کی محافل میں اپنی سیاست کے گھنگھرو پہنا کر عالمِ دہر جیسا چبھتا ہوا کانٹا نہ بنائیے۔۔۔ ( جاری ہے)۔

( فاروق درویش ۔۔ واٹس ایپ  ۔۔ 00923224061000 )

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: