بین الاقوامی تاریخِ عالم و اسلام ریاست اور سیاست

ولایتی دیس کے دیسی غلاموں کی داستانِ سیاہ ست


 یہ اس عظیم الشان گورے دیس کے تاریخی کارناموں کی کا ذکر کروں گا، جس نے ہمیں آزادی دے کر بھی سدا کیلئے غلام بنائے رکھا ہے ۔ جس کے ہر قول و فعل میں سامراجی ناخداؤں جیسے تضادات اس کی شرانگیزیوں کے بارے سچ بولتے رہے اور وہ روز اول سے ملت اسلامیہ اور مملکت خداداد پاکستان کیخلاف کسی نہ کسی صورت میں سازشوں میں مصروف رہا۔ تاریخ عالم گواہی دے گی کہ آزادیء ہند سے پہلے اور مابعد آزادی اب تک حکومت برطانیہ پاکستان اور نظریہء پاکستان کیخلاف برسر پیکار عناصر کا نہاں سرپرست رہا۔ پاکستان کے طول و عرض اور خاص طور پر کراچی میں موت کے سوداگر بن کر دہشت کی آگ پھیلانے والے گروہوں اور ان کے سرپرستوں کے دجالی مقاصد سمجھنے کیلئے، پہلے ہمیں اس سچ بولتی تاریخ کا سرسری جائزہ لینا ہو گا جو گوروں کے اس دیس برطانیہ سے جڑی ہے۔ دنیائے شرق و غرب میں برپا ہونے والے فتنہ فسادوں کی تاریخ کی ورق گردانی کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اکثر و بیشتر فتنہ سازی کا مرکز اورعالمی فتنہ گروں کی آماجگاہ ِوہ لندن ہی رہا ہے، جو ابھی تک ہر انٹی پاکستان عنصر کا ریڈ کارپٹ استقبال بھی کرتا ہے اور اسے اپنی مخملی گود کی پناہ میں بٹھا کر پاکستان اور پاکستانیت کیخلاف ہرزہ سرائی کی کھلی اجازت بھی دیتا ہے۔ گورے اس حوالے سے مقدر کے سکندر ہیں کہ ان کی غلامی وآلہ کاری کیلئے ہمہ وقت تیار  ریڈی میڈ دیسی غلاموں کی کہیں بھی کوئی کمی  نہیں۔

uk1

دنیا میں فتنہ و فساد برپا کرنے والے شر پسندوں کے مہان میزبان لندن مافیہ کے اداکاراؤں میں سب سے قابلِ ذکر نام کرنل تھامس لارنس ہے۔ پاکستان کے سیاسی سٹیج پر مصروف سیاسی اداکاراؤں کو سمجھنے کیلئے برطانوی افواج کے اس شہرہ آفاق جاسوس کرنل لارنس تھامس کے کردار کا جائزہ لینا بیحد ضروری ہے، جسے پہلی جنگ عظیم کے دوران سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں عرب علاقوں میں بغاوت پروان چڑھانے کے حوالے سے عالمی شہرت ملی۔ اسی برطانوی سازش کے نتیجے میں عرب علاقے سلطنت عثمانیہ کی دسترس سے نکل گئے۔ اسلامی خلافت کے خاتمے کیلیے عربوں میں قوم پرستی کے جذبات جگا کر انہیں ترکوں کے خلاف بندوق اٹھانے پر آمادہ کرنے والے اس فتنہ گر کو لارنس آف عربیہ بھی کہا جاتا ہے۔ لارنس نے ایک مذہبی بہروپیا بن کر مسلمانوں کو بیوقوف بنانے کیلئے بصرہ کی جامع مسجد میں اسلام قبول کرنے کا مکارانہ ڈرامہ رچایا اور پینٹ کوٹ اتار، عربی چوغہ پہنے امت محمدی کا سچا غم گسار بن کر عرب کے صحرا نشینوں میں گھل مل گیا۔ لارنس کی چکنی چپڑی باتوں سے عربوں کے دلوں میں ترکوں کے خلاف نفرت کی آگ اس قدر بھڑک اٹھی کہ کچھ ہی دن بعد عرب شہزادے اپنے گھر کی کھڑکی سے اپنے ہی ترک مسلمان بھائیوں پر گولیاں برسا رہے تھے۔ اور دوسری طرف ترکوں کے خلاف عربوں کی بغاوت کا آغاز کروا کر مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے والا لارنس بڑے فخر سے اپنے لندن ہیڈ کوارٹر کو یہ اطلاع دے رہا تھا کہ اس کی حکومت برطانیہ کی خواہش کے عین مطابق مسلم خلافت اور اتحاد امت کی تباہی کا کھیل شروع ہو چکا ہے۔

اور پھر وہی لارنس جسے ساری مسلم دنیا ایک سچا مسلمان اور ملت اسلامیہ کا مسیحا سمجھتی رہی، وہی بہروپیا اس امت کی عظمت رفتہ کی نشان خلافت کا چراغ ہمیشہ کیلئے گل کر کے انہیں منقسم در منقسم اور مجروح حالت میں چھوڑ کر اپنے ولائیتی دیس واپس لوٹ گیا۔ کون جانے کہ کتنے آج بھی لارنس آ عریبیہ جیسے کتنے دیسی اور ولائتی لارنس آف پاکستان ہمارے ارد گرد میں موجد ہیں۔ کون لارنس کراچی میں مسلمانوں کو مسلمانوں پر گولیاں چلانے کی ترغیب دے رہا ہے اور کون سا لارنس بلوچستان میں پاکستان کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکا کر دہشتوں کے کھیل کا منصوبہ ساز ہے۔ ذرا سی تحقیق کریں تو عیاں ہو جائے گا کہ لندن سے ٹیلی فونک خطابات اور کینیڈا سے درانداز ہو کر بکتر بند کنٹینر میں انقلابی ٹافیاں بیچے والے مذہبی شعبدہ بازوں کی ڈوریں بھی انہیں گوروں کے ہاتھوں میں ہیں جو ازل سے امت مسلمہ اور خاص طور پر پاکستان کی سلامتی کے درپے ہیں۔

اسی لندن مافیہ کا عالم اسلام کیخلاف بدترین وار عالم اسلام کے عین وسط میں اسلام کے بدترین دسشن یہودیوں کی ریاست اسرائیل کا قیام ہے۔ یہود کا منظور نظر لارڈ بیلفور برطانیہ کا وزیرِاعظم بنا تو اس نے برطانیہ میں یہودیوں کا میں داخلہ روکنے کا قانون منظور کرایا۔ اس دجالی پلان کے پس پردہ مقصد در بدر بھٹکتے ہوئے یہودیوں میں اپنا ملک بنانے کا احساس اورجذبات ابھارنا تھا۔ لہذا اس قانون کے بعد یہ قرارداد منظور کی گئی کہ حکومتِ برطانیہ فلسطین میں یہودیوں کا وطن بنانے کی حمایت کرتی ہے۔ قابل توجہ ہے کہ ازل سے ملت اسلامیہ کیخلاف سازشوں کے جال بننے والے برطانیہ کے اسلام مخالف خوابوں کی تعبیر اس یہودی ریاست کا جو نقشہ بنایا گیا تھا، اس میں دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک کا سارا علاقہ شامل تھا۔ اس نقشے میں دریائے نیل کے مشرقی حصہ کا پورٹ سعید کا اہم علاقہ، مکمل فلسطین، اردن اور لبنان کے مکمل علاقوں کے ساتھ ساتھ شام اورعراق کا دو تہائی اور سعودی عرب کا ایک چوتھائی علاقہ بھی شامل تھا۔

یہ بات سیاست کے گورکھ دھندے سے ہٹ کر امر ربی ہے کہ اسرائیل کے معرض وجود میں آنے پر برطانیہ کا ایک خواب تو پورا ہوا لیکن گوروں کی ابلیسی سازش کئ مطابق مسلم اکثریت کے وہ تما عرب علاقے اسرائیل میں شامل نہ ہو سکے جو اس دجالی نقشے میں موجود تھے۔ آج بھی دنیا کی ہر اسلام دشمن طاقت اس نقشے کی تکمیل کیلئے صیہونی ریاست کی کھلی حمایت میں جالا بنتی ہوئی مکڑی کی طرح مصروف و سرگرم ہے۔ کون نہیں جانتا کہ آج بھی پاکستان کے مذید ٹکرے کرنے کیلئے سازشیں کرنے والی قوتیں پاکستان کے اندر آزاد ریاستوں کے نقشے بنا اور بنوا رہی ہیں۔ لیکن میرا حق الیقین ہے کہ نہ تو گریٹر اسرائیل کا برطانوی برانڈ نقشہ بنانے والوں کے مذموم ارادے کلی طور پر کامیاب رہے۔ نہ ہی جناح پور کے نقشے ڈیزائن کرنے والوں کے دجالی مقاصد پورے ہوں گے۔ نہ تو اسرائیل اپنی تمام تر دہشت گردیوں اور عالمی غنڈوں کی ہر ممکنہ مدد کے بل بوتے اپنی حدود سے نکل کر اس مذموم نقشے کے مطابق پھیل سکا، اور نہ ہی جناح پور بھارتی اسلحہ و تعاون کے ساتھ کبھی نائن زیرو اور گورنر ہاؤس سندھ کے بیڈ روم کی حدود سے آگے بڑھ پائے گا۔ آزاد بلوچستان کے نقشوں کے خالق بھی پاکستان کی مقدس سر زمیں کی دھول چاٹتے چاٹتے انجہانی ہو جائیں گے۔

uk2

احباب میری بیان کردہ یہ دو مختصر تاریخی کہانیاں سامنے رکھ کر دیکھیں تو پاکستانی سیاست میں ان سے انتہائی مماثلت رکھنے والی کہانیاں اور انگنت گھناؤنے کردارنظر آئیں گے۔ تازہ ترین حالات و واقعات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کتنے ہی سرگرم فعال سیاسی کردار ایسے ہیں جن میں عالم اسلام کو مسلمانی کا لبادہ اوڑھ کر ٹکڑے ٹکرے کرنے والے لارنس آف عریبیہ کی دجالی روح دکھائی دیتی ہے۔ مذہب کی آڑ میں کتنے امن دشمن مغربی ایجنٹ ایسے ہیں جو مذہب کی دوکان سجا کر پاکستانی برانڈ کے لیبل میں صحت افزا شہد کی بجائے جان لیوا سامراجی زہر بیچ رہے ہیں۔ ذرا دیکھیں کہ کتنے کردار ایسے ہیں جو لندن کی شہریت اور لارڈز کا طرز زندگی اپنا کر بھی ملک و قوم کے نام نہاد غمخوار بن کر قوم کا خون چوس رہے ہیں۔ سوچنا ہو گا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ برطانوی یا کینیڈین شہریت رکھنے والے خود ساختہ جلاوطن کیوں کر پاکستانی سیاست میں فعال ہیں اور حکومت برطانیہ و کینیڈا ایسے دو رنگ لوگوں کی پاکستان کیخلاف کھلی ہرزا سرائیوں کے باوجود خاموش تماشائی کیوں ہے۔ ذرا سوچئے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں نام نہاد انقلاب کا ڈرامہ رچانے والا ہر غیر ملکی شہری سیاست دان اور اسلام اور پاستان کا بدترین قادیانی گروہ لندن میں بیٹھا ہے۔ یا کینیڈا اور امریکہ سے پاکستان آتے ہوئے خاص طور پر لندن ہی کی یاترا فرماتا ہے۔

حالات گواہ ہیں کہ مغربی اور سامراجی طاقتیں ہر پاکستان دشمن عنصر کو اپنی مخملی گود میں بٹھا کر دین محمدی سے نفرت اور نظریہء پاکستان سے کدورت بڑھانے والے روشن خیال صلیبی وٹامن کھلا کر پروان چڑھا رہی ہیں۔ اس سلسلے کی تازہ ترین انٹری لندن کی مخملی گود میں نشو نما اور عالمی اعزاز پانے والی حضرتِ اوبامہ اور سرحدی گاندھی گروہ کی پرستار، مغربی استعمار کی لاڈو میڈم ملالہ ہے۔ مغرب کے استعماری ہتھکنڈوں کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ مغربی استعمار نے وحدت امت کے تصور کو توڑنے کیلئے کیمونزم، سوشلزم اور کیپیٹل ازم جیسے دوسرے ماڈرن نظام بتدریج عالم اسلام میں داخل کیے ہیں ۔ لیکن یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ مغرب کے ان نظریات کو عام کرنے کی یہ ” انقلابی خدمت” عالم اسلام میں سے صرف چند ایک سیاسی ضمیر فروشوں و ابن الوقت لوگوں نے کی ہے۔ ان ازموں کو فروغ دیکر کہیں کیمونزم سے دین اسلام سے دوری اور لادینیت پھیلائی گئی اور کہیں سوشلزم کا نعرہ لگوا کر بھٹو جیسے سیاسی کرداروں سے پاکستان کے ٹکرے کروائے گیے۔ سامراج اور مغربی استمعار امت مسلمہ کو ہر محاذ پر تقسیم کرنے کے اب ایک نئے مذموم پلان پر عمل پیرا ہیں۔

دنیا میں کیمونزم اور سوشلزم جیسے نظاموں کے کلی فلاپ ہونے کے بعد مغربی استعمار نے اب بین الاقوامی سطح پر سعودی ازم، ایرانی ازم اور شامی ازم اور پاکستان میں مذہب سے متصادم الطاف ازم اور مذہب کا ظاہری لبادہ اوڑھے مغربیت کے باطنی حواری قادری ازم جیسے نئے انٹی پاکستان فتنوں کو فروغ دینا شروع کر دیا ہے۔ لیکن جہاں تک باشعور مسلم عوام کا تعلق ہے تو وہ اب بھی اسلامی نظریات و عقائد سے متصادم ان قومی، وطنی، نسلی یا مسلکی اکائیوں کے کسی دجالی تصور کو نہیں مانتے۔ بلکہ آج بھی امت مسلمہ کے ایک اجتماعی وجود کا تصور اپنے قلب و شعور میں زندہ رکھے ہوئے ہیں اور اپنی اپنی بساط کے مطابق اسی کی علمبرداری کی سعی بھی کرتے ہیں۔ عوامی رائے عامہ کے مطابق محفوظ کنٹینر میں بیٹھ کر معصوم عوام کو موت کے کھیل کی طرف دھکیلنے والے نام نہاد حسینی سپہ سالار انقلابی قادری صاحب ایک مذہبی شعبدہ باز اورغیراہم سیاسی شخصت ہیں ۔ لیکن افسوس کہ سیاسی بصیرت اور انتظامی امور سے نابلد حکمران اپنی حماقتوں سے اس کے غبارے میں ہوا بھر کر اسے ایک ایسا سونامی بنانے جا رہے ہیں جو مغربی طاقتوں کی آنکھ کے تارے الطاف حسین جیسے دوسرے انٹی پاکستان عناصر کے ساتھ مل کر ملکی امن و سلامتی کو بہا لے جانے کی دجالی قوت بن سکتا ہے۔ حکومتی ادارے بھی اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ لاہور میں ادارہ منہاج القرآن کو کراچی کے نائن زیرو کی طرز پر بد امنی پھیلانے کا اڈا بنانے کے حوالے سے گذشتہ دو برس سے کام جاری ہے۔

احباب گل ہائے سیاہ ست کا موسم بتا رہا ہے کہ نریندر مودی کے برسراقتدار آتے ہی پاکستان میں فعال تمام انٹی پاکستان قوتیں پہلے سے کہیں زیادہ متحرک ہو چکی ہیں۔ بظاہر لگتا ایسے ہی ہے کہ پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات کو کسی خوف ناک تباہی کی طرف دھکیلنے کیلئے کوشاں مغربی تاجداروں اور بھارتی ایجنسیوں نے پاکستان میں خانہ جنگی کیلئے اپنی بغل بچہ تنظیموں کو اہم ٹاسک  دیا ہے۔ حکومت وقت پر سیاسی بصیرت  کے ساتھ ایسے فیصلے کرنے لازم ٹھہرے ہیں کہ وطن عزیز کی سلامتی اور عوام کی جان و مال کا تحفظ  فول پروف حد تک ممکن ہو۔ سانحہء ماڈل ٹاؤن سرکاری غفلت کا نتیجہ تھا یا اپنی سرکاری حیثیت کے گھمنڈ اور سیاست میں طاقت کے استعمال پر یقین رکھنے والے ” خود مختار ” وزیروں کی غنڈہ گردی تھی۔ اس اہم مگر پیچیدہ سوال کا جواب کسی کھری اور منصفانہ تحقیقات کے بعد ہی سامنے آ سکے گا۔ لیکن بدقسمتی سے صاف اور شفاف تحقیقات اس ملک میں ڈائو سارس کی طرح ناپید ہیں۔ لہذا خدشات یہی ہیں کہ حسب معمول یہ مقدمہء خونریزی بھی  وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ داخل دفتر کر دیا جائے گا۔ حکومت وقت کو خیال رہے کہ جن لاشوں کی بیساکھیوں کے سہارے سیاہ ست کرنے سامراجی استعمار کا پروردا ایک کینیڈی شہری پاکستان آیا ہے۔ خدارا آپ تو اسے اپنے ہی معصوم عوام کی وہ لاشیں نہ دیں۔ خدارا ہوش کریں ! پاکستان کو عراق، شام اور افغانستان بننے سے بچائیں کہ یہ پاکستان سلامت ہے تو آپ کی حکمرانی بھی سلامت ہے۔

 ( فاروق درویش۔ 03224061000 )

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

1 Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

  • بجالکھا۔۔۔بہت سےلوگ تاریخ جاننے اورپڑھنےسے کتراتے ہیں جبکہ ایک جگہ پڑھا تھا
    when you dont learn from history, history repeats itself

Featured

%d bloggers like this: