بین الاقوامی تاریخِ ہند و پاکستان ریاست اور سیاست

پاکستان کی تقسیم اور ڈالروں کی جمع تفریق کا سیاسی الجبرا


چند ماہ قبل سکارٹ لینڈ یارڈ کی ڈرامائی کاروائیوں کی خبریں گرم ہوئیں تو سارا پاکستان اس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ بس اب الطاف حسین شکنجے میں آ چکے ہیں۔ لیکن میرا متضاد موقف تب بھی اور اب بھی یہی ہے کہ لندن مافیہ کے دباؤ کا مقصد مجرم کی گردن پر چھری رکھ کر ”  ڈو مور ”  کیلئے بلیک میلنگ ہوتی ہے ۔ لہذا وہی ہوا جس کا خدشہ  تھا،  پیر صاحب نے گوروں سے جان بچانے کیلئے نظریات اسلام، پاکستانیت  اور حضرت قائد  کے بارے فری سٹائل  زبان درازیوں کا مظاہرہ  کر کے گورے آقاؤں کو ” آئی ایم ریڈی ٹو ڈو مور ” کا یقین دلا دیا۔ گو کہ صورت حال پیر آف لندن شریف اور ان کی متحدہ کیلئے بتدریج مشکل  بنتی جا رہی ہے لیکن گوروں کے مقاصد ضرور پورے ہو رہے ہیں۔  سکارٹ لینڈ یارڈ اور دوسرے مقدمات کے ترو تازہ ہونے کے بعد وہ گوروں کی ڈکٹیشن سے انحراف  کرتے ہیں  تو ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں پھٹے چڑھتے ہیں، اور اگر ان کی منشا کے مطابق غداریء  وطن جاری رکھتے ہیں تو  متحدہ اور وہ عوام کی نظر میں عریاں و بدنام تر  ہوتے جائیں گے۔ اس صورت حال میں بری طرح پھنسنے کے بعد بھائی صاحب کی حالت ” مرتا کیا نہ کرتا ” جیسی ہے۔  میری نظر میں الطاف حسین کا سب سے کڑا ، سنگین اور ناقابل معافی جرم یہ  ہے کہ  تحریک آزادیء پاکستان کے وقت قائد اعظم کے پیغام کے صدقے جو  سندھی اور مہاجر بھائی بھائی تھے، وہ الطافی نظریات کی  بدولت بھائی سے قصائی بن چکے ہیں۔  محب وطن اردو سپینگ نوجوانوں کے ہاتھ میں بھارتی اسلحہ تھما  کر ماڈرن مکتی باہنی کے تشکیل نو کی جا رہی ہے۔ مہاجروں کی نئی نسل کے ذہنوں میں سندھی پنجابی اور پختونوں سے نفرت کا زہر بھر کر انہیں بنگالیوں جیسے زہریلے سانپ بنایا جا رہا ہے۔

گورے آقاؤں کی فرمانبرادری میں انتہائے غداری یہ ہے کہ مغرب  کے پالک فتنہ ء قادیانیت کو متحدہ کے زیر اثر علاقوں میں کھلی تشہیر و ترویج کیلئے مکمل تحفظ اور سپورٹ دستیاب ہے۔ تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ سندھ  کی دھرتی  کو اپنی ماں کہنے والے پیر آف ولایت پور نے جناح پور کے سلسلہ وار ڈارمے کی اگلی قسط  ” سندھ ون اور سندھ ٹو ” کے نام سے ریلیز کر کے ماں کی تقسیم کے مطالبے کا حقہ تازہ اور لسانی نفرتوں کو ضرب دینے کا آغار کر دیا ہے۔ بال ٹھاکری وارثہ عاصمہ جہانگیر اور ممبئی کی چڑیا کے جادوگر مالک  نجم سیٹھی جیسے مشیروں کی احمقانہ مشاورت کی بدولت چاروں اطراف سے مشکلات میں گھرے میاں صاحب میں اتنا حوصلہ اور ہمت ہی نہیں کہ وہ متحدہ کی تیرھویں طلاق پر بھی سدا بہار دلہن بیگم عشرت عباد سے گورنر ہاؤس کا حجرہء عروسی خالی کروا سکیں۔ بحرحال بیگم عشرت کے پرستاروں کیلئے پریشانی یا فکر کی کوئی بات نہیں، کل کی نکاح یافتہ دلہن، مطلقہ رکھیل بن کر ابھی بھی اسی حجرہء عروسی کی زینت ہے۔ نائن زیرو کی دنیا اسی امید پر قائم ہے کہ  وہ کل  پھر کسی مقدس ڈیل کے حلالہ کی بدولت چودھویں نکاح  کے بعد سیاسی رکھیل  سے چودھویں رات کے چاند جیسی دلہن بن کر  پیر صاحب سے ٹیلیفونک آشیرباد حاصل کرے گی۔

 

دوسری طرف محرم الحرام کے مقدس ماہ کی بدولت سیاسی الجبرے کی کتاب سے خاں صاحب اور متحدہ کے مشرفی پیر بھائی ملا جی اپنے حرکت پذیر کنٹینری حجرے سمیت سونامی دھرنے سے منفی ہو چکے ہیں۔  محرم الحرام کی بدولت اس لئے کہ تہران مافیہ کی آشیرباد سے  دھرنے میں شامل معزز شعیہ برادران کا عاشورہ کی مقدس مجالس و جلوسوں میں شرکت کیلئے اپنے اپنے شہروں کو جانا طے تھا۔۔ جس کے بعد  قادری صاحب کے ” دس لاکھ مجاہدوں کے ٹھاٹھیں مارتتے ہوئے سمندر” کا پانچ سو کے سوئمنگ پول کی شکل میں سمٹ جانے کا شدید خطرہ لاحق تھا۔ لہذا اس سبکی سے بچنے کیلئے  لندن پلان  اور پنٹاگون کے خفیہ آلہ کار ایرانی بھائیوں کے کینیڈین مرشد اپنے  شہدائے ماڈل ٹاؤن کا میوزیکل جشن مرگ منانے کے بعد  سود سمیت  قصاص وصول کر کے دھرنے سے فرار ہو چکے ہیں۔ میں بار ہا اپنے اس  کڑوے موقف اور خدشات بیان کر چکا  کہ  فتنہء قادری سے اتحاد اور شاہ محمود قریشی جیسے ڈبہ پیروں پر اس حد تک تکیہ ،  خان صاحب کی سیاست اور ساکھ  کا بیڑا غرق کر کے رکھ دے گا۔ مثبت اور مخلصانہ تنقید پر فحش کلامی کے ریکارڈ توڑنے والے سونامی حضرات اب لکیر پیٹتے رہیں کہ سانپ ”  اٹوٹ بھائی ” خان صاحب کو خود مسلط سیاسی اتحادوں کے حوالے سے  ایک تلخ سیاسی سبق کے ساتھ ڈنگ مار کر اکیلا چھوڑ گیا ہے ۔ خان صاحب کو جلد اندازہ ہو گا کہ کینیڈین قادری اور لال حویلی کے شیخ چلی جیسے بدنام زمانہ کرداروں، سلمان احمد اور فوزیہ قصوری جیسے دین دشمن مہروں  اور گستاخ اسلام مغرب  کے ہاتھ میں کھیلنے والے نام نہاد دانشور حسن نثار یا میڈیا کرپشن کے آلودہ مبشر لقمان کو جلسہ گاہ کے سٹیجوں کا شو پیس بنانے سے ان کی سیاسی شہرت اور ساکھ کو کتنا نقصان پہنچا ہے ۔

وہ وقت سے پہلے حکومت گرا کر وزیر اعظم بننے کی جنونی کوشش کی بجائے حکومت کو  زرداری کرپشن کنگز کا لوٹا دھن ملک میں واپس لانے کیلئے مجبور کریں  تو پوری  قوم کے نجات دہندہ و مسیحا قرار پائیں ۔ اور اگر ان کی تحریک سے لوٹا ہوا قومی خزانہ واپس آ جائے  تو  ملک و قوم کی تقدیر بھی بدل جائے اور غیر ملکی سازشیں بھی دم توڑ جائیں ۔ میرا  دعوی ہے کہ ایسی صورت میں کم از کم اگلے دس سال تک انہیں اس ملک پر حکومت کرنے سے روکنے والا کوئی مائی کا لال میدان میں نہیں ہو گا ۔ ہر دن ایک نیا پینترا بدلنے اور کذب بیانی کے ماہر قادری صاحب نے گشتہ دنوں ” ووٹ سپورٹ اور نوٹ دو، میں انقلاب لاؤں گا” کا نیا پیغام دیکر ثابت کر دیا ہے کہ چند برس قبل پارلیمنٹ میں کھڑا ہو کر آن ریکارڈ ” میں پاکستانی سیاست پر لعنت بھیج کر ہمیشہ کیلئے سیاست چھوڑ رہا ہوں” کہنے والا مذہبی شعبدہ باز نوٹوں کیلئے قول و فعل  ہی نہیں اپنا ایمان بھی بیچ سکتا ہے۔ تعلیمی فلاح کیلئے عوامی چندوں سے جڑے منہاج القرآن خیراتی فنڈز سے سولہ سترہ لاکھ کی مہنگی ترین بزنس کلاس میں ہوائی سفر کرنے کی رسیا خوابوں والی سرکار نے نئے یورپی سفروں کیلئے ، ایبٹ آباد سے نوٹ اکٹھے کرنے کی مہم شروع کر دی ہے۔ ان کا یوں دغا دے جانا مسلسل یو ٹرنوں سے ساکھ کھونے اور سیاسی نا بلوغیت کی وجہ سے دوست و دشمن کی پہچان سے نابلد خان صاحب کیلئے کسی بھونچال نما دھچکے سے کم نہیں۔  خاں صاحب کو یاد رہے کہ  شعبدہ بازی میں کمال مہارت کے حامل  کینیڈین ملا  نے ڈنڈا و غلیل بردار مارچوں کے آغاز پر، کسی کامیابی سے پہلے دھرنے چھوڑ کر جانے والوں کو شہید کرنے کا حکم دیا تھا۔ چونکہ عقیدہء سونامیت میں خاں صاحب سے بے وفائی اور توہین عمرانی ایک گناہ عظیم ہے ،  لہذا سونامی مجاہدین اگر ان کی شہادت کی آرزو  پوری  نہیں کر سکتے تو  ان کیلئے کم از کم  جاوید ہاشمی صاحب  کے ساتھ روا  ” حسن سلوک ”  جیسی کڑی سزا عین واجب ضرور  ہے۔

 

کئی صاحبانِ نظر اہل قلم یاد دلا رہے ہیں کہ ستر اور پھر اسی کی دہائی میں کئی ایک مغربی اخبارات میں ایسے مضامین شائع ہوئے تھے کہ سامراجی مافیہ  نے بھارت اور ایران کے ساتھ کٹھ جوڑ سے  پاکستان کی حصے بخرے کرنے کا منصوبہ تشکیل دیا ہے۔ اور حیران کن طور پر اس مبینہ دجالی منصوبے کا سال بھی یہی 2014 ہی تھا ۔  لیکن  ہم کہ خوابیدہ قوم  نے حسب عادت ان ہوش اڑا دینے والی خبروں کو محض تکے بازیاں اور شرلیاں ہی  سمجھا۔  اوریا مقبول اور عبداللہ  طارق سہیل جیسے کئی راست گو کالم نگار بھی قوم کی آنکھیں کھولنے کی مسلسل سعی کر رہے ہیں۔ آنکھیں کھول کر دیکھیں تو بظاہر سارا دجالی کھیل عیاں ہو چکا ہے لیکن صد حیف کہ ناچتی ہوئی رنگین تتلیوں کے طلسم میں بدمست نئی نسل کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے بیٹھی ہے۔ دھرنوں سے معشیت اور کاروبار زندگی کی تباہی و بربادی ایک طرف، چینی صدر کے دورے کے عین وقت طوفان اٹھایا جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ حالات و واقعات ثابت کر رہے ہیں کہ مغربی فتنہ گروں نے پاکستان کی جغرافیائی تقسیم  کیلئے قوم کو نظریاتی، لسانی اور مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی حکمت عملی اپنا رکھی ہے۔  پاکستان کو خارجی محاذوں ہر  تنہا کرنے کی عالمی  سازش میں خود اپنے بھی شامل ہو چکے ہیں۔ چین جیسے قابل اعتماد دوست سے دور کر کے گوادر کی بندرگاہ کو غیر فعال کرنا اس خطرناک لندن کم تہران پلان کا سب سے خطرناک حصہ ہے۔ پاکستانی سرحدوں پر حملوں کے بعد ایران کو مملکت پاکستان کا دوست سمجھنے والے احباب  پر بھی ایران کا نام نہاد ” ہائے ہائے امریکہ ” ڈرامہ عریاں ہو چکا ہے۔

احباب خیال رہے کہ میں فتنہء سامراج و مغرب کیخلاف شعیہ سنی یکجہتی اور اتحاد بین المسلمین کا علمبردار ہوں،  لہذا اسے فرقہ ورانہ اور مسلکی منافرت  نہ سمجھا جائے۔  صدیوں کی تاریخ گواہ ہے کہ ایران کبھی بھی اتحاد امت کی تحریکوں کے ساتھ مخلص نہیں رہا۔ میرے مطابق ایران مسلکی بنیادوں پر نہیں بلکہ اپنے مفادات کے تحفظ  اور پڑوسی ریاستوں میں اپنا اثر و رسوخ  قائم رکھنے کیلئے خطے کے دوسرے ممالک کی سیاست اور جغرافیائی حدود میں بے دریغ مداخلت کرتا رہا ہے۔ اس حوالے سے یہ کڑوے حقائق ہیں کہ ہلاکو خان کو بغداد پر حملے کی دعوت دینے والے بغدادی وزیر العلقمی اور مسلم ریاستوں کو تگنی کا ناچ نچوانے والے حسن بن صباح کا تعلق بھی ایران ہی سے تھا۔ اور میسور کا ننگ قوم  میر صادق، بنگال کا ننگ ملت میر جعفر، اس کا پڑپوتا اسکندر مرزا  اور سقوط ڈھاکہ کا ننگ وطن  کردار یحیی خان  بھی ایرانی ہی تھے۔ بلوچستان میں باغیوں سے ایرانی اور بھارتی اسلحہ کا  برامد ہونا بھی ایران کی بھارت کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ اور اس دجالی سازش کے تانے بانوں کی ساری کہانی بیان کر رہا ہے۔ دوسری طرف کھوکھرا پار سرحد سے بھارتی اسلحہ کی کمک در کمک موصول کرنے والے ” نامعلوم قاتل ” مافیہ نے تقسیمِ سندھ کی پوست  کا حلوہ  گرم کر کے بال ٹھاکری بازی گروں کا جلوہ دکھانا شروع کر دیا ہے۔ حالات و واقعات کی کڑیوں سے کڑیاں ملا کر سوچئے کہ ان دھرنوں میں خلقت اکٹھی کرنے کیلئے قابل اعتراض رقص و مجرہ کی رنگینیاں اور گویے سلمان احمد سے لیکر حسن نثار اور مبشر لقمان جیسے گستاخین دین و ملت کرداروں کا فعال کردار کیا واقعی احتجاج اور انقلاب تھا؟

  غلیلوں اور جدید آلات سے لیس مصدقہ ایرانی تربیت یافتہ لوگوں کی پارلیمنٹ اور پی ٹی وی عمارات پر کاروائیاں اور انقلابی رہنماؤں کی طرف سے عوام الناس کو پرتشدد سیاست کی مجرمانہ ترغیبیں کس گھناؤنی سازش کی طرف اشارہ کرتی ہیں؟ اور پھر دھرنوں کی ناکامی نظر آتے ہی بیک  وقت  مشرقی سرحد پر بھارتی شودروں اور مغربی سرحد پر برادر مسلم ملک ایران کی عسکری کاروئیوں میں پاکستانی فوجی جوانوں کی شہادتیں ؟  کیا یہ سب محض اتفاق ہے؟  نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ نہیں یہ اتفاق  ہرگز نہیں بلکہ اول تا آخر پاکستان کے ٹکرے ٹکرے کرنے کی  سازش کے اس دجالی اسکرپٹ کا حصہ ہے جو سامراجی دجالوں کی زیر سرپرستی  لندن اور تہران میں لکھا گیا ہے ۔۔۔ ممبر امامت پر اسلامی نظام ریاست کو اعلی ترین قرار دیکر خلفائے راشدین جیسا نظام سیاست لانے کے دعویدار کینیڈین ملا کا یہ منافقانہ بیان ان کے بھٹکے ہوئے مریدین کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے کہ ” ہم پاکستان میں مغربی جمہوریت کا نظام لے کر آئیں گے” ۔۔۔۔ دراصل مشرف کے اس یار غار صلیبی ایجنٹ کا جملہ کچھ یوں ہونا چاہئے تھا  کہ ” ہم یہاں مغربی جارحیت کا نظام لے کر آئیں گے ” ۔۔۔ کاش یہ سب غدارین پاکستان میر جعفر و میر صادق اور مجیب الرحمن جیسے ننگ دین و ملک کرداروں کے عبرت ناک انجام کا احوال یاد رکھیں ۔۔۔ مگر ہائے کہ غیر ملکی اکاؤنٹس میں ڈالرز اور پاؤنڈز کی ضرب و تقسیم کا سیاسی الجبرا،  دین و دنیا سمیت سب کچھ بھلا دیتی ہیں

( فاروق درویش ۔ 03324061000 ۔۔ 03224061000 )

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

Featured

%d bloggers like this: