حالات حاضرہ

پوشاکِ امامت میں ہیں مغرب کے درندے


ادارہ منہاج القرآن میں برپا ہونے والا اندوہناک واقعہ ایک خون آشام سانحہ ہی نہیں بلکہ ملکی سلامتی کیلئے خطرات کی گھنٹی، ان دیکھے اور دیکھے ہاتھوں کی طرف سے امن عامہ اور ملکی اداروں کی ساکھ پر وہ ہولناک وار تھا جو  سیاسی نظام کی پوری عمارت دھڑام سے گرا سکتا تھا ۔ میرا ہمیشہ سے یہی موقف رہا ہے کہ اگر میاں صاحب اپنے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر، حساس قومی معاملات کے حل پر توجہ دے کر نیک نیتی سے قومی مستقبل کی تعمیر میں اپنی صلاحتیں اور توانائیاں بروئے کارلائیں تو وہ بلاشبہ قومی لیڈر ہی نہیں بلکہ ایک ملی راہنما بن کر ابھریں گے۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ملت اسلامیہ سے  وفا اور نظریہ پاکستان کی علمبرداری ہی ان کی اول و اخر شناخت ہے۔ وہ اپنی اس نظریاتی پہچان کو پاکستان کی سلامتی کیخلاف سرگرم بھارتی لابی کی شہرت رکھنے والے گروہ سے تعلق کی بھینٹ نہ چڑھائیں تو خود بھی سکون سے حکومت کریں اور قوم بھی سکھ کا سانس لے۔ مگر صد افسوس کہ نہ تو انہیں اپنے ارد گرد موجود ان طاقتور مشیروں اور بے قابو افسر شاہی کی من مانیوں پر کوئی کنٹرول رہا ہے جو اپنی خودسری اور پراسرار حماقتوں سے حالات خراب کر کے ان کی راہ میں کانٹے بچھا رہی ہے۔ ان کی فوج یا عدلیہ جیسے اہم قومی اداروں سے  ہم آہنگی اورحساس اداروں سے کوئی مربوط ورکنگ ریلیشن شپ دکھائی نہیں دیتی ۔ کچھ خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق منہاج القرآن کیخلاف حالیہ سخت گیر آپریشن وزیر اعلی کا ذاتی فیصلہ نہیں بلکہ ان کے چہیتے وزیر رانا ثنا اللہ کا ضدی فیصلہ تھا۔

 

تعجب خیز امر ہے کہ کبھی شہباز شریف صاحب کے ناک تلے قادیانی بیوروکریسی بلدیاتی انتخابات کے نامزدگی فارم میں ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کرنے کا مذموم نوٹیفیکشن لے آتی ہے اور انہیں اس بات کا علم تک نہیں ہوتا۔ اور کبھی ان کا ایک وزیر  پولیس افیسران کی سخت مخالفت کے باوجود منہاج القرآن پر سخت گیر اپریشن کا پلان فورس کرتا ہے مگر وہ حالات سے بے نیاز و بے خبر خواب گاہ میں آرام فرما رہے ہوتے ہیں۔ میں شہباز شریف صاحب کو تاریخ کے وہ اسباق یاد دلانا چاہتا ہوں کہ آخری عباسی خلیفہ مستعصم بالله کے دور میں اسی کا ایک قابل اعتماد وزیر ابن علقمی اس کے ساتھ بیٹھا ہلاکو خان کو بغداد پر حملے کی دعوت کے خطوط ارسال کرتا رہا مگراس خوابیدہ مزاج حکمران کو خبر تک نہ ہوئی۔ یاد رہے کہ مابعد ہلاکو کی ظالم منگول فوجوں نے وحشیانہ انداز میں حملہ آور ہو کربغداد کو مکمل طور پر تباہ و برباد اور خلیفہ مستعصم بالله کو ایک قالین میں لپیٹ کر گھوڑوں کے سموں سے کچھ اس طرح ہلاک کیا کہ خون کی ایک بوند تک زمین پر نہ گری۔ منہاج القرآن سانحہ حکمرانوں سے سوال کرتا ہے کہ کیا حالات اسی ہولناک داستان کی طرف اشارہ دے رہے ہیں کہ جب اس دور کے جرنل رانی برانڈ حکمران شراب کے نشے میں بدمست بیڈ روموں میں مقید تھے اور اہم سیاسی فیصلے جرنل رانی کے خواص و خادمین کیا کرتے تھے۔

عوام کی اکثریت کے مطابق کینیڈا کی صلیبی گود سے گاہے بگاہے قتلِ امن اور خون ریزی کا نیا نویلا مشن لیکر آنے والا طاہر قادری بلاشبہ ایک مذہبی شعبدہ باز اور اپنی سیاسی دوکانداری کیلئے معصوم عوام کو موت کے مونہہ میں دھکیلنے والا ایک فتنہ پرور قومی مجرم ہے۔ عوام واقف ہیں کہ وہ گذشتہ دومرتبہ بری طرح فلاپ ہونے کے باوجود اغیار کا فتنہ آور ایجنڈا لیکرپھر سے پاکستان آیا ہے۔ مگر صد افسوس کہ  اس بار عاصمہ جہانگیر اور نجم سیٹھی جیسے ہندوتوا برانڈ مشیروں اور رانا ثنا اللہ جیسے غیر سنجیدہ سیاسی نورتنوں کی صحبت میں خوش آباد و باش ضدی بادشاہوں نے قادری کے تازہ ترین  دجالی مشن کو از خود کامیاب کروانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ عام آدمی پوچھتا ہے کہ کیا ہمارے وزیر اعظم سیاسی بصیرت اور ملکی حالات کی آگاہی ہی نہیں رکھتے یا انہیں اپنے سب سے بڑے صوبے میں ہونے والی سیاسی سرگرمیوں اور اہم انتظامی امور کے بارے کوئی خاص دلچسبی ہی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب کے وزیر اعلی نے اپنے سیاسی رفقا، وزیروں اور مشیروں کو اتنی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ ان سے جڑے اہم فرائض و اختیارات کے حوالے سے جو چاہیں اور جیسے چاہیں من مانیاں کریں۔ کینیڈا میں بیٹھے یہودی اور مغربی فتنہ گروں کے انٹی پاکستان مکتب سے نیا سبق اور دہشت گردانہ پروگرام لیکر بار بار پاکستان در انداز ہونے والے طاہر القادری کی نام نہاد انقلابی مہم اور مذہب کے نام پر عوام الناس کے ساتھ شعبدہ بازیاں اپنی جگہ قابل مذمت و تنقید ہیں۔ مگر عوام یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ آخر وہ کون سے عوامل تھے جن کے باعث اس حد تک انتہائی سخت گیر اپریشن اشد ضرورت ٹھہرا یا وہ کون سے پراسرار عناصر تھے جنہوں نے منہاج القرآن سے رکاوٹیں ہٹانے کے ایک عمومی نوعیت کے انتظامی مشن کو لال مسجد برانڈ خونی سانحہ بنانے کی مذموم سازش کی۔

احباب حالات گواہ ہیں کہ مغربی اور سامراجی طاقتیں فتنہء الطاف، فتنہء قادیانیت اور فتنہء طاہر قادری جیسے  ہر پاکستان دشمن عنصر کو اپنی مخملی گود میں بٹھا کر دین محمدی سے نفرت اور نظریہء پاکستان سے کدورت بڑھانے والے روشن خیال صلیبی وٹامن کھلا کر پروان چڑھا رہی ہیں۔ مغرب کے استعماری ہتھکنڈوں کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ مغربی استعمار نے وحدت امت کے تصور کو توڑنے کیلئے کیمونزم، سوشلزم اور کیپیٹل ازم جیسے دوسرے ماڈرن نظام بتدریج عالم اسلام میں داخل کیے ۔ لیکن یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ مغرب کی ان نظریات کو عام کرنے کی یہ خدمت عالم اسلام میں سے صرف چند ایک سیاسی ضمیر فروش و ابن الوقت لوگوں نے کی ہے۔ ان ازموں کو فروغ دیکر کہیں کیمونزم سے دین اسلام سے دوری اور لادینیت پھیلائی گئی اور کہیں سوشلزم کا نعرہ لگوا کر بھٹو جیسے سیاسی کرداروں سے پاکستان کے ٹکرے کروائے گیے۔ میرے مطابق سامراج اور مغربی استمعار امت مسلمہ کو ہر محاذ پر تقسیم کرنے کے اب ایک نئے پلان پر عمل پیرا ہیں۔ دنیا میں کیمونزم اور سوشلزم جیسے نظاموں کے کلی فلاپ ہونے کے بعد مغربی استعمار نے اب بین الاقوامی سطح پر سعودی ازم، ایرانی ازم اور شامی ازم اور پاکستان میں مذہب سے متصادم الطاف ازم اور مذہب کا ظاہری لبادہ اوڑھے عیسائیت کے باطنی حواری قادری ازم جیسے نئے انٹی پاکستان فتنوں کو فروغ دینا شروع کر دیا ہے۔ اس حوالے سے کراچی اور بلوچستان میں کھلی بھارتی مداخلت کے ثبوت عوام تک تو پہنچ جاتے ہیں لیکن صدآفرین کہ آج تک کسی پاکستانی حکومت نے نہ کبھی بلوچستان اور کراچی معاملات میں بھارتی مداخلت کیخلاف کسی عالمی فورم میں آواز اٹھائی ہے اور نہ ہی حکومت برطانیہ سے الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقریروں اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے حوالے سے سفارتی احتجاج ہی کیا ہے۔ لیکن جہاں تک باشعور مسلم عوام کا تعلق ہے تو وہ اب بھی اسلامی نظریات و عقائد سے متصادم ان قومی، وطنی، نسلی یا مسلکی اکائیوں کے کسی دجالی تصور کو نہیں مانتے۔ بلکہ آج بھی امت مسلمہ کے ایک اجتماعی وجود کا تصور اپنے قلب و شعور میں زندہ رکھے ہوئے ہیں اور اپنی اپنی بساط کے مطابق اسی کی علمبرداری کی سعی بھی کرتے ہیں۔

 

عوامی رائے عامہ کے مطابق محفوظ کنٹینر میں بیٹھ کر معصوم عوام کو موت کے کھیل کی طرف دھکیلنے والا نام نہاد حسینی سپہ سالار طاہر القادری ایک مذہبی شعبدہ باز اورغیراہم سیاسی شخصت ہے۔ لیکن سیاسی بصیرت اور انتظامی امور سے نابلد حکمران اپنی حماقتوں سے اس کے غبارے میں ہوا بھر کر اسے ایک ایسا سونامی بنانے جا رہے ہیں جو مغربی طاقتوں کی آنکھ کے تارے الطاف حسین جیسے دوسرے انٹی پاکستان عناصر کے ساتھ مل کر ملکی امن و سلامتی کو بہا لے جانے کی دجالی قوت بن سکتا ہے۔ حکومتی ادارے بھی اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ لاہور میں ادارہ منہاج القرآن کو کراچی کے نائن زیرو کی طرز پر بد امنی پھیلانے کا اڈا بنانے کے حوالے سے گذشتہ دو برس سے کام جاری ہے۔ کار سیاہ ست کا موسم بتا رہا ہے کہ نریندر مودی کے برسر اقتدار آتے ہی پاکستان میں فعال تمام انٹی پاکستان قوتیں پہلے سے کہیں زیادہ متحرک ہو چکی ہیں۔ اس حوالے سے اسلام کے بدترین دشمن نریندر مودی اور طاہر قادری کے بیک ڈور تعلقات کی اطلاعات کے ساتھ ساتھ یہ خطرناک خبریں بھی گردش میں ہیں کہ پر امن لاہور کو عروس البلاد کراچی جیسا خونی لباس پہنانے کیلئے طاہر القادری کے ازلی حلیف الطاف حسین کے اسلحہ بردار جانثار لاہور پہنچنا شروع ہو چکے ہیں۔ بظاہر لگتا ایسے ہی ہے کہ پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات کو کسی خوف ناک تباہی کی طرف دھکیلنے کیلئے کوشاں مغربی تاجداروں اور بھارتی ایجنسیوں نے پاکستان میں خانہ جنگی  کیلئے طاہرالقادری اور اپنی دوسری بغل بچہ تنظیموں کو اہم ٹاسک دے دیا ہے۔ طاہر القادری اور الطاف حسین کے فتن خیز گٹھ جوڑ کو سامنے رکھتے ہوئے، حکومت پر سیاسی بصیرت اور جرات مندی کے ساتھ ایسے فیصلے کرنے لازم ٹھہرے ہیں کہ وطن عزیز کی سلامتی اور عوام کی جان و مال کا تحفظ فول پروف حد تک ممکن ہو۔ جن لاشوں کی بیساکھیوں کے سہارے سیاہ ست کرنے ایک کاذب مطلق ایجنٹ پاکستان آیا ہے تو خدارا آپ تو اسے اپنے ہی معصوم عوام کی وہ لاشیں نہ دیں۔ خدارا ہوش کریں ! پاکستان کو عراق، شام اور افغانستان نہ بننے سے بچائیں کہ یہ پاکستان سلامت ہے تو آپ کی حکمرانی بھی سلامت ہے۔

ہم کوفہء احباب کے صحرا کے مسافر

کہتے ہیں ہمیں اہل جنوں اشک چکیدہ

فاروق درویش

03224061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

1 Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: