حالات حاضرہ

چارآنکھیں ہیں مگرعقل کے اندھے ہیں میاں ۔۔


کون جانے کہ پاکستانی میڈیا کے نقلی دانشور اور جعلی تاریخ کے اصلی مورخ قرآن و شریعت، اسلامی تاریخ و معاشرت، سخن و ادب، ملی افکار اور نظریہء پاکستان کے خود ساختہ دجالی ڈیزائن اور سامراجی فارمیٹ کے نفاذ کیلئے کب اورکونسی گل رنگیء صحافت دکھائیں گے۔ ملت اسلامیہ کے لازوال روشن کرداروں کو جاہل اور فرسودہ خیال ثابت کرنے میں مصروف انہی آدھے تیتر آدھے بٹیر کرداروں میں ایک کردار، چوراہوں میں کیچڑ پھیلا کر دنیا کے ساتھ ساتھ عاقبت کیلئے لعنتیں سمیٹنے والے”صاحب ِ حرف کل” حسن نثار  ہیں۔ دس لاکھ کا اٹالین برانڈ کینالی پینٹ کوٹ ٹائی شرٹ بوٹ انڈروئر جراب پیکج پہن کر ٹاک شو سیٹ کی روشن لائیٹس میں خود کو چاند سے روشن چہرہ سمجھنے والے جناب حسن نثار کبھی حضرت اقبال اور ڈاکٹرعبدالقدیر خان جیسے چاندوں پر تھوک کر اپنا ہی چہرہ غلاظت آلودہ کرتے ہیں اور کبھی اسلامی شعائر و عقائد کے حوالے سے اپنے دل آزار تبصروں سے ازخود اپنے دجالی نظریات اور جہالت و کم علمی بے نقاب کر جاتے ہیں ۔ پرویز مشرف غداری کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ مشرف کے لیے پھانسی کا پھندہ تیار کررہا ہے تو یہ اسکی بھول ہے یہ پھانسی کا پھندہ خود اسی کے لیے ہوگا۔ اگر انھوں نے مقدمہ چلانا ہے تو چلائیں ان کے پیٹ میں مروڑکیوں اٹھتے ہیں ہر اس شخص کو شامل کریں جس نے مشرف کے فیصلے کی حمایت کی۔ فوج کا مورال چھوڑیں عوام کا مورال دیکھیں اگر آرمی چیف کو غدارکہا جائیگا تو پھر اس ملک میں محب وطن کون ہے ؟”  موصوف کے اس جاہلانہ بیان کے بعد ان کی عقل اور تاریخ کی  بنیادی معلومات سے  کلی لا علمی پر ماتم  کرنے کو دل چاہتا ہے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ ہر جرنیل  پرویز مشرف جیسا غدار قوم اور سامراجی ایجنٹ نہیں ہوتا۔ لیکن اس صحافتی مسٹر ٹن کو یہ حقیقیت  کون بتائے کہ  اسلامی تاریخ کے بدترین غدار میر جعفر اور میر صادق بھی فوج کے سپہ سالار اعلی ہی تھے۔ اور سلطان ٹیپو شہید کی شہادت  کے بعد فوج نے غدار جرنیل میر صادق  کا  دفاع نہیں کیا تھا بلکہ ایک غیرت مند فوجی نے اس ننگ ملت غدار کو فوری طور پر جہنم  واصل  کر کے اپنا  ملی اور پیشہ ورانہ فرض ادا کیا تھا۔ تاریخ اور حالات و واقعات کے سیدھے نطارے کیلئے الٹا  لٹکنے کے دانش مندانہ مشوروں سے نوازنے والے صحافتی ڈان صاحب کی خدمت میں عرض کرتے چلیں کہ

 شہر آسیب میں کچھ اہل ِ نظر بھی ہیں جنہیں
الٹے لٹکے  بنا  سب  سیدھا  نظر آتا  ہے   

hasan nisar420

 الو کی طرح الٹا لٹک کر سیدھا دیکھنے کے فنکار دانشور، مشرقی اقدار کو دقیانوسی و احمقانہ قرار دینے والے پیکر تکبر کو انکی ان ننگ ِ دین تحریروں اور روش خیالانہ کلمات کے حوالے سے اوریا مقبول جان جیسے کئی  صاحبان ادراک آئینہ دکھا چکے ہیں۔ سو ان کی ایسی روشن خیالیوں پر مذید علمی تبصرے کی ضرورت نہیں جن میں موصوف عورت کے پردے کو منافقت قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عورت برہنہ بھی گھومے تو کیا ہوا کہ اصل پردہ اورشرم و حیا آنکھوں یں ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ سلمان تاثیر فیملی کی طرح ارب پتی حسن نثار فیملی میں بھی مغربی ساحلوں کے نیم عریاں لباسوں کا رواج عام ہو۔ کسی فرسودہ خیال مسلمان کو ان کے اس توہین آمیز بیان پر بھی کوئی تعجب نہیں کہ داڑھی اورامامہ وغیرہ عرب کے کلچراورماحول کی ضرورت ہیں۔ کسی عاشق رسول ص کو کھجور کھانے کے سنت رسول ہونے کے حوالے سے ان کے اس تمسخرانہ کلمات پر آگ بگولہ ہونے کی بھی ضرورت نہیں کہ ” ظاہر ہے اب عرب میں سیب اور پپیتہ تو اگتے نہیں”۔ شاید حسن نثار صاحب ان بیانات و کلمات کے ذریعے خود کو اپنے مغربی آقاؤں کی نظر میں شاہ سے بڑھ کر شاہ کا مصاحب ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اور ایک وفادار ملازم کیلئے نوکری کا پہلا اصول بھی یہی ہونا چاہیئے کہ جس کا کھاؤ اسی کے گن گاؤ۔ سو اگر صاحب اپنے دجالی آقاؤں کے عقائد ونظریات کی تشہیر و ترجمانی فرماتے ہیں تو اس میں غلط کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ موصوف کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کئے جانے اور اکابرین ملک و ملت کے بارے ہرزہ سرائی کے بیانات کی بھارتی دور درشن اور قادیانی ٹی وی چینلز پر کسی پروفیشنل ایڈورٹائزمنٹ کی طرح بار بار تشہیر کی جاتی ہے۔ صرف صحافتی حلقے ہی نہیں عام لوگ بھی اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ٹی وی چینل سیٹ ہو یا نجی محفلیں، صاحب اکثر شراب کے نشے میں دھت رہتے ہیں اورحالت نشہ میں اپنے صحافی دوستوں کی محفل میں مجید نظامی جیسےغیر متنازعہ بندہء حق کے بارے گالی گلوچ اور فحش کلامی کی جرات کر کے ایک صحافی بھائی خواجہ فرخ سعید سے بری طرح پٹ بھی چکے ہیں۔ کوئی دوسرا کیا وہ خود بھی اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ ان کے مقدر کا ستارہ اس وقت چمکا جب انہوں نےسامراجی آقاؤں اور اینٹی پاکستان لابیز کے موقف کی ترجمانی کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیرخان کو عالم اسلام کا بدترین دہشت گرد ثابت کرنے کیلئے اپنے خود ساختہ فلسفے اورمنطق کے سارے علوم کے نچوڑ کے ساتھ اس سپوتِ پاکستان کی کھلی کردار کشی شروع کی۔ اور یوں معجزہء وفا سے اپنی ایک کینال کی رہائش گاہ سے ایکڑوں میں پھیلے اس قصرِ رعونت میں منتقل ہوگئے جہاں دس کروڑ سے زائد مالیت کے خوبصورت جنگلی جانوروں کا حسنی چڑیا گھر بھی موجود ہے۔ کس کی مجال کہ کروڑوں روپوں کی مالیت کے افریقی اور بنگالی شیروں کی درامد کیلئے ان کی این او سی درخواست روکے۔ بچہ لوگ امید رکھیں کہ  جلد لاہور چڑیا گھر جیسا ایک مکمل چڑیا گھر قصرِ حسن نثارمیں بھی موجود ہو گا اور ہم جیو اور دنیا کی نشریات میں انہیں اپنے شیروں، ہرنوں، موروں اور چکوروں کے ساتھ خوشگوار موڈ میں دیکھا کریں گے۔ عین ممکن ہے کہ  موصوف جلد ہی پاگل پن کی آخری سٹیج پر پہنچ کر خود بھی اپنے بنائے گئے اسی چڑیا گھر کے کسی پنجرے میں بچوں کیلئے ٹکٹ پر دستیاب ہوں۔ حفظ ماتقدم کیلئے کوئی یہ سوال نہ کیجئے گا کہ ایکڑوں پر محیط کروڑوں ڈالرز کی مالیت کا یہ محل کہاں سے آیا۔ یاد رکھیں کہ ایسے سوالات اٹھانے والے احباب، پاکستان کے بادشاہ گر میڈیا کےعتاب وعذاب کا شکار بھی ہو سکتے ہیں سو پرہیز لازم ہے۔ دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اورافلاس زدہ قوم کو صرف دو وقت کی روٹی کی فکر ہونی چاہیے نہ کہ حسن نثار کےایکڑوں میں پھیلےچڑیا گھرمحل سے۔یاد رکھیں کہ جس معاشرے میں جنگل کا قانون رائج ہو وہاں “کمانڈنگ اینڈ ڈومینیٹنگ پوزیشن” میں رہنے کیلئے خود کو کسی خود ساختہ جلاوطن سیاسی بھائی جیسے ہیبت ناک ڈان کے گٹ اپ میں رکھنا اشد ضروری ہے جس کیلئےزراہم ضرورت ہے۔ زرجہاں سے بھی آئے جیسے بھی آئے کامیابی کی اصل کنجی ہے۔مغربی غلامی کی اس مقدس دوڑ میں خود کو اصلی روشن خیال ثابت کرنے کیلئے کبھی کبھی سلمان تاثیر شہید جیسےاکابرینِ ملک وقوم کو بھی خنزیر کھانے کےفخریہ بیانات  دینے پڑتے ہیں۔ سو خود کو مغربی دجالوں کا اصلی پیروکاراور وفادار ثابت کرنے کیلئےاگرحسن نثار صاحب نے بھی حضرت اقبال رح  کے بارے ہہ کہہ دیا کہ ” اقبال کو شاعر مشرق کہتے ہوئے انہیں شدید کوفت محسوس ہوتی ہے” تو اس سے  حضرتِ اقبال کی عزت و شہرت کی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے لیکن ہاں چاند پر تھوکا سدا مونہہ پر ہی گرتا ہے۔ میں خود کو شاعر نہیں سمجھتا لیکن شاعری کی بحور و اوزان کےعلم عروض کا ایک ادنی سا طالب علم ضرور ہوں۔ دنیا ٹی وی کی ویب سائٹ ہر حسن نثار صاحب کے پروگرام کی ڈیزائن فائل دیکھی جس میں ان سے منسوب یہ بے وزن اشعار درج تھے۔

لگا کرآگ شہر کو یہ بادشاہ نے کہا    
اٹھا ہے دل میں تماشے کا آج شوق بہت    

جھکا کے سر کو سبھی شاہ پرست بول اٹھے   
حضور کا شوق سلامت رہے، شہراور بہت     

بحر سے خارج ان بے وزن اشعار کو پڑھ کر مجھ پر بھی یہ راز آشکار ہوا کہ آخر حسن نثار صاحب علامہ اقبال رح کو شاعرمشرق کہتے ہوئے شدید کوفت کا شکار کیوں ہوجاتے ہیں. ظاہر ہے مشرق کے تعلیمی سٹرکچر کو گھٹیا ترین اور مسلم تہذیب و تمدن کوان پڑھ جاہل اوردقیانوسی قرار دے کر خود کو عظیم فلاسفر اور لبرل دانشور کہلوانے والے جس نام نہاد شاعرکو اشعار کی بحراوراوزان کا بنیادی علم ہی نہ ہو۔ وہ اقبال جیسے بندہء مومن کے سخن کو کیا سمجھ پائےگا۔ یقیناً اس مسخرہ نما “صاحب علم” شاعرکیلئےحکیم الامت حضرت اقبال جیسے مرد قلندرکی شاعری بھینس کے آگے بین بجانےجیسی ہے۔ آخرمیں حسن نثار صاحب سے دست بستہ عاجزانہ التجا ہے کہ شوق سے دانشور،محقق، تاریخ دان اور مفکر کہلوائیں لیکن خدارا خود کو “شاعر” کہہ کر شاعری کی توہین نہ کریں۔ ادھر ادھر کے مصرعوں میں الٹے سیدھےجادوئی طریقوں یا الفاظ کے ردو بدل سے اشعار وغزلیں تیار کرنے والے چربہ ساز شاعراوراقبال کو شاعرمشرق کہتے ہوئے کوفت محسوس کرنے والے پڑھے لکھےجاہل کو میرا کھلا چیلنج ہے کہ وہ الیکٹرانک میڈیا کے کسی چوراہے یا اپنی ہی دنیا کے سٹیج کا انتخاب کر لیں میں صرف دس اشعار دوں گا۔اگر حسن نثار صاحب ان اشعارکی بحورواوازن بتا کران کی درست تقطیع فرما دیں تو مجھ ناقص العلم ادنی شاعر سمیت ان کےنظریات اور سخن پراعتراضات اٹھانے والےتمام فرسودہ خیال احباب بھی مان لیں گے کہ وہ اقبال کو سمجھنے کے قابل سخن فہم شاعر ہیں وگرنہ انہیں دو قومی نظریہ کے خالق شاعر مشرق، حکیم الامت ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی قوم سے معافی مانگنی ہوگی ۔

چار آنکھیں ہیں مگر عقل کے اندھے ہیں میاں
الٹے لٹکوں کو بھی الٹے نظر آتے ہیں میاں     

شہر آشوب کے آسیب یہی ہیں درویش
دہر کی آنکھ کے تارے بنے جاتے ہیں میاں      

فاروق درویش ۔03224061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

7 Comments

Click here to post a comment

Leave a Reply

  • علامہ اقبالؒ جیسی شخصیت پہ الزام تراشی کرنا، اللہ معاف کرے۔
    یہ انسان شاید یہ بھول گیا ہے کہ جس ملک میں بیٹھ کے یہ ایسی باتیں کرتا ہے، یہ ملک قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کا صدقہ ہے۔
    ہم اٹھارہ کروڑ عوام مل کے بھی اُن دو اشخاص جیسے نہیں ہو سکتے۔
    علامہ اقبالؒ نے درست کہا ہے کہ
    “نہ ہو طبیعت ہی جن کی قابل، وہ تربیت سے نہیں سنورتے”

    • برادر بلال اعظم باخدا یہ شخص دوسروں سے اشعار لکوا کر شاعر بنا پھرتا ہے اسے سخن کی الف بے کا نہیں پتہ، ہر وقت شراب کے نشے میں ٹن ہوتا ہے اور نشے کی حالت میں مجید نظامی صاحب کو گالیاں نکال کر خواجہ سعید سے بری طرح پٹ چکا ہے۔ اس سے پہلے میری موجودگی میں اسے الحمرا ہال میں گی سی کے سٹوڈنٹ نے گریبان سے پکڑ کر ہال سے باہر نکالا تھا

  • سب باتیں ٹھیک ہیں بس مجیب نظامی جیسے ن لیگ کے پٹواری کی تعریف ہضم نہیں ہوئی. اس کا اخبار تو ن لیگ کا پارٹی اخبار لگتا ہے.

Featured

%d bloggers like this: