تہذیبِ مشرق و مغرب حالات حاضرہ نظریات و مذاہبِ عالم

چارلی ایبڈو پر حملہ کرنے والے میرے بھی ہیرو ہیں


وہ ذاتِ گرامیء نبی آخر الزمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہ جس کا نامِ نامی افلاکِ رحمانی پر بھی بصد احترام لیا جاتا ہے آج اسی ذات اقدس کو یہود و نصاریٰ نے العیاذ بالله تختہٴ مشق بنا لیا ہے ۔ یہ سوچ کر دل کانپ اٹھتا ہے کہ اگر روزِ محشر جان نثاران محمد اصحاب نبی نے ہمارا گریبان پکڑ کر یہ سوال کر لیا کہ بتاوٴ ہم نے تو اپنے آقائے نامدار کی ناموس کیلئے جانیں قربان کیں، مگر تم  نے اپنی گردنیں کیوں نہ کٹوائیں ؟ تم نے محبوب کبریا کی عزت و عظمت اور ناموس و عصمت کا تحفظ کیوں نہ کیا ؟ تو ہم کیا جواب دیں گے اور کس منہ سے سرورِ کونین کے سامنے حاضر ہوں گے؟  مگر یہ کیا طرفہ تماشہ ہے کہ ہم گستاخین پیغمبر کی مذمت بھی کریں تو زمانے میں شدت پسند ٹھہرتے ہیں؟ ہم  یہود و نصاریٰ کی ان گھناوٴنی حرکات کے رد عمل میں اپنے جذبات کا اظہار بھی کریں تو فوراً دہشت گردی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر سامراج اور اس کے حواری مغرب کے ” صلیبی مجاہدین ” دنیا میں جہاں چاہیں دہشت گردی اور غاصبانہ قبضہ و  قتل وغارت کریں یا مذہبی دہشت گردی کی انتہا میں تاجدار نبوت اور کتابِ الہی کی کھلم کھلا توہین بھی کریں ، تو ان سے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ  مغرب و سامراج کی طرف سے سے مسلمانوں کیخلاف  مذہبی و عسکری دہشت گردی کا سلسلہ دراصل قدیم  صلیبی جنگوں کے ادوار ہی سے جاری ہے۔ مغربی بادشاہ گروں نے پہلے مسلمانوں کو غلام بنا کر ان کے نظام تعلیم میں دجالی تبدیلیوں اور مشنری  تعلیمی اداروں کے ذریعے مسلمان اشرافیہ  اورحکمران طبقے کے ذہن روشن خیال بنا  کر اپنی مغربی تہذیب پر آمادہ کیا ۔ اور پھر عالم اسلام میں اپنے غلام ابن غلام   “دیسی انگریزوں ” کو تاج و تخت بخش کر ایسی ہم مزاج  اور کٹھ پتلی حکومتیں قائم کیں جو آج امت اسلامیہ کی تباہی و بربادی کی عین ذمہ وار ہیں۔

امریکی سامراج اور مغربی فتنہ گروں  نے فغانساتان، شام ، عراق اور مصر کے مسلمانوں کی آزادی پر دہشت گردانہ حملہ آور ہونے کے بعد اب ناقابل برداشت مذہبی دہشت گردی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے. امریکہ اور برطانیہ سمیت پورا مغرب آزادیء اظہار کے نام پر مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کیلئے کھل کر سامنے آ گیا ہے۔  ڈنمارک اور سویڈن کے گستاخانہ خاکوں کی پذیرائی کرنے والے ممالک نے اب فرانس کے ملعون چارلی ایبڈو کی دجالی حمایت شروع کر دی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کی فنڈنگ سے چلنے والے چارلی ایبڈو نے مسلم احتجاج کے باوجود گزشتہ ساٹھ ہزار گستاخانہ کاپیوں کے بعد اگلی بار تیس لاکھ کاپیاں شائع کر کے مذہبی دہشت گردی کی عالمی صلیبی جنگ کا طبل بجا دیا ہے ۔ فرانس کے بعد امریکہ میں واشنگٹن پوسٹ اور برطانیہ میں گارڈین کے علاوہ جرمنی اوراٹلی کے اخبارات نے بھی چالی ایبڈو  کا عکس شائع کر کے عالمی مذہبی صلیبی جنگ میں شرکت کا حق ادا کیا ہے۔ فرانس میں مسلمانوں اور مساجد پر حملٓوں سے بے پرواہ حکومت نے دس ہزار فوجیوں کو یہودی عبادت گاہوں پر تعینات کر دیا ہے۔ پولیس نے چارلی ایبڈو حملے کے الزام میں فرانس بھر سے درجنوں مسلمانوں جیوں اور تفتیشی مراکز میں منتقل کر دیا ہے۔  جبکہ بلجیئم، برطانیہ ، اسپین اور جرمنی سمیت کئی مغربی ممالک میں مسلمان شہریوں کیخلاف آپریشن تیز کرتے ہوئے ہزاروں مسلمانوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ امریکہ اورپورے مغرب کے انٹیلی جنس ادارے مسلمانوں کے ٹیلی فون ٹیپ کرنے کے ساتھ ساتھ سائبر جاسوسی میں بھی مصروف ہیں۔

قابل صد افسوس کہ عالمی بدمعاش مسلمانوں کو اپنے نبی کی توہین کیخلاف احتجاج کے حق کو بھی شدت پسندی قرار دیتے ہیں ۔ لیکن  اس مذموم توہین رسالت کی حمایت میں اسرائیلی وزیر اعظم سمیت چالیس ملکوں کے صلیبی حکمرانوں نے ریلی نکال کر جو قبیح حرکت کی وہ  انتہا پسندی نہیں ؟ انتہائے خباثت یہ ہے کہ  فرانسیسی حکومت کی مکمل حمایت سے اب گوگل اور ایپل سائٹس پر بھی اس گستاخ رسالت میگزین چارلی ایبڈو کو آن لائن لانچ کرا دیا گیا ہے.  دوسری طرف ہم مسلمانوں میں بھی کچھ ایسے روشن خیال بدبخت و نامراد منافق پیدا ہو رہے ہیں جو صلیبی آقاؤں کے ایما پر یا تقلید مغرب کے فیشن میں الحاد اور توہین نبوی کے سنگین جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اور بدبختی کی انتہا یہ کہ پھر اس پر نادم بھی نہیں۔ اس حوالے سے ان سے بڑے جہنمی، بدبخت و مردود وہ روشن خیال شاعر، کیمونسٹ مزاج لکھاری اور سوشل میڈیا  پر بیٹھے وہ کریہہ العقیدہ قادیانی اور نام نہاد روشن خیال مسلمان دانشور ہیں جو سگان ِ کفر و دہر بن کر ایسے لوگوں کی نہ صرف اپنے فورموں پر حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ ان کیخلاف آواز اٹھانے والے مسلمانوں کو مذہبی دہشت گرد قرار دے کر ان کی کردار کشی کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ چارلی ایبڈو جیسی مذموم مذہبی دہشت گردی کرنے والوں یا ان کیخلاف آواز کو شدت پسندی قرار دینے والوں سے کیسے نپٹا جائے ؟ ذرا غور کیجئے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مدنی زندگی کے دوران بحیثیت قانون ساز اور حکمران ، توہین رسالت کے مجرموں کے ساتھ کیا سلوک کیا اور انہیں کیا سزا دی ؟ اس سلسلہ میں سیر تِ نبوی کی کتابوں میں جو واقعات ملتے ہیں ان میں سے کچھ کا تذکرہ ضروری ہے۔ فتح بدر کے بعد مدینہ لوٹتے ہوئے آپ کو مشرک جنگی قیدیوں میں وہ  نصر بن حارث نظر آیا جو آپ کو مسلسل توہین و ایذا رسانی کا نشانہ بنایا کرتا تھا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے حکم پر حضرت علی کرم الله وجہہ نے اسے فوراً قتل کر دیا۔ اسی سفر کے دوران اسیران جنگ میں اس ملعون عقبہ بن ابی محیط کو دیکھا کہ جس نے  مکہ میں  آپ پر حالتِ نماز میں اونٹ کی اوجھ ڈالی اور حرم کعبہ میں آپ کی گردن مبارک میں کپڑا کس کر ایذا پہنچائی تھی ۔ تو حضرت علی نے حضور اکرم کے ارشاد مبارکہ کی تعمیل میں اس شخص کی بھی گردن ماردی ۔ اگلے سال تین ہجری میں توہین رسالت کے چار مجرموں کو یکے بعد دیگرے قتل کی سزا دی گئی ، ان میں سے ایک عقما نامی یہودی شاعرہ تھی جو آُپ کی شان اقدس میں ہجویہ اشعار کہا کرتی تھی ، اسے ایک نابینا صحابی عمیر بن عدی نے واصل جہنم کیا۔  دوسرا مجرم ابوعفک نامی بھی  شاعر تھا جسے آپ کے حکم پر بدری صحابی سالم بن عمر نے انجام  تک پہنچایا ۔

یاد رہے کہ گستاخیء رسالت کا تیسرامجرم ملعون کعب بن اشرف  بھی ان بارہ نامزد گستاخین میں شامل تھا کہ جنہیں فتح مکہ کے بعد کفار کیلئےعام معافی کے باوجود ، غلاف کعبہ میں چھپے ہاتھ آنے پر بھی قتل کا حکم دیا گیا تھا۔ احادیث میں یہودی کعب بن اشرف کی دریدہ دہنی اور اس کا انجام بڑی تفصیل سے ملتا ہے۔  صحیح بخاری میں حضرت جابر سے مروی ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا کہ ”  تم میں سے کعب بن اشرف کے قتل کے لئے کون تیار ہے۔ اس نے الله اور اور اس کے رسول کو بہت ایذا پہنچائی ہے؟ ”  یہ سنتے ہی محمد بن مسلمہ کھڑے ہو گئے اور عرض کیا، یا رسول الله کیا آپ اس کا قتل چاہتے ہیں ؟ آپ  نے فرمایا،  ہاں ! چنانچہ حضرت محمد بن مسلمہ  ساتھیوں کے ساتھ  گئے اور اس گستاخ کا کام تما م کر دیا اور جب رات کے آخری حصے میں وہ آپ کی خدمت میں پہنچے تو آپ  نے دیکھتے ہی  فرمایا ” افلحت الوجوہ “ ان چہروں نے فلاح پائی اور کامیاب ہوئے ۔ ان لوگوں نے جواباً عرض کیا،  ”ووجھک یا رسول الله“۔ اور جب انہوں نے کعب بن اشرف کا سر آپ کے سامنے رکھا تو آپ  نے الله کا شکر ادا کیا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب ” الصارم المسلول علی شاتم الرسول “ میں مفصل لکھتے ہیں کہ کعب بن اشرف کے قتل کا بڑا سبب رسول اکرم کی شان اقدس میں دریدہ دہنی اور سب و شتم کی انتہا تھا۔ جس کی بنا پر خود آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا تھا ۔ توہین رسالت کے چوتھے  مجرم ایک نہایت امیر تاجر ابو رافع  کو بھی نبی کریم کے حکم پر حضرت عبد الله نے سوتے ہوئے قتل کیا ۔

تاریخ کے مطابق رسولِ اللہ صلی الله علیہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں بھی ایسے شیاطین پیدا ہوئے، جنہوں نے نبی اکرم کی شان اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کیا۔ ایسے ملعونوں کے قتل کیلئے  خود نبی کریم  نے صحابہ کرام کو روانہ کیا اور صحابہ نے انہیں واصل جہنم کر کے دربارِ رسالت سے جنت کا پروانہ حاصل کیا۔  یہ واقعات گواہ ہیں کہ اسلام میں نبی اکرم کی شان اقدس میں دریدہ دہنی، سب وشتم اور گستاخانہ کلمات کتنا بڑا اور ناقابل معافی جرم ہے .  ہم جیسے فقیران و عاشقین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے اردو ادب، سخن اور سب علوم  و فلسفوں سے معتبر و مقدم کلام الہی اور انتہائے عشق صرف ذات نبوی ہے۔ لہذا گستاخین قرآن و رسالت کیخلاف آواز اٹھانے کے جرم میں اخباری کالموں اور شاعری فورموں پر پابندی تو کیا، ہمیں  پھانسی کا پھندہ بھی بخوشی قبول ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہمارا ہیرو غازی علم دین شہید ہے ، لہذا چارلی ایبڈو پر حملہ کرنے والا ہر شہید بھی ہمارا ہیرو ہے ۔ عیسائیوں اور یہودیوں کے نبیوں سمیت تمام انبیائے اکرام کی دل و جان سے عزت و احترام کو اپنا ایمان سمجھنے والے امن پسند مسلمانوں کیلئے گستاخین قرآن و رسالت کی عین جائز سزا، صرف سر تن سے جدا ہے۔ میرے مطابق گستاخیء رسالت کیخلاف مزاحمت پر مجبور مسلمان،  دہشت گرد نہیں بلکہ  شمع رسالت کے پروانے ہیں۔ اہل سامراج و مغرب یاد رکھیں  کہ ہم عاشقین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم ہر حال میں امن پسند ہیں ، لیکن ہم  بدبخت  و ملعون گستاخینِ رسالت مآب کو پھولوں کے گلدستے پیش نہیں کر سکتے ۔۔۔۔

مانا کہ میرے مصطفےٰ، جانِ جہانِ عشق ہیں -:- جان ہیں وہ جہان کی، جان ہے تو جہان ہے

فاروق درویش – 03224061000 – 03324061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: