حالات حاضرہ

چاند مانگو گے تو مٹی کے کھلونے دیں گے۔ نگران وزیراعظم طاہرالقادری؟


الیکشن کے موسم کی آمد آمد ہے سو افلاک سیاہ ست کے تمام فصلی بٹیرے اور بندر بانٹ ایوانوں تک رسائی کے خواہش مند تمام برساتی مینڈک سیاسی کینوس پر نظر آنے لگے ہیں۔ لہذا اگلے نگران وزیر اعظم کی دوڑ میں شریک ادارہ منہاج القرآن کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر القادری صاحب بھی پانچ سال دیار غیر میں گوری گود کے مزے لوٹنے اور مغربی آقاؤں سے تمام تر ہدایات پانے کے بعد عظیم تر سامراجی پلان پر عمل درامد کیلئے کینڈا سے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ احباب کیا تماشہ ہے کہ امریکی سامراج اور صلیبی اتحادی ایشیا اور مشرق وسطی میں اڈے قائم کرنے کیلئے سرگرم ہیں اور ان کے مفادات کے محافظ قوم فروش اپنے آقاؤں کے دیار میں سیاسی اڈے قائم کرنے کی روایات کے امین ہیں ۔ اس حوالے سے ہمارے ملکی سیاست دانوں، دانشوروں یا اسلام دشمن مذہبی گروہوں کے بیرون ملک اڈوں کی روایات بڑی پراسرار ہوتی جار رہی ہیں۔ بی بی بینظیر ہوں یا میاں نواز شریف، الطاف حسین ہو یا پرویز مشرف، سب کو گورے دیسوں میں اپنے سیاسی اڈے قائم کرنا پڑتے ہیں۔ اسی طرح فتنہء قادیانیت ہو یا فتنہء گوہر شاہی، ان سب کو ولائیتی سرزمینوں پر ریڈ کارپٹ پلیٹ فارم فراہم کئے جاتے ہیں۔

TQطاہرالقادری صاحب کا معاملہ بڑاعجیب ہے کہ نہ انہیں نوازشریف کی طرح جبری بےدخل کیا گیا اورنہ ہی بینظیرجیسے حالات کا سامنا تھا۔ نہ انہیں پرویز مشرف اور پیرالطاف حسین کی طرح خود ساختہ جلاوطن بننے کی ضرورت درپیش تھی اور نہ ہی قادیانی کلٹ کی طرح صلیبی پناہ درکارتھی۔ پھر خدا جانے وہ کون سی پر اسراروجوہات یا پس پردہ حقائق تھے جن کی بنا پر طاہر القادری صاحب بھی اپنا وطن پاکستان چھوڑ کر پانچ سال سے تمام اسلام دشمن فتنوں کی آماجگاہ کینڈا میں مقیم تھے۔ سنا ہے کہ وہ کرسمس سے چند روز قبل کل رات گئے کینڈا سے پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں۔ کرسمس میں چند روز باقی ہیں سو شاید اس موقع پر وہ ایک بار پھر ادارہ منہاج القرآن میں کرسمس کا کیک کاٹ کر اپنے مغربی آقاؤں کی فرمابرداری کا حق ادا کرنے آئے ہیں۔ یاد رہے کہ ڈاکٹرصاحب بھی دوسرے سیاست دانوں اور دانشوروں  جیسے شاہ سے بڑھ کر شاہ کے مصاحب ہیں اور اس حوالے سے غیر مسلموں سے حد سے زیادہ بھائی چارے کے فروغ کے کارن مختلف حلقوں کی طرف سے سخت تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ لہذا سکیورٹی خدشات کے باعث انہیں حج ٹرمینل کے ذریعے ایئرپورٹ سے باہر لایا گیا۔ خبریں ہیں کہ کل وہ ایک اہم پریس کانفرنس کریں گے جس میں وہ اپنے آئندہ کا لائحہ عمل بتائیں گے جس سے کسی حد تک واضع ہو پائے گا کہ کینیڈا میں رہ کر گذشتہ پانچ سال کی ولائتی تربیتی نشست میں انہوں نے کیا کچھ سیکھا اور کس بدیسی پلان یا صلیبی مشن کی تکمیل کیلئے ان کی مبارک آمد ہوئی ہے۔ بحرحال جو بھی ہو دو روز بعد 23 دسمبرکو مینار پاکستان پر منعقد کئے جانے والے عوامی جلسہ کے بعد صورت حال مذیدواضع ہو جائےگی۔ میں زمانہءطالب علمی سے قادری صاحب کی تحریر و تقریر کا قاری و ناظر رہا ہوں اورخصوصاً قادیانیت کے خلاف علمی جہاد کےحوالےسےان کی دینی اورعلمی خدمات کا دل سے معترف بھی ہوں۔ بلاشبہ فتنہء قادیانیت کی دجالی اسلام دشمن تحریک کیخلاف طاہرالقادری کا مجاہدانہ کرداراورعالمانہ تحریک واجب التقلید ہیں سو میں فتنہء قادیانیت کے خلاف سرگرم اس مجاہد ختم نبوت کو پاکستان واپسی پرخوش آمدید کہتا ہوں مگر اپنی ہی تفسیرات قرآنی اور تشریحاتِ شریعت کے منافی ایک مٹھی سنتی داڑھی کو تراش کر روشن خیال اسلامی ڈیزائن دینے والے مفکر اسلام سے کچھ سوالات کا حق بھی محفوظ رکھتا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ بیرون ممالک مہناج القرآن کے تنظیمی مراکز اورتبلیغی ٹیموں کی موجودگی کے باوجود وہ کون سی ناگریر دینی، سیاسی یا ذاتی وجوہات تھیں جن کی بنا پر وہ پانچ سالہ طویل عرصہ تک اس کینیڈین سرزمین پر مقیم رہے جہاں امریکی انتظامیہ اورمغربی اہلکاروں کے سرکاری و نیم سرکاری وفود متواتر ان سے پراسرار ملاقاتیں کرتے رہے۔ میں ان سے یہ سوال ہرگز نہیں کروں گا کہ وہ کس اسلامی شریعت کی بنا پر کرسمس کا غیر شریعی کیک کاٹنے کے پروگراموں کا انعقاد کرتے ہیں یا کس اسلامی فلسفے کی بنیاد پر گرجا گھروں میں محافلِ میلاد کروانے کے غیر اسلامی فیشن کو فروغ دینے کیلئے کوشاں ہیں.  میں ان سے یہ سوال بھی نہیں کروں گا کہ انہوں نے آقائے نامدار نبی کریم ص سے جڑی جھوٹی خوابیں سنا سنا کر لوگوں کو کیوں اور کیونکر نیوقوف بنایا۔ ہر مسلک و عقیدہ سے تعلق رکھنے والے مسلمان کا موقف یہی ہے کہ انہوں نے نبیء آخر الزمان ص کی طرف سے پاکستان میں قیام و طعام اور سفری سہولتوں کی من گھڑت خواہش کا جعلی خواب سنا کر عہدہء نبوت اور بعد از خدا بزرگ ذات ِ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی جو مذموم توہین کی وہ پیشہ ورانہ مذہبی شعبدہ بازی کی گھٹیا ترین مثال ہے۔  میں ان سے یہ بھی سوال نہیں کروں گا کہ سیاست پر ہمیشہ کیلئے لعنت ڈالنے کے بعد وہ اپنے قول سے کھلے منحرف ہو کر کس کے ایما پر پاکستانی سیاست میں وارد ہوئے ہیں۔ میں انہیں یہ بھی یاد نہیں دلاؤں گا کہ انہوں نے پاکستان کبھی نہ چھوڑنے اور یہی مرنے کی قسمیں اٹھائیں مگر مابعد اپنے قول سے مکر کر گوروں اور یہودیوں کی پناہ لے کر کینیڈا کے شہری بن بیٹھے۔ لیکن ہاں ایک عام پاکستانی ہونے کے ناطےان سے یہ ضرور پوچھوں گا کہ تمام ذاتی مراعات اور ادارہ ء منہاج القرآن کیلئے زمینی قطعات اورمالی فنڈز کےحصول کے بعد انہوں نے اپنے ہر سیاسی و ذاتی محسن کی پیٹھ میں چھرا کیوں گھونپا۔ میں ان سے یہ سوال بھی کروں گا کہ اس میں کیا راز ہے کہ وہ آئیندہ الیکشن کے قریب اس پاکستان کو بچانے تشریف لائے ہیں جسے وہ انتہائی مشکل حالات میں اس وقت اکیلا چھوڑکرگورے دیس کینیڈا میں مقیم ہو گئےتھے جب اس ملک و قوم کو ان جیسے “مخلص انقلابی لیڈر” کی اشد ضرورت تھی۔ بحرحال کوئی اختلاف کرے یا تائید مگر میرے ذرائع اور ناقص علم کے مطابق امریکی و مغربی آقاؤں کے پاکستان پلان کے مطابق اگلے نگران سیٹ اپ کے نگران وزیر اعظم ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب ہوں گے۔ میرا دعوی ہے کہ وہ مغربی سامراج سے تمام تر سیاسی تربیت اور والہانہ آشیرباد پا کر ایک ہمہ گیر دجالی منصوبے کے تحت پاکستان تشریف لائے ہیں۔ پرویز مشرف کی طرح اول و آخر امریکی برانڈ روشن خیال اسلام کی تشہیر ان کا بنیادی مشن ہو گا۔ ہاں ڈاکٹر صاحب کا نیم گلابی امریکی اسلامی نسخہ یا روشن خیال انجکشن ان کے ہم نوالہ ہم پیالہ امریکی غلام سیاسی بھائیوں پرویز مشرف، زردارہ یا الطاف حسین کے نام نہاد لبرل اسلام سے تھوڑا مختلف ضرور ہو سکتا ہے مگر ان کا قبلہ و کعبہ یقیناً وائٹ ہاؤس اور قصر برطانیہ ہی ہو گا۔ ڈاکٹر صاحب کے پرستاروں کو بتاتا چلوں کہ جب میں سنٹرل ماڈل سکول لاہور میں میٹرک کا طالب علم تھا قادری صاحب اورینٹیل لا کالج میں سو روپے روزانہ کےعوض جزوقتی لیکچر دیا کرتے تھے،موصوف روزانہ میرے ایک بزرگ ایڈووکیٹ چوہدری لطیف راں مرحوم صاحب سےلفٹ لیکر نواز شریف مسجد ماڈل ٹاؤن جاتے تھے۔ میں گورنمنٹ کالج لاہورکا طالب علم تھا تو سنتوں بھری شریعی داڑھی اورقراقلی ٹوپی والےمولوی طاہر القادری لا کالج کے باہر پرانی سوزوکی موٹر سائیکل کو ناکام ککیں مارتے یا دھکا لگوا کرسٹارٹ کرواتے دکھائی دیتے تھے۔اورپھرمیں نے ہی حبیب بینک کے آفیسرکی حیثیت سےادارہء منہاج القرآن میں واقع حبیب بنک برانچ میں ان کے پچیس ہزار روپے والے اس انعامی بانڈ نمبر 007800۔ کی انعامی رقم ڈھائی کروڑ روپے کے ووچر کو مذکورہ بانڈ نکلنے کے کئی ماہ بعد ان کے ذاتی اکاؤنٹ میں کریڈٹ کیا تھا جو بانڈ ان کی ملکیت نہیں بلکہ کالا دھن سفید کرنے کیلئے بلیک مارکیٹ سے خریدا گیا گیا تھا۔ اس انعامی بانڈ کی رقم کو کب اور کیسے پاکستان سے باہر منتقل کیا گیا اور وہ کس غیر ملکی بینک میں گئی ۔ واللہ علم بالصواب، ہاں مگر آج وہی سفید پوش طاہر القادری، کینیڈین شہریت رکھنے والا سامراجی مہمان، کھرب پتی مجتہدِ ملت حضرت علامہ ڈاکٹر طاہر القادری مدظلہ علیہ اب نگران یا مستقل وزیراعظم بننے کے خواب دیکھ رہا ہے.آخری خبریں آنے تک” ڈاکٹر” کی ڈگری اور لانگ مارچوں پرخرچ ہونے والے اربوں روپوں کے فنڈزجاری کرنے والی قوتوں کی تصدیق بھی ابھی باقی ہے۔ حالات اسی طرف اشارہ دے رہے ہیں کہ مغربی بادشاہ گروں کے نئے ہونہار بغل بچے طاہر القادری کا اصل مشن پاکستان میں امن وعامہ کی صورت حال خراب ، اداروں کو کمزور اور عوام کو گمراہ کرنا ہو گا۔ دعا ہے کہ اللہ اس ملک و قوم کو ننگ ملت شاعروں، ننگ تحریر ادیبوں، ننگ وطن دانشوروں اور ننگ دین مذہب فروش  مولویوں کے ہر بدرنگ شراور خوش رنگ فتن سے سدا محفوظ رکھے ۔۔۔ آمین ۔۔ فاروق درویش۔

tq1

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

6 Comments

Click here to post a comment

Leave a Reply

  • qadre wa padree choroo bhai logoo PTI ko kamiab karoo ager reall change chahte ho to
    mano ya na mano s mulk ko aik detement ,true and brave leader ki zarorat ha jo k imran khan ha

    • برادر صبغت صاحب بلاشبہ عمران خان صاحب ایک محب وطن اور کھرے انسان ہیں ہمیں ان سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس دعا ہے کہ اللہ انہیں پیشہ ور سیاست دانوں اور ضمیر فروش لوٹوں کے چنگل سے آزاد کروائے

  • طاہر القادری صاحب کی بہت ساری تقاریر میں نے سنے ہیں وہ بہت دینی علم کے خزانہ ہیں مگر جب ان کے بارے میں کچھ ایسا سنے کو ملے تو بہت مشکل سے یقین آتا ہے ۔ اللہ پاک اس رہبر کی رہ نمائی کرے اور سیاست سے ان کو دور کرکے دین کی خدمت کے لئے وقف فرمالے اے دلوں کے پھیرنے والے ہم مسلمانوں کو دین و ایمان کی سمجھ دے ۔

    • پیاری بہن کوثر بیگ صاحبہ قرآن حکیم سے بڑھ کر مستند حقیقت اور کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ایک شہرہء آفاق قرآنی سکالر طاھر القادری صاحب کو قرآن میں درج ولادت مسیح کے حوالے یہ حقیقت کیوں نظر نہیں آتی؟ جناب عیسی علیہ السلام کی پیدائش 25 دسمبر کو ہوئی ہی نہیں تو اس روز ان کا یوم ولادت منانے کا جواز کیا ہے؟ قرآن حکیم اور بائیبل سے انکی پیدائش موسم گرما میں ہونا ثابت ہے اور دسمبر گرمی کا نہیں بلکہ سردی کا مہینہ ہوتا ہے۔. اس کا مصدقہ ثبوت یہ ہے کہ قرآن میں درج قصص القرآن کے مطابق جب حضرت مریم علیہ السلام جناب عیسی کی پیدائش کے بعد کھجور کے درخت کے نیچے جا بیٹھیں تو الله تعالی نے انھیں درخت پر لگی پکی ہوئی کھجوریں کھانے کا حکم دیا. یاد رہے کہ کھجوریں موسم سرما میں نہیں بلکہ موسم گرما میں ہی پکتی ہیں. سورۃ مریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

      “پھر درد زہ ان کو کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔ کہنے لگیں کہ کاش میں اس سے پہلے مرچکتی اور بھولی بسری ہوگئی ہوتی. اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے فرشتے نے ان کو آواز دی کہ غمناک نہ ہو تمہارے پروردگار نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے. اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ تم پر تازہ تازہ کھجوریں جھڑ پڑیں گی. تو کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو کہنا کہ میں نے خدا کے لئے روزے کی منت مانی تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہیں کروں گی. (سوره مریم آیت ٢٣-٢٦)
      اسی طرح عیسائیوں کی مقدس کتاب بائیبل کے مطابق بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش مبارک موسم گرما یا موسم بہار میں ہوئی. کیوں کہ بائیبل میں درج پیدائس عیسی علیہ السلام کے مطابق جس روز حضرت عیسی علیہ سلام پیدا ہوئے اس رات کچھ گڈریے ارد گرد اپنی بھیڑ بکریاں چرا رہے تھے. (انجیل لوقا ٢:٠٨). اب دسمبر کی سخت سردے کے موسم میں کرسمس منانے والے عیسائی حضرات سے کون روشن خیال پوچھے گا کہ دسمبر کی یخ بستہ راتوں میں کون احمق اپنے جانور چراتا ہے؟ اور یہ بات بھی دھیان میں رہے کہ اس قدر کم درجہ حرارت پر بھیڑ بکریاں یا دوسرے چرندے گھاس نہیں چرتے بلکہ سکڑ کر کسی کونے میں بیٹھ جاتے ہیں.

      عین ممکن ہے کہ مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے قرآن حقائق اور شریعی تقاضوں کو نظر انداز کر کے صلیبی عقائد کے عین مطابق کرسمس منانے والے قادری صاحب کل کو یہ تحریر جاری کر دیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت آسٹریلیا کے جزیرے پر یا کسی اس ملک میں ہوئی تھی جہاں دسمبر میں موسم گرما ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اور اس زمانے میں وہاں کھجوریں بھی پیدا ہوتی تھیں ۔۔۔۔۔۔

  • جناب درویش! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ڈاکٹر طاہرالقادری ایک علمی ،ادبی،باصلاحیت اور یگانۂ روزگار ہستی ہیں ۔۔۔ مگر باوجود ایں ہمہ صفات،وہ ایک انسان ہیں۔۔۔ ان میں انسانی کمزوریوں کا درآنا کو ءی اچنبھاکی بات نہیں ۔۔۔ اور آپ ایسے صاحب فکر بلکہ صا یب فکر کو ان پر تنقید کا حق بھی حاصل ہے۔۔۔ مگر کچھ چیزیں ایسی ہیں کہ جنھیں اگر کوءی سنجیدہ فکر لایق تبصرہ سمجھے تو خود وہ صاحب بھی تبصرہ کے قابل ہوجاتے ہیں۔۔۔ میں خود ڈاکٹر موصوف کا نقاد ہوں ۔۔ بلکہ میری دانست میں ہر وہ شخص ان پر تنقید کرتا ہے جنھیں ان کی صلاحیتوں کے باعث ان سے توقعات تھیں۔۔۔ مگر اب کیا کیا جاءے کہ وہ ڈگر سے ہٹ گءے ہیں تو۔۔۔ پھر بھی ان کی مالی و ذاتی حیثیات میں شاید ہمیں کچھ کلام نہ کرناچاہیے ۔۔۔۔ جیسے کہ اگر وہ موٹر ساءکل کو ناکام ککیں لگاتے تھے اور اب ان کے پاس بہت سا سرمایہ ہے ۔۔۔تو یہ ان کی سٹرگل کی طرف بھی تو اشارہ ہے ۔۔۔ اور اس وطن کی مٹی اور ان کی کاوشیں مسلسل دین کی خدمات ۔۔۔۔ کا صلہ دنیا میں ہی رب نے عطا کردیا ہو ۔۔۔۔ آخرت کا معاملہ تو رب کے سپرد ہیں۔۔۔ اگر نیتوں کا فساد ہے تو وہی جانے۔۔۔ شاءد میں آپ کی زیادہ سمع خراشی کر گیا ہوں۔۔۔ مقصود از مدعا یہ ہے کہ نقد و جرح تو بالضرور ہونا چاہیے ۔۔۔ لیکن اگر ذاتیات سے بالا تر رہ کر ایس ہو تو ۔۔۔۔۔ والسلام مع الاکرام
    محمد ساجد ستار نوری

Featured

%d bloggers like this: