جواں ترنگ دورحاضر کے شعرا

کبھی ساحل تو کبھی سیل ِ خطر ٹھہرے گی : سیدہ سارا غزل


کبھی ساحل تو کبھی سیل ِ خطر ٹھہرے گی
بحر ِ ہستی میں اگر موج ِ سفر ٹھہرے گی

ورطہء شب سے نکل آئی اگر کشتیء صبح
ساحل ِ نور پہ ٹھہرے گی اگر ٹھہرے گی

سینہء حسن میں پوشیدہ ہے جو آگ ابھی
تیشہء عشق سے گلرنگ سحر ٹھہرے گی

کشتیء جاں کو سلامت نہ اگر لے کے گئی
بیکلی دل کے سمندر کا بھنور ٹھہرے گی

ہم سر ِ شام چراغوں میں تجھے دیکھیں گے
اب کسی گل پہ نہ تارے پہ نظر ٹھہرے گی

دل کی فریاد کو لازم ہے خموشی ہی غزل
ورنہ اس دہر میں یہ کار ِ ہنر ٹھہرے گی

سیدہ سارا غزل

اپنی رائے سے نوازیں

%d bloggers like this: