حالات حاضرہ

کیا کہنے حضور آپ کے فرمان یہ دستور . یہ حسن سیاست ہے کہ دو رنگیء منشور


ہر الیکشن کی طرح پچھلا الیکشن آیا تو سیاسی بندربانٹ اور رنگ برنگی پیشہ ورانہ سیاست کے نت نئے کھیل تماشے لایا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان میں سیاست جھوٹ، دھوکہ اور فریب کا گھناؤنا کھیل ہے۔ یوم الیکشن سے پہلے اس خبر پر لوگوں کو تعجب ہوا مگر مجھے اس خبر پر کوئی حیرت نہیں ہوئی کہ ساری زندگی زرداری ڈاکو پی پی چور کا نعرہ لگانے والےعمران خان نے حسب عادت یو ٹرن لیتے ہوئے این اے 56 اور پی پی 14 کی سیٹس سمیت پیپلز پارٹی کی سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کی نشست پر قوم کے بد ترین ڈاکو زرداری کی سیاسی جماعت سے سیاسی مفاہمت کرلی ہے۔ پھر یہ خبر بھی زیرگردش رہی کہ الطاف حسین کیخلاف لندن میں مقدمات لڑنے کے دعویدار انقلابی خان کے امیدوارحیدرآباد میں متحدہ کے امیدوار کے ﺣﻖ میں دست بردار ہو گئے ہیں۔ ان ہونیوں اورانہونیوں کے ساتھ ہرخاص و عام پر بدتریج حقیقت کھل رہی تھی کہ قوم کو نام نہاد انقلاب اور تبدیلی کا پیغام دینے والے عمران خان بھی پس دیوار کارفرما یہودی اور مغربی آقاؤں کے پلان کے مطابق، لادین سامراجی کٹھ پتلی پرویز مشرف ثانی کا روپ دھاررہے ہیں۔

پرویز مشرف کے دور اقتدارکا بغورجائزہ لیں تومادر پدر آزاد مغرب برانڈ معاشرے کے قیام اور فحاشی و عریانی کے فروغ سے لیکر متحدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں اور اسلام دشمن قادیانیت دشمن گروہوں کی سرکاری سرپرستی تک اس کے سیاسی بچونگڑوں کی انتھک جدوجہد صاف نظرآتی ہے۔ نیکروں میں ملبوس نیم عریاں خواتین وحضرات کی مخلوط میراتھن ریسیں ہوں، سکول کالجوں میں مجرا برانڈا میوزک شوز ہوں یا عریانی و فحاشی کیخلاف اٹھنے والی صداؤں کو دبانے کا آمرانہ عمل، مشرف مافیہ کے روشن خیال اقوال و افعال سے امریکی غلامی اور یہودیت کی پیروکاری کی متعفن “خوشبو” آتی تھی۔ لیکن اپنی ریاستی طاقت اور تمام تر آمرانہ ہتھکنڈوں کے باوجود وہ اس قوم کو اپنے امریکی آقاؤں کی طرح فحش مزاج ٹرپل ایکس نیشن بنانے میں بری طرح ناکام رہا۔ سیاسی منظر بدلے، امریکہ نے زرداری، باچا خان، قاتل لیگ اور متحدہ پر مشتمل نئے سیاسی اتحاد کے ذریعے اپنی پسند کے اسلام اور دہریانہ نظام سیاست کیلئے نئی بساط بچھائی مگر یہ غلمانِ دہر امریکی نظریات کی تشہیرو ترویج کے فرائض کی سرانجامی سے زیادہ کرپشن سے زر صد لعنت اکٹھا کرنے میں مصروف رہے۔ سو یہ بھی اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کو واشنگٹن اور لندن کے رنگ میں رنگنے میں ناکام ٹھہرے۔ میرا حق الایمان ہے کہ اس ناتمام ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اب عمران خان بھی جوچاہیں کرگزریں، پاکستان کے باشعورعوام پہلے کی طرح اب بھی ایسی ہر سازش اورکوشش کو ناکام بنادیں گے جو ملک کو مادر پدر آزاد مغربی معاشرے کی سیکولر بنانے کیلئے سرگرم ہے یا ہو گا۔ عمران کے سیاسی حریف کہتے ہیں کہ متحدہ اورتحریک انصاف میں میچ فکسنگ بہت عرصہ پہلے ہی ہوچکی تھی۔ لوگ جانتے ہیں کہ الطاف حسین کے ساتھ مک مکاؤ کے بعد کراچی کا 25 دسمبر کا جلسہ بھی مکمل فکس تھا۔ کراچی میں خان صاحب اور نائن زیرو کی قیادت کی پرجوش ملاقات میں بلی مکمل طورپرتھیلے سے باہرآ گئی جس میں عمران کی طرف سے یہ یقین دلایا گیا کہ اس نے سیاست کے جنگل کے سب شیر چیتے لگڑ بگھے اور ہاتھی قابو کر لئے ہیں۔ عمران خان کا ایم کیو ایم کے ساتھ والہناہ معانقہ دراصل ان کی طرف سے جاری سلسلے کا ایک اور’’یوٹرن‘‘ تھا۔ قوم کیسے بھول سکتی ہے کہ یہی سونامی خان متحدہ کو کراچی میں ٹارگٹ کلنگ ،بوری بند لاشوں، نوگوایریاز، ٹارچرسیل اور بھتہ خوری کے کلچر کا عین ذمہ دار قرار دیتے رہے تھے۔ 12مئی کے قتل عام میں بیسیوں افراد کی اموات کی ذمہ داری بھی وہ متحدہ مافیہ پرڈالتےرہے تھے۔ متحدہ کیخلاف جہد کی بڑھک مارنے کے بعد الطاف حسین کے خلاف مقدمے قائم کرنے کیلیے لندن بھی گئے تھے۔ لیکن پھر اچانک کیا ہوا وہ ان کے پرستاروں کیلئے بھی سوالیہ نشان ہے۔ خان صاحب نے کراچی کے شہیدوں کا لہو کن طاقتوں کی مداخلت پر کن سیاسی مفادات کے عوض بیچ کر الطاف حسین مافیہ کیخلاف پراسرار خاموشی اختیار کی تھی، واللہ علم بالصواب۔

altafimran1

احباب اگر غور کیا جائے تو پتہ چلے گا عمران خان کی ساری سیاست موقع پر ستی، بے اصولی،ابن الوقتی اور یوٹرنز کی سیاست ہے۔ تبدیلی کے دعویدار نے ہم جنس پرستی کی بدنام زمانہ علمبردار فوزیہ قصوری اور گستاخ قرآن گویےسلمان احمد کے ساتھ الیکشن مہم کی رنگ رنگیلی شروعات کرکے اسلام دشمن سیکولر اور مغرب نواز یہودی بغل بچوں کو ساتھ لیکر مسلم معاشرے میں سونامی برانڈ تباہ کن “تبدیلی” کا اشارہ دے دیا ہے۔ اہل خرد و نظر جانتے ہیں کہ ڈرون طیاروں کو گرانے اور انصاف کی بڑھکیں بھی الطاف حسین کیخلاف مقدمات کی بڑھکوں کی طرح سیاسی رنگ بازیاں بن کر رہ جائیں گی۔ سونامی مافیہ کے نئی اورنوجوان قیادت لانے کے دعووں کے غباروں سے ہوا نکل گئی ہے۔ خورشید محمود قصوری، فوزیہ قصوری، شاہ محمود قریشی جیسے مشرف کے تمام قریبی ساتھیوں نے تحریک انصاف کی قیادت پرعملی طور قبضہ کرلیا ہے۔ نتیجاً مشرف کی روشن خیالی، اسلام دشمنی اور مغرب پرست فحاششی و عریانی کی روح تحریک انصاف میں جا گھسی ہے۔ مشرف مافیہ اور الطاف اینڈ کمپنی کے اصل سرپرست یعنی سامراجی آقا اور ان کے ازلی او ابدی بغل بچے قادیانی پاکستان کی لادین و لبرل قوتوں کو عمران خان کی جھولی میں ڈال کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کو سیکولر پاکستان بنانے کی دجالی سازش میں جنون کی حد تک سرگرم ہیں۔ احباب یاد دلاتا چلوں کہ الطاف حسین کئی ٹی وی پروگرامز میں فتنہء قادیانیت کی حمایت میں کھل کر بیان دے چکے ہیں۔ لندن میں مقیم خود ساختہ جلاوطن قادیانی قیادت لندن میں ہی مقیم خود ساختہ سیاسی جلاوطن حواری پیر آف لندن شریف کی مکمل سرپرستی کرتی رہی ہے۔ اس حوالے سے حقائق سے با خبر لوگ جانتے ہیں کہ عمران خان کے متحدہ کیخلاف مقدمات سے یوٹرن اور مابعد لندن میں بیک ڈور معاہدات میں اسلام اور پاکستان کے بدترین دشمن قادیانی خلیفہ مرزا مسرور سمیت مغرب مقیم قادیانی قیادت نے انتہائی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ قادیانی خلیفہ کے قادیانی ٹی وی پر اس ویڈیو بیان کے بعد کہ عمران خان پہلے بھی کئی بار اس سے رابظہ کرکے سیاسی مدد اور تعاون کی درخواست کر چکے ہیں۔ یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ عمران خان قادیانی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔ یہ قادیانی کلٹ کے اسلام دشمن کردار کا ہی جادو ہے کہ کل کے مشرف و متحدہ مخالف عمران خان ماضی قریب تک مشرف و متحدہ دوست بنکر پیر آف لندن شریف کے سیاسی و فوجداری جرائم کیخلاف ایک لفظ تک کہنے سے کلی گریزاں رہے ہیں۔ خان صاحب کے مطابق ہی ماضی میں تین برس قبل تک کرچی کے ہزاروں معصومین کا سفاک قاتل الطاف کچھ عرصہ پہلے تک خان صاحب کی طرف سے فطری اتحادی کہلوایا گیا۔ قابل مذمت ہے کہ تحریک انصاف کی معزز کارکن مسز زہرہ شاہد حسین کے بہیمانہ قتل سے پہلے تک نون لیگ، اے این پی اور پیپلز پارٹی کے کارکنان سمیت ہزاروں معصوم شہری قتل ہوتے رہے مگر خان صاحب کو اپنے “فطری اتحادی” الطاف کیخلاف ایک لفظ تک کہنا گوارا نہ ہوا۔ کچھ لوگ الطاف کیخلاف مقدمات سےعمرانی یوٹرن کو اس مجبوری کیساتھ نتھی کرتے ہیں کہ لندن میں الطاف کیخلاف مقدمات کیلئے حکومت پاکستان کی منظوری ضروری تھی۔ مگر ایسے حضرات اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہیں کہ الطاف حسین کے جرائم کیخلاف حق گوئی اور سچی تنقید کیلئے بھی کیا کسی سیاستدان کو کسی حکومت کا این اوس سی درکار ہوتاہے؟ قوم فروش زرداری مافیہ، متحدہ قاتل موومنٹ۔ فوزیہ قصوری جیسے ھم جنس پرستی کے سونامی علمبردار، ملعون سنگرسلمان احمد جیسے گستاخین قرآن اور اسلام دشمن یہودی مافیہ کے سیاسی و روحانی بغل بچے پاکستان کو سیکولر ریاست اور نئی نسل کو فحش و مادرپدر آزاد بنانے کیلے سرتوڑ کوشاں ہیں۔ قرآن اور اسلام کے نام سے ہی چڑ رکھنے والے روشن خیالوں کیلئے تحریک انصاف میں فوزیہ قصوری، سلمان احمد اور قادیانی کلٹ کے زندیقوں کی موجودگی معمولی بات ہو سکتی ہے۔ لیکن اسلام اور پاکستان کیلئے محبت اور دل میں جنون عشق محمدی رکھنے والوں کیلئے یہ عناصر ناقابل قبول ہیں۔ روشن خیال انقلاب اور تبدیلی کے نام پر لادینیت کا پیغام دینے والے اس دجالی فتنے کا راستہ مل کر روکنا تمام اسلام پسند سیاسی قوتوں کا فرض اولین ہے۔ کچھ احمق لوگ عمران خان کے ساتھ پیش آنے والی قدرتی حادثے کو بھی سازش یا ڈرامہ قرار دیکر کلی جہالت کا ثبوت دے رہے ہیں ۔ میرا حق الایمان ہے کہ جس مقام، جس جگہ اور جس لائن پر پہنچ کر انسان کی عقل و فہم و فراست، وجد اور وجدان کی آخرتی انتہا ہوتی ہے وہاں سے قدرت کا آغاز ھوتا ھے سو قدرت کے کام مجھ اور آپ کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ خان صاحب کی سمجھ میں یہ بات آجانی چاہئے کہ پی ٹی آئی کی آفیشل ساائٹ پر لکھا ان کا نظریہء تقدیر ” آئی ایم دی لارڈ آف مائی فیٹ ” کلی باطل ہے۔ انسان مخلوق اللہ ہے صرف تدبیر اور دعا کر سکتا ہے۔ دعائیں قبول کرنے اور تقدیریں بنانے اور بگاڑنے والا وہ مالک و خالق کائنات ہے جو مقتدراعلیء ہستی و دوعالم ہے۔ نمرود کے سر میں جوتیاں پڑنا، فرعون کی نیل میں غرقابی اور مرزا غلام احمق قادیانی کی بیت الخلا میں عبرت ناک موت اللہ ذوالجلال کی جلالیت اور اس کے جبار و کہار ہونے کی دلیل ہے۔ عقل و فہم اور جذبہء ایمانی رکھنے والوں کیلئے اشارہ ہی کافی ہے لیکن جو لوگ ھصول اقتدار کیلئے واشنگٹن اور لندن کو اپنا کعبہ و قبلہ قبول کرنے پر تیار ہو چکے ہوں۔ وہ بھی ویسے ہی نامراد و ناکامیاب ہوں گے جیسے ان سے پہلے آنے والے سگانِ سامراج، ننگِ ملک و ملت رہے ہیں۔ یاد رہے کہ سونامی کا نام خوشحالی اور امن کی نہیں بلکہ تباہی اور بربادی کی علامت ہوتا ہے۔ سامراج کے غلمان بتانِ دہر، ملتِ اسلامیہ و مملکتِ پاکستان کے دشمن مغربی تاجداروں اور گستاخین قرآن و رسالت کے سرپرست یہود کے بغل بچوں سے ملک و ملت کی فلاح اور خیر کی توقع رکھنے والوں کیلئے دعوتِ فکر ہے۔ ہم جنس پرستی کی علمبرادار فوزیہ قصوری اور گستاخ قرآن سنگر سلمان احمد کا عمران خان کے ساتھ ساتھ ہونا بھی فرزندانِ توحید اور عاشقینِ رسالت کو “ذرا سوچیئے” کا پیغام دے ہا ہے۔ اللہ سبحان تعالیٰ ہمیں غرور تکبر،فرعونیت اور قدرت سے ٹکر لینے سے دور اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو سیکولر سٹیٹ بنانے کیلئے فتنہء اغیار کی کٹھ پتلی اسلام دشمن سیکولرقوتوں کے دجالی شر سے سدا محفوظ رکھے۔۔ فاروق درویش۔

کیا کہنے حضور آپ کے فرمان یہ دستور

یہ حسن سیاست ہے کہ دو رنگیء منشور

( فاروق درویش ۔ 03224061000 )

im1n

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: