رموز شاعری کلاسیکل شاعری

کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یاردیکھ کر۔ کلام غالب۔ بحر، اوزان اوراصولِ تقطیع

کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کر جلتا ہوں اپنی طاقتِ دیدار دیکھ کر آتش پرست کہتے ہیں اہلِ جہاں مجھے سرگرمِ نالہ ہائے شرر بار دیکھ کر کیا آبروئے عشق، جہاں عام ہو جفا رکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر آتا ہے میرے قتل کو پَر جوشِ رشک سے مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر ثابت ہوا ہے گردنِ مینا پہ خونِ خلق لرزے ہے موجِ مے تری رفتار دیکھ کر وا حسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ ہم کو حریصِ لذّتِ آزار دیکھ کر بِک جاتے ہیں ہم آپ، متاعِ سخن کے ساتھ لیکن عیارِ طبعِ خریدار دیکھ کر زُنّار باندھ، سبحۂ صد دانہ توڑ ڈال رہرو چلے ہے راہ کو ہموار دیکھ کر ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں جی خوش ہوا ہے راہ کو پُر خار دیکھ کر کیا بد گماں ہے مجھ سے، کہ آئینے میں مرے طوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر گرنی تھی ہم پہ برقِ تجلّی، نہ طور پر دیتے ہیں بادہ’ ظرفِ قدح خوار’ دیکھ کر سر پھوڑنا وہ غالب شوریدہ حال کا یاد آ گیا مجھے تری دیوار دیکھ کر . مرزا اسد اللہ خان غالب ۔ بحر :- بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف ارکان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مفعول ۔۔۔۔۔ فاعلات ۔۔۔۔۔۔ مفاعیل ۔۔۔۔۔۔ فاعلن ہندسی اوزان ۔۔۔۔۔۔۔ 122 ۔۔۔۔۔۔۔۔ 1212۔۔۔۔۔۔۔ 1221 ۔۔۔۔۔ 212 ۔۔۔ آخری رکن فاعلن ( 212 ) کی جگہ عمل تسبیغ کے تحت فاعلان ( 1212) بھی جائز ہو گا اشارات ِ تقطیع کوں ۔۔۔ جل ۔۔ گ ۔۔۔۔۔۔ 122 یا ۔۔۔ نہ ۔۔۔ تا ۔۔۔ بے ۔۔۔ 1212 ر ۔۔۔ خے ۔۔۔۔ یا ۔۔۔ ر۔۔۔ 1221 دے ۔۔ کھ ۔۔۔ کر ۔۔۔۔۔۔ 212 جل ۔۔۔ تا ۔۔۔ ہوں ۔۔۔۔ 122 اپ ۔۔۔ نی ۔۔۔ طا ۔۔۔ ق ۔۔ 1212 تے ۔۔۔ دی ۔۔۔ دا ۔۔۔ر ۔۔۔1221 دے ۔۔۔۔ کھ ۔۔۔ کر ۔۔۔۔۔ 212 اصولِ تقطیع “کیا” اور “کیوں” کو دو حرفی یعنی “کا” اور “کوں ” کے وزن پر باندھا جائے گا ۔ کہ، ہے، ہیں، میں، وہ، جو، تھا، تھے، کو، کے ، تے ، رے اور ء جیسے الفاظ دو حرفی وزن پر بھی درست ہیں اور انہیں ایک حرفی وزن میں باندھنا بھی درست ہیں ۔ لہذا ان جیسے الفاظ کیلئے مصرع میں ان کے مقام پر بحر میں جس وزن کی سہولت دستیاب ہو وہ درست ہو گا ۔ ایسے ہی “ے” یا “ی” یا “ہ” پر ختم ہونے والے الفاظ کے ان اختتامی حروف کو گرایا جا سکتا ہے ۔ یعنی جن الفاظ کے آخر میں جے ، گے، سے، کھے، دے، کھی، نی، تی، جہ، طہ، رہ وغیرہ ہو ان میں ے، ی یا ہ کو گرا کر انہیں یک حرفی وزن پر باندھنا بھی درست ہو گا اور اگر دوحرفی وزن دستیاب ہو تو دو حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے۔ اس غزل میں تابے ( 2+1& اور رخے ( 1+2) اس کی مثالیں ہیں اسی طرح اگر کسی لفظ کے اختتامی حرف کے نیچے زیر ہو اسے دو حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے اور یک حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے۔ ( مثال : دشت یا وصال کے ت یا لام کے نیچے زیر کی صورت میں انہیں دشتے اور وصالے پڑھا جائے گا ۔ ایسے الفاظ کی اختتامی ت یا لام کو بحر میں دستیاب وزن کے مطابق یک حرفی یا دو حرفی باندھنے کی دونوں صورتیں درست ہوں گی ) ۔ تقطیع کرتے ہوئے یہ بات دھیان میں رہے کہ نون غنہ اور ھ تقطیع میں شمار نہیں کئے جائیں گے یعنی تقطیع کرتے ہوئے ، صحراؤں کو صحراؤ ، میاں کو میا، خوں کو خو، کہیں کو کہی ۔ پتھر کو پتر اور چھیڑے کو چیڑے پڑھاجائے گا تحریر فاروق درویش

کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کر
جلتا ہوں اپنی طاقتِ دیدار دیکھ کر

آتش پرست کہتے ہیں اہلِ جہاں مجھے
سرگرمِ نالہ ہائے شرر بار دیکھ کر

کیا آبروئے عشق، جہاں عام ہو جفا
رکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر

آتا ہے میرے قتل کو پَر جوشِ رشک سے
مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر

ثابت ہوا ہے گردنِ مینا پہ خونِ خلق
لرزے ہے موجِ مے تری رفتار دیکھ کر

وا حسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ
ہم کو حریصِ لذّتِ آزار دیکھ کر

بِک جاتے ہیں ہم آپ، متاعِ سخن کے ساتھ
لیکن عیارِ طبعِ خریدار دیکھ کر

زُنّار باندھ، سبحۂ صد دانہ توڑ ڈال
رہرو چلے ہے راہ کو ہموار دیکھ کر

ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پُر خار دیکھ کر

کیا بد گماں ہے مجھ سے، کہ آئینے میں مرے
طوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر

گرنی تھی ہم پہ برقِ تجلّی، نہ طور پر
دیتے ہیں بادہ’ ظرفِ قدح خوار’ دیکھ کر

سر پھوڑنا وہ غالب شوریدہ حال کا
یاد آ گیا مجھے تری دیوار دیکھ کر

.
مرزا اسد اللہ خان غالب
۔
بحر :- بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف

ارکان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مفعول ۔۔۔۔۔ فاعلات ۔۔۔۔۔۔ مفاعیل ۔۔۔۔۔۔ فاعلن
ہندسی اوزان ۔۔۔۔۔۔۔ 122 ۔۔۔۔۔۔۔۔ 1212۔۔۔۔۔۔۔ 1221 ۔۔۔۔۔ 212 ۔۔۔

آخری رکن فاعلن ( 212 ) کی جگہ عمل تسبیغ کے تحت فاعلان ( 1212) بھی جائز ہو گا

اشارات ِ تقطیع

کوں ۔۔۔ جل ۔۔ گ ۔۔۔۔۔۔ 122
یا ۔۔۔ نہ ۔۔۔ تا ۔۔۔ بے ۔۔۔ 1212
ر ۔۔۔ خے ۔۔۔۔ یا ۔۔۔ ر۔۔۔ 1221
دے ۔۔ کھ ۔۔۔ کر ۔۔۔۔۔۔ 212

جل ۔۔۔ تا ۔۔۔ ہوں ۔۔۔۔ 122
اپ ۔۔۔ نی ۔۔۔ طا ۔۔۔ ق ۔۔ 1212
تے ۔۔۔ دی ۔۔۔ دا ۔۔۔ر ۔۔۔1221
دے ۔۔۔۔ کھ ۔۔۔ کر ۔۔۔۔۔ 212

اصولِ تقطیع

“کیا” اور “کیوں” کو دو حرفی یعنی “کا” اور “کوں ” کے وزن پر باندھا جائے گا ۔ کہ، ہے، ہیں، میں، وہ، جو، تھا، تھے، کو، کے ، تے ، رے اور ء جیسے الفاظ دو حرفی وزن پر بھی درست ہیں اور انہیں ایک حرفی وزن میں باندھنا بھی درست ہیں ۔ لہذا ان جیسے الفاظ کیلئے مصرع میں ان کے مقام پر بحر میں جس وزن کی سہولت دستیاب ہو وہ درست ہو گا ۔

ایسے ہی “ے” یا “ی” یا “ہ” پر ختم ہونے والے الفاظ کے ان اختتامی حروف کو گرایا جا سکتا ہے ۔ یعنی جن الفاظ کے آخر میں جے ، گے، سے، کھے، دے، کھی، نی، تی، جہ، طہ، رہ وغیرہ ہو ان میں ے، ی یا ہ کو گرا کر انہیں یک حرفی وزن پر باندھنا بھی درست ہو گا اور اگر دوحرفی وزن دستیاب ہو تو دو حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے۔ اس غزل میں تابے ( 2+1& اور رخے ( 1+2) اس کی مثالیں ہیں

اسی طرح اگر کسی لفظ کے اختتامی حرف کے نیچے زیر ہو اسے دو حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے اور یک حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے۔ ( مثال : دشت یا وصال کے ت یا لام کے نیچے زیر کی صورت میں انہیں دشتے اور وصالے پڑھا جائے گا ۔ ایسے الفاظ کی اختتامی ت یا لام کو بحر میں دستیاب وزن کے مطابق یک حرفی یا دو حرفی باندھنے کی دونوں صورتیں درست ہوں گی ) ۔ تقطیع کرتے ہوئے یہ بات دھیان میں رہے کہ نون غنہ اور ھ تقطیع میں شمار نہیں کئے جائیں گے یعنی تقطیع کرتے ہوئے ، صحراؤں کو صحراؤ ، میاں کو میا، خوں کو خو، کہیں کو کہی ۔ پتھر کو پتر اور چھیڑے کو چیڑے پڑھاجائے گا

تحریر فاروق درویش

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

5 Comments

Click here to post a comment

Leave a Reply

  • کیوں جل گیا نہ ،تاب رخ یار دیکھ کر

    کیا آبروئے عشق، جہاں عام ہو جفا
    رکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر

    آتا ہے میرے قتل کو پَر جوشِ رشک سے
    مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر

    بِک جاتے ہیں ہم آپ، متاعِ سخن کے ساتھ
    لیکن عیارِ طبعِ خریدار دیکھ کر

    ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں؟؟؟
    جی خوش ہوا ہے راہ کو پُر خار دیکھ کر

    کیا بد گماں ہے مجھ سے، کہ آئینے میں مرے
    طوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر

    عزیز فاروق بھائی

    سلام عرض ہے

    میری دانست میں ہر چند کہ یہ صفحہ طالبان اصول بحر و تقیطیع کی فہم کے جویان کے لیئے ہے ، جہاں میری آمد ایک نادانستہ گستاخی کے سوا کچھ نہیں۔ تاہم میں یہ پرسشش کرنا چاہوں گا کہ حضرت غالب کی اس غزل کے چند اشعار کے معانی و مفاہیم یہاں پر آپ کی مہربانی سے اخذ کیئے جا سکتے ہیں یا نہیں؟

    اگر اجازت ہو تو غزل کے چند اشعار کی تشریح کا مشتاق و ممنون ہوں گا۔

    جزاک اللہ

    والسلام

    • برادر سب سے پہلے تو میں اپنے محسن اور دوست کا نام جاننا چاہوں گا،آپ کی خوبصورت اردو پڑھ کر مجھے ایک بہت ہی پیارے بھائی مرزا محمود مغل یاد آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ برادر اپنے اس بلاگ پر اساتذہ اور دوسرے شعرا کا کلام اور بحر اوزان کے حوالے سے عروضی نوٹس شائع کرنے کا یہ سلسلہ نئے لکھنے والے احباب کی فرمائش پر شروع کیا ھے۔ مقصد صرف ان دوستوں کی راہنمائی ہے جو شاعری تو کرتے کر رہے لیکن ان کا کلام بحور اور اوزان کے آزاد ہے۔ معانی اور تفہیم کے حوالے سے صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ ہر قاری کسی بھی شعر کے معانی اور مفہوم اپنے مطابق اخذ کرتا ہے ۔ میں نہیں سمجھتا کہ زبان و سخن کی فہم رکھنے والا آپ سا دوست غالب کے اشار کی تفہیم نا جانتا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      خاکسار

  • برادرم عزیز، دوست، اساتاڈِ مکرم فاروق بھائی

    سلام عرض ہے

    صاحب اس گمنام یا بدنام کے نام میں کیا رکھا ہے۔ ویسے بھی آپ تو جانتے ہی ہیں شیکسپئیر نے جو کہا تھا کہ نام میں کیا رکھا ہے۔ زقوم کو چاہے جس نام سے بھی پکار لو ۔ ۔ ۔ الخ

    بحر حال گستاخی معاف ابھی تھوڑی ہی دیر میں اپنا تعارف آپ کو ای میل کرتا ہوں اور امید ہے کہ آپ اسے عید کے روز پڑھ رہے ہوں گے۔ ان شاءاللہ

    آپ نے میری اردو تحریر کو جو ستائش بخشی ہے میں اس کا کسی طور بھی مستحق نہیں۔ اس مو قع پر کوئی موزوں شعر نہیں چست ہو رہا اس لئیے درج ذیل سے کام چلا لیتے ہیں۔۔۔

    ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
    دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا

    ہر چند کہ نہ تو میں کوئی دھوکے باز ہوں نہ کوئی کوئی بازی گر۔ یہ جاب ڈیسکرپشن تو زرداری، ڈاکٹر ملک اور الطاف مداری کے لئے ہی مخصوس ہے۔ سوری فار بیٹنگ ایرؤنڈ دا بش۔ کہنا یہ چاہ رہا ہوں کہ اردو میری مادری زبان نہیں اور نہ ہی مجھے اس پر مہارت حاصل ہے۔ جو کچھ میں لکھ رہا ہوں اس میں میں اردو لغت اور بہت سے کلیدی الفاظ و جملے وغیرہ جو ذخیرہ کر رکھے ہیں ان ہی کو استعمال کر رہا ہوں۔ لہٰذا مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔

    اس ضمن میں یہ اعتراف میرے لئے باعثِ اطمینان و شادمانی ہے کہ آپ کی تحاریر نہ صرف اردو زبان و بیان کی تحصیل میں میری معلم و معاون ہیں تو دوسری جانب حصول علم، اسلام، سیاسیات و صحافت میں بھی صحیح سمجھ بوجھ اور درست راہ و نقطہ نظر قائم کرنے میں ایک بہت بڑا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس کے لئے میں خلوص دل سے آپ کا شکر گزار اور پیہم دعا گو ہوں۔

    تاہم غالب کے بہت سے اشعار کے مطالب و معانی کی تفہیم ابھی تک میرے لئے معمہ ہیں اور پھر کسی وقت آپ کو زحمت دیں گے اور زحمت دینے کے تو ہم استاد ہیں ہی۔ ابتسامہ

    والسلام

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عیدِ آزاداں شکوہِ ملک و دین
    عیدِ محکوماں ہجومِ مومنین

    • برادر محترم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      آپ کو زندگی کا نیا سال مبارک ہو ، اللہ سبحان تعالیٰ ہر بلا و آفات سے سدا محفوظ رکھے ۔ آمین

      سدا سلامت سدا خوش آباد

Featured

%d bloggers like this: