حالات حاضرہ ریاست اور سیاست

ملک اور قوم محفوظ ہے


چمنستان وطن میں امریکہ بھارت گٹھ جوڑ کی مرہون منت دہشت گردی کی لہو رنگ بہار آنے سے عوام الناس  کے افسردہ دلوں پر وحشت کی خزاں ضرور چھائی ہے، لیکن پے در پے قربانیاں دے اور قطار در قطار لاشیں اٹھا کر بھی پاکستانی قوم کے حوصلے ہمالیہ سے بلند تر ہیں۔ گذشتہ برس نریندر مودی کے آلہ کار سفاک قصابوں کے ہاتھوں معصوم نونہالوں کا مقتل خون رنگ بننے والے پشاور سکول میں بہادر ماؤں کے حوصلوں کی بدولت  درسگاہوں کی رونقیں پھر سے لوٹنے پر،  تعلیمی سرگرمیاں رواں دواں اور سہمی ہوئی مسکراہٹیں خوش آبادی کی طرف گامزن ہوتیں ہیں تو کبھی کسی ائربیس اور کبھی بلوچستان میں وکلا پر خود کش حملوں کی خبریں کلیجے پھونک دیتی ہیں۔ مگر کیا مجال کہ ہمارے حکمران کبھی اپنے پیارے بھارت دیشکا نام بھی لیں۔  ہاں کسی ممکنہ دہشت گردی کے پیش نظر میاں نواز شریف  کے رائیونڈ محل کے چاروں طرف ایک سو پچپن ملین روپے کی لاگت سے دس  فٹ اونچی اور اڑھائی کلومیٹر طویل حفاظتی دیوار کی تکمیل کا پروگرام بڑی  اہمیت کا حامل رہا ہے ۔ عوام الناس بھلے مرتے رہیں ، لیکن ہاں اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس کی فول پروف سکیورٹی کیلیے جدید ترین الارمنگ سسٹم ، ہائی پروفائیل سکیورٹی  کیمرے اور مہنگی ترین بکتر بند گاڑیاں خریدی گئیں ہیں ۔ لہذا اب قوم کو پختہ یقین رکھنا چاہئے کہ ایک طرف  بم پروف کنٹینروں میں بیٹھی اپوزیشن اور جدید ترین حفاظتی حصار میں محفوظ  قیادت کے ہاتھوں میں ۔ ۔ ۔ ۔ قوم محفوظ ہے ۔

یہ ایک الگ موضوع بحث ہے کہ جس رائیونڈ محل میں  سینکڑوں خوشامدی حضرات کیلئے دیسی گھی کے بیس دسترخوان سجتے ہیں اس کے قریب و جوار میں فاقہ زدہ لوگوں نے بچوں سمیت اجتماعی خود کشیاں بھی کی ہیں۔  گاندھی جیسا متعصب  ہندو لیڈر بھی جس عظیم ہستی کو عظیم ترین حکمران تسلیم کرنے پر مجبور تھا ، اس عمر فاروق کا  قول ہے کہ ” اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر جائے گا تو میں روز قیامت بھی  ذمہ دار اور جواب دہ ہوں گا ” لیکن ذرا سوچیے کہ  کیا اُس عمر فاروق کی تقلید کے سب نام نہاد دعویدار، ماضی  و حال کے کھرب پتی حکمران آج ایسا دعویٰ کر سکتے ہیں ؟  حیاتِ  فاروق اعظم کا مطالعہ کیجئے کہ انہوں نے خلیفہ بننے سے پہلے کبھی پیوند لگے کپڑے نہیں پہنے تھے مگر جب وہ حکمران بنے تو پھر اُن کے لباس میں جا بہ جا پیوند نمایاں نظر آتے تھے۔ جبکہ ہمارے محبوب سیاسی قائدین حاکم بننے کے بعد بیس کروڑ روپے مالیت کی دستی گھڑی باندھتے ہیں۔ سو دل کے سمجھانے کو یہ یقین رکھئے کہ جب تک  حکمران کے ہاتھ  پر  کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی گھڑی چوروں کے ہاتھوں سے محفوظ محفوظ ہے تو ۔ ۔ ۔ ۔  قوم محفوظ ہے

باعث حیرت ہے کہ اس بار بلاول بھٹو زرداری  اپنی والدہ محترمہ مقتول بینظیر کی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں موجود نہیں تھے۔ پیپلز پارٹی کی صفوں میں  سیاسی خوف و ہراس ہے کہ  بلاول زرداری اپنے باپ سے ناراض ہو کر اپنی خالہ صنم بھٹو کی ہمراہی میں نئی لابی کی تشکیل دینے کیلئے سرگرم  ہیں۔  اس حوالے سے انہیں منانے کیلئے کوشاں سینیر پارٹی رہنما مخدوم امین فہیم سمیت دوسرے  جیالے رہنماؤں نے بھی ہاتھ کھڑے کر دئے ہیں۔ لیکن لندن کی مخملی گود اور انگنت گوری تتلیوں کی آغوش میں جوانی مستانی کی دہلیز پر قدم رکھنے والے پلے بوائے بلاول  کو یاد رکھنا چاہئے کہ باپ زرداری صاحب ہی اس کے لندن  قیام کے مہنگے ترین سیکورٹی پلان پر سالانہ دو ارب روپے کے اخراجات اٹھاتے ہیں۔ قوم کے جیالوں کو یقین رکھنا ہو گا کہ جب تک قوم کا مستقبل  ”  نوجوان  قومی قیادت”  اپنی دیسی و  ولائتی مٹیاروں کی آغوش میں مدہوش اور فول پروف  سیکورٹی کے حصار میں محفوظ  ہے تو  ۔ ۔ ۔ ۔  قوم محفوظ ہے۔

آزادی مارچ کا موسم تھا تو صدقے جائیں کہ بیگم تہمینہ دولتانہ کو عمران خان کی سیکورٹی کی بیحد فکر  تھی۔ انہیں خدشات لاحق تھے کہ کچھ لوگ اس یوم آزادی کے موقع پر احتجاج  کو سکیورٹی رسک بنانا چاہتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اسلام آباد مارچ  کے دوران پر تشدد واقعات اور سرکاری عمارات پر قبضوں سے ثابت ہوا کہ حکومت کی طرف سے  پارلیمنٹ ، پی ٹی وی اور دوسری حساس عمارات کی فول پروف سیکورٹی اور حکومتی رٹ قائم رکھنے کا کوئی خصوصی  انتظام نہیں کیا گیا تھا ۔ لیکن حکومت کی ترجمان تہمینہ دولتانہ  نے آئین کے آرٹیکل 245  کے تحت اسلام آباد میں فوج کی طلبی کی وجہ عمران خان اور دیگر لیڈروں کی حفاظت قرار دیکر قوم کو باور کروا دیا کہ اگر انقلاب اور تبدیلی کی علامت قومی راہنما اور محافل رقص و شباب کا وجود قائم اور ڈنڈا و غلیل بردار بلوائی محفوظ ہیں  تو ۔ ۔ ۔ ۔  قوم محفوظ ہے۔

 منہاج القرآن کے خیراتی فنڈ کے بے دریغ استعمال سے، اکانونی کلاس کی ڈیڑھ لاکھ کی ٹکٹ کی بجائے  سترہ لاکھ کی بزنس کلاس میں سفر کرنے والی “غریب دوست ” خوابوں والی سرکار جب بھی کینیڈا سے  وارد ہوتی ہے اپنے  ساتھ  مغربی آقاؤں کا ایک نیا فتنہء خواری لے کر آتی ہے۔  انقلاب القادری کی گزشتہ  آمد  پر طیارے نے لاہور ایئر پورٹ پر لینڈ کیا تو انہوں نے طیارے سے باہر آنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ لاہور میں میری جان کو حکومت اور طالبان کی طرف سے شدید خطرہ لاحق ہے ، لہذا جب تک فوج میری حفاظت کیلئے نہیں آئے گی میں  طیارے سے باہر نہیں نکلوں گا، طیارہ اسلام آباد لے جایا جائے۔ اور جب اسلام آباد پہنچے تو خواتین اور بچوں کی ڈھال کے حفاظتی حصار میں بم پروف کنٹٰنر میں محفوظ  بیٹھے شہادت کے آرزو مند پیر صاحب نے یہ خاموش اعلان کیا کہ ہاں اب ہم محفوظ ہیں تو۔ ۔ ۔ ۔  قوم محفوظ ہے

ظہور الہی روڈ پر واقع چوہدری برادران کے عالی شان محلات کی لمبی قطار والی سڑک کے آغاز سے آخر تک پولیس سیکورٹی کی جدید ترین نظام سے لیس گاڑیوں کی قطار در قطار دیکھ  کر موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کے مابین اخوت و رواداری اور اپنی سیاسی برادری کیلئے خیر و عافیت سے حکومت کے احساس ذمہ داری اور خیرخواہانہ احساس و جذبات کا اندازہ ہوتا ہے۔ عوام کی حفاظت کیلئے پولیس نفری دستیاب ہو نہ ہو لیکن خوش آئیند ہے کہ خادم اعلی نے اپنے  سیاسی مخالفین تک کی سیکورٹی کیلئے پولیس فورس کی لائن لگا رکھی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ سیاسی قیادت دوست ہو یا دشمن، قوم کے یہ سب لیڈر محفوظ ہیں تو۔ ۔ ۔ ۔  قوم محفوظ ہے۔

موجودہ دور حکومت میں  ایوان صدر کا روزانہ کا خرچہ دس لاکھ  سے بڑھ کر بارہ لاکھ  اور وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات گیارہ لاکھ سے بڑھ کر اٹھارہ لاکھ روپے روزانہ  تک پہنچ  چکے ہیں ۔ سو سے زائد وفاقی وزیروں ، مشیروں  اور خصوصی معاونین کے دو ارب روپے کے قریب ماہانہ اخراجات اس کے علاوہ  ہیں۔  چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ، ان کے صوبائی وزراء کا ٹڈی دل لشکر، چار گورنر،  ان کا عملہ اور سینٹ کے سو ممبران کا خزانہ چوس دستہ الگ ہے ۔ ان سب کے قریباً چار کھرب روپے سالانہ کے بھاری اخراجات،  سب  ٹیکس دینے والے عوام صرف اس لئے برداشت کرتے ہیں کہ ان کے بنیادی مسائل حل ہوں۔ ان شاہانہ اخراجات کو بڑی آسانی سے نصف حد تک لایا جا سکتا ہے۔ اور بچائے گئے دو  کھرب روپے سالانہ سے، پانچ سالہ دور اقتدار میں ، ہر  تحصیل میں جدید ترین سہولتوں سے آراستہ سو بیڈ  کے دو فری ہسپتالوں، پانچ  ہائی سکولوں اور دو ڈگری کالجوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ پوری آبادی کو پینے کا صاف پانی بھی مہیا کیا جا سکتا ہے۔ لیکں کوئی جاہل ان صاحبان بصیرت حکمرانوں اور منتخب نمائیندوں کو یہ اٹل حقیقت کیسے سمجھائے کہ قوم کیلئے صحت و تعلیم  جیسی  بنیادی سہولتیں دستیاب اور نئی نسل کا مستقبل محفوظ ہے تو ۔ ۔ ۔ ۔  قوم محفوظ ہے

 تلخ حقیقت ہے کہ گذشتہ آدھی صدی سے اسمبلیوں اور ایوانوں میں بیٹھے خون چوس نمائیندے بنیادی مسائل حل کرنے کی بجائے صرف لارے لپوں سے اس عوام کو ہی بیوقوف بنا رہے ہیں۔ انہیں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے وعدوں کا یاد دلایا جائے  تو جواب ملتا ہے، ” صبر اور انتظار کریں، اپنی حکومتی مدت پوری ہونے سے قبل ایفائے عہد ہو گا “۔  عوام الناس کی  فلاح و بہبود کے عہد و پیمان یاد دلائے جائیں تو جواب ملتا ہے کہ ” زرمبادلہ صرف دو ہفتے کا رہ گیا ہے ” ۔ ان کے انتخابی نعروں کی یاد دہانی کروا کر زرداری کرپشن کینگز کا لوٹا ہوا قومی دھن واپس لانے کا مطالبہ کیا جائے تو جواب ملتا ہے، ” ہم نے  وسیع تر قومی مفاد کیلئے قومی مفاہمت کی پالیسی اپنائی ہے “۔ حقائق یہی ہیں کہ سب حکمران ہماری فلاح کیلئے نہین بلکہ اپنی شاہ خرچیوں اور ایوانان اقتدار کا خرچہ پورا کرنے کیلئے آئی ایم ایف سے بھیک مانگتے ہیں۔ لہذا یاد رکھیں کہ جب تک وعدوں کے فریب کھاتے ہوئے مفلسان قوم کیلئے ” یہ قربانی کا وقت ہے ، قوم قربانی دے ” کا  حکم نامہ محفوظ ہے تو ۔ ۔ ۔ ۔ قوم محفوظ ہے

گذشتہ کئی دہائیوں سے سارے حکمرانوں کی عوامی فلاح و بہبود کے خوش رنگ دعووں کے سیاہ فام انجام  کا یہ حال ہے کہ  آج افلاس زدہ بیٹی حسن کے بازار میں عصمت اور ممتا بھوک کے بازار میں اولاد بیچنے یا اجتماعی خودکشی پر مجبور ہے۔ جبکہ قوم کے ماڈرن خسرو پرویز حاکم بیرون ممالک کے دوروں اور عمروں کیلئے باورچیوں اور ذاتی ملازمیں کا فل ہاؤس چارٹرڈ طیارہ ساتھ لیکر جاتے ہیں۔  چشم بد دور کہ  ادھر حکمرانوں کے شاہی محلات کے دسترخوانوں پر  سوا سو انواع  کے رنگ برنگے کھانوں کی قطاریں نظر آتی ہیں اور ادھر بھوکی ننگی اور سفید پوش عوام چینی، آٹے اور گھی کیلئے لمبی قطاروں میں کھڑی نظر آتی ہے۔ سچ تو یہ ہے  کہ ہمارے حکمرانوں سے اچھے  ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے وہ صاحبان حاتم ہیں ، جنہوں نے ہم جیسے بھیک منگوں کو بھی اتنی عزت دی  ہے  کہ  قطار میں سب سے آگے کھڑا کر دیا ہے۔ آج ہم اسی امید اور یقین پر زندہ ہیں کہ جب تک دنیا کے تمام مالیاتی اداروں میں اس قوم کا حق گداگری محفوظ ہے  ۔ ۔ ۔ ۔  با خدا قوم محفوظ ہے

                                                                                 فاروق درویش۔ واٹس ایپ کنٹیکٹ ۔ 03224061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: