حالات حاضرہ ریاست اور سیاست

گل رنگ حناؤں کا مقدر ہے بلاول ۔ درکار سیاست کو ہے اک اور جنازہ


 زرداری دور کے آخری ایام کی بات ہے کہ  پریس اور میڈیا پر اس بارے خبریں اور تبصرے عام تھے کہ بلاول بھٹو زرداری اپنے والد، صدرآصف زرداری اورپھوپھی فریال تالپور کی پالیسیوں سے ناراض ہو کر دوبئی چلے گئے ہیں، وہ پارٹی کی انتخابی مہم میں شامل نہیں ہوں گے۔ پھر خبرآئی کہ صدر زرداری اور صنم بھٹو کی سرتوڑ کوششوں سے وہ پاکستان واپس آ گئے ہیں۔  بلاول کے جانے پر گوری آکاش وانی، بی بی سی نے لکھا کہ ،” پینتالیس سالہ پیپلز پارٹی نے پہلا الیکشن انیس سو ستر میں ایک عوامی، خوشحال اور استحصال سے پاک پاکستان کے وعدے پرجیتا تھا۔ اس جیت پر پارٹی قیادت بھی خوش تھی اوراس کا ووٹربھی ایک خواب ناک فضا میں ناچ رہا تھا۔ تب سے اب تک جتنے بھی انتخابات ہوئے ان میں پیپلز پارٹی نے سینہ کوبی، نوحہ گری اورمظلومیت کو ہی اپنا پرچم بنایا” ۔ لیکن اس بارے میرا نقطہ نظر بی بی سی سے یکساں مختلف ہے۔ بی بی سی ہمیشہ کی طرح مسخ شدہ حقائق پیش کرتا ہے۔  لیکن یہ زمانہء قبل مسیح کا واقعہ نہیں، سو لوگ یہ بات ابھی بھولے نہیں کہ عوامی لیگ کی 161 سیٹوں کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کی صرف 80 سیٹں تھیں۔ دوگنا مارجن سے شکست کھانے والی پیپلز پارٹی کو فاتح قرار دینے والے میڈیا مسخروں کی سامراجی اورمغربی اسلام دشمن حکومتیں ہی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی داستانِ سیاہ ناک کے پس پردہ کارفرما رہی ہیں۔ ستر کے الیکشن کے واضع نتائج دیکھ کر ماننا پڑے گا کہ بری طرح شکست کھانے والوں نے، بھارتی آقاؤں،انکے بغل بچے مجیب الرحمن اورمغربی سامراج کے ساتھ ملکر” ادھر تم ادھر ہم” اور” جو ادھر جائے گا اس کی ٹانگیں توڑ دیں گے” جیسے شہرت یافتہ مکالمات سے مزین اس ناقابل فراموش خونی ڈرامے کا پلانڈ سکرپٹ لکھا اور پھر” سب سے پہلے حصول اقتدار”  کو اپنی سیاہ ست کا پہلا اصول بنا کے ظالم بن کرمظلوم اور قاتل بن کرمقتول بننے کی “کامیاب سیاسی پالیسی” اپنائے ہوئے ہے۔ قوم کوجان لینا چاہیے کہ بھٹو سے لیکر اب تک پیپلز پارٹی کی بنیادی پالیسی یہی رہی ہے کہ اقتدار کی کھینچا تانی میں خدانخواستہ سارا پاکستان ٹوٹتا ہے تو ٹوٹ جائے، جو بچے اسی کو ہی “پاکستان” تسلیم  کرکے حکومت بنا لو۔ بی بی سی نے مذید لکھا کہ ” بینظیر صاحبہ مشرف سے ڈیل ہونے کے باوجود سیاسی مخمصے کا شکار ہوئیں اور پھر سیاسی مخمصے کا شکار بی بی تاک میں بیٹھے شکاری کا شکار ہوگئیں”۔ لیکن بہیمانہ طور پر زرداری مافیہ کی سرپرستی کرنے والے گوروں کے مکار نمائیندہ بی بی سی نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی اس بارے زبان نہیں کھولی  کہ بینظیر بھٹو کا اصل شکاری کون تھا، قتل کی تحقیقیات میں رکاوٹ ڈالنے والے لوگ کون ہیں اور وہ معصوم شکاری پانچ برس حکومت میں رہ کربھی اصل قاتلوں تک پہنچنے میں ناکام کیوں ہوا۔ احباب دراصل بی بی سی، زرداری مافیہ کے نمک خوار دیسی و بدیسی لکھاری اور درپردہ حواری سیکولرعناصر کسی نہ کسی طریقے سے پیپلز پارٹی کے غبارے میں پھر سے ہوا بھرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ عوامی نفرت کے طوفان میں ڈوبتی ہوئی پیپلز پارٹی کے پاس سیاست کرنے کیلئے اب کوئی جنازہ بھی نہیں سو ان کی آخری امید اور ترپ کا واحد پتا صرف ینگ بلڈ بلاول بھٹو زرداری ہے۔ جس کے ذریعے وہ قوم کو پھر سے بیوقوف بنانے کیلئے پرامید اور خبروں کی زینت بنا کر مقبول بنانے کی بے ہنگم کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس حوالے سے ایک معزز کالم نگار جناب رؤف کلاسرا نے لکھا ہے۔ ” بینظیر کے نام پر پانچ سال تک لوٹنے والے اب نفیس اور کلین بیٹے بلاول کی جان اتنی آسانی سے نہیں چھوڑیں گے۔ اس لیے بلاول کو لندن سے لوٹنا ہوگا”  جس نوجوان عیاش سنپولیے کو رؤف کلاسرا صاحب نے ” نفیس اور کلین” قرار دیا ہے۔ اس کی نفاست اور صاف ستھرے کردار کے گواہ لندن کے سیکس فری نائٹ کلب اور معصوم بلاول کا بستر آل ویز گرم رکھنے والی وہ گوری مٹیاریں ہیں جن کے ساتھ بلاول  کی ہوشر با تصاویر پورے مغرب کے اخبارات کی زینت بنی رہی ہیں۔

جی ہاں یہی ہے وہ نیا ماڈرن بھٹو جو ہر گھر سے نکلے گا۔ یہی ہے ننگِ وطن بھٹو خاندان اورننگِ ملت لٹیرے زرداری کے کرپٹ خون کا حسین امتزاج پلے بوائے۔ بھوکی ننگی مفلس قوم کا وہ زانی، فاسق و فاجر بے لگام شہزادہ جس کی صبح دوپہرشام لندن کی گوری تتلیوں کے ساتھ رنگ رلیوں میں گزرتی ہے۔ یہ سیکس سکینڈل پرنس اپنے شرابی نانا اورزانی و قاتل باپ کے عین نقش قدم پرچلتا ہوا اس جواں عمری میں ہی پانچ وقت کا شرابی بن چکا ہے۔ اس کی رنگ رنگیلیوں کے گرما گرم فوٹو سیشن اورہوش ربا مضامین یورپ کے ہر مستند اخباراورمیڈیا پرمقبول رہے ہیں۔ سندھ کارڈ کھیلنے والے اس خاندان کے مفلس سندھی گندے چھپڑوں کا پانی پینے پرمجبورہیں مگراس شہزادے کی صرف سیکیورٹی پرہی سالانہ ساڑھے تین ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں سیلاب کے بعد، خصوصاً سندھ کے آفت رسیدہ فاقہ زدہ لوگ ابھی تک روٹی کپڑے اورمکان کیلئے منتظرہیں اورلندن میں اس پلے بوائے کی قربت پانے کیلئے یورپ کی حسین ماڈلز بے تابی سے اپنی باری کا انتظار کرتی ہیں۔ کیا کہنے کہ اس کے باپ کے کرپٹ ٹولے کی شادی شدہ شہزادی حنا ربانی کھربھی اس جواں خون سےعشق لڑا کر ملکہء پاکستان بننے کے خواب دیکھ رہی یے۔ اس طوائف السیاسی جیالائی ماحول کے کیا کہنے کہ اس مرزے کی کئی صاحبائیں وزارتوں اورمشاورتوں کے حصول کیلئے کچھ بھی کر گذرنے کو ہمہ وقت تیار رہتی ہیں۔ شہید عزت اورشہید لباس کی برکت سے ولائیتی بوتلوں اور وزارتوں کے مزے لوٹنے والی شرمیلہ فاروقی جیسی  کئی اتھری جوانیاں اسی بہتی گنگا میں صرف ہاتھ ہی نہیں بہت کچھ دھوتی دھوتی ہیں۔ کوئی تعجب نہیں کہ باپ زرداری اینڈ کمپنی کرپشن ٹیم قوم کا لوٹا ھوا سرمایہ واپس لانے کیلئے کوشاں عدلیہ کے خلاف بغاوت کا اعلان کرتی رہی ہے اورقوم کا اگلا ممکنہ لٹیرا لندن کی گوری گود میں پاکستانی قوم کے لوٹے ھوئے سرمائے سے عیاشی کرتا ہوا لوٹ ماراورقتل قوم کے نئے گر سیکھ کر پھرسے نئے پرانے جنازے کو کیش کروانے بلایا جارہا ہے۔ پاکستان کے معصوم عوام اب بھی اس جیسے فحش کرداربھٹو کواپنا لیڈربنا لیں تو شاید وہ اس قوم کی آخری بدبختی ہوگی۔ قوم کی طرف سے غلاظت آلودہ مسخروں کو قبول کرنے کی حسین ادا سلامت رہی توعین ممکن ہے کہ کبھی وینا ملک اورمیرا جیسی فحش طوائفیں بھی اس ملک کی وزیر اعظم کیلئے امیدواربن جائیں۔ بی بی سی نے مذید لکھا ہے کہ ” مسئلہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے پاس حاضر سٹاک میں نہ تو کوئی بڑا شہید ہے جسے وہ آج کی انتخابی مارکیٹ میں بھنا سکے۔ نہ ہی وہ پانچ برس کی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد قبل از وقت معزولی کا نوحہ پڑھنے کے قابل ہے۔ لہذا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے شہید بھٹو اورنصرت بھٹو کے نواسے اور بے نظیر شہید کے پچیس سالہ بیٹے بلاول کی باضابطہ تخت نشینی”۔ لیکن ہماری دلی دعا ہے کہ اگربلاول جیسا ننگِ آدم عیاش ترین پلے بوائے، ملک و قوم کے ساتھ مخلص ہے تو اللہ سبحان تعالیٰ اسے حیاتِ خضر نواز کر، زندگی کے ہرشعبے میں کامیاب و کامران فرمائے ورنہ پاکستان توڑنے والے اندرا گاندھی خاندان کے سپوتوں، شیخ مجیب الرحمن اور اسکے خاندان سمیت سب دشمنانِ پاکستان کا قدرت کی طرف سے بھیانک انجام کل عالم کے سامنے ہے۔ اس بار حصول اقتدار کیلئے اگلا جنازہ کس کا اٹھے گا یا پھر جنازے کیش کرانے والا  چالاک قاتل خود مکافات عمل کا شکار ہو کر کسی اور مہا شکاری کا “کیش جنازہ” بن جائے گا۔ بس دیکھتے رہیئے کہ شکار کی تلاش میں نکلا ہوا کوئی سفاک و خونخوار بھیڑیا  یا کسی دوسرے کا شکار ہتھیانے کے مشن پر نکلی ہوئی کوئی مکار لومڑی کب “شہید” بنتی ہے  ۔۔۔۔ فاروق درویش

گلوں سے خون بہے باد اشکبار چلے ۔۔ اٹھیں جنازے، سیاست کا کاروبار چلے

فریبِ دہر ہے قاتل کی مرثیہ خوانی ۔۔ بنے مزارِ صنم، قصرِ اقتدار چلے

( فاروق درویش ۔ 03224061000 )

 


اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

1 Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: