حالات حاضرہ

یونانی تہذیب کا شاہکار سی آئی اے زدہ سفارت خانہ


ملکی سلامتی کیلئے انتہائی تباہ کن خطرات کی حامل  ہولناک حقیقت ہے کہ امریکی سی آئی اے کا سازشی نیٹ ورک صرف اندرون پاکستان ہی نہیں، بلکہ بیرون ممالک پاکستانی سفارت خانوں تک بھی خطرناک حد تک رسائی رکھتا ہے۔ گذشتہ مہینوں سے یونان میں عرصہ دراز سے مقیم محبانِ پاکستان احباب کی زبانی یونان میں تعینات پاکستانی سفیر سعید خان مہمند اور دیگر سفارتی عملے کی امریکہ نوازی، رنگ رنگیلی جنسی مہم جوئیوں اور کرپشن کہانیوں کے بارے مصدقہ تفصیلی آگاہی ہوتی رہی ہے۔ ان مصدقہ اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ ست رنگی طوائف بازاری کی ہوش ربائیاں اور کرپشن کہانیاں صرف پاکستانی ایوانان سیاست اور جیل خانہ جات کے ایان علی برانڈ فائیو سٹار مہمان خانوں ہی میں نہیں، بلکہ دیار غیر میں قومی و ملی اقدار کے ترجمان سمجھے جانے والے سفارت کاروں کی دنیا میں بھی عام ہیں۔ پاکستان کے حکومتی اداروں کیلئے قابل توجہ ہے کہ یونان میں پاکستانی سفارت خانہ کی بدنام زمانہ کرپشن کہانی  میں اسلامی انقلاب کی نام نہاد داعی منہاج القرآن کے عہدیداروں کی ” کرپشن ایجنٹی ” کے مذموم کردار پر یونان میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی صفوں سے بھی ہائے ہائے کا شور اٹھ رہا ہے۔  یونان مین تعینات پاکستانی سفارت کاروں کے کھلائے گئے ، متعفن گل ہائے کثافت کا احوال بد جانے سے پہلے ، ملک یونان کی ”  اعلی و عرفٰی ” جدید و قدیم تہذیب کا احوال ماضی و حال جاننا بیحد  ضروری ہے۔

قارئین اکرام! گو کہ  پاکستان میں قتل و غارت جیسے جرائم اورکراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی جیسی وارداتیں  روز مرہ کا معمول ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ روشن تہذیب کے ترجمان امریکہ اور یورپ میں ایسی قتل و غارت اور جنسی جرائم کا تناسب پاکستان سے بیسیوں گناہ زیادہ ہے۔ چند برس قبل یونان کی قدیم تہذیب کے نمائیندہ شہر ایتھنز میں دو پولیس آفیسران کے لرزہ خیز قتل کی واردات اس حوالے سے بہت بڑا سوالیہ نشان تھا کہ مغربی دانشوروں کے مطابق اسی یونانی تہذیب کو تعلیم یافتہ اور فلسفہء معاشرت کے عالمین کی نمائیندہ  کہا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ  قدیمی تہذیب  سیدنا عیسٰی علیہ السلام کی آمد سے سات اٹھ صدیاں پہلے سے لیکر جنگ کورنتھ میں رومیوں کی یونان پر فتح تک پھیلی ہوئی ہے۔ اہل مغرب آج بھی اس یونانی تہذیب کو ، عاقل و فہیم انسانوں کی دانائی و حکمت کا گہوارہ کہتے ہیں۔ مغربی دانشور آج بھی یہی ثابت کرنے پر تلے ہیں کہ عقل و منطق اور علوم و فلسفہ  کی تشہیر و ترویج اور دنیا میں ترقی کے اسباب صرف ان کے آبا و اجداد ہی کی مرہون منت ہیں۔

لیکن اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ یونانی فلسفہ و علوم ہی کی بدولت دنیا کو شعور اور آزادی نصیب ہوئی، تو بھی یہ مفروضہ صرف یورپ کی حد تک ہی درست ہو گا ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عالم انسان کو جبر و استحصال اور قوانین قدرت سے متصادم معاشرت سے حقیقی آزادی، صرف انبیائے حق کی مرہون منت ملی۔ قابل غور ہے کہ قدیم یونانی تہذیب کے عروج کا یہی وہ زمانہء جہل و فسوں تھا کہ جس میں  اللہ کی طرف سے خطہء شام و فلسطین میں انبیاء اکرام کی بعثتوں کا ایک تسلسل قائم تھا۔  سورۃ البقرہ میں ارشاد الہی ، ” وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَقَفَّيْنَا مِن بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ ” بھی اس امر کی گواہی دیتا ہے کہ سیدنا موسی کے وصال سے لیکر پیدائش عیسی علیہ السلام تک کے دورِ گمراہی میں ارض شام و فلسطین میں  انبیاء کی ایک بڑی تعداد مسلسل مبعوث کی گئی۔  محققین کے مطابق یونان کے فلاسفہ کی ایک بڑی تعداد نے اس ارضِ انبیاء پہنچ کر حکمت و دانش کے روحانی خزانے پائے ۔ عین ممکن ہے کہ سقراط جیسے اہل حق کی حق گو علمی تحریک بھی انہی انبیاء سے فیض یابی کا نتیجہ رہی ہو ۔

قارئین اکرام اس بات کا خصوصی خیال رہے کہ یہود و نصاریٰ نے تورات و زبور اور انجیل مقدس میں اپنی مرضی و منشا کے مطابق بتدریج بے شمار دجالی تبدلیاں کیں ہیں ۔ وگرنہ زنا کاری، ہم جنس پرستی ، شراب نوشی اور خنزیر خوری یا قوانین قدرت کی پامالی کی اجازت کوئی آسمانی کتاب بھی نہیں دیتی ۔ بعین ایسے ہی مغرب نے یونان کے صاحبان ایمان فلاسفروں کے  شعور و آگہی کی روشنی میں اپنی جہالت کے اندھیروں کی آمیزش بھی کی۔ جس کا نتیجہ مغرب کی پراگندا تہذیب کے تعفن کی صورت میں برامد ہوتا عیاں ہے۔ آج یونان ہی نہیں پورے مغرب و سامراج میں ہم جنس پرستی اور فیملی سیکس کی بڑھتی ہوئی لعنت اور دوسرے قابل نفرت جرائم دراصل  قوانین قدرت  کیخلاف وہ انسانی بغاوت ہے جس کا انجام آخر کار عذاب الہی ہوتا ہے۔ یہ بدبختیء مغرب ہے کہ روشن خیالی اور ” عقل و دانش ” کے نام پر قوانین قدرت یا دینِ انبیائے حق سے گمراہ انسان کا جاہلانہ تصادم آج مغربی تہذیب کا اولین عنصر مانا جاتا ہے۔ اور یہ ہماری بدبختی بھی ہے کہ ہم اپنی مذہبی  و قومی اقدار بھلا کر مغربی تہذیبوں کی پراگندگی اپنانے کو  روشن خیالی ،  شخصی آزادی اور” سٹیٹس سمبل ” تصور کرتے ہیں۔

آج یونان میں لا دینیت اور مادر پدر آزاد جنس پرستی عام ہو رہی ہے تو اس کا سبب بھی قدیم یونانی تہذیب میں مذہب سے دوری کے دجالی رحجان کا تسلسل ہی ہے۔ قدرت جیسے نا دیدہ عناصر کو بے وقعت و مشکوک قرار دینا ، روحانیت سے فرار ہو کر مادیت پرستی کی طرف رحجان اور دنیاوی زندگی کو  مقصدِ کل مان کر اسی کیلئے جدوجہد کرنا ہی اہل یونان کا وطیرہ تھا۔ زندگی کی ظاہری رعنائیوں اور جنسی اخلاط کی لذتوں کو مطلوب و مقصود بنا کر اسی کا اہتمام حصول کرنا اور مذہب سے ماورا وطن پرستی کے آسمان کو چھونا ان کا خاصہء زیست تھا۔ ان کیلئے آج کے ماڈرن سیکولر اور دہریہ لوگوں کی طرح وجود الہی اور صفات کبریائی کو تصور میں لانا یا اس پر ایمان لانا بیحد مشکل تھا ۔ چنانچہ انہوں نے خود ساختہ خداؤں کے بت بنا کر اور ان کے معبد تعمیر کئے اور پھر انہیں ” نظر آںے والے خدا ” قرار دے کر ان کی پوجا شروع کردی ۔ ایسے حالات میں اللہ  نے گمراہوں کی ہدایت کیلئے جو پیغمبر اور رسول بھیجے۔ انہوں نے پہلا سوال ہی یہ اٹھایا کہ جو بے جان دیوتا از خود حرکت ہی نہیں کر سکتے، بھلا وہ پتھر ہمارے خدا کیونکر ہو سکتے ہیں؟ اس حوالے سے ہم سقراط کی تعلیمات اور فلسفہ ہائے مذہب کا جائزہ لیں تو اس میں ہمیں توحید پرستی کے افکار عیاں ملتے ہیں۔ جو اس امر کی طرف اشارہ ہیں کہ عین ممکن ہے کہ سقراط دراصل قرآن میں مذکور ہستی حضرت لقمان یا اللہ کے کوئی نبی ہی تھے ۔۔۔۔

احباب گرامی بغور دیکھیں تو قدیم یونان کے ان لادینوں جیسی دجالی صفات آج صرف یونان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی ماڈرن نسل کے افکار و خیالات میں بھی نظر آتی ہے۔  زمانہء اسلام سے قبل  ایسے ہی دجالی فلسفوں اور مذہب سے متصادم خود ساختہ شخصی آزادی کی ابلیسی بیل  پروان چڑھی اورعالم انسان میں فساد برپا ہوئے تو جنگ و جدل نے باقاعدہ  قوانین کی شکل اختیار کرلی ۔ قتل و غارت ، بدامنی و بد حالی، جاہلیت اور گمراہی کے عناصر پر مشتمل تہذیب پلنے لگی ، تو اسی تعفنِ جہالت کے ابدی خاتمہ کیلئے نبی ء آخر الزمان ﷺ  مبعوث فرمائے گئے۔ لیکن بد قسمتی سے جن طبقات نے آپ  کے آفاقی پیغام حق کو پس پشت ڈال کر مغربی تہذیب کا طعوق گلے میں ڈالا،  وہ مغربی  بازیگروں کے نظریاتی ہی نہیں، عملی غلام  ہو کر رہ گئے۔ آج یہی زہر قاتل حرفہء سیاست سے ریاست کے اہم ستونوں عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کی رگوں میں سرایت  کر کے، اس سارے نظام کو آلودہ کر رہا ہے۔ اسی زہر کا اثر حکومتوں کے اندرونی ڈھانچوں اور بیرون ممالک سفارت کار عناصر میں بھی عیاں ہے۔ جس کا عریاں مظہر یونان میں پاکستانی سفارت خانہ میں جاری ملک و ملت کے مفادات سے غداریوں کے وہ سلسلے ہیں جو آج پورے یونان میں زبان زدِ عام ہیں۔

یونان سے موصول ہونے والی ای میلز اور مصدقہ ذرائع کے مطابق کرکٹ ٹیم کے ” محترم و معزز  مینیجر ” معین خان کی طرح  پاکستانی سفیر سعید خان مہمند بھی اکثر جوا خانوں میں دیکھے جاتے ہیں۔ سفارت خانہ کے غیر سرکاری کار خاص جمیل شاہ کے بارے کہا جاتا ہے کہ موصوف نے عیسائی بن کر یونانی شہریت حاصل کی اور پھر پاکستانی اور بھارتی طوائفیں امپورٹ کرنے کا قحبہ خانی دھندہ شروع کر دیا جو آج بھی پوری ہوش ربائیوں کے ساتھ جاری ہے۔ جمیل شاہ کے سی آئی اے سے ایسے پاور فل لنکس ہیں کہ اکثر انہیں امریکی سفیر اور سی آئی اے اہلکاروں کے ساتھ  دیکھا جاتا ہے۔ دوسری طرف شباب و شراب کے رسیا تھرڈ سیکریٹریری شفقت اللہ خان ایسے دیدہ دلیر کرپشن ایکسپرٹ ہیں کہ انہوں نے مختلف سفارتی خدمات کیلئے دو سو ،  تیس سو یورو  کے اعلانیہ فکس ریٹ مقرر کر رکھے ہیں۔ شرمناک امر یہ ہے کہ سفارت خانے کا ایک اور غیر سرکاری ایجنٹ مدثر خادم سوہل اپنی ہم جنس پرستی کیلئے پورے یونان میں مشہور ہے اور ستم ظریفی یہ کہ یہ بدنام زمانہ  ” چالیس سالہ نوجوان ” ، خوابوں والی سرکار کی مذہبی تنظیم  منہاج القرآن کی یونان یوتھ ونگ کا صدر بھی رہا ہے۔ یہی مدثر سوہل، دیگر منہاجین حضرات  اور سفارتی عملے کے کچھ  لوگوں کے ساتھ مل کر منہاج القرآن کیلئے چندوں کی آڑ میں مالی کرپشن اور اختلاف و تنقید کرنے  والے اپنے ہی منہاجین بھائیوں کی تعمیر کردہ مساجد پر مذموم قبضہ میں بھی ملوث ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جمیل شاہ اور مدثر خادم سوہل جیسے غیر سرکاری پیشہ ور عناصر کو سفارت خانوں تک رسائی کون اور کیون کر فراہم کرتا ہے ؟ کیا یہ سب  ” بدنامیء پاکستان کارنامے ” قدیم و جدید یونان کی مذہب دشمن و جنس پرست ماڈرن تہذیب کا اثر ہے یا اپنے مذہب سے بغاوت، قومی و ملی فرائض کی ادائیگی میں بد دیانتی اور غداریء وطن ہے ؟ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ سفارت کاری جیسے اہم  اور حساس قومی امور کے فرائض منصبی کیلئے ایسے اوباش صفت اور غدارین ملک و ملت عناصر کا انتخاب کون سی پر اسرار قوتیں کرتی یا کرواتی ہیں ؟  ایسے ننگِ آدم لوگ بظاہر بیٹھے تو پاکستانی سفارت خانوں میں ہیں، لیکن درحقیقت یہ غدارینِ پاکستان، امریکی سی آئی اے کے خفیہ کارندے اور خطرناک جاسوس ہیں؟ احباب یہ کوئی مذاق نہیں ، نظر رکھئے کہ  آج  ہمارے معاشرے میں ، ہمارے ارد گرد کئی امریکی ریمنڈ ڈیوس اور کئی بھارتی سربجیت سنگھ موجود ہو سکتے ہیں

فاروق درویش ۔۔ واٹس ایپ کنٹیکٹ – 00923224061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: