بین الاقوامی تاریخِ عالم و اسلام حالات حاضرہ

یہود مغرب اور سامراج کا مشترکہ نظریہء ضرورت ۔ فلسطین


تاریخِ  قدیم و جدید گواہی دیتی ہے کہ نبیء آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم اورجناب عیسی علیہ السلام سمیت بنی اسرائیل کے پیغمبران حق اور ان کی امتیں ہمیشہ ان یہودیوں کے ظلم و ستم اور فتن دوزیوں کا نشانہ بنی رہیں۔ خود عیسائی قوم بھی اس حقیقت کو جھٹلانے سے قاصر ہے کہ ان یہود نے نہ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت و رسالت کو جھٹلایا بلکہ ان پراوران کے حواریوں پرمصائب کے پہاڑ اٹھا کراپنی دانست میں (عیسائیت کے عقیدے کے مطابق) یں سولی پر بھی چڑھا دیا تھا۔ تاریخ کا مزید جائزہ لیں تو عیاں ہے کہ زمانہء قبل از اسلام سے سولہویں صدی عیسوی تک یہودیوں اورعیسائیوں کے درمیان کشت و خون اور باہمی نفرت کا ماحول رہا ہے۔ عیسائی مورخین ہی کی لکھی ہوئی تاریخ مغرب بتاتی ہے کہ یہودیوں کے پالن کار برطانیہ کے شاہ جان ملک نے اپنے دور اقتدار میں حکم صادر کیا تھا کہ تمام یہودیوں کو قید خانوں میں ڈال دیا جائے۔ شاہ ہنری سوم نے یہودیوں کو ان کو پابند سلاسل کرکے سخت سزائیں دیں۔ انہیں پابند کیا گیا کہ وہ اپنی آمدنی کا ایک تہائی حصہ ملکی خزانے میں جمع کیا کریں۔ اسرائیل کا وجود قائم کرتے ہوئے انہیں یہودیوں کو بھرپور مردمی و عسکری طاقت نوازنے والے فرانس ہی کے شاہ لوئس آگسٹس نے تمام یہودیوں کو جبری ملک بدر کر کے ان کی تمام مذہبی کتابیں بالخصوص تلمود باعث فتنہ قرار دیکر نذرآتش کر دیں تھیں۔ یورپ کے بہت سے ممالک ایسے بھی تھے، جہاں یہودیوں کو پلید مذہب قرار دے کر زبردستی عیسائی بنایا جاتا تھا اور جو لوگ اپنا مذہب بدلنے سے انکار کرتے تھے ان کی آنکھیں اندھی اور جسمانی اعضا کاٹ دیے جاتے، انہیں قید بامشقت کی تاریک کوٹھریوں میں ڈال کر وحشیانہ جسمانی تشدد کیا جاتا۔ اتحادِ یہود و نصاری کے داعی دانشوروں کو یاد رہے کہ قرونِ وسطیٰ کے مذہبی وادبی طبقے بھی یہودیوں پر لعن و دشنام کرنا اپنا مذہبی و اخلاقی فریضہ سمجھتے تھے۔ ایسے ہی یہود مخالف شعرا و ادیبوں کا نمائیندہ ایک عیسائی شاعر یہودیوں سے اظہارِ نفرت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ” یہ یہود حقیر، بدبودار و متعفن، بے حیا و بے شرم اور حاسد لوگ ہیں، یہ بیماریوں کو پھیلانے والے، بیکار، ناپسندیدہ اور خسیس لوگ ہیں، یہ گندے، بخیل، عداوت پیشہ، تنگ ظرف، احسان فراموش اور دشمنی میں حد سے گذرنے والے لوگ ہیں۔ شرافت وایمان داری اور ہرقسم کی پاسداری کوانھوں نے پوری ڈھٹائی سے بیچ دیا ہے۔ کلیسائے روم کے مشہورپوپ پولوس چہارم کا بھی قول ہے کہ ” یہ لوگ صرف غلامی کی زندگی گذارنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، درحقیقت یہ انتہائی ذلیل اور گھٹیا لوگ ہیں”۔

ہہودیوں کے ساتھ مسیحی تعلقات کی نوعیت صدیوں تک برقرار رہی۔ مغربی دانشور صلیبی جنگوں کی پے در پے شکستوں کے اسباب میں یہودیت اورعیسائیت کے تنازعات کو اہم گرداننے لگے، عالم اسلام سے اپنی شکستوں کا انتقام لینے کیلئے بے چین مغرب کے دلوں میں تمام اسلام دشمن مذاہب و قوتوں کو اکٹھا کرنے اور امت مسلمہ کے مشترکہ جذبات رکھنے والے غیر مسلموں سے محبت و اخوت کا جذبہ جاگ اٹھا۔ یہودیت کے دشمنوں نے نظریاتی پانسہ پلٹنے کی سازش کی شروعات مارٹن لوتھر کی اس ” انقلابی تحریک” کے ذریعے کی جس نے عیسائیوں کے افکار وخیالات اوریہودیوں کے بارے ان کے عام رجحانات اور جذبات ہی بدل ڈالے اور ارضِ فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری کسی افسانوی روایت سے ایک ایسے مقدس مذہبی عقیدے میں تبدیل ہوگئی، جس کا تعلق انتہائی عیاری کے ساتھ ظہورِ مسیح علیہ السلام سے جوڑ دیا گیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل عیسائیوں کے مقدس پادری اورنامور مذہبی رہنما ان یہودیوں کے فلسطین میں قیام کے اس من گھڑت عقیدے کو کسی افسانے سے زیادہ کا درجہ دینے کو تیار نہ تھے۔ لہذا جب لوتھر نے توریت پرمذہبی اشخاص کی اجارہ داری کے خاتمے کا اعلان کیا تو یہودیوں نے ایک تحریک کی طرح عام عیسائیوں میں اپنی ان من گھڑت روایتوں کی تشہیر شروع کردی، جو ان یہودیوں کو اللہ کی محبوب اور معزز قوم ثابت کرتیں اورسرزمینِ فلسطین کو صرف ان کیلیے خدا کا عطیہ قراردیتی تھیں۔ اس طرح ارضِ فلسطین عیسائیوں اور یہودیوں کا بے دلیل و منطق مذہبی ودینی ورثہ ٹھہرایا گیا۔ ایک مکمل سازش کے تحت یہودیوں کے بارے عام مسیحیوں کا موقف بتدریج بدلا گیا اور پھر دو ازلی دشمن، ایک “مقدس مشترکہ کاز” یعنی مسلم دشمنی کیلئے ایک دوسرے کے ابدی دوست و حلیف بن گیے۔ امت مسلمہ سے مشترکہ دشمنی کی “روحانی بنیاد” اورعیسائیت کے نظریہء ضرورت کے تحت یہود و نصاریٰ کے راستے ایک ہوگئے۔

صلیبی جنگوں میں مملوکوں، عثمانیوں، نورالدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی جیسے مسلم سپوتوں کے ہاتھوں دندان شکن شکستوں کے زخم خوردہ مغربی اتحادی اور خیبر و بنی قریظہ کی ذلت کا باراٹھائے یہودیت نے مشترکہ اسلام دشمنی کے سدا بہار جذبہ کے تحت ہاتھ سے ہاتھ اورکندھے سے کندھا ملایا۔ اور پھر پوری عیسائی دنیا سیدنا عیسی علہ السلام پر یہودیوں کے سب مظالم بھلا کر سرزمینِ قدس پر یہودی ریاست و حکومت کی تاسیس وتوسیع کواپنا اہم مذہبی فریضہ سمجھنے لگی۔ مغرب کو قوی یقین تھا کہ یہودیوں کی اعانت کے بغیر عالم اسلام کو شکست اور ارض فلسطین پر قبضہ مشکل ہی نہیں ناممکن ہو گا۔ ورنہ یہودیوں کو اپنا دوست بنانے والی عیسائی دنیا یہ کیسے بھول سکتی تھی کہ یہی یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت حق کے انکار اور پھر ان کے قتل کے درپے ہونے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے شدید عذاب کا شکار ہوکر سترویں عیسویں سے بیسویں صدی کی شروعات تک دنیا بھر میں در بدر بھٹکتے رہے ہیں۔ لیکن عالم اسلام کو شکست دینے کیلئے یہود و نصاریٰ کے ” نظریہء اشد ضرورت ” کے تحت ایک عالمی سازش کے نتیجے میں ابھرنے والی مارٹن لوتھر کی تحریک کی وجہ سے عیسائیت دو مختلف فرقوں یعنی پروٹسٹنٹ اورکیتھولک میں تقسیم ہوگئی۔ اور پھر سرکاری طور پر پروٹسٹنٹ کا عقیدہ اختیار کرنے والے مہان انگلستان نے شروعات سے ہی پورے اہتمام اورمذہبی جوش و جذبے کے ساتھ یہودیت کے سرپرست کا کردار ادا کیا۔ مسلمانوں کے ایمان کا جزوء اول عشق مصطفے اور خاصہء دین آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسی علیہ السلام تک تمام سچے نبیوں پر ایمان اور ان کی توقیر و تکریم ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ عیسائیت اپنے ہی نبی سیدنا عیسی علیہ السلام کی حرمت و تقدس کی حفاظت کرنے میں کلی ناکام ٹھہری ہے۔ عیسائی برادری کیلئے لمحہء فکر و ندامت ہے، انہیں یاد رہے کہ انگلستان کے آئین و قانون کے مطابق توہینِ مسیح کی سزا عمر قید ہے لیکن یہ امرانگلستان کی پروٹسٹنٹ عیسائی قیادت کی حُبِ مسیحیت پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ وہ توہین مسیح کے گستاخانہ عقیدے پر قائم قادیانی مذہب کے دجالی خلفا و پیروکارین کو اپنی مخلمی گود میں پناہ فراہم کر کے ان کی کھلی سرپرستی کر رہی ہے۔

مشہوریہودی لیڈر تھیوڈورا ہرزل نے 1897ء میں صیہونی تحریک کا باقاعدہ آغاز کیا۔ جس کا اصل مقصد ارض فلسطین پر قبضہ اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر تھا۔ جنگ عظیم اول کے موقع پر ان صیہونیوں کیلئے قومی وطن کے علمبردار لیڈر ڈاکٹر وائس مین نے انگلستانی حکومت کو اس بات کا پورا یقین دلایا کہ تمام یہودیوں کا سرمایہ، ان کا دماغ اور ان کی تمام تر صلاحیتیں ہمیشہ، بالعموم عیسائی برادری اوربالخصوص انگلستان اور فرانس کے ساتھ رہیں گی، بشرطیکہ وہ ان سے وعدہ کریں کہ ارض فلسطین کی فتح پر وہ اس مقدس سرزمین کو یہود کا ’’قومی وطن‘‘ قرار دیں گے۔ اور پھر آکر کار اسی عہد و پیمان کی بنا پر ان یہودیوں نے پہلی جنگ عظیم کے دوران 1917ء میں فلسطین کی فتح پر وہ اسلام دشمن مقدس پروانہ حاصل کرلیا جو تاریخ میں’’اعلان بالفور‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ حقائق گواہ ہیں کہ آج صرف سامراج اور انگلستان ہی نہیں پورا مغرب اور ہر اسلام دشمن قوت انتہائی بے حیائی وبددیانتی کے ساتھ سب سے بڑےعالمی دہشت گرد اسرائیل کی ہرطرح سے پشت پناہی میں مصروف ہے۔ 1952میں اسائیل میں امریکی سفیر کا یہ بیان حقیقت سے اچھی طرح پردہ اٹھاتا ہے کہ ” آپ کی حکومت کی اساس گذاری میں ہماری حکومت نے جو تعاون اور خدمات پیش کی ہیں، ہمیں اس پر فخر ہے اور ہم سب پر جو اپنی تہذیب وثقافت اور انبیائے بنی اسرائیل کے الہامات پر یقین رکھتے ہیں، ارضِ قدیم و مقدس فلسطین پر ایک نئی قوم اور ایک جدید حکومت کی تشکیل واجب ہے”۔ دراصل عیسائیت اور یہودیت کا اسلام سے ازلی دشمنی اور امت مسلمہ سے بغض کا مشترکہ مذہبی ورثہ ہی موجودہ عیسائی و یہودی تعلقات کا اصل سبب ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان رشتوں میں مزید استحکام بھی آرہا ہے اورآئے دن پیش آنے والے نت نئے حادثات وواقعات سے نپٹنے کیلئے ہندوتوا جیسی دوسری انٹی مسلم قوتیں بھی اس کے ساتھ شامل ہو کر اسے مظبوط سے مظبوط تر بنانے کیلئے اپنا مقدس حصہ ڈال رہی ہیں۔

آج کے نقاد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ عیسائی یہودی تعلقات کو توانائی بخشنے والے جتنے بھی اسباب ہوں ان میں سب سے اہم بلکہ بہت حد تک مرکزی حیثیت رکھنے والا سبب ان دونوں کی مشترکہ اسلام دشمنی اور اسلامی بیداری کا خوف ہی رہا ہے۔ 1968 میں امریکی وزارتِ خارجہ کے پالیسی ساز ادارے کے سربراہ کا وہ بیان یہود ونصاریٰ کی ازلی اسلام دشمنی کا سچا آئینہ دار ہے جس میں اس نے پوری وضاحت کے ساتھ کہا تھا کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امریکہ مذہبی روایات، عقائد اور نظامِ حکومت کے حوالے سے مغربی دنیا کے تکمیلی جزو کی حیثیت رکھتا ہے اور یہی وہ چیز ہے، جس کی وجہ سے اسے صرف مشرقی اسلامی دنیا کی ہی نہیں بلکہ دین اسلام، اس کے افکار ونظریات اوراس کے عقائد کی مخالفت کرنے اور صہیونی حکومت کی حمایت و موافقت میں کھڑے ہونے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آتا۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اس کے برعلس کوئی دوسرا موقف اختیار کرتا ہے، تو یہ اس کے سیاسی ہی نہیں بلکہ لسانی، روایتی، تہذیبی اور مذہبی خصات کی بھی خلاف ورزی ہوگی۔ سابق برطانوی وزیراعظم کا یہ بیان بھی چونکا دینے والا ہے کہ ہم کبھی بھی بوسینیا کے مسلمانوں کو مسلح نہیں دیکھ سکتے، ہم اقوامِ متحدہ پر مسلسل دباؤ بنائیں گے کہ وہ بوسینیا کے مسلمانوں کو اسلحہ رکھنے سے روکے اورمسلم حکمرانوں کو فرضی امن مذاکرات میں الجھائے رکھے تاکہ کوئی بھی مسلم ملک ان کی امداد کیلئے کوئی سرگرمی نہ دکھا سکے۔ ایک کٹّر اسلام دشمن فرانسیسی مستشرق کا انتہائی تکلیف دہ بیان ہے کہ اسلام کا دین ایک جذام کی طرح لوگوں میں پھیل رہا ہے اور انھیں بری طرح ہلاک کررہا ہے، بلکہ یہ انتہائی خطرناک، ذہنوں کو مفلوج اور عقلوں کو ناکارہ بنادینے والا مرض ہے یا تو یہ مذہب تعطل، کاہلی اور بے کاری پر ابھارتا ہے یا پھر خوں ریزی وشراب خوری پر، میری رائے میں کم از کم مسلمانوں کے پانچویں حصے کو تو سرے سے ختم ہی کردینا چاہیے اور جو بچ رہیں، ان سے سخت بیگار لیا جائے ( نعوذ باللہ) کعبہ کو منہدم کردیا جائے اور محمد کی قبر کو کھود کر ان کی نعش کسی ادنیٰ درجے کے میوزیم میں ڈال دی جائے۔“ مشہوراسرائیلی رہنما ڈیوڈبن گارین کے اس بیان سے بھی یہود ونصاریٰ کی مشترکہ اسلام دشمنی اور اسلامی بیداری سے ان کے خوف کا بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ہمیں سب سے زیادہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں عالم عربی میں پھر کوئی محمد (ہمارے آبا و اجداد، ماں باپ اور آل اولاد ان پر قربان) نہ پیدا ہوجائے”۔

ایک اور وجہ جو صدیوں سے باہم دست وگریباں رہنے والے یہودیوں اور سامراجی و مغربی عیسائیوں کی حیرت انگیز دوستی اور ملسم کش اتحاد میں اہم حیثیت رکھتی ہے وہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل جیسے عالمی اداروں، یورپی معاشی برادری جیسے انتہائی اہم مغربی فورمز اورعیسائی معاشرت پر یہودیوں کا زبردست اثر ورسوخ ہے۔ لہذا امریکہ اور پورا مغرب ہی نہیں، ہر سامراجی بغل بچہ اور مغربی پالک فلسطینی مسلمانوں کے وحشیانہ قتل عام پر خاموش ہے۔ اہل عالم کی خاموشی بتا رہی ہے کہ یہ فتنہ پرور لوگ اب عیسائیت یا عالمی طاقتوں کے محتاج نہیں رہے بلکہ خود سامراج و مغرب آج ان کے محتاج و گدا ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صرف امریکہ میں ان کی آبادی اسرائیل کی کل آبادی سے دوگنی ہو چکی ہے۔ آج یہ لوگ صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ مغربی یورپ کے بھی اکثر و بیشتر اہم اداروں کے انتہائی حساس عہدوں پر فائز ہیں۔ امریکی وزارتِ خارجہ، وزارتِ صحت، وزارتِ تعلیم وتربیت، عدلیہ، امورِ خارجہ کے مشاورتی بورڈ کی رکنیت، مجلسِ عاملہ کی اہم سربراہیاں انہیں کے نام سے منسلک ہیں۔ یہ امریکہ کے صدارتی انتخابات کی سرگرمیوں میں حیرت انگیز حد تک سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اور پھرہر منتخب امریکی صدر انہی کا کارِ خاص بنکر اپنی ہر حرکت وعمل میں ان کے اشارہء ابرو کا پابند رہتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لوگ صرف امریکی اقتصادیات کے مرکزی اداروں پر ہی نہیں بلکہ مشرق و مغرب کی اقتصادیات پربھی عملی طور پر قابض ہو چکے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور مغرب کے ترقی یافتہ ممالک میں سب سے زیادہ مضبوط معیشت انہی یہودیوں کے ہاتھ میں ہے۔

ایک سابقہ بینکر اور ماہر نظام کریڈٹ کنٹرول کی حیثیت سے میرا ہوش ربا دعوی ہے کہ آج دنیا بھر کا بینکنگ نظام اور خصوصی طور ہر کریڈٹ کارڈز اور کنزیومر لوننگ کا آپریٹنگ اینڈ کنٹرول سسٹم براہ راست یہودیوں کے قبضہء کنٹرول میں آ چکا ہے۔ دنیا بھر میں بینکاری کا الیکٹرانک نظام کنٹرول کرنے والے یہودی اجارہ دار صرف سنگاپور، ٹورنٹو اور نیویارک سے چلنے والے کریڈٹ کارڈ اینڈ مائکرو فنانس کنٹرول سسٹم کا سوئچ آف کردیں، تو پوری دنیا کا بینکنگ نظام جزوی طور پر مفلوج اور کریڈٹ کارڈز اینڈ مائیکرو فنانس کا آن لائن سسٹم کلی طور پر ناکارہ ہو کر رہ جائے گا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہمارے نام کا کریڈٹ کارڈ ہے تو ہماری جیب میں، لیکن اس کے فعال رہنے پر کنٹرول یہودی کا ہے۔ ہاؤس لون اور کار فنانس سکیم کے تحت گھر اور گاڑی پر بظاہر قبضہ تو ہمارا لیکن اس کے ڈیبٹ، کریڈٹ اور سود و شرح سود وغیرہ پر کنٹرول بھی انہی یہودیوں کے پاس ہے۔ تلخ حقیقیت ہے کہ صرف امریکی و مغربی ذرائع ابلاغ ہی نہیں پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے میڈیا پر بھی ان کی دسترس اور اثر و رسوخ کی وہ جھلک صاف نظر آتی ہے، جو انٹی اسلام اور انٹی پاکستان رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے ہمیشہ سے یہود و نصاریٰ کا ایک اہم ہتھیار رہی ہے۔ یہودیت کے زیر اثر عالمی پریس اینڈ میڈیا پوری دنیا کے امن پسند انسانوں کے افکار وخیالات سے عیاری و مکاری کا کھیل کھیلنے کا موثر ترین ذریعہ ہے۔ امریکہ کے مشہور اخبارات نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، ٹائم، نیوز ویک؛ ان سب کا فکری سانچہ سر سے پاؤں تک یہودیت میں ڈھلا ہوا ان کے مفادات کا محافظ بن چکا ہے۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد جب یورپی فوجیں شام کے شہر دمشق میں داخل ہوئیں تو فرانسیسی جنرل ہنری گوروڈ خاص طور پر فاتحِ بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبی کے مزار پر گیا اور قبر پر ٹھوکر مار کر زور دار آواز میں چلایا تھا کہ ” دیکھو ہم دوبارہ یہاں موجود ہیں ” اور پھر مسلم خلافت کا خاتمہ کرنے کے بعد سامراج اور مغربی استعمار نے صلیبی جنگوں کی عبرت ناک شکستوں کا انتقام لینے کیلئے عیسائیت کے ازلی دشمن یہودیوں کو اپنا ابدی دوست بنا کر مسلم کے خلاف نت نئے جال بچھانے کا جو سلسلہ شروع کیا وہ آج تک جاری ہے۔ پینٹاگون، لندن مافیہ اور یروشلم و دہلی اتحاد اپنے من پسند جدید مشرق وسطی کے ہی نہیں ” آئیڈٰل پاکستان” کے بھی من پسند نقشے بنانے میں مصروف و سرگرم ہے۔ پہلی خلیجی جنگ سے لیکر ایران عراق وار تک، کویت پر عراقی شب خون سے لیکر، عراق و شام کی خون ریزی اور اہلِ افغانستان و فلسطین پر ڈھائے جانے والے حالیہ وحشیانہ مظالم تک، ہر عالمی دہشت گردی سامراج، مغربی استعمار اور صہیونیت کے مسلم کش جنگی اتحاد کی بدترین تصویر ہے۔ اور یہ وحشت ناک تصویر، عالم اسلام کے اکابرین سیاست کے بیڈ رومز میں خلوت و جلوت مسلمانی سے فیض یاب ہونے والی وہ یہودی حسینائیں بھی دیکھ رہی ہیں جو عرب و عجم کے رنگ رنگیلے مسلمان امراء کی داشتہ یا رکھیل نہیں ، باقاعدہ بیویاں اور ان کے ہونہار نونہالوں کی معزز مائیں ہیں۔ اوریاد رہے کہ اپنے معزز سالوں پر ہاتھ اٹھانا تو دور کی بات، ان کے خلاف زبان کھولنا بھی انتہائی بد تہذیبہی اورعین حماقت ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گھر والیاں ناراض ہو جائیں گی

یہ منافقت کی بستی ہے کہ دور مصلحت کا
جو نقاب زرق اوڑھے ہے جہان کافرانہ

پس مرگ خامشی یہ ہے حلیف دست ظلمت
تری چپ ہے تیری قاتل کہ مزاج بزدلانہ

( فاروق درویش – 03224061000–03324061000)

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: