حالات حاضرہ نظریات و مذاہبِ عالم

علامہ اقبال اور قادیان کے دشمنان دین و ملت


جہاں حکیم الامت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے پاکستان کا عظیم تصور پیش کیا وہاں اس پیکر حکمت و دانائی نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے بڑے واشگاف الفاظ میں امت مسلمہ کو دین و ملت کے خلاف یہود و نصاری کی بدترین اورگھناؤنی سازش فتنہ قادیانیت کےشرسے بھی خبردارکیا تھا۔ محسن ملت اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے مغرب کے دجالی فتنہ گروں کی تیار کردہ جھوٹی نبوت اور صیہونی برانڈ جھوٹے نبی مرزا قادیانی کی سازشوں سے بخوبی آشنا تھے اس مرد قلندر نے قادیانیت کے  چہرے سے نقاب سرکا کر، اس کی بے وفا آنکھوں میں جھانک کر اس کی لوح دماغ پڑھ کر اور اس کے دل کی تہوں میں اسلام اور ملت اسلامیہ سے بغاوت کے سرکش ارادوں کو اپنی چشم بینا سے دیکھ کر یہ دو تاریخی جملے کہے تھے”قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے“۔ ”قادیانی اسلام اور ملک دونوں کےغدار ہیں“۔ آج تک یہی کلمات حق گستاخین قرآن و رسالت قادیانی زندیقوں کے سینے پر سانپ بن کر لوٹ رہے ہیں سو سوشل میڈیا اورفیس بک پر ہرننگِ دین قادیانی مسخرہ اپنے یہودی غلام خلفا کی تقلید میں حضرت اقبال کے خلاف زہر اگل کر چاند پر تھوک رہا ہے.

 قادیانی حضرات کہتے ہیں  کہ حضرت اقبال بھی پہلے انہیں مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ سمجھتے تھے۔تواس کا سیدھا سادا جواب یہ ہے کہ انسان تحقیق اورمشاہدات سے ہی حتمی نتائج تک پہنچتا ہے۔ کسی بھی شخص یا گروہ کے مذہبی عقائد، کردار اور حقائق کے بغور جائزے، ان  کے مطالعے اور رویوں کے مشاہدات ہی سے  حقیقت کھلتی ہے۔ اگر لوگ برسوں اسلام کا مطالعہ کرتےہیں اورآخری عمرمیں مسلمان ہوتے ہیں تو کیا یہ سوال بنتا ہے کہ یہ لوگ پہلےغیرمسلم کیوں تھے؟  حضرت اقبال شروعات میں ہندی قومیت کےعلم بردار تھے اور اس حوالے سے اس نظریےکے فروغ کے لیے بہت کچھ لکھتے بھی رہے لیکن جلد ہی اسے ترک کر کےصرف اورصرف اسلامی قومیت کے نقیب بن گئے اور پھر ان کے شہرہء آفاق ملت جگاؤ نظریات ہی ان کی عظمت و شہرت کے نشان ٹھہرے۔

اسی طرح وحدت الوجود کے خلافِ اسلام نظریے کو ترک کرنے کے لیےحضرت  اقبال رحمۃ اللہ  نے کچھ  زیادہ وقت نہ لیا لیکن ہاں قادیانیت کا کفر مدتوں تک ان کی  توجہ کا مرکز نہ بن سکا مگر مطالعہ اور تحقیق کے بعد ایک صحیح فیصلے تک پہنچنے کے لیے انہوں نے پورا وقت کیا۔ حضرت اقبال ابتدا سےعقیدۂ ختمِ نبوت اور تصور جہاد کے علم بردار تھے اورمسیح موعود بلکہ مجدد کے تصوّر کو بھی نہیں مانتے تھے ، اسی لئے وہ کسی ایسی  دعوت سے بھی اجتناب برتتے تھے جس میں قادیانی خلیفہ حکیم نور الدین موجود ہوتا تھا۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ انہوں نے میزبان سے صرف اس لئے رخصت کی  طلب کی کہ میں نبوت کے جھوٹے دعویدار مرزا قادیانی کے خلیفہ کی موجودگی میں یہاں نہیں بیٹھ سکوں گا ۔ یہ سچ ہے کہ  قادیانیت کا بنظرِ غائر مطالعہ نہ کرنے کے سبب ایک عرصے تک مرزائیوں کو مسلمانوں کا فرقہ سمجھتے رہے۔ لیکن جب اس گروہ کی اسلام دشمنی کھل کر سامنے آنے لگی اور  غور کرنے کے اسباب جمع ہوئے تو  حضرت اقبال نےعلی العلانیہ قادیانیوں کو غیر مسلم اور دین و ملت کا غدار قرار دے دیا۔

اب یہاں بتانا ضروری ہے کہ وہ کیا حقائق تھے جن  کے بعد حضرت اقبال نے فتنہء قادیانیت  کے بارے اتنا سخت رویہ اختیار کیا۔ احباب یاد رہے کہ برطانوی  حکومت کی طرف سے کشمیر کمیٹی 1931ء میں قائم  کی گئی ۔ اور توقع کے عین مطابق  اس کا سربراہ انگریز آقاؤں کا پروردا وغلام قادیانی جماعت کا دوسرا خلیفہ مرزا بشیرالدین محمود بنایا گیا۔علامہ اقبال بھی اس کشمیر کمیٹی کے رکن تھے۔ سو اس حیثیت سے جب انہیں قادیانیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا تو وہ  بھی ان کے مخصوص اسلام دشمن  رویے،  کافرانہ عقائد  اور یہودی برانڈ عزائم سے واقف ہوئے۔ اسی دوران مجلس احرار اور بتانِ قادیان کی باہمی آویزش کے باعث قادیانی مسئلہ مذید اہمیت اختیار کر گیا۔ اقبال نے قادیانیت کا بنظرِ غائر جائزہ لیا تو اس نتیجے پر پہنچے کہ قادیانی عقائد اسلام سے شدید متصادم ہیں سو وہ  مسلمان ہی نہیں ہیں۔ جب گورنر پنجاب نے انجمنِ حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسے میں مسلمانوں کے باہمی افتراق اور قیادت کے فقدان پر افسوس ظاہر کیا اور مسلمانوں کو رواداری کا مشورہ دیا تو مئی 1935ء میں اقبال کا قادیانیت کے خلاف پہلا مضمون شائع ہوا۔ اس مضمون کا منظر عام پر آنا تھا کہ قادیان زندیقوں کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس کے بعد اس دجالی گروہ کی طرف سے اقبال کے خلاف  زہر اگلنے کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ آج تک جاری ہے۔

اپنےمضمون میں اقبال نے وضاحت کی کہ مسلمانوں کی وحدت صرف دینی تصور پر استوار ہے اور مسلم معاشرے کو ختمِ نبوت کا عقیدہ ہی سالمیت کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اگر ان میں کوئی ایسا گروہ پیدا ہو جو اپنی اساس ایک نئی  اور جھوٹی نبوت پر رکھے اور بزعمِ خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر اور جہنمی قراردے، فطری طور پر مسلمان اسے وحدت  اسلام کیلئے  خطرہ ہی تصور کرے گا۔ کیا یہ مناسب ہے کہ اصل جماعت کو رواداری کی تلقین کی جائے  اور باغی گروہ کو اس دجالی تبلیغ کی پوری آزادی ہو جو محض انبیا و قرآن و رسالت کی توہین یا جھوٹ اور دشنام سے لبریز ہو۔ اس بیان کے بعد اقبال نے لکھا کہ میں نے حکومت کو یہ مشورہ نہیں دیا کہ وہ قادیانی تحریک کا بہ جبر انسداد کرے۔ میری رائے میں حکومت کیلیے بہترین طریقِ کار یہ ہو گا کہ وہ قادیانیوں کومسلمانوں سے الگ جماعت تسلیم کرے۔ یہ قادیانیوں کی پالیسی کےعین مطابق ہو گا اورمسلمان ان سے ویسی ہی رواداری سے کام لے گا جیسے وہ باقی مذاہب کے معاملے میں اختیار کرتا ہے۔ یوں حضرت اقبال وہ پہلے مفکر ٹھہرے جنہوں نے قادیانیوں کوغیرمسلم قرار دینے کی وہ ایمان افروز تحریک شروع کی جس کو 1974 میں قادیانیوں کو غیر مسلم زندیق قرار دئے جانے پر کامیابی  ملی۔

یاد دلاتا چلوں کہ اس سے پہلے 1934 میں بھی مجلس احرارِاسلام کےزیرِ اہتمام منعقد ہونے والی’’ آل انڈیا احرار کانفرنس‘‘ میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ ہو چکا تھا۔ بحرحال علامہ اقبال کی تجویز ہر اعتبار سے مبنی بر انصاف تھی لیکن اس کا سخت ردِ عمل ہوا جو ابھی تک جاری ہے۔ حیرت ہے کہ مرزا قادیانی اسکے پیروکارخود کو مسلمان اور اصل  مسلمانوں کو ولد الحرام، رنڈیوں اور کنجریوں کی اولاد، بیابان کے خنزیر اور کافر قرار دیتے ہیں لیکن جب مسلمانوں نے انھیں غیر مسلم قرار دیا تو انہیں یہ بات  بہت ناگوار گزری۔

ابھی یہ مباحث جاری تھے کہ  پنڈت جواہر لال نہرونے قادیانیت کی حمایت  میں بیانات کا سلسلہ شروع کیا۔ اس حوالے سے ’’ماڈرن ریویو‘‘ کلکتہ میں ان کے تین مفصل مضامین شائع ہوئے۔ جس کے جواب میں علامہ اقبال نے ایک  ایسا مونہہ توڑ اور زبردست بیان دیا جس نے آگے چل کر ایک مضمون کی شکل اختیار کر لی ۔ بعد میں یہ مضمون ’’اسلام اینڈ احمد ازم‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ علامہ کے بیان اور اس مضمون کا پس منظر بیان کرتے ہوئے سید نذیر نیازی نے لکھا ہے کہ مجلسِ احرار اور جماعتِ قادیان کے نزاع سے پنجاب کی فضا مکدّر ہو چکی تھی۔ کشمیر کمیٹی کے اندر اور باہر یہ احساس تھا کہ اس میں شامل قادیانی عناصر مسئلہ کشمیر کے بجائے اپنے ذاتی اور جماعتی مقاصد کی دجالی تبلیغ میں مصروف ہیں۔ اس خیال سے یہ سوال تازہ ہو گیا کہ مسلمانوں کی وحدت کا حفظ و استحکام کس اصول پر ہے۔ لوگ اس سوال کا جواب مذہبی یا سیاسی پہلو سے دیتے تھے جس سے یہ مسئلہ الجھتا چلا گیا۔ اقبال کومذکورہ بیان (قادیانی اورصحیح العقیدہ مسلمان) دینا پڑا جس میں تشریح کی گئی کہ سیاسی، اجتماعی اور مذہبی اعتبار سے وحدتِ امت کی یہ اساس کس اصول پر ہے۔ اس بیان کا شائع ہونا تھا کہ طرح طرح کے سوال پیدا ہونے لگے اور ملک بھر کے روزناموں اورجرائد نے اس پر رائے زنی شروع کردی۔ یہ اس لیے کہ اقبال نے ایک ایسے نزاع کا سلسلہ جو بظاہر مذہبی عقیدے تک محدود تھا، سیاست و اجتماع سے جوڑدیا۔ انھوں نے وحدتِ امت کی جو تعبیر کی وہ کانگریس کے ہندی قومیت والے نظریے سے متصادم تھی لہٰذا بیان شائع ہوا تو جواہرلال نہرو خاموش نہ رہ سکے۔ نہرو نے جو سوالات اٹھائے تھے، اقبال نے ایک مضمون میں ان کا ایسا مدلل جواب دیا کہ اس کے بعد پھر نہرو جی نے مزید کوئی مضمون نہ لکھا۔ نہرو کے ایک خط کے جواب میں اقبال نے لکھا کہ  برطانوی حکومت سے وفاداری کے نظریے کو الہامی تائید فراہم کرنے کی غرض سے ہی قادیانیت ظہور میں آئی۔ سو نہیں نے اسلام کے بدترین دشمن قادیانیوں کو ملک و ملت دونوں کا بدترین غدار قرار دیا۔

  اقبال کا مضمون ’’جنوری 1936ء میں شائع ہوا تھا۔ فروری 1936 ء میں قادیانی  اخبار ’’لائٹ‘‘ کے مدیر نے اقبال کی ذات پر حملہ کیا۔ انجمن حمایتِ اسلام میں قادیانی ارکان بھی تھے اور اس وجہ سے انجمن کی ساکھ خراب ہو رہی تھی۔ انجمن کے صدر علامہ اقبال تھے۔ انھوں نے ارکانِ انجمن کو مشورہ دیا کہ مرزائیت کے ضمن میں انھیں اپنی پالیسی واضح کرنی چاہیے اور جب ختم نبوت کے ضمن میں ایک قرار داد پیش کی گئی تو قادیانی ممبر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ  نے  کھڑے ہو کر کہا: ’’مجازی رنگ میں نبی آ سکتا ہے‘‘۔ مسلمانوں نے اس ڈاکٹر سے اختلاف کیا گیا اور وہ غصے کی حالت میں اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔ نو دن بعد ان پر فالج کا حملہ ہوا اور وہ جہنم کو چل بسا  ( ایسی ہی عبرت ناک موت، مرزا غلام قادیانی اور اسکے خلفاء کے قصیدے پڑھنے والے گستاخ اسلام قادیانی شاعرعبید اللہ علیم کو بھی نصیب ہوئی تھی)۔ اس واقعے کو بہانہ بنا کر مدیر ’’لائٹ‘‘ نے  حضرت اقبال کے بارے انتہائی قابل اعتراض زبان استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ ”  ڈاکٹر  اقبال نےکا  خیال تھا کہ  مرزا یعقوب بیگ کافر ہے۔ چنانچہ  اقبال نے انجمنِ حمایت اسلام کو چیلنج بھیج دیا کہ مرزا یعقوب بیگ کو الگ کر دیا جائے ۔  وہ اس احسان فراموش اور بےضمیر کتوں کی جماعت میں بوجہ اپنی شرافت کے رہنے کے قابل نہ تھا۔خدا نےاس کو اپنی طرف بلا لیا۔ ہم ڈاکٹر اقبال صاحب اور اس کے رہزن گروپ کو مبارک باد دیتے ہیں کہ اب گندا آدمی دنیا میں نہیں رہا اور ڈاکٹر صاحب انجمن کی کرسئ صدارت کو زینت بخشیں۔

حضرت اقبال کےاینٹی قادیانی نظریات اورقادیانیت کے شرانگیزعزائم کے بارے ان کی پیش بینی کو ان کے بعد پاکستان کے پہلے قادیانی وزیرخارجہ ظفراللہ نے قائداعظم کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر کےعین درست ثابت کر دیا۔ یاد رہے کہ سرظفر اللہ نے قائد اعظم کا جنازہ یہ کہہ کر پڑھنے سےانکار کردیا تھا کہ کوئی اسے ایک مسلمان کی طرف سے ایک غیر مسلم کا جنازہ پڑھنے سے انکار سمجھے یا ایک غیر مسلم کی طرف سے ایک مسلمان کا جنازہ پڑھنے سے انکار، لیکن میرا مذہب مجھے کسی بھی غیر قادیانی کا جنازہ پڑھنے کی اجازت  نہیں دیتا۔

سو گستاخین قرآن و رسالت  قادیانی ہوں یا ان کے پروردا حسن نثار جیسے میڈیا پرسنز، ان سب کی طرف سے اقبال کےخلاف دشنام درازی مدتوں سےجاری ہے ۔ مگر امت اسلامیہ حضرت اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو   ہمیشہ حکیم الامت، شاعرمشرق اورمفکرپاکستان کےنام سےیاد کرتی رہےگی. لیکن انتہائی تلخ حقیقت یہ ہے کہ اب نہ شاعرمشرق علامہ اقبال،عطا اللہ شاہ بخاری اورمولانا ظفرعلی خان جیسے اہل ایمان مفکر و دانشورہیں اور نہ پیرمہرعلی شاہ شاہ  اورمولانا ثنا اللہ امرتسری جیسےولی اللہ، علماء اور مشائخ باقی ہیں۔ لیکن  بدقسمتی سے پیر آف لندن شریف الطاف حسین، بال ٹھاکری داسی عاصمہ جہانگیر اور روشن خیال دانشوروں کا وہ ننگ دین و ملت گروہ ضرور موجود ہے جو فتنہء قادیانیت کے دجالی گروہ کو عملی اور قلمی مدد کی بیساکھیاں دیکر ہرفورم، ہرشعبے اورادارے میں پروان چڑھا کر اپنے اور قادیانیوں کے مشترکہ مغربی آقاؤں سے وفاداری نبھا رہا ہے۔

( تحریر ۔ فاروق درویش ۔ 00923224061000 )

( اس مضمون کیلئے ڈاکٹر ایوب صابر اور جناب خالد عبدالمتین کے مضامین سے مدد لی گئی ہے)

 

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: