تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ

عالمی امن کیلئے سنگین خطرہ بال ٹھاکری دہشت گردی


 نائین الیوین کے بعد  دنیا سے امن نو دو گیارہ ہوا اور ممبئی دھماکوں کے بعد بھارتی خفیہ  ایجنسیوں، ہندوتوا شدت پسند تنظیموں کی مذہبی دہشت گردی کھل کر سامنے آئی ہے ۔عالمی امن کے ٹھیکیداروں کیلئے لمحہء فکریہ ہے کہ بھارت میں برہمن و شودر دہشت گردی انتہائی حدود کو چھو کر صرف خطے کیلئے ہی نہیں بلکہ عالمی امن کیلئے ہولناک خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے۔   بال ٹھاکرے کے دہشت گردوں نے کرکٹ مذاکرات کیلے گئے کرکٹ بورڈ چئیرمین شہریار خان اور عالمی شہرہ آفاق امپائر علیم ڈار ہی نہیں اپنے ہندوتوا پرستار نجم سیٹھی کیخلاف بھی جارحانہ مظاہروں سے دیرینہ خباثت کا تسلسل آگے بڑھایا ہے۔ کشمیری مسلمان رکن اسمبلی کے مونہہ پر کالا رنگ پھینکنے والے مذہبی دہشت گرد گروہ نے دراصل دنیا کے سامنے بھارت کے دو رنگی سیکولرازم کا سیاہ و بھیانک چہرہ عین نمایاں کر دیا ہے۔ لالا جی کے  غنڈہ گردی شو سے کرکٹ مذاقرات کے شوقین نجم سیٹھی صاحب کو تو جان کے ایسے لالے پڑے کہ نٹ کھٹ پہلی ہی دستیاب فلائیٹ میں شہریار خان کو اکیلا چھوڑ کر جھٹ پٹ دوبئی بھاگ گئے۔ مگر ہائے افسوس صد افسوس کہ ” تھوڑی سی حیا اور تھوڑی سی شرم ” سے عاری معصوم اور بھولے بھالے پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف صاحب ابھی بھی اس بال ٹھاکری بھارت دیش  سے امن کی آشا اور مذاقرات کی بحالی کی امید رکھے بیٹھے ہیں۔ خواجہ آصف پر بھی مظلوم مفرور نجم سیٹھی کی طرح بھارت دوستی کا جنون اس قدر طاری ہے کہ وہ یہ حقیقت ماننے کیلئے تیار ہی نہیں کہ بال ٹھاکرے کے بیٹے اودھاؤ ٹھاکرے نے پاکستانی اور بھارتی مسلمانوں کیخلاف جو خوں رنگ ادھم مچا رکھا ہے، اسے ہندوتوا کے انتہا پسند جنونی دہشت گرد قصاب  نریندرمودی کی مکمل آشیرباد حاصل ہے۔

ہمیں امید ہے کہ اگلی بار امن مذاقرات کیلئے جو ٹیم بھارت جائے گی خواجہ آصف صاحب خود اس کی قیادت فرمائیں گے۔ اور چاندنی چوک ممبئی میں دس گائے ذبح کر کے غریب بال ٹھاکریوں میں بانٹ کر بابری مسجد شہید کرنے والے جوگیائی سیوکوں کا صدیوں سے بھڑکتا ہوا غصہ ٹھنڈا کر کے امن کی آشا کو ترستے میڈیا بھگتوں کیلئے کامیاب مذاکرات کی خوشخبری لائیں گے۔ اور اگر خواجہ صاحب اپنے اُس مقدس مذاقکراتی مشن میں کامیاب ٹھہرے تو کم از کم گاﺅ ماتا کی قربانی کے جرم میں سینکڑوں بے گناہ بھارتی مسلمانوں کے گلے کٹنے سے ضرور محفوظ ہو جائیں گے۔ مجھے یہ بھی امید ہے کہ بال ٹھاکری غنڈوں کے خوف سے سر پر پاؤں رکھ کر دوبئی بھاگنے والے نجم سیٹھی اپنے خصوصی دوست خواجہ صاحب کو یہ حقائق ضرور بتائیں گے کہ مودی خرکار کی دہشت گرد سرکار کی طرف سے بال ٹھاکری مافیہ کی آشیربادی کا یہ عالم ہے کہ اب بھارتی پولیس بھی دہشت گردی کی تمام حدود عبور کرنے والے شیوسینی غنڈوں کو پر تشدد مظاہروں اور قتل و غارت گری سے روکنے کے بجائے ان کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والے مظلوم بھارتی مسلمانوں کو کھلے عام یہ کہ کر پاکستان جانے کا مشورہ دیتی ہے کہ بھارت دیش میں ان کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔

یاد رہے کہ اسی بال ٹھاکری شدت پسندی کی وجہ سے ماضی میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں کو بنا کھیلے واپس آنا پڑا، اسی دہشت گرد مافیہ کی غنڈہ گردی اور دھمکیوں کے کارن پاکستانی کھلاڑیوں پر آئی پی ایل کے دروازے بند ہیں  لیکن ہمارے  میڈیا پر امن کی آشا اور بالی وڈ  سے محبت کی پینگیں بڑھانےکے گیت چلتے رہے۔ شیوسینا کی طرف سے بھارت کے دورے میں مصروف  جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں کو بھی ہاشم آملہ اور عمران طاہر جیسے باریش  مسلمان کھلاڑیوں کی موجودگی کے باعث خطرناک دھمکیاں دی جا چکی ہیں۔ بھارت کی اس کھلی مذہبی شدت پسندی پر، ہائے ہائے پاکستانی دہشت گردی کا ورد  کرنے  والے عالمی ٹھیکیدار،  آئی سی سی قیادت ، امن کی آشا مافیہ اور انسانی حقوق کے نام پر ہندوتوا حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر اور ماروی سرمد جیسی بال ٹھاکری وارثائیں حسب توقع خاموش ہیں۔ کیا بھارت برانڈ این جی اوز اور پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کی معاونت سے جاری دہشت گردی کی بنا پر پوری پاکستانی قوم کو دہشت گرد قرار دینے والا منافق عالمی میڈیا یہ حقائق نہیں جانتا کہ  بھارت میں ستر کے قریب علیحدگی پسند تحریکیں مکمل فعال ہیں اور ان تنظیموں نے دہشت گردی کے تربیتی کیمپ بھی قائم کر رکھے ہیں۔ مگر بنا حقائق بینی کے پاکستان میں دہشت گردی کا واویلہ اور بغیر ثبوتوں کے پاکستان حساس ادارے آئی ایس آئی اور جماعت الدعوۃ کیخلاف ہرزا سرائی کرنے والی فتنہ گر مودی سرکار یا کسی سابقہ بھارتی حکومت نے دہشت گردی کے تربیتی کیمپس ختم کرنے اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے۔

یاد رہے کہ جب مہاراشٹر کے سابق  چیف ہیمنت کرکرے نے مالیگاؤں  بم دھماکوں کی ماسٹر مائنڈ سادھوی پرگیہ اور حاضر ڈیوٹی  کرنل پروہت کو گرفتار کرکے ہندو دہشت گردوں کے ایک منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کیا تو پوری دنیا کے سامنے ہندو ازم کا بھیانک چہرہ سامنے آیا ۔ مسلمانوں کو پوری دنیا میں تخریب کاری کا باعث قرار دینے والی بھارتی ایجنسیاں اور میڈیا نے بھارت میں یہ تاثر پیدا کر رہی تھیں  کہ دہشت گرد صرف مسلمانوں میں ہی  ہیں اور وہی بھارت میں ہونے والی ہر ایک دہشت گردی کیلئے ذمہ دار ہیں۔ دراصل بھارت ابھرتی ہوئی علیحدگی پسند  تحریکوں کے باعث نیم پاگل نیم دیوانہ جیسی ناقابل علاج صورت حال کا شکار ہے۔ بھارت کو اب  بیرونی طاقتوں سے نہیں بلکہ اندرونی  بغاوتوں سے  ٹوٹ پھوٹ کے شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ بال ٹھاکری شیوسینا اور بجرنگ دل جیسی  دہشت گرد تنظیموں کے مظالم ، مسلمانوں کے قتل عام اور دوسرے مذاہب  سے ذلت آمیز  امتیازی سلوک کی وجہ سے اب تمام اقلیتیں ہی بھارت سے علیحدگی کیلئے منظم و متحرک ہو رہی ہیں

 جنرل دیپک کپور اور نریندرا مودی سرکار کو یہ تاریخ پڑھ کر ڈراؤنے خواب آتے ہیں  کہ پاکستانی ٹینک الخالد کا نام جس  خالد بن ولید کے نام پر رکھا گیا ہے اس کے جذبہء جہاد نے مسلم یلغار کو ایک ایسے  صحرائی طوفان میں بدل دیا تھا جس نے قلیل عرصہ میں پورے مشرق وسطی کو اپنی لپیٹ میں لے کر ہمیشہ ہمیشہ کیلیے اس علاقے اور دنیا کا جغرافیہ اور تاریخ بدل کر رکھ دی تھیں۔ بال ٹھاکری دہشت گرد جان لیں کہ بھلے ہم علاقائی، لسانی، فروہی اور مسلکی اعتبار سے ایک منقسم قوم سہی، لیکن بھارت کی طرف سے  کسی بھی جارحیت کی صورت میں  سب ایک قوم واحد کے سر بکفن سپوت بن کر بھارتی مہم جوؤں کو وہ عبرت ناک سبق سکھائیں گے جسے ہندوآتہ کی اگلی سات نسلیں بھی یاد رکھیں گی ۔ اس بار بھارتی ہندوآتہ کے حلیف فتنہء قادیانیت کے زندیق ، طفلانِ  باچا خان اور الطاف باہنی بھی بھارت کی مدد کو اترنے سے پہلے اپنے انجام کو پہنچ چکے ہوں گے۔ غدارینِ ملک و ملت کی نائن زیرو  جیسی  پناہ گاہوں کا انجام  بھی سومنات کے مندروں جیسا ہو گا ۔ ایٹمی جنگ کی دھمکیاں دینے والا جنرل دیپک کپور بھی جانتا ہے کہ اس کے بھارتی  ہواباز پاکستانی ایف سولہ اور جے ایف تھنڈر کا سامنا کرنے سے ایسے گھبراتے ہیں جیسے کوا غلیل سے۔ اور پاکستان  کیخلاف کسی ممکنہ مشن کیلئے مبینہ طور بلائے جانے والے اسرائیلی ہواباز بھی خوب جانتے ہیں  کہ پاکستانی  شاہینوں نے مشرق وسطیٰ کی جنگ  یوم کپور میں  شام  اورمصر کے لڑاکا  طیارے اڑاتے  ہوئے اسرائیلی  مگ طیاروں  کا  کیسا روح کھچ بھرتہ بنایا تھا

جنرل دیپک کپور اینڈ کمپنی شراب اور خنزیر خوری کے نشے سے باہر آئیں ، طوفانی یلغار اور  تباہ کن وار کرنے والے غوری و غزنوی  ایٹمی میزائیلوں پر سوار کلکتے سے لیکر مدراس اور ممبئی سے لیکر دہلی تک پورے بھارت کو شمشان گھاٹ بنانے کیلئے تیار ہیں۔ پاکستانی قوم اور افواجِ پاکستان سقوط مشرقی پاکستان کا سود سمیت حساب لینے کیلے بے چین ہے۔ امید ہے بھارت سے پریم پریت کے گیت گانے والے نجم سیٹھی اور ماتھے پر تلک اور گلے میں جوگیائی ہار ڈالے مندر یاترا کرنے والے عظیم کرکٹر وسیم اکرم کی آنکھیں اب مکمل طور پر کھل چکی ہو گی۔ بھارتی سمندروں میں برہمن نفرت کے طوفانی تھپیڑے کھا  کر ” مجبوراً ” پاکستانی ساحلوں پر لوٹنے والوں کو سمجھ آ چکی ہو گی  کہ ” دین اکبری ” برانڈ  مسلمانوں کا حال ” آدھا تیتر آدھا بٹیر “،  انجام ” دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا ” اور حقیقت ” دین کے نہ دنیا کے ” سے سوا اور کچھ بھی نہیں ۔ ہاں صبح کا بھولا شام گھر لوٹ آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ لیکن ہاں جو سب کچھ  سمجھ  کر بھی نہ سمجھے اسے معصوم   ، احمق  یا  مسخرہ  نہیں  ننگِ آدم، ننگِ وطن ، ننگِ دین  کہتے ہیں  ۔ ۔

فاروق درویش ۔۔ واٹس ایپ کنٹیکٹ ۔۔ 03224061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: