تاریخِ عالم و اسلام تاریخِ ہند و پاکستان ریاست اور سیاست نظریات و مذاہبِ عالم

بنی اسرائیل کی تباہی اور مایوس قوم کی گمراہی


ملک و قوم کی بدقسمتی ہے کہ روٹی کپڑا اور مکان کو ترستے ہوئے عوام کے مصائب سے بے نیاز، لندن کی گوری فضاؤں میں پروان چڑھنے والے بلاول زرداری کو قوم پر مسلط کرنے کی جیالا تحریک عروج  پر ہے۔ پاکستان میں عیسائی وزیر اعظم دیکھنے کے خواہش مند بلاول کی صلیبی روح میں مقتول بھٹو کی شہید روح حلول ہونے پر سانحہ مشرقی پاکستان کا قومی مجرم ” شہید بھٹو ” واقعی پھر سے زندہ ہو رہا  ہے۔ بھٹو کے چاہنے والے دین دوست عوام اور پی پی پی کے علمائے اکرام کیلئے دعوتِ فکر ہے کہ بلاول صاحب  ہندو برادری کو دیوالی مبارکباد کی آڑ میں سندھی ہندو وڈیروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے مندر میں  پوجا پاٹ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ جبکہ مسلم لیگ کی موروثی بادشاہت نما جمہوریت اور تحریک انصاف کی مذہب و اخلاق  سے مادر پدر آزاد رقص و شباب برانڈ انقلابیت ملک کو انارکی اور خانہ جنگی کی طرف لے کر جا رہی ہے۔ پی پی پی کی موروثیت و کرپشن مزاجی ، متحدہ ” مکتی باہنی ” کی قتل گردی اور قادری صاحب کے کینیڈین برانڈ ماڈرن اسلام کے تناظر میں پاکستانی سیاست کلچر ” دیسی مرغی ولائتی انڈے” اور عوام کی مایوسی اعصاب شکن فرسٹریشن بنتی جا رہی ہے۔ ان سب گروہوں میں اگر کوئی قدر مشترک ہے تو وہ مغرب کے برخودار بننے کیلئے کچھ بھی کر گذرنے کا والہانہ جذبہ ہے۔ سب سیاست دانوں کا پختہ یقین ہے کہ بادشاہ گر صلیبی طاقتوں کی فرمانبرداری کے بنا حصول اقتدارممکن ہی نہیں۔ لیکن میرا ایمان ہے کہ حالات کیسے ہی مایوس کن  کیوں نہ ہوں، اللہ کی رحمت پر حق الیقین کے ساتھ ساتھ تاریخ کے اسباق یاد رکھنے والے کبھی مایوس نہیں ہوتے۔

بلاول اینڈ کمپنی اور آزادی کیلئے بے چین انقلابی روحوں کیلئے عبرت انگیز تاریخ عالم  سبق آموز بھی ہے ۔ چھ سو برس قبل مسیح میں حضرت عزیر علیہ السلام کی بعثت  ہوئی تو بنی اسرائیل اس دور کی سپر پاور، آشوری سلطنت کے شاہ بخت نصر کے ماتحت و باج گزار تھے۔ یہ وہ دور تھا کہ جب ان یہودیوں کا اخلاق بھی ہماری طرح گراوٹ کی آخری حدود تک پہنچ چکا تھا۔ مذہب سے مادر پدر آزادی و فحاشی اور جدید مغربی تہذیب کی طرح زنا کاری معمول تھا۔ اپنے ہم قوم و ہم مذہبوں کے ساتھ ظلم ، سود خوری اور غلامی رواج عام تھیں۔ لیکن ہماری ہی طرح  ہر اخلاقی پستی کے باوجود مستقبل کی بہتری کیلئے انقلاب اور تبدیلی کی امنگیں بھی پورے عروج پر تھیں۔ اس دور کے سامراج  شاہ بخت نصر کے خلاف نفرت کا طوفان اٹھ رہا تھا۔ مگر اس قوم کے لیڈر بھی ہمارے رہنماؤں کی طرح قوم کی اصلاح کی بجائے انہیں مذہب و اخلاق سے کلی آزاد  بنانے کیلئے کوشاں تھے۔ جو لوگ بخت نصر کی محکومی سے نجات کیلئے تحریکیں اٹھا رہے تھے، ان کے اپنے کردار بھی ہمارے لیڈروں کی طرح پراگندا طبع ہی تھے۔ یاد رہے کہ مغرب اور اہل یہود کے ماڈرن دانشور انبیائے حق کی روائتی کردار کشی کی مہم کے تحت عزیر علیہ السلام کو شاہ بخت نصر کا ایجنٹ قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے ان بھٹکے ہوئے لوگوں کے احکامات الہی سے متصادم رویوں پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اگر آپ لوگ ایمان کا راستہ اختیار کرو گے تو عاقبت کے ساتھ دنیاوی فلاح و آسودگی بھی پاؤ گے۔ آپ کی نصیحت تھی کہ کردار کی اصلاح کئے بنا بخت نصر کیخلاف بغاوت مت کریں ۔ ورنہ بخت نصر جیسا جابر ان پر عذاب الٰہی بن کر نازل ہو گا۔ مگر بھٹکی ہوئی قوم راہ راست پر آںے کی بجائے، انہیں اپنی ” من پسند آزادی ” کا دشمن سمجھ کر اذینت دینے پر اتر آئی۔ حق گوئی کے جرم کی سزا کے طور پر پہلے انہیں ایک کنویں میں الٹا لٹکایا اور پھر مشکیں کس کر قید تنہائی میں ڈال دیا گیا۔ قابل توجہ ہے کہ دور جدید کے سامراجی آلہ کاروں کے افکاراور پرتشدد سیاسی رحجانات، دور قدیم کے بھٹکے ہوئے بنی اسرائیل کے دجالی رویوں ہی کا مثل و نمونہ ہیں۔

بنی اسرائیل نے خود احتسابی کئے بنا بغاوت کی تحریک اٹھائی تو بخت نصر عذاب الہی بن کر ایسا ٹوٹا کہ یروشلم کا پورا شہر تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ۔ بیت المقدس و ہیکلِ سلیمانی کو مسمار کر کے توراتِ مقدس کے اوراق کو جوتوں تلے روند کر ہر طرف گندگی اور انسانی نجاست بکھیر دی گئی۔ تاریخ محقق مبشر نذیر لکھتے ہیں کہ ہیں کہ بخت نصر کا خون آشام حملہ ایک خوفناک تباہی کا بھیانک منظر تھا۔ ہر طرف آگ کے شعلوں کا رقص جاری تھا۔ فضا میں ان آزادی پسندوں کی دلدوز چیخیں اور آہیں بلند ہو رہی تھیں۔ انسانوں کا بے دریغ قتل عام اور گھروں کو لوٹا جارہا تھا۔ برہنہ خواتین کی عزتیں سرعام گلی کوچوں میں پامال ہورہی تھی۔ اور شہرِ مقدس کی گلیوں میں ہر طرف سفاک فوجی دندناتے پھر رہے تھے۔  یروشلم کی مکمل تباہی کے بعد بخت نصر کے سپہ سالار نے اپنے شاہ کے حکم کے مطابق حضرت عزیر کو رہا کرتے ہوئے جو الفاظ کہے وہ اخلاقی گراوٹ اور احکامات الہی سے بھٹکی ہوئی ہم جیسی قوموں کیلئے ہمیشہ یاد رکھنے کے قابل ہیں۔ وہ بولا، ’’اے یرمیاہ ( عزیز علیہ السلام ) آج تمھاری پیشین گوئی پوری ہو گئی کہ ہم نے یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجادی ہے۔ آدھی آبادی قتل ہوچکی ہے اور آدھی آبادی کو ہم اپنا غلام بنا کر ساتھ لے جا رہے ہیں۔ مگر یہ ہمارے بادشاہ کا خصوصی حکم ہے کہ تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچے کہ تم ایک سچا رہبر بنکر اپنی قوم کو بہت سمجھایا، مگر جو قوم بے راہ روی و فتنہ گری سے باز نہ آئی، آج اس نے اپنی مہم جوئی کی سزا بھگت لی ہے ‘‘۔

 پانچ لاکھ لوگوں کے قتل کے بعد جن لاکھوں لوگوں کو گرفتار کر کے دارلخلافہ بابل لے جایا گیا، ان میں ایک اور نبی حضرت دانیال علیہ اسلام بھی شامل تھے۔ حضرت دانیال کو بھی قیدیوں کے ساتھ بھوکے شیروں کے سامنے ڈالا گیا مگر وہ معجزہء الہی سے زندہ و سلامت رہے۔ بعد ازاں انہوں نے بخت نصر کو اس کے جس خواب کی سچی تعبیر بتا کر قدموں میں سر رکھ دینے پر مجبور کیا تھا۔ اس کا قصہ ایک تفصیلی تحریر کا متقاضی ہے،  کسی اگلے کالم میں پیش کروں گا۔ اس خون ریزی کے بعد شہر ایسے پر تعفن کھنڈرات میں بدل چکا تھا جہاں انسانی بستیوں کے آثار ناپید اور ماحول پر چار سو وحشت طاری تھی۔ عزیر علیہ السلام تباہ شدہ شہر میں داخل ہوئے تو شہر کی وحشت و ویرانی کا منظر دیکھ کر انتہائی مایوسی و تعجب میں بولے کہ ” نا جانے یہ اجڑا شہر پھر کبھی آباد بھی ہو گا ؟”  ان کی اس مایوسی پر سبق کیلئے اللہ نے انہیں عارضی موت دے کر اس جہاں سے اٹھا لیا۔ اور جب وہ حکم الہی سے، سو برس بعد عین اسی مقام مرگ پر دوبارہ زندہ کئے گئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ شہر پہلے سے زیادہ پر رونق و آباد ہو چکا تھا۔ قرآن حکیم کی سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 259 میں اسی بارے میں بیان ہے کہ آپ نے فرمایا ، ( ترجمہ) ” میں خوب جانتا ہوں کہ اللہ سب کچھ کر سکتا ہے “۔ احباب آج  دشتِ وطن کے حالات کچھ بھی ہوں ، بنی اسرائیل کی مستند تاریخ کا یہ سبق آموز واقعہ اور اس سے جڑا فرمان الہی ہمیں ہمیشہ پر امید رہنے کا درس دیتا ہے ۔

تھر کے عوام کے آلام بھلا کر تاج محل تعمیر کرنے والے یاد رکھیں کہ عجائب عالم میں شمار  بابل کے معلّق باغات اسی بخت نصر نے اپنی بیگمات کیلئے تعمیر کروائے۔ لیکن بخت نصر اور سکندر اعظم کی عظیم الشان سلطنتوں کے مرکز شہر بابل کے صفحہ ہستی سے مٹ جانے پر آج وہ طلسماتی حسن فشاں باغات اور شاہی محلات بھی، صرف تاریخ کی داستانوں تک سمٹ چکے ہیں۔ کاش کہ ان پرشکوہ مقبروں پر خرچ ہونے والی خطیر رقم، سندھ کے سکولوں کی بحالی اور تھر جیسے پسماندہ علاقوں میں فلاح کے پروگراموں پر خرچ ہوتی۔ آج بلاول کے ساتھ  وہی سندھی وڈیرے موجود ہوتے ہیں جن کی بھینسیں اندرون سندھ کے ” بند سکولوں” میں سبز چارے کی تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ شراب کی بوتل لئے ان وڈیروں کے ساتھ محو رقص رہنے والی وہ تمام حسن پریاں بھی سٹیج پر دھمال ڈالتی ہیں ، جو ان کے والد گرامی کی قابل اعتماد ” آٹومیٹک کرپشن مشینیں ” رہ چکی ہیں۔ خدارا ! شراب پی کر مرنے، قومی غداری کے جرم میں پھانسی پانے اور اپنوں کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کو شہید قرار دینے والا ترنگی جیالا مافیہ اپنی ” ابدی شہادت ” سے پہلے تجدید نظریات کرے۔ بلاول زرداری  شاید تاریخ کے تلخ اسباق  اور ان عوامی خدشات سے آگاہ نہیں کہ حصول اقتدار کیلئے ان کی والدہ مرحومہ اور والدہ کے دو بھائیوں کی جان لینے والا مبینہ قاتل دوبارہ حصول اقتدار کیلئے ان کا جنازہ کیش کرنے کا خوبصورت گناہ بھی کر سکتا ہے۔۔

احباب ہمارے سیاسی کلچر میں سامراجی غلامی و کرپشن کے بعد بڑی لعنت موروثیت ہے ۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں نسل در نسل موروثی سیاست کی ایسی محافظ بن بیٹھی ہیں، کہ گویا ان کے خاندانوں کے بغیر جمہور کا وجود ہی  ناممکن ہو گا۔ اسی موروثی نظام کی وجہ سے اقتدار سے محروم اور سیاسی شفافیت کا ارتقا جمود کا شکار ہے ۔ لیکن ہمیں سیاست کا یہ پراگندا نظریہء ضرورت بھی یاد رکھنا ہو گا کہ حاکمیت اور بادشاہی میں مذہب، اخلاق اور انسانیت جیسی اقدار کوئی معنی نہیں رکھتیں ۔ قدیم و جدید دور کی سیاست کا پہلا اصول، ” جیسے بھی ہو، جس قیمت پر بھی ہو ” حصول اقتدار اور طوالت اقتدار ہے۔ یاد رہے کہ فرعون خاندان میں اسی موروثیت کی بقا کیلئے بہن بھائیوں کی شادیوں کا رواج تھا۔ جبکہ اس کی پہلی تاریخی مثال  سکندرِ اعظم کے زوال کے بعد سلوقی شاہی خاندان کے  شاہ انطیوخوس سوئم نے اپنے اقتدار کو کسی بھی ” بیرونی نطفہ ” سے محفوظ رکھنے کیلئے اپنی بیٹی لوڈائس کی شادی، اپنے ولی عہد بیٹے انطیوخوس سینئر سے کر کے قائم کی۔ پہلا  بھائی نوجوانی ہی میں چل بسا تو بیوہ ملکہ دوسرے بھائی شاہ سلوقس چہارم سے شادی رچا کر اس کے تین بچوں کی ماں بن گئی۔ اور پھر جب دوسرا بھائی بھی قتل ہوا تو چھوٹے بھائی انطیوخوس چہارم سے تیسری شادی کروا کر اسے پھر ملکہ بنا دیا گیا۔

موروثیت کیلئے، ایسی قابل صد نفرت نوعیت کے تاریخی واقعات حکمرانوں کے نظریات ضرورت کی لا منتاعی حدود کے عین عکاس ہیں۔ خدارا  زرداری سے لوٹی قومی دولت واپس لانے کے وعدوں سے منحرف حکمرانوں، انقلابی منجن بیچنے والے، مادر پدر آزادی پسند انقلابیوں اور صلیبی فرمانبرداری میں دین کا چہرہ بگاڑنے کیلئے سرگرم شعبدہ بازوں سے توقعات وابستہ کرنے سے قبل اپنا محاسبہ، اور حق الیقین کا قبلہ درست کیجئے۔ میرا اٹل موقف ہے کہ اسلام دین برحق اور جدید ترین مذہبِ فطرت ہے۔ دین اور اخلاق کی حدود میں رہتے ہوئے روشن خیالی اور آزادی کوئی عیب نہیں۔ لیکن مذہب و اخلاق سے آزاد و ماورائے قانون فطرت، مادر پدر آزادی دنیا کے تمام مذاہب میں ازل سے ممنوع اور غیر فطری ہے۔ جس دن ہم خود باکردار ہو کر خود سے اور ملک و ملت سے مخلص ہو جائیں گے اس دن نواز شریف اور عمران خان جیسے سب راہنما بھی قوم و امت سے با وفا ہو جائیں گے ۔ اور جب یہ معجزہ ظہور پذیر ہو گیا، باخدا طاہر کینیڈی اور الطاف حسین جیسے تمام خود ساختہ جلا وطن اور فتنہء باچا خانی و فتنہء قادیانیت یا گوہر شاہی جیسے تمام بدیسی فتنہ ہائے یہود و ہنود اپنی موت آپ مر جائیں گے ۔ آئیے پہلے اپنا احتساب و انصاف کریں، پہلے خود میں انقلاب برپا کریں اور ہاں پہلے خود کو علاقائی و لسانی، فرقہ وارانہ اور سیاسی منافرت سے آزادی دلائیں ۔۔۔۔۔ اور یک زبان مل کر بولیں ” سب سے پہلے دین ہمارا، پھر سب کا ہے پاکستان ” ۔ ۔ ۔ ۔

فاروق درویش ۔۔۔ واٹس ایپ ۔۔۔۔ 00923224061000

نوٹ :- اس تحریر کیلئے قصص القرآن ، محترمہ ثروت عین جیم کے تاریخی بلاگ  اور مصدقہ تاریخی کتب  سے مدد لی گئی ہے

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

Featured

%d bloggers like this: