بین الاقوامی حالات حاضرہ

بیباک صحافت ہے کہ منشور ِ مہاراج ۔ بنام عزت مآب حامد میر


اس حقیقت کے باوجود کہ آج کے جدید دور میں سیٹیلائٹ انفارمیشن ٹیکنالوجی اس قدر ترقی کر چکی ہے کہ بھارت کو پاکستان کو ایک دوسرے کی بری بحری اور فضائی افواج کی ہر ایک نقل و حرکت پر گہری اور تفصیلی نظر ہے۔ لیکن پھر بھی کسی پاکستانی صحافی کا دشمن ملک بھارت کے چینل کے لائیو پروگرام میں اپنے ملک کی عسکری سرگرمیوں اور موٹر وے سے اڑتے ہوئے لڑاکا طیاروں پر تبصرہ و تفصیلی احوال بیان کرنا انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ دیکھا جائے تو جناب حامد میر صاحب کے انوکھے حرفہء صحافت کا یہ فسانہء عجب کوئی نئی بات نہیں ہے۔ موصوف اس سے پہلے بھی بھارتی یا اپنے چینلز پر اپنے وطن کے عسکری اداروں کے بارے دلیرانہ ہرزہ سرائی کی پرانی ہسٹری کے مالک ہیں۔ یاد رہے پورے پاکستان کے امن پسند و اہل علم احباب کو بیحد رنج ہوا تھا کہ جیو ٹی وی کے شہرہ آفاق اینکر اور نامور صحافی حامد میر قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے، نظریاتی اختلافات کی وجہ سے ایسا پرتشدد انتقامی حربہ انتہائی بزدلی اور جہالت کی علامت ہی کہا جا سکتا ہے ۔اس مذموم حملے یا خودساختہ ڈرامہ کے بعد کچھ میڈیا عناصر اور خاص طور پر بھارتی اور مغربی پریس نے براہ راست افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کیخلاف مذموم پراپیگنڈے کا شرمناک سلسلہ شروع کر دیا ۔ پھر قوم نے کئی دنوں تک جیو اور دوسرے میڈیا پر کئی دن تک حامد میر صاحب کی گاڑی کے نیچے بم باندھنے کے اس پراسرار واقعے کی ہوش ربا خبرین اور پروگرام بھی دیکھے، جس کا الزام بھی براہ راست آئی ایس آئی لگا کر بھارتی اور مغربی پریس کو ہرزا سرائی کا بھرپور موقع فراہم کیا گیا۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ نہ تو ان کی گاڑی کے نیچے نصب بم کو پھٹنے کی توفیق ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے شدید زخمی ہونے کے باوجود گاڑی کے اس حصے میں دور دور تک اس بے تحاشہ بہے خون کے کوئی نشانات ہی موجود ہوتے ہیں، جو چھ گولیاں لگنے کے بعد ایمبولنس کی آمد تک کے راستے میں بہا ہونا چاہیے تھا۔ کیا خوب تماشہء دنیائے کوہ قاف ہے کہ حامد میر صاحب کیخلاف عسکری ادارون کی ہر سازش کی کہانی، خبروں اور بیانات میں مضحکہ خیز تضادات سے ملالہ ڈرامہ برانڈ ڈرامہ سیریل پارٹ ٹو، تھری اینڈ فور کا گمان ہوتا ہے۔

احباب ماضی کے حالات و واقعات سامنے رکھتے ہوئے یہ ماننا پڑے گا کہ حامد میر صاحب صدربش اور اوبامہ جیسے امریکی صدوراوردنیا بھر کی اینٹی ٹیررسٹ ایجنسیوں سے زیادہ طاقتور، با اثر اورباخبرانسان رہے ہیں۔ سوائے اللہ کی ذات کے کون جانے کہ وہ کون سے “جادوئی ذرائع” تھے کہ وہ دنیا کے تمام طاقتور فرعونوں کو مطلوب اسامہ بن لادن جیسے اس “موسٹ وانٹڈ ٹیرسٹ ” کےانٹرویو کیلئے اسامہ کے اس خفیہ ترین مقام تک بھی پہنچ جاتے تھے جس کے بارے تمام عالمی غنڈے اور دنیا کے طاقتور ترین ممالک کی خفیہ ایجنسیاں بھی قطعی بے خبر تھیں۔ اور پھر یہ راز تو حامد میر صاحب ہی بتا سکتے ہیں کہ وہ کون سی ماورائےعقل روحانی یا طاقتیں تھیں جن کے خوف سے صدر بش جیسے دنیا کے طاقتور ترین شخص نے بھی حامد میر صاحب سے اسامہ بن لادن کےاس مقام کا پتہ پوچھنے کی جرات نہیں کی۔ ان حقائق کے ہیش نظر یا تو حامد میر صاحب کو یہ ماننا ہو گا کہ اس وقت وہ اینٹی امریکہ ایجنسیز کی مدد ہی سے اسامہ بن لادن تک پہنچے تھے اور بعد ازاں پھر اپنی ان سرپرست ایجنسیز کی مخالفت کا مشن لئے وہ امریکی ایجنسیوں کے آلہ کار بن گیے۔ یا پھر وہ تسلیم کریں کہ اسامہ بن لادن دراصل امت مسلمہ کو بیوقوف بنانے کیلئے تراشا گیا ایک ایسا امریکی برانڈ کردار تھا جس کی تصویر میں رنگ بھرنے والوں میں خود میر صاحب بھی شامل تھے۔ حامد میر صاحب کو اب اس انتہائی اہم سوال کا جواب دینا ہو گا کہ وہ کن ایجنسیوں یا عسکری قوتوں کی معاونت سے اسامہ بن لادن جیسی شخصیت سے ملنے جاتے تھے۔ یہ راز اب کھل جانا چاہیے کہ پاکستان کے عسکری حلقوں کے بارے ان کا موقف اور نقطہء نظر بدلنے کی وجہ ان کی سرپرست ایجنسیوں کا پے رول بدل جانا تھا یا اس حالیہ اینٹی آئی ایس آئی تحریک کے پس پردہ کچھ میڈیا گروپس کی پشت پر کھڑی بھارت اینڈ کمپنی کی ایجنسیاں کارفرما ہیں۔

قوم جاننا چاہتی ہے کہ غدار پاکستان مجیب الرحمن کی اسلام دشمن بھارتی پروردا بیٹی حسینہ واجد سمیت ہر انٹی پاکستان ہستی حامد میر صاحب پر دل سے مہربان کیوں ہے۔ آخر حامد میر اور ان کے آبا و اجداد کی ایسی کون سی والہانہ خدمات ہیں جن کے عوض وہ پاکستان کے کھلے دشمن بنگلہ دیشی مافیہ سے اعلی اعزازات وصول کرتے ہیں۔ عجب تماشہ ہائے فتن ہے کہ ” امن کی آشا برانڈ گروپ بھارتی ایجنسیوں کی زبان بولتے ہوئے یہ موقف دہراتا رہا ہے کہ حامد میر کو دہشت گردوں سے زیادہ آئی ایس آئی سے خطرہ تھا، جس کی وجہ حساس اداروں سے وہ اختلاف رائے تھا جو بلوچستان کے مسئلے اور مشرف کے کردار پر تھا۔ افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کیخلاف زہریلے پراپیگنڈے کو مقدس مشن اور صحافتی عبادت گرداننے والے بھارتی ہمنواؤں کے مطابق یہ اختلافات آئی ایس آئی کے سابق سربراہ احمد شجاع پاشا کے دور سے تھے۔ یاد رہے کہ جیو گروپ کے صدر عمران اسلم نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” نہ صرف حامد میر کے بھائی عامر میر نے آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ جنرل ظہیرالاسلام پر حملے کا الزام لگایا ہے بلکہ حامد میر خود کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ خفیہ ایجنسیاں شاید ان کے موقف کی وجہ سے ان سے بدلہ لیں “۔ انھوں نے یہاں تک کہا تھا کہ آیا آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ کا نام ایف آئی آر میں لکھا جائے گا یا نہیں اس کا فیصلہ حامد میر خود کریں گے۔ دوسری طرف فوج کے ترجمان آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ بغیر کسی ثبوت آئی ایس آئی یا اس کے سربراہ کو حملے کا ذمہ دار قرار دینا افسوسناک اور گمراہ کن ہے۔”

احباب حیرت کا مقام ہے کہ جدید اسلحہ سے لیس انتہائی تربیت یافتہ طالبان ملالہ یوسف زئی کے سر کا نشانہ لیکر اسے قتل نہ کر سکے۔ انتہائی تعجب خیز ہے کہ حامد میر صاحب پر قاتلانہ حملہ کرنے اور ان  کار کے نیچے سلیمانی ٹوپی پہن کر بم نصب کرنے والے لوگ اس قدر اناڑی تھے کہ نہ تو وہ بم ہی پھٹ سکا تھا اور نہ دنیا کی مظبوط ترین خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے تربیت یافتہ ایجنٹ تمام تر طاقت اور ذرائع دستیاب ہونے کے باوجود حامد میر صاحب کی جان لینے میں کامیاب ہوئے۔ دلچسب حقائق یہ ہیں کہ پہلے دن جہاں پاکستانی اخبارات نے حامد میر پر حملے کی اس خبر کو صفحہ اول پر جگہ دی مگر بعد ازاں اس ڈرامہ کے بارے ناقابل فہم و یقین کہانیاں سامنے آنے پر بیشتر اخبارات اور میڈیا چینلز نے اصل حقائق سے آگاہ ہونے پر خاموشی اختیار کر لی۔ انتہائے تعجب اور قابل غور معمہ ہے کہ میڈم ملالہ پر طالبان کا حملہ ہو تو نتیجہ ” بچ گئی ” ، حامد میر کی گاڑی کے نیچے دہشت گرد خوفناک بم رکھیں یا آئی ایس آئی ان پر قاتلانہ حملہ کرے، نتیجہ ” بچ گیا ” ہی برامد ہوتا ہے، لیکن جب حملہ عوام الناس یا افواج پاکستان پر ہو تو نتیجہ ” بچ گیے” نہیں بلکہ ” دس بیس پھڑک گئے ” یا ” سلالہ میں چوبیس جوان شہید ہو گئے” جیسا ہوتا ہے۔

جیو جیم حضرات کو خیال رہے کہ آئے دن اک نیا تماشہء ست رنگی دیکھنے والے پاکستانی عوام اب اچھے خاصے سمجھدار اور سیانے ہو چکے ہیں۔ یاد رہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل پاشا نے ایبٹ آباد کمیشن کو بتایا تھا کہ امریکہ اور مغربی طاقتیں پاکستانی صحافیوں کو ڈالرز اور شراب و شباب کے عوض خرید لیتی ہیں اور پھر وہی صحافی افواج پاکستان، آئی ایس آئی اور دوسرے قومی اداروں کی کردار کشی کرتے ہیں۔ قابل توجہ ہے کہ ریٹائرڈ سکواڈرن لیڈر خواجہ خالد مرحوم کے بیٹے اسامہ خالد نے الزام لگایا ہے کہ حامد میر ان کے والد کے قتل میں براہ راست ملوث ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب ان کے والد کو میران شاہ سے اغوا کیا گیا تو حامد میر نے طالبان لیڈر عثمان پنجابی کو ٹیلیفون کر کے بتایا تھا کہ خالد خواجہ سی آئی اے، را اور قادیانیوں کا ایجنٹ ہے، لہذا اسے چھوڑا نہ جائے۔ انہوں نے پریس اینڈ میڈیا کو اس مبینہ گفتگو کی سی ڈیز بھی فراہم کیں۔ اسامہ خالد نے کہا کہ وہ گذشتہ چار سال سے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں تاحال اس طاقتور شخص حامد میر کیخلاف ایف آئی آر درج نہیں ہو سکی۔ اہل خبر و ظرف کو یاد ہے کہ انہوں نے وزیراعظم اور چیف جسٹس سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ خالد خواجہ کے قتل میں ملوث ملزموں کو قانونی طریقے سے کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے ان کیخلاف مقدمہ درج کروانے میں مدد کریں. قوم یہ جاننا چاہتی ہے وہ مقدمہ کیوں اور کس کے دباؤ پر درج نہ ہو سکا؟۔

اہل فہم و نظر کیلئے یہ امر بھی حیران کن تھا کہ چھ گولیاں کھانے والے مرد آہن میر صاحب نے اس حملے کے صرف چھ دن بعد شدید زخمی حالت میں ایک طویل کالم بھی لکھ مارا تھا۔ گو کہ حامد میر صاحب کی طرف سے بھارتی چینل پر اس متنازعہ اور مجرمانہ تبصرے پر صرف عسکری اداروں کو ہی نہیں پوری قوم کو حیرت  کے ساتھ ساتھ  شدید  دکھ  بھی پہنچا ہے۔ لیکن میرا حق الیقین ہے کہ وہ حسب عادت حسب سابق ایک بار پھر عسکری طاقتوں اور قوم سے معافی مان لیں گے۔ فاروق درویش کا سوال ہے کہ کیا یہ محض ایک اتفاق ہے کہ وہ حامیر میر صاحب ہوں یا پیر آف لندن شریف الطاف حسین،  پاکستان عسکری اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کرنے والا ہر کردار اپنی پچھلی غلطی کی معافی مانگ کر کچھ عرصہ بعد پھر سے انہی اداروں کیخلاف کوئی تیز تر تازہ مہم جوئی شروع کر دیتا ہے۔ ۔  بے شک مالک کائنات دلوں کے سب حال جاننے والا حیی القیوم اور حقیقی مقتدر اعلی ہے۔ اور بلاشبہ جھوٹوں کیلئے ” لعنت اللہ علی الکاذبین” ہی کافی ہے ۔

بیباک صحافت ہے کہ منشور ِ مہاراج
درویش قسم کھاتے ہیں اللہ کی بت گر

( فاروق درویش ۔ واٹس ایپ کنٹیکٹ 00923224061000)

 

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: