تاریخِ عالم و اسلام تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ

صلیبی جنگیں اور تاریخ سیاہ ست ۔ آخری قسط


احباب  تاریخی صلیبی جنگوں کے حوالے سے  ” صلیبی جنگیں اور تاریخ سیاہ ست – حصہ اول “  ،  ” صلیبی جنگیں اور فتح بیت المقدس حصہ دوئم  ” اور  ” جنسی خادماؤں اور معصوم بچوں کا مقدس جہاد – حصہ سوئم  ” کے عنوانات سے جو تحریریں  پیش کر چکا ہوں، انہیں اوپر دئے گئے ان کے عنوانات کے لنک پر پڑھا جا سکتا  ہے۔ دوسری  صلیبی جنگ میں  فتح  بیت المقدس کے بعد سے موجودہ  صلیبی مہمات  تک  کے حالات  و واقعات  پر مبنی میری  یہ تازہ تحریر  اس سلسلے کی آخری  قسط ہے۔ ۔ ۔ ۔

صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں بیت المقدس کی فتح  مغرب کیلئے دردناک موت کے پیغام سے کم نہ تھی ۔ اس  شکست کی خبر پر سارے یورپ میں‌ صف ماتم بچھ گئی۔ حطین اور بیت المقدس میں رسوائی کی خبریں پوپ اربن ہشتم پر قیامت بن کر ٹوٹیں اور وہ  ان شکستوں کے صدمے ہی سے چل بسا۔ اور انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے صلیبیوں نے تیسری صلیبی جنگ کا آغاز کر دیا۔ اس باراس ہولناک جنگ میں پورے کا پورا یورپ شریک تھا۔ جرمنی کے شاہ فریڈرک باربروسا، فرانس کے شاہ فلپ آگسٹس اور برطانیہ  کے شاہ رچرڈ شیر دل نےاس معرکے میں مذہبی جنون کے ساتھ  شرکت کی۔ پادریوں نے شہر شہر گھوم کرعیسائیوں کو مذہب کے نام پر مسلمانوں کے خلاف جنگ پر ابھارا۔ اگرچہ سلطان  ایوبی نے بیت المقدس کی حفاظت کیلئے تمام ضروری انتظامات کر رکھے تھے۔ لیکن حملہ آوروں کو یورپ سے مسلسل کمک پہنچ رہی تھی۔ پہلے خونی معرکے  ہی میں دس ہزارعیسائی ہلاک ہوئے مگراسلام دشمنی اور انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے عیسائیوں نے جنگ جاری رکھی۔ ابتدائی خون ریزمعرکوں کے بعد معاہدہ امن ہوا، لیکن عیاری کیلئے مشہور شاہ رچرڈ نے بدترین بدعہدی کی اور مسلم محصورین کا قتل عام کرنے کے بعد فلسطین کی بندرگاہ عسقلان کا رخ کر کیا ۔ عسقلان پہنچنے تک عیسائیوں کا صلاح الدین ایوبی کے ساتھ بارہ مرتبہ خونریز مقابلہ ہوا۔ ان معرکوں میں ایوبی نے جوانمردی اور بہادری کی جو مثالیں رقم کیں کہ پڑھ کر آج بھی ایمان مسلمان تازہ ہوجاتا ہے۔ ایوبی سلطان نے مختصر سی فوج کے ساتھ جس جوانمردی سے اس ہیبت ناک لشکر کا مقابلہ کیا اس کی مثال زمانہ قدیم و جدید کی تاریخ میں ملنا ناممکن ہے۔ اپنے سے بیس گنا بڑی فوج کے خلاف بیت المقدس کا دفاع اور چاروں اطراف سے گھر جانے کے باوجود دشمن کو مکمل زچ کر کے صلح کیلیے مجبور کردینا ایوبی سلطان کا وہ ناقابل فراموش کارنامہ تھا جس کیلئے دنیائے شرق و غرب اسے ” ناقابل شکشت سلطان” کے نام سے یاد کرتی ہے۔

صلاح الدین ایوبی کو فلسطین سے لیکر شام کے ساحلوں پر پسپا کرنے کیلئے سارے حربے ناکام ٹھہرے۔ اور فتح کی کوئی امید نہ رہی تو تھکے اور مایوس صلیبی سپہ سالاروں نے جنگ بندی اور صلح کی درخواست کی ۔ فلسطین اور شام سے منسلک ساحلی پٹی کو اپنے پاس رکھ کر بلاد الشام اور بیت المقدس پر صلاح الدین ایوبی کا حق حکمرانی تسلیم کر لیا گیا اور یوں اس معاہدہ صلح کے ساتھ ہی تیسری صلیبی جنگ کا خاتمہ ہوا۔ رچرڈ شیر دل، ایوبی کی فیاضی، جنگی حکمت عملی اور جرات سے بہت متاثر ہوا۔ جرمنی کا شاہ فریڈرک باربروسا میدان جنگ سے بھاگتے ہوئے دریا میں ڈوب کر ہلاک اور اس کا تیس ہزاری لشکر موسم کے ہاتھوں تباہ و برباد ہوا، جو بچے وہ بمشکل تمام عکہ پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ اس جنگ میں چھ لاکھ سے زائد ” صلیبی مجاہدین ” جہنم واصل ہو کر ” پوپ کی جنت” میں پہنچے۔ یورپی اتحاد کو لاکھوں فوجی مروا کر صرف ایک شہر عکہ نصیب ہوا اور یوں مغرب کے” مقدس مجاہدین ” بیت المقدس کو فتح کرنے کی حسرت دل میں لیے، زخم چاٹتے ہوئے ناکام و نامراد واپس یورپ لوٹ گیے۔ چوتھی صلیبی جنگ بھی کلیسائے روم کے پوپ انو سینٹ سوئم کی مذہبی تحریک پر شروع کی گئی۔ تیسری صلیبی مہم کی ناکامی کے بعد مغربی شاہوں کا خیال تھا کہ پہلے مصر پر قبضہ کیا جائے۔ تاکہ نزدیک ایک مظبوط فوجی چھاؤنی قائم کرنے کے بعد بیت المقدس کی جانب پیش قدمی کی جائے۔ لیکن ان مہم جوؤں کو ایوبی حکمران ملک العادل کے ہاتھوں عبرتناک شکستیں ہوئیں اور یافہ کا شہر بھی مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا۔ اس سلسلے کی دوسری بڑی لشکری مہم اسلامی ساحلوں تک پہنچنے سے پہلے ہی آپس کی پھوٹ کا شکار ہو کر ایک دوسرے کو تاراج کرتہی ہوئی قسطنطنیہ جا پہنچی، جہاں یہ آرتھوڈکس اور کیتھولک کی چشمک میں بدل گئی۔

بیت المقدس کی واپسی کیلئے پانچویں صلیبی جنگ میں ہنگری اور آسٹریا نے بھی کلیسا اتحاد کو اپنی فوجیں دینا قبول کیں۔ جو انطاکیہ کے شہزادے کی قیادت میں مصر میں ایک بڑے قتل عام کے بعد دمیاط پر قابض ہوئیں۔ وقت کا حکمران، صلاح الدین ایوبی کا بھتیجا الملک الکامل تھا۔ اللہ کی طرف سے معجزہ یہ ہوا کہ عین موقع پر دریائے نیل میں خوفناک سیلاب آیا اور مسلمانوں نے حکمت عملی کے تحت دریا کے سارے بند توڑ کر پورے علاقے کو دلدل میں بدل کر صلیبی حملہ آوروں کی پیش قدمی روک دی۔ الملک الکامل نے شبخون مار کر صلیبی حملہ آوروں کا بھاری جانی نقصان کیا لیکن تاتاریوں کے ممکنہ حملے کے پیش نظر اسے صلیبیوں کے ساتھ آٹھ سالہ جنگ بندی کا معاہدہ کرنا پڑا۔ لہذا بیت مقدس کو واپس لینے کیلئے نکلی یہ مقدس صلیبی مہم بھی نامراد یورپ لوٹ گئی ۔ اس ناکامی کے بعد اگلی یعنی چھٹی صلیبی جنگ کی قیادت جرمنوں کے ہاتھ آئی۔ ایک مدت بعد یہ پہلی ایسی مہم تھی جس میں مغربی جنگجوؤں کو ایک زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔ ان دنوں ایوبی حکمرانوں میں خاندانی عداوتیں جاری تھیں، لہذا عیار عیسائیوں نے مسلم حکمرانوں کے اندرونی خلفشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مودودہ سامراجی عیاروں کی طرح سیاسی جوڑ توڑ اور ساز باز کا راستہ اپنایا۔ اور وہ الملک الکامل کو ایسے معاہدے پر مجبور کرنے میں کامیاب ہو گئے جس کی رو سے مسجد اقصی کو چھوڑ کر نہ صرف بیت المقدس کا شہر، بلکہ ناصرہ اور بیت الحم جیسے وہ اہم شہر بھی عیسائیوں کے قبضے میں چلے گئے جو مغربی باشندوں کو بیت المقدس تک آنے کیلئے راستے میں پڑتے تھے۔

یوں بغیر کسی جنگ کے یروشلم میں ایک بار پھر سے عیسائی سلطنت قائم ہوگئی۔ مگر یہ عارضی عیسائی قبضہ صرف دس برس تک ہی قائم رہ سکا۔ 1239 ء میں مصر کے ایوبی حکمران نجم الدین ایوبی نے صلیبی افواج کو عسقلان میں شکست فاش دی تو کلیسا کے پوپ نے پوری دنیا کے عیسائیوں میں مذہبی جنون جگانے کیلئے پھر سے واویلا شروع کر دیا۔ اس بارعیسائیوں نے ایک مسلم ملک کو دوسرے مسلم ملک کیخلاف استعمال کرنے کا وہی مکارانہ حربہ یعنی ” ڈیوائیڈ انڈ رول ” استعمال کیا جس کی بنیاد پر گوروں نے مابعد ہندوستان سمیت پوری دنیا کے بیسیوں ممالک پر قبضے جما کر حکومتیں کیں اور آج بھی کر رہے ہیں۔ اس وقت بھی خلیجی ممالک کے حالیہ بحران کی طرح شام کو مصر کے خلاف استعمال کرنے کی سازش تیار کی گئی۔ چونکہ اس دور میں مسلمانوں میں میر جعفر اور میر صادق جیسے غدار اور حسن نثار یا نجم سیٹھی جیسے میڈیا دانشور نہیں تھے، لہذا فوروں کی وہ سیاسی چال بری طرح ناکام ہوئی ۔ اور پھرجب 1244ء میں، تاریخ اسلام کے شہرہء آفاق جرنیل رکن الدین بیبرس نے مصر سے صرف دس ہزار خوارزمی جنگجوؤں کے ساتھ، طوفانی پیش قدمی کرتے ہوئے صلیبیوں کو یروشلم میں ہزیمت ناک شکست دی تو شہر یروشلم کے در دیوار ایک بار پھر مسجد اقصی کے میناروں سے دی جانے والی اذانوں سے گونج رہے تھے۔

بیت المقدس کے دوبارہ چھن جانے پر ایک بار پھر پورے یورپ میں صف ماتم بچھ گئی۔ مذہبی جنونی کلیسا نے پھر سے پورے مغرب میں جنگی جنون ابھارنا شروع کیا تو فرانس کے بادشاہ لوئس نہم نے کلیسا کی اس مقدس آواز پر لبیک کہی، اور پھر اس جنگی جنونی بادشاہ کی ساری زندگی ہی اسی مقدس مشن میں گزر گئی۔ اس ساتویں صلیبی جنگ میں شاہ لوئیس نے مصر پر حملہ کر کے دمیاط اورانتہائی اہم فوجی چھاؤنی منصورہ پر قبضہ کر لیا۔ تو بد قسمتی سے عین اس موقع پر ایوبی حکمران نجم الدین ایوبی کا انتقال ہوگیا ۔ لیکن بادشاہ کے انتقال کے باوجود عوام کا دینی و ملی جذبہ زندہ رہا اور تاریخ کے دو جری سپہ سالار سیف الدین قطز اور رکن الدین بیبرس انتہائی جرات کے ساتھ منصورہ میں صلیبی لشکر کا محاصرہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ منصورہ کے قلعہ میں محصور ہونے تک صلیبی لشکر کا ایک بڑا حصہ ہلاک ہوچکا تھا۔ اور پھر جب خوراک اور کمک نہ ملنے پر محصور فوجی بھوک اور بیماری سے مرنے لگے تو ان کے پاس شکست تسلیم کرنے کے سوا اور کوئی چارا نہ تھا۔ عین اسی وقت اللہ کا عذاب نازل ہوا اور محصور صلیبی افواج میں خطرناک بیماریاں پھوٹ نکلیں۔ نہتتے اور معصوم شہریوں کا سفاکانہ قتل عام کرنے والے صلیبی لشکریوں پر عجیب وغریب وبائیں حملہ آور ہوئیں۔

خود شاہ لوئیس بھی ایک پراسرار بیماری میں مبتلا ہوا اور اس کے دانت جھڑنے لگے۔ فرار ہونے کے دوران ہزاروں کی تعداد میں جو صلیبی گرفتار ہوئے، ان میں فرانس کا شاہ لوئیس بھی شامل تھا۔ لیکن رحم دل ایوبی حکمران نوران شاہ کی ہدایت پر شاہی طبیبوں نے شاہ لوئیس کا علاج کر کے اس کی جان بچائی۔ فرانس نے تاوان کے طور پر چار لاکھ بھاری طلائی سکے نقد اور باقی چار لاکھ طلائی سکوں کا ادھار کر کے آئیندہ جنگ نہ کرنے کا عہد کیا تو ان کے بادشاہ کو رہائی ملی۔ لیکن اس عہد شکن و عیار صلیبی شاہ نے رہا ہونے کے بعد اپنے مذموم مقاصد کیلئے شام و فلسطین میں واقع واحد صلیبی ریاست عکہ میں قیام کیا۔ اور اس دوران وہ مسلسل چار سال تک صلیبی جنگوں کی آگ ازسر نو بھڑکانے کی سرتوڑ کوشش میں مصروف رہا مگر ناکامی سے مایوس ہو کر 1250ء میں واپس فرانس لوٹ گیا۔ مسلم دشمنی میں جلتا ہوا شاہ لوئیس اگلے بیس سال تک لوئیس جنگی تیاریوں میں مصروف رہا اور پھر 1270ء میں ایک اور صلیبی مہم تیار کر حملہ آوار ہونے کیلئے سرزمین عرب کا رخ کیا۔ مگر مصری مملوکوں کی بے پناہ عسکری قوت دیکھ کر اسے مصر یا شام کی طرف بڑھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ جنگی جنون کے مرض میں مبتلا شاہ لوئیس شام و فلسطین کی بجائے شمالی افریقہ میں تیونس کے ساحلوں پر اترا۔ تو تیونس میں بھی اس پر اور اس کے لشکر پر جان لیوا بیماریوں نے حملہ کر دیا اور وہ دو ماہ تک ایک پراسرار بیماری میں مبتلا ہو کر تیونس ہی میں چل بسا۔

یاد رہے کہ شاہ لوئیس کے ایک بیٹے کے علاوہ تمام بیٹے بھی انہی موذی وباؤں سے ہلاک ہوئے۔ شاہ لویس کی موت کے بعد اس کے بیٹے اور بھائی نے تیونس کے سلطان المستنصر کو اپنا باج گزرا بنا لینے پر ہی اکتفا کیا اور مصر کے مملوکوں کی ہیبت سے خائف واپس یورپ کی راہ لی۔ شاہ لوئیس کی اس سعی بیکار پر ایک تیونسی شاعر نے کیا خوب فقرہ چست کیا تھا کہ، ” مصر نے اپنے یہاں آئے اس صلیبی ڈکیت کو صرف قید دی مگر اس کی تسلی نہ ہوئی تو تیونس نے اس کیلئے قبر کا انتظام کر دیا “۔ احباب یاد رہے کہ فرانس کے اس بادشاہ لوئیس نہم کی عیسائیت کیلئے عظیم جنگی خدمات کے اعتراف میں، مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے والے مغربی کلیسا نے اس جیسے سفاک مذہبی دہشت گرد اور جنونی قاتل کو سینٹ یعنی ” ولی” کے رتبے سے نوازا ۔ مغربی تاریخ میں، مسلم ممالک پر حملہ آور ہونے والے اس جارح جنگجو کوایک عظیم صلیبی شخصیت اور جنگی ہیرو مانا جاتا ہے۔ حتی کہ دنیا میں امن اور انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار امریکہ کا مشہور شہر سینٹ لوئیس مزوری بھی اسی ” امن گرد ” جنگی مجرم  کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ شاہ لوئیس کی ان مقدس مہمات کے بعد ، ان قدیم صلیبی جنگوں کی آخری مہم میں برطانیہ کے شاہ ایڈورڈ اول اور شاہ فرانس نے مل کر شام پر حملہ کیا مگر کلی ناکام ہوئے۔ جب اس قدر طویل جنگی مہمات سے عیسائیوں کو سوائے تباہی اور شکستوں کے کچھ حاصل نہ ہوا تو ان کا جنگی جنون بھی سرد پڑ گیا۔

فاتح بیت المقدس کمانڈررکن الدین بیبرس، سلطان ظاہر کے لقب سے حکمران بنا تو اس نے شام سے صلیبی بقایا جات کا مکمل صفایا کرکے رکھ دیا۔ قیساریہ، وارسف اور یافا سے لیکر انطاکیہ تک کو اسلامی ریاست کے ناقابل تسخیر قلعے بنا دیا گیا۔ اس کے بعد عثمانی حکمرانوں نے ایک مظبوط اسلامی سلطنت قائم کی تو صلیبی یورپ کئی صدیوں تک یہاں سے پسپا ہوگیا۔ تا آنکہ مسلم حکمران اپنی راہ سے بھٹکے اور 1798ء میں فرانس میں انقلاب برپا کرنے والا نپولین بونا پارٹ مسلم غداروں کی شکار سلطنت کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر مصر پر قابض ہوگیا۔ احباب قابل غور ہے کہ مصر پر قبضے کے اگلے سال یعنی 1799ء میں انگریز فوج ایک مسلم غدار میر صادق کی خدمات کی بدولت سلطان ٹیپو شہید کی سلطنتِ میسور لے رہی تھی، جبکہ اس سے کچھ عشرے پیشتر، یعنی 1757ء میں، انگریز جنوبی ہند میں بھی ایک مسلم غدار میر جعفر کے ننگِ ملت کردار کے کارن سراج الدولہ کی ریاست بنگال لے چکے تھے۔ اور 1857 کی جنگ آزادی کے بعد انگریز اپنے ایک ” مقدس صلیبی خدمت گار ” مزرا غلام قادیانی کے ذریعے جہاد اور اتحاد امت کیخلاف مہم چلا کر اس امت کو ان اصولوں سے دور لیجانے کی سازشوں میں مصروف تھے جن اصولوں کو اپنا کر طارق بین زیاد، نورالدین زنگی، صلاح الدین ایوبی اور سلطان محمد فاتح جیسے حکمرانوں نے امت اسلامیہ کے سنہری دور کی داستانیں رقم کی تھیں۔ زیادہ تر مورخین شاہ لوئیس کی پہلی اور دوسری اور پھر شاہ ایڈورڈ اول کی مہم کو بالترتیب آٹھویں، نویں اور دسویں صلیبی مہم شمار کرتے ہیں۔ جبکہ کچھ تاریخ دان ان کو ساتویں صلیبی جنگ ہی کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔ میں بھی ان تینوں جنگوں کا ساتویں صلیبی مہم کے تحت ہی ذکر کیا ہے۔

میرے خیال میں خطہء ترک و سرزمین عرب سے لیکر ہندوستان، بایزید یلدرم اور سلطان محمد فاتح سے لیکر سلطان ٹیپو تک پورے عالم اسلام پر سامراج اور مغربی استعمار کی اس  متحدہ یورش کو آٹھویں صلیبی جنگ کہا جا  سکتا  ہے، جو  کئی صدیوں  تک جاری رہی۔ جبکہ نویں صلیبی جنگ  1991ء میں بش سینیئر کی سالاری میں عراق  پر یلغار،  نائن الیون پر بش جونیئر کی طرف سے  اعلانیہ صلیبی جنگ کے طبل ،  2002ء میں افغانستان پر قبضے اور عراق  و شام  میں جاری متحدہ  مہم کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ دسویں اور آخری صلیبی جنگ کا آغاز یہود و نصاریٰ اور ہندوتوا کی آنکھوں میں چبھنے والی پاک سرزمین کے عسکری اور نظریاتی محاصرے کی مہم سے ہو چکا ہے۔ عراق اور شام  میں نئی مہم جوئیوں سے شروع ہونے والی اس  صلیبی جنگ کا مقصد پاکستان کے اطراف میں عسکری کنٹرول اور  گھیرا تنگ کرنا ہے۔ اصل حدف پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات اور تخت اسلام آباد پر دین اکبری جیسے  مخلوط ” دین اوباموی”  کی حکمرانی ہے۔ اس بار جنگ  کو گولہ و بارود کی طاقت کے علاوہ مسلم عوام کو مغرب جیسی پراگندا تہذیب کا دلدادہ،  قومی و ملی بے غیرت بنا  کر، اسلامی معاشرت سے متصادم مادر پدر آزاد روشن خیالی کے ایٹم بم گرا کرجیتنے کی کوشش  کی جائے گی۔ مشتری ہوشیار باش کہ اس ملک میں  لسانی و فروہی،  مذہبی منافرت اور رقص و انقلاب جیسے کئی سامراجی و صلیبی میزائیل اور عاصمہ جہانگیر، حسن نثار، ہود بھائی  اور نجم سیٹھی جیسے لاتعداد ایسے لانچنگ پیڈز موجود ہیں، جن کا  کنٹرول براہ راست نیو یارک ، لندن اور نیو دہلی کے ہاتھوں میں ہے۔ لیکن صد شکر کہ اب وطن عزیز کے دفاع کی ضامن افواج پاکستان اور حساس ادارے تمام تر سیاسی  وابستگیوں سے آزاد، ملک کی جغرافیائی سرحدوں اور ریاست کے ایٹمی اثاثہ جات کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت ہوشیار اور تیار ہیں ۔

تحریر کیلئے جناب حامد کمال الدین اور ڈاکٹرمحسن محد صالح کے تاریخی مضامین اور مستند تاریخی حوالوں  سے مدد لی گئی ہے

نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر، عرب و عجم کا اتحاد ِعالم ِ اسلام وقت کی اشد ضرورت ہے

فاروق درویش — واٹس ایپ — 03224061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: