حالات حاضرہ

خان صاحب! یہ بھی سلمان رشدی سے کم بدبخت نہیں


چار برس  برس پہلے کی بات ہے کہ اپنے انقلابی افکار اور سیاسی فیصلوں کے حوالے سے یو ٹرن  لینے میں اپنی مثال آپ عمران خان صاحب نے امت اسلامیہ اور پاکستان کا سر اس وقت فخر سے بلند کر دیا تھا. جب انہوں نے بھارت میں ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت سے صرف اس لئے انکار کر دیا تھا کہ جس کانفرنس میں ملعون گستاخ رسالت برطانوی مصنف سلمان رشدی شریک ہو گا وہ اس میں شرکت ہر گز نہیں کر سکتے۔ یاد رہے کہ عمران خان کو انڈیا ٹوڈے نامی جریدے کے زیر اہتمام انڈیا کونکلیو ٹوڈے فورم میں سب سے آخر میں کلیدی خطاب کرنا تھا مگرجب انہیں یہ پتہ چلا کہ اس کانفرنس میں ملعون سلمان رشدی بھی خطاب کرے گا تو صد آفرین انہوں نےغیرت ایمانی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی شرکت منسوخ کردی تھی۔ یہ انہیں دنوں کی بات ہے جب وہ لندن میں الطاف lحسین کے خلاف مقدمات کھولنے، اس کے مکروہ عزائم کا پردا فاش کرنے اور پاکستانی سیاست سے لوٹا کریسی اور کرپشن کا کلچر ختم کرنے کیلئے انتہائی پرعزم تھے۔ لیکن ایک برس بیتنے کے بعد جہاں الطاف حسین جیسے دہشت گرد مافیہ کیخلاف ان کی جہد اور لوٹے اور کرپشن کنگز کو اپنی جماعت میں شامل نہ کرنے کا جذبہ ٹھنڈا ہو کر “یوٹرن” بنا، وہیں ان کی دینی غیرت کے حوالے سے بھی اس وقت سوال ابھرنا شروع ہوئے جب ان کے سیاسی جلسوں میں انقلاب اور نیا پاکستان کا نعرہ لگانے والے مشہور سنگر ملعون سلمان احمد کی طرف سے توہین اسلام اور گستاخیء قرآن کی ویڈیوز منظر عام پر آئیں۔

حکومت پاکستان کی طرف سے بین کی گئی یو ٹیوب، دوسری انٹر نیٹ سائٹس، سوشل میڈیا اور فیس بک پر عام ان مصدقہ ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک مغربی خاتون دوست دین اسلام اور قرآن حکیم کا انتہائی قابل اعتراض انداز میں مذاق اور تمسخر اڑاتی ہے۔ جس پر اس کا ننگ اسلام دوست، مشہورمیوزیکل بینڈ جنون کا گویا ملعون سلمان احمد یہ کہ رہا ہے کہ” مجھے بڑا عجیب لگتا ہے کہ جب کوئی مسلمان یہ کہتا ہے کہ اسلام ایک امن کا دین ہے ، میرے نزدیک ( ملعون سلمان احمد کے نزدیک) تو اسلام ایک سیکسی دین ہے” نعوذباللہ من ذالک۔ پھر یہ قصہ اسی توہین اسلام و قرآن پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اس کے بعد اسی ننگ اسلام سلمان رشدی جونیئرکی طرف سے قرآنی آیات کی گٹار کے ساتھ تلاوت کر کے مسلمانوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچائی جاتی ہے۔

لیکن انتہائی افسوس امر ہے کہ عمران خان اپنے جلسوں میں اس ملعون گستاخ قرآن کے میوزک شوز کے ذریعے نئے پاکستان کا پیغام دیتے ہیں۔ وہ آج بھی دھرنے سے لیکر خان صاحب کی نجی زندگی میں ان کے ساتھ ساتھ ہیں مگر تحریک انصاف کی مسلمان قیادت اور ورکرز مسلسل پراسرار خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ دل آزاری کی بات یہ ہے کہ عوام کی شدید تنقید اور سخت مذمت کے باوجود پھر یہی گستاخ قرآن و اسلام  23 مارچ کے جلسے میں بھی عمران کے ساتھ  میوزک شو کرنے کیلئے سٹیج پر موجود ہوتا ہے۔  جو اس بات کا اشارہ  ہے کہ عمران خان نے توہین قرآن کے اس  مجرم کیخلاف قوم و ملت کا احتجاج  مسترد یا نظر انداز کر دیا ہے۔ شاید عمران خان  بھی  حصول اقتدار کیلئے لبرل اور روشن خیال لیڈر کا لبادہ اوڑھنے کو بہتر سیاسی حکمت عملی سمجھتے ہیں۔ شاید ان لبرل سیاست دانوں کا نیا پاکستان یہی امریکی برانڈ ” کافر پاکستان” ہے

 اس حوالے سے میرا دیرینہ موقف ہے کہ وہ محترم عمران خان صاحب کی طرف سے ملعون  سلمان احمد جیسے نمائیندگان دہر کی توہین قرآن پرخاموشی اور تحریک انصاف کے جلسوں میں اس کی شرکت کا قابل مذمت معاملہ ہو یا مسلم لیگ نون کے ایم این اے ایاز امیر کی طرف سے فتنہء قادیانیت کیخلاف آئین کی اسلامی دفعات ختم کر کے ان کو قادیانیت کی دجالی تبلیغ، مسلمانوں کی طرح مساجد بنانے کی اجازت دینے کی بات ہو۔ وہ الطاف حسین کی طرف سے قادیانوں کو مسلمانوں جیسا قرار دینے کا شیطانی بیان ہو یا میاں نواز شریف کی طرف سے “قادیانی بھی ہمارے بھائی ہیں” جیسا خلاف قرآن و اسلام بیان ہو۔ ان تمام مکروہ شگوفوں کی اصل وجہ ہم لوگوں کی حد سے زیادہ شخصیت پرستی،”صرف میرا لیڈر زندہ باد”، ” میرے لیڈر کو سب کچھ معاف” اور” میرا لیڈر نہایا دھویا گھوڑا” جیسی احمقانہ جذباتی روش ہے۔ قابل غور ہے کہ کیا کبھی تحریک انصاف کے کسی انقلابی کارکن نے اپنی مرکزی قیادت سے یہ استفسار کیا کہ ملعون سلمان احمد جیسا گستاخ اسلام، گستاخ قرآن تحریک انصاف کے جلسوں میں کیوں شریک ہوتا ہے۔

کیا نون لیگ کے کسی سیاسی ورکر نے میاں نواز شریف صاحب سے یہ سوال کیا کہ آپ نے گستاخین قرآن و رسالت زندیق قادیانیوں کو ” ہمارے بھائی ” کہہ کر قرآنی احکامات اور اسلامی نظریات کی خلاف ورزی اور کھلی توہین کیوں کی اور ایک بدترین گستاخ رسالت  بال ٹھاکری  ہندوآتہ ایجنٹ عاصمہ جہانگیر کا نام نگران وزیر اعظم کیلئے کیوں تجویذ کیا۔ کیا متحدہ قومی موومنٹ کا کوئی ایک سیاسی کارکن ایسا ہے جس نے پیر آف لندن شریف الطاف حسین کی طرف سے بارہا قادیانیت نوازبیانات کی مذمت کی ہو؟ صد افسوس کے قاف لیگ کے کسی سیاسی بچونگڑے نے چوہدری شجاعت کی محفل مجرہ پرتنقید نہیں کی اور نہ کبھی کسی جیالے نے بلاول بھٹو زرداری کی لندن برانڈ پلے بوائے لائف اور شرمیلا فاروقی کے جنسی سکینڈلز کی مذمت میں کوئی جملہ کہا۔ تمام سیاسی جماعتوں کے جذباتی ورکروں سے معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ غیر جانبداری اور ایمانداری سے دیکھا جائے تو تمام سیاست دانوں کے پرستاروں کی اپنے اپنے سیاسی قائدین کے متنازعہ خلافِ اسلام بیانات اور غیر اسلامی اقدامات پر صرف خاموشی یا ان کا انتہائی ڈھٹائی سے احمقانہ دفاع ہی سیاست دانوں کے مسخرانہ اقوال و افعال اور ملک و ملت کے نظریات و مفادات کیخلاف بے لگام پالیسیوں کی اصل وجہ ہے۔ بلاشبہ ڈھٹائی اور جہالت پر مبنی ہماری یہ بری ” سیاسی عادت ” شدید مذمت کے قابل ہے۔

کیا سیاست دانوں کا مذہب صرف حصول اقتدار یا طوالت اقتدار ہے؟ صد افسوس کہ ہمارے سیاست دانوں کا دجالی یقین ہے کہ حصول اقتدار کیلئے سب سے پہلے امریکی سامراج اور مغربی بادشاہ گروں کا پسندیدہ روشن خیال کردار اور لبرل طرز سیاست اپنانا ضروری  ہے۔ صد افسوس کہ ہمارے تمام سیاست دان ایک اللہ سے نہیں، امریکی سامراج اور مغربی تاجداروں سے خائف ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ مہاتیر محمد نے امریکی خوشنودی اور مغربی روشن خیالی کے مظاہرے سے نہیں ملک دوستی اور انتھک محنت سے اپنی قوم کو اقوام عالم میں حقیقی ترقی پذیر ممالک کی صف میں عزت دار مقام دلوایا ہے۔ کیا امریکی غلامی کو حصول اقتدار کا اصل ذریعہ و طاقت سمجھنے والوں کیلئے انجہانی ہوگو شاویز کی زندہ مثال کافی نہیں۔ امریکی خوشنودی اور ڈالروں کیلئے کوشاں سیاست دان بتائیں کہ کیا حسنی مبارک کے قوم فروشی سے کمائے گئے اسی ارب ڈالرز عالم برزخ کے بینکوں میں منتقل ہو پائیں گے۔

برادران وطن آئیے آج ایک عہد کریں۔ خواہ ہمارا سیاسی تعلق مسلم لیگ قاف سے ہے یا نون سے۔ ہم الطاف حسین کے پرستار ہیں یا باچا خان کے پیروکار، ہم عمران خان کو اپنا نجات دہندہ مانتے ہیں یا زرداری ہمارا محبوب لیڈر ہے۔ ہم اپنے یا کسی بھی رہنما کے غیر اسلامی اور ملک دشمن قول و فعل کے خلاف بھرپور آواز اٹھاتے رہیں گے کہ یہی زندہ قوموں کی نشانی اور سیاست دانوں کی اصلاح کا بہترین طریق ہے۔  ہماری ملی اور دینی غیرت زندہ رہی تو عاصمہ جہانگیر جیسے بال ٹھاکری کردار، جیو کے گھوڑے پہ سوار ننگِ پاکستان شہزاد رائے جیسے مسخرے اور مشرف کی روشن خیالی یا تحریک انصاف کے سونامی میں تیرتے ملعون سلمان احمد جیسے سب ننگ آدم ،ڈوم میراثی ہمیشہ ناکام و نامراد ٹھہریں گے ۔۔۔۔  انتہائی قابل مذمت ہے کہ یہ ملعون گستاخ قرآں و اسلام آج کل  اسلام آباد دھرنے  کے کنٹینر میں بھی  ہمہ وقت خان صاحب کے ساتھ ساتھ  نظر آتا  ہے ۔۔۔ خدارا ! خاں صاحب کا پیروکار کوئی ایک سچا مسلمان  ہی خاں صاحب اور سونامی احباب کی سوئی ہوئی مذہبی اور ملی غیرت جگا دے۔۔۔۔

فاروق درویش ۔۔ 03224061000 –03324061000

ذیل میں ملعون سلمان احمد کی توہین اسلام و قرآن کے ویڈیو لنکس دئے جا رہے ہیں، دیکھنے کیلئے لنک پر کلک کیجیے

سلمان احمد قرآنی آیات کو گٹار کے ساتھ دجالی انداز میں تلاوت کرتے ہوئے

سلمان  احمد  بی  بی  سی  کے  غیر مسلم دوستوں کے ساتھ  دین  اسلام اور قرآن پاک کا مذاق اڑا رہا ہے

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

1 Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

  • پاکستان میں الکشن کا طریقہ کار سرار غلط ہے
    ۲ ارب سرکاری اور ۵۰ ارب امیدوار خرچ کرتے ہیں
    دوران الکشن لوگوں کا مارے جانا اور زخمی ہونا دیگر نقصانات بھی ہوتے ہیں
    بہتر ہے کے متناسب الکشن کرائے جانے کا سیسٹم رائج کیا جائے
    دو یا تین سیاسی پارٹیاں ہونی چاہیں سیاسی جمعہ بازار بند کیئے جائیں
    تمام انتہاں پسند لسانی سیاسی مذہبی پارٹیوں اور تنظیموں کو ختم کیا جائے مہذب پڑھے لکھے معاشرے کے طرز پر جینا سیکھا جائے کمپیوٹراز الکشن ہونے چاہیے پاکستان میں جس کی لاٹھی اس کی بھنس والے الکشن ہوتے ہیں شفاف الکشن کا تصور فضول ہے
    کیونکہ الکشن کمیشن تو اپنی سی کوشیش کرتا ہے مگر جس امیدوار یا پارٹی کا جس شہر
    یا حلقے میں اثرو اسوخ یا طاقت ہو تی ہے وہ دھڑلے سے دھاندلی کرتا ہے اور وہاں عملہ اور پولیس سب بے بس ہوجاتے ہیں ۔۔ جاگیردار سردار وڈیرے اور سیاست کی دنیا
    کے ڈان سب کچھ کرگزرتے ہیں پاکستان میں ۴۰ فیصد ووٹ کا جائز یا ناجائز استعمال ہوتا ہے ۶۰ فیصد ووٹ ڈالتے ہی نہیں ایسی صورت میں ہمیشہ اقلیت اکثریت پر جبری حکومت کرتی ہے ۔۔۔ یہ رائے صوبے بناو تحریک پاکستان کے چیئرمین عزیز قریشی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہی

Featured

%d bloggers like this: