All posts in رموز شاعری

غزل مولانا رومی ۔  منظوم ترجمہ فاروق درویش
2
‫فاروق درویش‬‎
Feb 04 2014
مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ کی فارسی غزل کے اشعار کا اردو ترجمہ اور میری حقیر سی عاجزانہ کاوش، ان اشعار کا منظوم ترجمہ شعر : از مولانا رومی ...
حسن نادم ہے جہاں کر کے جفا میرے بعد
0
‫فاروق درویش‬‎
Jan 30 2014
حسن نادم  ہے جہاں کر کے جفا میرے بعد عشق رسوائے زمانہ نہ ہوا میرے بعد آتشِ عشق سے روشن ہوئے صحرائے جہاں کون دے پائے گا ظلمت میں ضیا میرے بعد درد خوشبو ...
لبوں پہ کیا وہ مرے دل میں شہد گھولتا ہے ۔ غزل، بحر و اوزان اور اصول تقطیع
0
‫فاروق درویش‬‎
Jan 15 2014
لبوں پہ کیا وہ مرے دل میں شہد گھولتا ہے وہ جادو حسن کا ہے، سر پہ چڑھ کے بولتا ہے سپاہِ عشق کے لشکر سے ہے وفا میری چلا کے تیر وہ ...
کس پردہ ء افلاک میں جانے ہے وہ پنہاں
0
‫فاروق درویش‬‎
Dec 07 2013
کس پردہ ء افلاک میں جانے ہے وہ پنہاں اک نغمہ ء بے تاب جو ہونٹوں کا ہے ارماں پیغام کہاں لائیں گے نظروں کے پیامی آنکھوں سے بہت دور ہے لیلی کا ...
حسنِ مہ، گرچہ بہ ہنگامِ کمال، اچّھا ہے ۔ کلام غالب، بحر و اوزان اور اشارات و اصول تقطیع
0
‫فاروق درویش‬‎
Feb 20 2013
حسنِ مہ، گرچہ بہ ہنگامِ کمال، اچّھا ہے اس سے میرا مہِ خورشید جمال اچّھا ہے بوسہ دیتے نہیں، اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے ...
غزل ساغر صدیقی ۔ بحر و اوزان اور اصول تقطیع
0
‫فاروق درویش‬‎
Jan 30 2013
جب گلستاں میں بہاروں کے قدم آتے ہیں یاد بُھولے ہوئے یاروں کے کرم آتے ہیں لوگ جس بزم میں آتے ہیں ستارے لے کر ہم اسی بزم میں بادیدہء نم آتے ہیں میں ...
دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے ۔ کلام مرزا غالب۔ بحر و اوزان اوراصول تقطیع
0
‫فاروق درویش‬‎
Jan 04 2013
دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے میں اسے دیکھوں، بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہے آبگینہ تندئِ صہبا ...
کلامِ اقبال اور دورِحاضر۔ تشریح، بحر و اوزان اور تقطیع
0
‫فاروق درویش‬‎
Dec 26 2012
نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے خراج کی جو گدا ہو، وہ قیصری کیا ہے حضرت اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی یہ شہرہء آفاق غزل موجودہ حالات اور صاحبان ِ ...
چشم گریاں میں وہ سیلاب تھے اے یار کہ بس ۔ احمد فراز۔ بحر و اوزان اوراصولِ تقطیع
2
‫فاروق درویش‬‎
Dec 18 2012
چشم گریاں میں وہ سیلاب تھے اے یار کہ بس گرچہ کہتے رہے مجھ سے مرے غم خوار کہ بس گھر تو کیا گھر کی شباہت بھی نہیں ہے باقی ایسے ویران ہوئے ...
کلامِ اقبال  “آوازِ غیب”  بحر و اوزان اور اشارات تقطیع
0
‫فاروق درویش‬‎
Dec 07 2012
آتی ہے دمِ صبح صدا عرش بریں سے کھویا گیا کس طرح ترا جوہر ادراک کس طرح ہوا کند ترا نشتر تحقیق ہوتے نہیں کیوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک تو ظاہر و ...
ناوک انداز جدھر دیدہ ء جاناں ہوں گے۔ غزل مومن ۔ بحر و اوزان ، تقطیع
0
‫فاروق درویش‬‎
Dec 06 2012
ناوک انداز جدھر دیدہ ء جاناں ہوں گے نیم بسمل کئی ہوں گے، کئی بے جاں ہوں گے تابِ نظّارہ نہیں، آئینہ کیا دیکھنے دوں اور بن جائیں گے تصویر، جو حیراں ہوں ...
ہستی اپنی حباب کی سی ہے۔ غزل میر تقی میر ۔ بحر، اوزان و اصول تقطیع
0
‫فاروق درویش‬‎
Nov 27 2012
ہستی اپنی حباب کی سی ہے یہ نمائش سراب کی سی ہے نازکی اُس کے لب کی کیا کہئے پنکھڑی اِک گلاب کی سی ہے بار بار اُس کے در پہ جاتا ہوں حالت اب ...
سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہے۔ مرزا غالب ۔ بحر و اوزان, اصولِ تقطیع
0
‫فاروق درویش‬‎
Nov 17 2012
  سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہے بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہے دیکھنا تقریر کی لذّت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ ...
دیارِعشق سے یوں تیرگی نکل جائے۔ جگرکی آگ سے دل کاچراغ جل جائے
0
‫فاروق درویش‬‎
Nov 13 2012
دیارِ عشق سے یوں تیرگی نکل جائے جگر کی آگ سے دل کا چراغ جل جائے نگاہ ِ فقر میں تصویرِ دو جہاں بدلے جہاں میں ایک بھی ذرہ اگر بدل جائے غریقِ بحر ...
جہانِ شب ہے دھواں صبحِ انقلاب بنوجلا دوتختِ بتاں دستِ احتساب بنو
0
‫فاروق درویش‬‎
Nov 06 2012
جہان ِ شب ہے دھواں صبح ِ انقلاب بنو جلا دو تخت ِ بتاں دست ِ احتساب بنو لہو کے دیپ جلاؤ کہ شب طویل ہوئی محل سے روشنی چھینو سحر کی تاب ...
بلبل نہ گل نہ حسن ہیں باغ و بہار کے۔ بہ زمینِ فیض غزل درویش ۔ بحر و اوزان اور اصول تقطیع
1
‫فاروق درویش‬‎
Nov 02 2012
جناب فیض احمد فیض کی زمین میں غزل لکھنا کم از کم مجھ جیسے حقیر و کوتاہ علم بندے کے بس کا روگ ہرگز نہیں ۔  ایک طرحی مشاعرے کیلئے ...
مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ ۔ فیض احمد فیض
2
‫فاروق درویش‬‎
Oct 25 2012
فیض احمد فیض صاحب کا سخن یا ان کی یہ شہرہء آفاق نظم کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ یہاں ان کی یہ خوبصورت نظم، اسکی  بحر و اوزان اوراشارات تقطیع ...
کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یاردیکھ کر۔ کلام غالب۔ بحر، اوزان اوراصولِ تقطیع
5
‫فاروق درویش‬‎
Oct 23 2012
کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کر جلتا ہوں اپنی طاقتِ دیدار دیکھ کر آتش پرست کہتے ہیں اہلِ جہاں مجھے سرگرمِ نالہ ہائے شرر بار دیکھ کر کیا آبروئے عشق، جہاں ...
سخن کا پیرہن پہنا دیا کس نے خموشی کو۔ از سیدہ سارا غزل ۔ بحر و اوزان
4
‫فاروق درویش‬‎
Oct 23 2012
سخن کا پیرہن پہنا دیا کس نے خموشی کو ترستی ہے زباں گونگے دلوں کی گرمجوشی کو ہوئے آرائشِ جاں کی بدولت کو بہ کو رسوا کہ عریانی سمجھتے ہیں ہم اپنی جامہ ...
بتوں کے درسے کسی کو کبھی خدا نہ ملا ۔ فاروق درویش۔ بحر، اوزان اوراصول تقطیع
5
‫فاروق درویش‬‎
Oct 18 2012
بتوں کے درسے کسی کو کبھی خدا نہ ملا ملا جسے بھی رگ ِ جاں سے ما ورا نہ ملا خدا کو ڈھونڈ لیا ہم نے میکدے میں مگر صنم کدوں سے تمہیں ...
ہم عشق زدہ سوختہ جاں ہجرگزیدہ۔ فاروق درویش ۔ اوزانِ بحر،اصولِ تقطیع
1
‫فاروق درویش‬‎
Oct 14 2012
ہم عشق زدہ، سوختہ جاں، ہجر گزیدہ وہ کعبہ ء جاں حسن کہ دیدہ نہ شنیدہ زلفوں کے حجاب اٹھے کہ میخانے کھلے ہیں آتش ہے شب ِ وصل کہ مشروب ِ کشیدہ نورنگی ...
یہ دل لگی بھی قیامت کی دل لگی ہوگی۔ غزل داغ دہلوی ۔ بحر و اوزان اصول تقطیع
6
‫فاروق درویش‬‎
Oct 13 2012
یہ دل لگی بھی قیامت کی دل لگی ہوگی خدا کے سامنے جب میری آپ کی ہوگی تمام عمر بسر یوں ہی زندگی ہوگی خوشی میں رنج کہیں رنج میں خوشی ہوگی وہاں بھی ...
کلامِ اقبال کی زمین میں میری حسبِ حال غزل بحر و اوزان اوراصولِ تقطیع
3
‫فاروق درویش‬‎
Oct 09 2012
اقبال کی زمین میں میری غزل احباب کی نذر اس شہر ِ صدآشوب میں اتری ہے قضا دیکھ فرعون بنے بیٹھے ہیں مسند کے خدا دیکھ بیٹھا ہے ہما رہزن و غدار کے ...
نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی نہ کسی کو فکر رفو کی ہے۔ فیض احمد فیض ۔ بحر و تقطیع
0
‫فاروق درویش‬‎
Oct 06 2012
نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی، نہ کسی کو فکر رفو کی ہے نہ کرم ہے ہم پہ حبیب کا، نہ نگا ہ ہم پہ عدو کی ہے صفِ زاہداں ہے تو ...
روگ ایسے بھی غمِ یار سے لگ جاتے ہیں۔ غزل احمد فراز۔ بحر، اوزان و اصول تقطیع
6
‫فاروق درویش‬‎
Oct 05 2012
روگ ایسے بھی غمِ یار سے لگ جاتے ہیں در سے اُٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں عشق آغاز میں ہلکی سی خلش رکھتا ہے بعد میں سینکڑوں آزار سے لگ ...
ارض و سما کو ساغر و پیمانہ کر دیا ۔ غزل جوش ملیح آبادی ۔ بحر، اوزان و اصول تقطیع
1
‫فاروق درویش‬‎
Oct 05 2012
ارض و سما کو ساغر و پیمانہ کر دیا رندوں نے کائنات کو میخانہ کر دیا اے حُسن! داد دے کہ تمنائے عشق نے تیری حیا کو عشوہء تُرکانہ کر دیا قُرباں ترے کہ ...
جس سر کوغرورآج ہے یاں تاجوری کا ۔ غزل میرتقی میر ۔ بحر، اوزان، اصول تقطیع
0
‫فاروق درویش‬‎
Oct 03 2012
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت اسباب لٹا راہ میں یاں ہر ...
کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو۔ مرزا غالب ۔ بحر، اوزان و اصولِ تقطیع
1
‫فاروق درویش‬‎
Oct 01 2012
کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم ...
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے ۔ غزل خاطرغزنوی بحر و اوزان اور تقطیع کے ساتھ
2
‫فاروق درویش‬‎
Sep 27 2012
اک ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے ...
شہرِگل کے خس وخاشاک سے خوف آتا ہے۔ افتخارعارف ۔ بحر و اوزان، اصول تقطیع
3
‫فاروق درویش‬‎
Aug 26 2012
شہرِ گل کے خس و خاشاک سے خو ف آتا ہے جس کا وارث ہوں اُسی خاک سے خوف آتا ہے شکل بننے نہیں پا تی کہ بگڑ جا تی ہے نئی مٹی ...
دریوزہ گری حرفہء درویش وقلندر۔ فاروق درویش ۔ بحر و اوزان اور اصول تقطیع
5
‫فاروق درویش‬‎
Aug 24 2012
در یوزہ گری حرفہ ء درویش و قلندر کشکولیء شب پیشہ ء دارا وسکندر غدار حرم فتنہ ء مغرب کے مصاحب خیرات ِ صلیبی ہے منافق کا مقدر کھلتے ہیں یہ اسرار ِ قلندر ...
دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی : کلام غالب ۔ بحر، اوزان اورتقطیع
0
‫فاروق درویش‬‎
Jul 23 2012
دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی دونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی شق ہو گیا ہے سینہ، خوشا لذّتِ فراغ تکلیفِ پردہ داریء زخمِ جگر گئی وہ بادہ ء شبانہ ...
کیا موافق ہو دوا عشق کے بیمار کے ساتھ ۔ کلام میرتقی میر ۔ بحر، اوزان اور تقطیع
0
‫فاروق درویش‬‎
Jul 15 2012
کیا موافق ہو دوا عشق کے بیمار کے ساتھ جی ہی جاتے نظر آئے ہیں اس آزار کے ساتھ رات مجلس میں تری ہم بھی کھڑے تھے چپکے جیسے تصویر لگا دے کوئی ...
لیلیٰ ترے صحراؤں میں محشر ہیں ابھی تک ۔  فاروق درویش ۔ بحر، اوزان اور اصولِ تقطیع
5
‫فاروق درویش‬‎
Jul 13 2012
لیلیٰ ترے صحراؤں میں محشر ہیں ابھی تک اور بخت میں ہر قیس کے پتھر ہیں ابھی تک پھر ننگِ وطن جعفر و صادق ہوئے سردار میسور و پلاسی کے وہ منظر ہیں ...
گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے ۔۔ فیض احمد فیض، گلوں سے خون بہے بادِ اشک بارچلے ۔۔  فاروق درویش ۔ بحر، اوزان اور اصولِ تقطیع
0
‫فاروق درویش‬‎
Jul 06 2012
گلوں سے خون بہے باد ِ اشک بار چلے اٹھیں جنازے سیاست کا کاروبار چلے فریبِ دہر ہے قاتل کی مرثیہ خوانی بنے مزارِ صنم قصرِ اقتدار چلے چڑھے جو درد کے دریا تو ...
دل قلندرہے جگرعشق میں تندورمیاں. از فاروق درویش ۔  بحر، اوزان اوراشاراتِ تقطیع
5
‫فاروق درویش‬‎
Jul 05 2012
دل قلندر ہے جگر عشق میں تندور میاں شوق ِ دیدار روانہ ہے سوئے طور میاں گل بدن شعلہ ء افلاس میں جل جاتے ہیں جسم بازار میں بک جاتے ہیں مجبور میاں دل ...
یہ بتانِ شب کی حکومتیں یہ ریاستوں کی قیادتیں ۔  فاروق درویش
0
‫فاروق درویش‬‎
Jul 02 2012
یہ بتانِ شب کی حکومتیں ، یہ ریاستوں کی قیادتیں صفِ دشمناں کی رفاقتیں ہیں کہ دیر و دہر کی مورتیں نہ مکاں ملا نہ کفن سلا، بنے فاقہ کش ہیں اسیرِشب ہوئے ...
بے دام ہم بکے سرِ بازارعشق میں – غزل فاروق درویش ۔ بحر، اوزان اوراشاراتِ تقطیع
4
‫فاروق درویش‬‎
Jun 27 2012
بے دام ہم بکے سر ِ بازار عشق میں رسوا ہوئے جنوں کے خریدار عشق میں زنجیریں بن گئیں میری آزادیاں حضور زندان ِ شب ہے کوچہ ء دلدارعشق میں درپیش پھر سے عشق ...
عشق جب بن کے خدا دل کے قریں رہتا ہے ۔ فاروق درویش
3
‫فاروق درویش‬‎
Jun 25 2012
عشق جب بن کے خدا دل کے قریں رہتا ہے پھر زمانے کے کہاں زیر ِ نگیں رہتا ہے آج خوابوں کے طلسمات میں کھوئی  ہے حیات کل ہی مل جائے گی تعبیر ...
نہ جنوں میں تشنگی ہے، نہ وصال ِ عاشقانہ ۔ غزل فاروق درویش۔ بحر و اوزان اور اصولِ تقطیع
2
‫فاروق درویش‬‎
Jun 25 2012
نہ جنوں میں تشنگی ہے، نہ وصال ِ عاشقانہ مری زندگی کا شاید، یہیں تھم گیا زمانہ نہ صدا ہے محرموں کی، نہ نظر وہ ساحرانہ نہ وفا ہے دوستوں کی، نہ عطائے ...
Website Designer in Pakistan Website Design company in Pakistan

Hit Counter provided by recruiting services
Follow

Get every new post delivered to your Inbox

Join other followers: