All posts in رموز شاعری

thumbnail
غزل مولانا رومی ۔ منظوم ترجمہ فاروق درویش
     مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ  کی فارسی غزل کے اشعار کا اردو ترجمہ اور میری عاجزانہ کاوش، ان اشعار کا منظوم ترجمہ     شعر : از مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ   نہ من بیہودہ گردِ کوچہ و بازار می گردم مذاقِ عاشقی دارم، پئے دیدار می گردم     نثری اردو ترجمہ : میں بلا وجہ ہی آوارہ اپنے محبوب کے کوچہ و بازار میں یونہی نہیں بلکہ جنونِ ...
thumbnail
حسن نادم ہے جہاں کر کے جفا میرے بعد
    حسن نادم  ہے جہاں کر کے جفا میرے بعد عشق رسوائے زمانہ نہ ہوا میرے بعد     آتشِ عشق سے روشن ہوئے صحرائے جہاں کون دے پائے گا ظلمت میں ضیا میرے بعد     درد خوشبو کی طرح دل میں مقیّد ہے مرے دل کے زندانوں سے آئے گی صدا میرے بعد     ریگِ صحرا سے تیمّم مرے چھالوں نے کیا دشت سے پھوٹے گی خوشبوئے حنا میرے بعد     عشق دکھلاتا ...
thumbnail
لبوں پہ کیا وہ مرے دل میں شہد گھولتا ہے ۔ غزل، بحر و اوزان اور اصول تقطیع
   لبوں پہ کیا وہ مرے دل میں شہد گھولتا ہے وہ جادو حسن کا ہے، سر پہ چڑھ کے بولتا ہے   سپاہِ عشق کے لشکر سے ہے وفا میری چلا کے تیر وہ نیزے پہ سر کو تولتا ہے    جو پیاسا دشت ِ محبت میں جان ہارا تھا فلک کی اوڑھ سے رازِ شکست کھولتا ہے      ہر اک طرف سے امنڈھتے ہوئے اندھیروں میں ستارہ بن کے چھپی ظلمتیں ٹٹولتا ہے    میں ...
thumbnail
کس پردہ ء افلاک میں جانے ہے وہ پنہاں ۔ غزلِ درویش
  کس پردہ ء افلاک میں جانے ہے وہ پنہاں اک نغمہ ء بے تاب جو ہونٹوں کا ہے ارماں   پیغام کہاں لائیں گے نظروں کے پیامی آنکھوں سے بہت دور ہے لیلی کا شبستاں    مر جائیں گے اس سلسلہء شب میں الجھ کر آشفتہ سر و دشت یہاں گھر بھی مرا یاں    اس عشق میں جلنے کا تماشہ بھی عجب ہے شعلہ نہ نظر آئے مگر راکھ ہوئی جاں    جمہور کا دستور ہے ...
thumbnail
حسنِ مہ، گرچہ بہ ہنگامِ کمال، اچّھا ہے ۔ کلام غالب، بحر و اوزان اور اشارات و اصول تقطیع
حسنِ مہ، گرچہ بہ ہنگامِ کمال، اچّھا ہے اس سے میرا مہِ خورشید جمال اچّھا ہے بوسہ دیتے نہیں، اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچّھا ہے اور بازار سے لے آئے ،اگر ٹوٹ گیا ساغرِ جم سے ،مرا جامِ سفال، اچّھا ہے بے طلب دیں، تو مزہ اس میں سوا ملتا ہے وہ گدا ،جس کو نہ ہو خوئےسوال، اچّھا ہے ان کے دیکھے سے جو آ ...
thumbnail
غزل ساغر صدیقی ۔ بحر و اوزان اور اصول تقطیع
    جب گلستاں میں بہاروں کے قدم آتے ہیں یاد بُھولے ہوئے یاروں کے کرم آتے ہیں     لوگ جس بزم میں آتے ہیں ستارے لے کر     ہم اسی بزم میں بادیدہء نم آتے ہیں     میں وہ اِک رندِ خرابات ہُوں میخانے میں میرے سجدے کے لیے ساغرِ جم آتے ہیں      اب مُلاقات میں وہ گرمی ء جذبات کہاں اب تو رکھنے وہ محبت کا بھرم آتے ہیں     ...
thumbnail
دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے ۔ کلام مرزا غالب۔ بحر و اوزان اوراصول تقطیع
دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے میں اسے دیکھوں، بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہے آبگینہ تندئِ صہبا سے پگھلا جائے ہے غیر کو یا رب وہ کیوں کر منعِ گستاخی کرے گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے شوق کو یہ لت کہ ہر دم نالہ کھینچے جائیے دل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا ...
thumbnail
کلامِ اقبال اور دورِحاضر۔ تشریح، بحر و اوزان اور تقطیع
نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے خراج کی جو گدا ہو، وہ قیصری کیا ہے حضرت اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی یہ شہرہء آفاق غزل موجودہ حالات اور صاحبان ِ اقتدار کے فتنِ نامراد کی اس حد تک حقیقی تصویر پیش کرتی ہے کہ گویا آج کے دور مسلم اور موجودہ حالات پر ہی لکھی گئی کوئی تازہ غزل ہو۔ پہلا شعر یعنی مطلع ان کے فلسفہء خودی کا ترجمان ...
thumbnail
ناوک انداز جدھر دیدہ ء جاناں ہوں گے۔ غزل مومن ۔ بحر و اوزان ، تقطیع
ناوک انداز جدھر دیدہ ء جاناں ہوں گے نیم بسمل کئی ہوں گے، کئی بے جاں ہوں گے تابِ نظّارہ نہیں، آئینہ کیا دیکھنے دوں اور بن جائیں گے تصویر، جو حیراں ہوں گے تو کہاں جائے گی، کچھ اپنا ٹھکانا کر لے ہم تو کل خوابِ عدم میں شبِ ہجراں ہوں گے ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس ایک وہ ہیں کہ جنہیں چاہ کے ارماں ہوں گے ہم نکالیں گے سن اے موجِ ...
thumbnail
ہستی اپنی حباب کی سی ہے۔ غزل میر تقی میر ۔ بحر، اوزان و اصول تقطیع
ہستی اپنی حباب کی سی ہے یہ نمائش سراب کی سی ہے نازکی اُس کے لب کی کیا کہئے پنکھڑی اِک گلاب کی سی ہے بار بار اُس کے در پہ جاتا ہوں حالت اب اضطراب کی سی ہے میں جو بولا، کہا کہ یہ آواز اُسی خانہ خراب کی سی ہے میر اُن نیم باز آنکھوں میں ساری مستی شراب کی سی ہے میر تقی میر بحر : بحرِ خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع ارکان : فاعِلاتُن ۔۔۔ مُفاعِلُن ۔۔۔ فَعلُن اوزان ...
thumbnail
سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہے۔ مرزا غالب ۔ بحر و اوزان, اصولِ تقطیع
    سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہے بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہے     دیکھنا تقریر کی لذّت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے     گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے با ایں ہمہ ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے     بس ہجومِ نا امیدی خاک ...
thumbnail
دیارِعشق سے یوں تیرگی نکل جائے۔ جگرکی آگ سے دل کاچراغ جل جائے
 دیارِ عشق سے یوں تیرگی نکل جائے جگر کی آگ سے دل کا چراغ جل جائے  نگاہ ِ فقر میں تصویرِ دو جہاں بدلے جہاں میں ایک بھی ذرہ اگر بدل جائے  غریقِ بحر ہوئے سیلِ خود نمائی میں بھنور میں ڈوبتی کشتی کہاں سنبھل جائے  قریبِ مرگ ہوا دل جو مبتلائے ہوس شبابِ گل پہ کبھی خار پر مچل جائے  یہ آرزو ہے تجھے دیکھیں بے حجاب مگر نہ آئینہ یہ نظر کا کہیں  پگھل جائے  یہ احتیاط ہے ...
thumbnail
جہانِ شب ہے دھواں صبحِ انقلاب بنو۔ جلا دوتختِ بتاں دستِ احتساب بنو
  جہان ِ شب ہے دھواں صبح ِ انقلاب بنو جلا دو تخت ِ بتاں دست ِ احتساب بنو   لہو کے دیپ جلاؤ کہ شب طویل ہوئی محل سے روشنی چھینو سحر کی تاب بنو   چراغِ زخم سے جب نور کی ندی پھوٹے شبوں کے چاند، سحر خیز آفتاب بنو   تڑپ رہے ہو جزیرہ نما تنوروں میں ہوا کے دوش پہ اڑتے ہوئے سحاب بنو   اگر ہو لیلیٰ تو صحرا میں چھوڑ دو محمل بنو ...
thumbnail
بلبل نہ گل نہ حسن ہیں باغ و بہار کے۔ بہ زمینِ فیض غزل درویش ۔ بحر و اوزان اور اصول تقطیع
جناب فیض احمد فیض کی زمین میں غزل لکھنا کم از کم مجھ جیسے حقیر و کوتاہ علم بندے کے بس کا روگ ہرگز نہیں ۔  ایک طرحی مشاعرے کیلئے ان کی مشہورغزل " دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کے" کی زمین میں ٹوٹے پھوٹے الفاظ  میں یہ غزل لکھنے کی کوشش کی تھی۔ یہاں اپنے بلاگ پر پیش کرنے کا مقصد اس کی بحر اوراوزان کے حوالے سے ...
thumbnail
مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ ۔ فیض احمد فیض
فیض احمد فیض صاحب کا سخن یا ان کی یہ شہرہء آفاق نظم کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ یہاں ان کی یہ خوبصورت نظم، اسکی  بحر و اوزان اوراشارات تقطیع پیش کرنے کا مقصد علم العروض، شاعری کی بحوراور اوزان کاعلم  رکھنے والے معزز احباب سے کچھ سیکھنا یا نئے لکھنے والے دوستوں تک علم بڑھانا  ہے کہ ایسے ہی سیکھنے اور سکھانے کا عمل جاری ہے ۔ مجھ سے پہلی سی ...
thumbnail
کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یاردیکھ کر۔ کلام غالب۔ بحر، اوزان اوراصولِ تقطیع
کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کر جلتا ہوں اپنی طاقتِ دیدار دیکھ کر آتش پرست کہتے ہیں اہلِ جہاں مجھے سرگرمِ نالہ ہائے شرر بار دیکھ کر کیا آبروئے عشق، جہاں عام ہو جفا رکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر آتا ہے میرے قتل کو پَر جوشِ رشک سے مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر ثابت ہوا ہے گردنِ مینا پہ خونِ خلق لرزے ہے موجِ مے تری رفتار دیکھ ...
thumbnail
سخن کا پیرہن پہنا دیا کس نے خموشی کو۔ از سیدہ سارا غزل ۔ بحر و اوزان
سخن کا پیرہن پہنا دیا کس نے خموشی کو ترستی ہے زباں گونگے دلوں کی گرمجوشی کو ہوئے آرائشِ جاں کی بدولت کو بہ کو رسوا کہ عریانی سمجھتے ہیں ہم اپنی جامہ پوشی کو جب اپنا دم گھٹا ہر دم فصیلِ شہر کے اندر نکل آئے ہیں صحراؤں میں ہم خانہ بدوشی کو شریک ِ جرم بھی اپنا نہیں اپنے سوا کوئی تو پھر کیوں کر برا کہئیے خود اپنی چشم پوشی کو مہک اٹھے گی تنہائی ...
thumbnail
بتوں کے درسے کسی کو کبھی خدا نہ ملا ۔ غزل فاروق درویش۔
     بتوں کے درسے کسی کو کبھی خدا نہ ملا ملا جسے بھی رگ ِ جاں سے ما ورا نہ ملا     خدا کو ڈھونڈ لیا ہم نے میکدے میں مگر صنم کدوں سے تمہیں کوئی ناخدا نہ ملا      سقوطِ ہجر میں آنسو پئے کہ غم کھایا مریض ِ شب کو انوکھا یہ آب و دانہ ملا     سفرہےعشق کا تنہا ہی کاٹنا ہو گا کہ اس سفرمیں کسی کو بھی دوسرا ...
thumbnail
ہم عشق زدہ سوختہ جاں ہجرگزیدہ۔ غزل فاروق درویش ۔ اوزانِ بحر،اصولِ تقطیع
 ہم عشق زدہ، سوختہ جاں، ہجر گزیدہ وہ کعبہ ء جاں حسن کہ دیدہ نہ شنیدہ    زلفوں کے حجاب اٹھے کہ میخانے کھلے ہیں آتش ہے شب ِ وصل کہ مشروب ِ کشیدہ  نورنگی ء دوراں ہے کہ نیرنگ ِ زمانہ ہر شکل ہے صد چہرہ مگر عکس ندیدہ  اک شہر ِ مقفل ہے جہان ِ شب ِ جاناں دل دشت میں بھٹکا ہوا آہوئے رمیدہ  ہم کوفہ ء احباب کے صحرا کے مسافر کہتے ہیں ہمیں اہل ...
thumbnail
یہ دل لگی بھی قیامت کی دل لگی ہوگی۔ غزل داغ دہلوی ۔ بحر و اوزان اصول تقطیع
یہ دل لگی بھی قیامت کی دل لگی ہوگی خدا کے سامنے جب میری آپ کی ہوگی تمام عمر بسر یوں ہی زندگی ہوگی خوشی میں رنج کہیں رنج میں خوشی ہوگی وہاں بھی تجھ کو جلائیں گے، تم جو کہتے ہو خبر نہ تھی مجھے جنت میں آگ بھی ہوگی تری نگاہ کا لڑنا مجھے مبارک ہو یہ جنگ و ہ ہے کہ آخر کو دوستی ہوگی سلیقہ چاہئے عادت ہے شرط اس کے لیئے اناڑیوں سے نہ ...
thumbnail
کلامِ اقبال کی زمین میں میری حسبِ حال غزل بحر و اوزان اوراصولِ تقطیع
 اقبال کی زمین میں میری غزل احباب کی نذر    اس شہر ِ صدآشوب میں اتری ہے قضا دیکھ فرعون بنے بیٹھے ہیں مسند کے خدا دیکھ      بیٹھا ہے ہما  رہزن  و غدار کے سر پر معصوم پرندے کی ہے معصوم ادا دیکھ    سوئی ہے کفن اوڑھے جو مزدور کی بیٹی افلاس کے ہاتھوں پہ جلا رنگِ حنا دیکھ     ہر لحظہ بدلتے ہوئے دستور یہ منشور قاتل کی شہیدوں کے مزاروں پہ دعا ...
thumbnail
نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی نہ کسی کو فکر رفو کی ہے۔ فیض احمد فیض ۔ بحر و تقطیع
  نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی، نہ کسی کو فکر رفو کی ہے نہ کرم ہے ہم پہ حبیب کا، نہ نگا ہ  ہم پہ عدو کی ہے   صفِ زاہداں ہے تو بے یقیں، صفِ میکشاں ہے تو بے طلب نہ وہ  صبح  ورد و  وضو کی  ہے، نہ  وہ  شام  جام و سبو کی  ہے   نہ یہ غم  نیا، نہ ستم  نیا، کہ تری  جفا  کا گلہ کریں یہ نظرتھی پہلے ...
thumbnail
روگ ایسے بھی غمِ یار سے لگ جاتے ہیں۔ غزل احمد فراز۔ بحر، اوزان و اصول تقطیع
روگ ایسے بھی غمِ یار سے لگ جاتے ہیں در سے اُٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں عشق آغاز میں ہلکی سی خلش رکھتا ہے بعد میں سینکڑوں آزار سے لگ جاتے ہیں پہلے پہلے ہوس اک آدھ دکاں کھولتی ہے پھر تو بازار کے بازار سے لگ جاتے ہیں بے بسی بھی کبھی قربت کا سبب بنتی ہے رو نہ پائیں تو گلے یار سےلگ جاتے ہیں کترنیں غم کی جو گلیوں میں اڑی پھرتی ...
thumbnail
ارض و سما کو ساغر و پیمانہ کر دیا ۔ غزل جوش ملیح آبادی ۔ بحر، اوزان و اصول تقطیع
ارض و سما کو ساغر و پیمانہ کر دیا رندوں نے کائنات کو میخانہ کر دیا اے حُسن! داد دے کہ تمنائے عشق نے تیری حیا کو عشوہء تُرکانہ کر دیا قُرباں ترے کہ اک نگہ التفات نے دل کی جھِجک کو جراءت رندانہ کر دیا صد شکر درسِ حکمتِ ناحق شناس کو ہم نے رہینِ نعرہء مستانہ کر دیا کچھ روز تک تو نازشِ فرزانگی رہی آخر ہجومِ عقل نے دیوانہ کر دیا دُنیا نے ہر فسانہ “حقیقت“ بنا ...
thumbnail
جس سر کوغرورآج ہے یاں تاجوری کا ۔ غزل میرتقی میر ۔ بحر، اوزان، اصول تقطیع
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا ہر زخمِ جگر داورِ محشر سے ہمارا انصاف طلب ہے تری بیداد گری کا اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو آئینے کو لپکا ہے پریشاں ...
thumbnail
کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو۔ مرزا غالب ۔ بحر، اوزان و اصولِ تقطیع
کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سر گراں کیوں ہو کِیا غم خوار نے رسوا، لگے آگ اس محبّت کو نہ لاوے تاب جو غم کی، وہ میرا راز داں کیوں ہو وفا کیسی کہاں کا عشق ...
thumbnail
دریوزہ گری حرفہء درویش وقلندر۔ فاروق درویش ۔ بحر و اوزان اور اصول تقطیع
  در یوزہ گری حرفہ ء درویش و قلندر کشکولیء شب پیشہ ء دارا وسکندر   غدار حرم فتنہ ء مغرب کے مصاحب خیرات ِ صلیبی ہے منافق کا مقدر   کھلتے ہیں یہ اسرار ِ قلندر سوئے مقتل ملبوس فقیری ہے فقط عشق کی چادر   آزادی ء خوش رنگ ہے بدرنگ غلامی خوں رنگ سیاست کا ہے گل رنگ مقدر   میخانہء دم مست ہے کعبہء مسلماں اک قطرہ ء انگور ہے کافر کا سمندر   ( فاروق ...
thumbnail
دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی : کلام غالب ۔ بحر، اوزان اورتقطیع
دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی دونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی شق ہو گیا ہے سینہ، خوشا لذّتِ فراغ تکلیفِ پردہ داریء زخمِ جگر گئی وہ بادہ ء شبانہ کی سر مستیاں کہاں اٹھیے بس اب کہ لذّتِ خوابِ سحر گئی اڑتی پھرے ہے خاک مری کوئے یار میں بارے اب اے ہوا ہوسِ بال و پر گئی دیکھو تو دل فریبیء اندازِ نقشِ پا موجِ خرامِ یار بھی کیا گل کتر گئی ہر بو‌الہوس ...
thumbnail
کیا موافق ہو دوا عشق کے بیمار کے ساتھ ۔ کلام میرتقی میر ۔ بحر، اوزان اور تقطیع
کیا موافق ہو دوا عشق کے بیمار کے ساتھ جی ہی جاتے نظر آئے ہیں اس آزار کے ساتھ رات مجلس میں تری ہم بھی کھڑے تھے چپکے جیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کے ساتھ مر گئے پھر بھی کھلی رہ گئیں آنکھیں اپنی کون اُس طرح مُوا حسرتِ دیدار کے ساتھ شوق کا کام کھنچا دور کہ اب مہر مثال چشمِ مشتاق لگی جائے ہے طیار کے ساتھ ذکرِ گُل کیا ہے صبا اب کے خزاں ...
thumbnail
لیلیٰ ترے صحراؤں میں محشر ہیں ابھی تک ۔ فاروق درویش ۔ بحر، اوزان اور اصولِ تقطیع
لیلیٰ ترے صحراؤں میں محشر ہیں ابھی تک اور بخت میں ہر قیس کے پتھر ہیں ابھی تک پھر ننگِ وطن جعفر و صادق ہوئے سردار میسور و پلاسی کے وہ منظر ہیں ابھی تک نیزوں پہ حسین آج بھی کرتے ہیں تلاوت اور دست ِ یزیدی میں بھی خنجر ہیں ابھی تک مفلس کے نگر رقص کرے بھوک کی دیوی زردار بنیں شاہ و سکندر ہیں ابھی تک اترے ہیں مرے دیس صلیبوں کے درندے بند آنکھیں کئے ...
thumbnail
گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے ۔۔ فیض احمد فیض، گلوں سے خون بہے بادِ اشک بارچلے ۔۔ فاروق درویش ۔ بحر، اوزان اور اصولِ تقطیع
    گلوں سے خون بہے باد ِ اشک بار چلے اٹھیں جنازے سیاست کا کاروبار چلے     فریبِ دہر ہے قاتل کی مرثیہ خوانی بنے مزارِ صنم قصرِ اقتدار چلے     چڑھے جو درد کے دریا تو حسرتیں ڈوبیں چلے جو تیر جگر چیر آر پار چلے     الٹ رہے ہیں نقاب ِ رخ ِ حیات وہی شباب جن کا لہو دے کے ہم نکھار چلے     وضو کیا تھا شبِ وصل جن ...
thumbnail
دل قلندرہے جگرعشق میں تندورمیاں. از فاروق درویش ۔ بحر، اوزان اوراشاراتِ تقطیع
دل قلندر ہے جگر عشق میں تندور میاں شوق ِ دیدار روانہ ہے سوئے طور میاں گل بدن شعلہ ء افلاس میں جل جاتے ہیں جسم بازار میں بک جاتے ہیں مجبور میاں دل کے زندانوں سے آئے گی انالحق کی صدا شہر ِ آشوب سے اٹھے کوئی منصور میاں شب کی زنجیر ہے آزادی ء گل رنگ مری صبح ِ خوں رنگ لکھے شام کے دستور میاں مر گئے شاہ سدا جینے کی حسرت لے کر ہم فقیروں ...
thumbnail
یہ بتانِ شب کی حکومتیں یہ ریاستوں کی قیادتیں ۔ فاروق درویش
یہ بتانِ شب کی حکومتیں ، یہ ریاستوں کی قیادتیں صفِ دشمناں کی رفاقتیں ہیں کہ دیر و دہر کی مورتیں نہ مکاں ملا نہ کفن سلا، بنے فاقہ کش ہیں اسیرِشب ہوئے بے لباس جو بت شکن، ملیں بت فروشوں کو خلعتیں کہیں بک گئی یہاں منصفی، کہیں سوئے دار چلی خودی کہیں زر خریدوں کے فیصلے کہیں اندھی بہری عدالتیں کبھی قتل عام  ہے صبح کا، کبھی شب تماشہء حشر ہے ہوئیں زرد شامیں لہو ...
thumbnail
بے دام ہم بکے سرِ بازارعشق میں – غزل فاروق درویش ۔ بحر، اوزان اوراشاراتِ تقطیع
    بے دام ہم بکے سر ِ بازار عشق میں رسوا ہوئے جنوں کے خریدار عشق میں    زنجیریں بن گئیں میری آزادیاں حضور زندان ِ شب ہے کوچہ ء دلدارعشق میں     درپیش پھر سے عشق کو صحرا کا ہے سفر نیزوں پہ سر سجے سوئے دربارعشق میں     خون ِ جگر سے لکھیں گے مقتل کی داستاں روشن ضمیر و صاحب ِ اسرارعشق میں    خورشید و ماہتاب سے در کی تلاش میں دشت ...
thumbnail
عشق جب بن کے خدا دل کے قریں رہتا ہے ۔ فاروق درویش
عشق جب بن کے خدا دل کے قریں رہتا ہے پھر زمانے کے کہاں زیر ِ نگیں رہتا ہے آج خوابوں کے طلسمات میں کھوئی  ہے حیات کل ہی مل جائے گی تعبیر یقیں رہتا ہے روشنی ڈھونڈنے نکلا تھا جو میخانوں میں قصرِ ظلمت میں وہ اب تخت نشیں رہتا ہے بے حجابی ہے تری مہر منور کی طرح چاند بدلی سے جو نکلے تو حسیں رہتا ہے قید ِ تنہائی سے نکلے گا تو مر جائے ...
thumbnail
نہ جنوں میں تشنگی ہے، نہ وصال ِ عاشقانہ ۔ غزل فاروق درویش۔ بحر و اوزان اور اصولِ تقطیع
    نہ جنوں میں تشنگی ہے، نہ وصال ِ عاشقانہ مری زندگی کا شاید، یہیں تھم گیا زمانہ     نہ صدا ہے محرموں کی، نہ نظر وہ ساحرانہ نہ وفا ہے دوستوں کی، نہ عطائے دلبرانہ     مرے ہجر کے فسانے ہیں مکاں سے لا مکاں تک نہ چمن نہ گل نہ بلبل نہ بہار و آب و دانہ     مرے غم کدے کی شامیں ہیں ترے بنا غریباں ہے مزاج ِ شب ...

Hit Counter provided by recruiting services
Follow

Get every new post delivered to your Inbox

Join other followers: