Category - دورحاضر کے شعرا

جواں ترنگ دورحاضر کے شعرا رموز شاعری

سخن کا پیرہن پہنا دیا کس نے خموشی کو۔ از سیدہ سارا غزل ۔ بحر و اوزان

سخن کا پیرہن پہنا دیا کس نے خموشی کو ترستی ہے زباں گونگے دلوں کی گرمجوشی کو ہوئے آرائشِ جاں کی بدولت کو بہ کو رسوا کہ عریانی سمجھتے ہیں ہم اپنی جامہ پوشی کو جب...

جواں ترنگ دورحاضر کے شعرا رموز شاعری

میں اپنے آئینہء دل کے روبرو بیٹھا : فلائیٹ لفٹیننٹ بہزاد حسن شہاب

میں اپنے آئینہ ء دل کے روبرو بیٹھا خود اپنی شکل کو تکتا ہوں ہوبہو بیٹھا مئے نظارہ کی خاطر اس انجمن میں تری لئے ہوئے میں رہا آنکھ کا سبو بیٹھا اب آنسوؤں کی رواں...