Category - کلاسیکل شاعری

رموز شاعری کلاسیکل شاعری

حسنِ مہ، گرچہ بہ ہنگامِ کمال، اچّھا ہے ۔ کلام غالب، بحر و اوزان اور اشارات و اصول تقطیع

حسنِ مہ، گرچہ بہ ہنگامِ کمال، اچّھا ہے اس سے میرا مہِ خورشید جمال اچّھا ہے بوسہ دیتے نہیں، اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچّھا ہے...

رموز شاعری ریاست اور سیاست کلاسیکل شاعری

ناوک انداز جدھر دیدہ ء جاناں ہوں گے۔ غزل مومن ۔ بحر و اوزان ، تقطیع

ناوک انداز جدھر دیدہ ء جاناں ہوں گے نیم بسمل کئی ہوں گے، کئی بے جاں ہوں گے تابِ نظّارہ نہیں، آئینہ کیا دیکھنے دوں اور بن جائیں گے تصویر، جو حیراں ہوں گے تو...

رموز شاعری کلاسیکل شاعری

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو۔ مرزا غالب ۔ بحر، اوزان و اصولِ تقطیع

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں سبک سر بن کے کیا...