بین الاقوامی تہذیبِ مشرق و مغرب حالات حاضرہ سیکولرازم اور دیسی لبرل نظریات و مذاہبِ عالم

مذہب اور سیکولر تہذیبوں کا ٹکراؤ ۔۔ تیسری عالمی جنگ ؟


سوشل میڈیا پر گستاخانہ پیجز اور ملعون ایاز نطامی برانڈ گستاخین کی مغربی سرپرستی اور ہندوتوا باگ دوڑ کے بارے علم و ادراک رکھنے والے احباب جانتے ہیں کہ سامراج و مغرب کے فتنہ گر دنیا میں شدت پسندی کی جلتی ہوئی آگ پر مذہبی منافرت کا پٹرول چھڑک کر شعلے بھڑکانے میں مصروف ہیں۔ مشہور شاعر جارج برنارڈشا نے کیا خوب کہا تھا کہ جو شخص کسی ایک انسان کا قتل کرے اسے قاتل کہتے ہیں مگر جو ہزاروں بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگتا ہے وہ فاتح کہلاتا ہے۔ آج سامراج صرف عالم اسلام کا نہیں، پورے عالم انسان کا فاتح بننے کے جنون میں پاگل ہے۔ آج دنیا کا ہولناک منظر تشویش ناک ہونے کی وجہ یہ ہے کہ سامراجی بادشاہ گر ، پوری دنیا کی تسخیر سے کم کسی مقام پر سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار ہی نہیں۔ مذہبی طبقات کیخلاف طبق جنگ بجانے والے نئے صدر ٹرمپ کے پیش رو سابق صدر اوبامہ اسلام سے مرتد ہو کر عیسائیت اختیار کی تھی ۔ لہذا پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مسلمانوں کے مجروح جذبات کے بارے ان کا ادراک ” اندھا کیا جانے بسنت بہار” کے مصداق نابینا ہونا فطری امر تھا۔
 
ابھی دو برس قبل اس کے باوجود کہ پوپ فرانسس نے بھی چالی ایبڈو کی توہین رسالت کی کھلی مذمت کی، مگر اوبامہ اس ” صحافتی دہشت گردی” کے دفاع کو مقدس فریضہ مانتے ہوئے یہودی اور مغربی تاجداروں کے ہمراہ ” میں بھی چارلی ہوں ” کا نعرہ لگا کر جنگ میں کود پڑے تھے ۔ انہوں نے کہا تھا  کہ ہم آزادیء اظہار کو تشدد سے دبانے والے ان قاتلوں اور ان کے نظریات کو شکست دیں گے جو ” معصوم افراد ” کے قتل سے اس آزادی کو تشدد سے دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔ لیکن اوبامہ کے ان ” معصوم افراد ” کو کیا خبر کہ دلِ مسلم میں جلتا ہوا چراغ عشقِ محمد کے نور ہی سے روشن ہے۔ اسلام امن کا دین ہے لیکن مغربی ” معصوم افراد ” کا گستاخانہ رحجان یہی رہا تو پھر دنیا کے امن کا خدا ہی حافظ ہے۔
 
چارلی ایبڈو کے توہین آمیز شمارے کی دوبارہ اشاعت کی حمایت میں فرانسیسی صدر کا یہ قابل نفرت بیان دراصل مغرب کی دجالی فکر اور مذاہب عالم کیخلاف ” سیکولرانہ دہشت گردی ” کا عکاس تھا کہ آزادیء اظہار پر حملے اور ہلاکتوں کے بعد چارلی ایبڈو نے ایک ” نیا جنم ” لیا ہے، چارلی ایبڈو اور اس کی اقدار زندہ ہیں اور زندہ رہیں گی” ۔ مغربی قیادت کے مطابق مسلمان انتہا پسندی، بنیادی پرستی اور عدم برداشت کا شکار ہیں، جبکہ سیکولرازم تمام مذاہب کی عزت کرتا ہے۔ جبکہ آج بھی امریکہ اور مغربی استعمار کی طرف سے توہین رسالت کی کھلی حمایت سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ اور مغرب کے اسلام دشمن اتحاد نے سیدنا عیسی علیہ السلام کی تعلیمات اور اپنے مذہبی پیشواؤں کے فلسفہء باہمی رواداری سے بغاوت کا اعلان کر کے امن کی متلاشی دنیا پر ” سیکولرازم کا ایٹم بم ” چلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انتہائی خطرناک امر ہے کہ دوسری طرف مسلمان طبقات کی بار بار شدید مذمت دراصل دو تہذیبوں کے ٹکراؤ سے شروع ہونے والی اُس جنگ کا ابتدائی طبل بجا دیا ہے، جس کیلئے کبھی نائین الیون اور کبھی پیرس حملوں جیسے خود ساختہ سامراجی ڈرامے سٹیج کئے جا رہے ہیں۔
 
مشرق کے مغربی آقا اسلامی ریاست و معاشرت کو اقدارِ خیر کی ضمانت اور احساس تحفظ دینے میں ناکام رہے ہیں۔ سامراج و مغرب جمہوری اقدار، انسانی حقوق کی پاسداری اور بین المذاہب امن و اخوت کا دعوی رکھنے کے باوجود دنیا کو متحد کرنے کے بجائے منقسم در منقسم کر رہی ہیں۔ معاشی اور سیاسی سطح پر استحصالی رویہ رکھنے والی مغربی تہذیب کی سب سے خطرناک روش، اپنی مذہبی اقدار سے بغاوت میں سیکولرازم کی طرف جھکاؤ اور اقوام عالم کے مذہبی استحصال کیلئے بڑھتا ہوا جنون ہے۔ مغرب کی خود اپنے مذہب سے دوری اور دوسروں کے مذاہب کے عدم احترام کے باعث مغربی تہذیب اورعالمی امن تیزی سے رو بہ زوال ہیں ۔ خود مغرب کی مذہب پسند قوتیں بھی اپنے پیرانِ خرابات کی فرعونیت کے باعث ہونے والی تباہی کے منظر سے پریشان ہیں مگر مغرب و سامراج کے ماڈرن فرعون اپنی ابلیسی روش پر قائم، استحصال انسانیت ، تذلیل غلاماں اور توہینِ مذاہب جیسی ہر عالمی دہشت گردی میں ضدی رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ سرد جنگ میں کیمونزم کی شکست کے بعد اب سرمایہ دارانہ نظام کے جادوگروں کی تہذیبوں کو جس زوال اور ناکامی کا سامنا ہے، آج اس کا علاج کسی امریکی اور مغربی دانشور کے پاس بھی موجود نہیں۔
 
عالمی مبصرین کے مطابق تیسری جنگ عظیم کا سبب تہذیبوں کا تصادم ہو سکتا ہے۔ بیسویں صدی میں برطانوی مورخ نائن بی نے تہذیبوں کے تصادم کیلئے ” انکاؤنٹر آف سولائزیشن ” کی اصطلاح استعمال کی تو آج یہودی سکالر برنارڈ لیوس نے ” انکاؤنٹر” کو ” کلیش ” کا درجہ دیا ۔ جبکہ سیموئل ہٹنگٹن کی شہرہ آفاق کتاب ” کلیش آف سولائزیشن ” نے عالمی آویزش کے تصور کو جنگی جنون کی حد تک پہنچا دیا ۔ فرانسس فوکویاما کی ’’خاتمہء تاریخ ” میں عالمی مستقبل کو جس نگاہ سے پیش کیا گیا ، اس کے مطابق آخرکار عالمی اقتدار ایک ” یک محوری قوت ” کے ہاتھ میں چلا جائے گا اور باقی ماندہ دنیا اس مرکزی ” مقتدر اعلی” ریاست کی ایک نوآبادی بن کر رہ جائے گی۔
 
مغرب کے نزدیک اس آویزش کا علاج صرف ان کے مفادات کی ضامن اس گلوبلائزیشن میں مضمر ہے۔ جس میں عالم اسلام اور تیسری دنیا کی ہر ریاست کی معشیت و تہذیب اور ان کا مذہب و عقیدہ ان عالمی فرعونوں کی مرضی و مزاج کا غلام ہو۔ وہ اپنی عسکری قوت اور اقتصادی غلبے کے بل بوتے پر پوری دنیا کو ایک ایسا گلوبل ویلیج دیکھنا چاہتے ہیں جس پر انکی ایسی حکمرانی ہو، کہ محکوموں کی تہذیب کا رنگ اور مذہب کا پیرہن ان کی منشا کے مطابق ہو۔ مگر عالم اسلام اور خاص طور پر افریشیائی مسلمانوں کی نئی نسل مذہب اورعقائد کی وہ نئی تعبیر چاہتی ہے جو دین محمدی کے بنیادی افکار سے متصادم نہ ہو ۔ مونہہ زور مغربی طاقتوں نے تسخیرِ کائنات کے اس سفر میں جہاں گیری اور جہاں داری کا درجہ تو حاصل کیا ہے مگر وہ جہاں بانی اور جہاں آرائی کے منصب سے کلی محروم ہیں۔ بقول اقبال ۔۔
جہانبانی سے ہے دشوار تر کارِ جہاں بینی… جگر خون ہو تو چشمِ دل میں ہوتی ہے نظر پیدا
 
آج فرانس یا امریکہ ہی نہیں پورا مغرب مذہب سے دوری اور سیکولر ازم کے جنون میں مبتلا ہے۔ مذہب سے فرار کے رحجان نے مغربی تہذیب کو غلاظت کے جوہڑ میں ڈبو کرایک ایسا خون آلود خنجر بنا کر رکھ دیا ہے جس کی پیشین گوئی حضرت اقبال نے ” تمہاری تہذیب خود اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی ” کی صورت میں کر دی تھی۔ مغرب کی مذموم توہین رسالت اور پاکستان میں توہین رسالت کے قوانین کیخلاف ابلیسی مہمات کا مقصد مسلمانوں کو مغرب کی طرح دین سے دور مادر پدر آزاد دیکھنے کی ابلیسی تمنا ہے۔ مشرق کے مغربی و سامراجی آقا اس حقیقت سے واقف ہیں کہ امت مسلمہ کی اصل طاقت عشق رسول اور اسلامی نظریات کی پیروی کی مرہون منت ہے۔
 
مذہب سے دور سیکولرازم کے طلسم اور اخلاقی حدود سے ماورا جنسی آزادی کے طوفان میں غرق مغرب کیلئے تعجب کی بات نہیں کہ چارلی ایبڈو کے دیس فرانس میں پندرہ سالہ لڑکی کو من پسند مردوں سے جنسی تعلقات رکھنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ مذہب کے باغی اوبامہ کو ” فیملی سیکس” کی بدترین و قبیح روش کی شکار مغربی تہذیب میں باپ بیٹی اور بہن بھائی کے قابل صد نفرت جنسی تعلقات پر بھی کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن مذہب و اخلاقی اقدار کے پابند مسلمان، عیسائی یا دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کو اس دو رنگی پر تعجب ہے کہ مغربی خواتین کو جسم فروشی اور قحبہ خانوں کی اجازت ہے مگر اسی مغرب میں مسلم خواتین کو حجاب کی اجازت نہیں۔ نائٹ کلبوں اور شراب خانوں پر تو کوئی پابندی نہیں لیکن کئی اداروں میں مسلمانوں کو نماز کیلئے وقت نہیں دیا جاتا۔ دنیا کے ہر مذہب سے تعلق رکھے والوں کو حیرت ہے کہ خود امریکہ و مغرب میں توہین مسیح کی سزا تو عمر قید ہے مگر پیغمبراسلام کی توہین کرنے والوں کو ریاست کی بھی حمایت حاصل رہتی ہے
 
دور حاضر میں جو بھی بدامنی و شدت پسندی رواج پا رہی ہے اس کے اسباب اور مقاصد پراسرار رازوں کی طرح پردہ بہ پردہ چھپے ہیں۔ ہر دن بدلتی ہوئی صورت حال سے جڑی ہر ایک کڑی بظاہر کچھ اور نظر آتی ہے لیکن اس کی اصل وجوہات اور دجالی مقاصد کچھ اور ہی ہوتے ہیں۔ کوئی بھی شخص اعالمی سازشوں کے اس گورکھ دھندے کو آسانی سے نہیں سمجھ سکتا۔ ہٹلر نے درست کہا تھا کہ میں جس فتنے کا بھی پیچھا کرتا ہوں اس کے آخری سرے پر کوئی نہ کوئی یہودی ضرور کھڑا ہوتا ہے۔ پہلے نائن الیون اور اس جیسے دوسرے واقعات اور اب پیرس حملوں میں بھی یہودی کردار سامنے آ چکے ہیں۔ آزاد خیال امریکہ میں ہم جنس پرست شادیوں کے قانون کی منظوری دینے والے سیکولر مزاج و مرتد صدراوبامہ شاید قوم لوط کے شہر سدوم پر برسنے والی آگ اور پتھروں کی بارش کے عذاب الہی سے ناواقف ہیں ۔
 
توہین رسالت کے مرتکب گروہوں کو ” معصوم افراد” قرار دینے والے لبرل سامراج اور سیکولر مغرب کی مشترکہ عالمی سازش کے تحت مذاہب عالم کیخلاف توہین آمیز رویوں اور تہذیبوں کی نظریاتی کشمکش سے جس ہولناک ٹکراؤ کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں ، وہ امن پسند دنیا کیلئے انتہائی تشویش ناک ہیں۔ جہاں عالمی اقوام کی باہمی مفادات کی جنگ سے پیدا معاشی و معاشرتی ظلم اور استحصال نے دنیا میں شدت پسندی کو فروغ دیا ہے۔ وہاں سیکولر برانڈ مغرب کے مذاہب عالم پر حملے، امن پسند مسلمانوں کا استحصال اور توہین قرآن و رسالت کے مذموم سلسلے، دنیا کو تہذیبوں کے ہولناک ٹکراؤ اور اس خون آشام تیسری عالمی جنگ کی طرف لئے جا رہے ہیں جس میں کل عالم انسان جل کر خاکستر ہو جائے گا ۔۔۔۔ ہاں کہ ہم مسلمان فطری طور پر امن پسند ہیں لیکن ہم عاشقین مصطفے کیلئے ناموس رسالت مآب کے حوالے سے کوئی کمپرومائز نہیں ۔۔۔۔ الامان الحفیظ ۔
فاروق درویش –واٹس ایپ کنٹیکٹ 00923224061000
 
اپنی رائے سے نوازیں

Featured

%d bloggers like this: