بین الاقوامی تاریخِ عالم و اسلام

صلیبی جنگیں اور تاریخ سیاہ ست ۔ حصہ اول


احباب تاریخ  اسلام کے حوالے سے میرے اس  تحریری سلسلے کا مقصد اہل  وطن اور خصوصاً نئی نسل کو اپنی عظیم الشان اسلامی تاریخ کے ان لازوال  و روشن کرداروں کی ایمان افروز جدوجہد کا بھولا ہوا سبق یاد دلانا  ہے، جو دہشت گرد یا شدت پسند نہیں تھے لیکن ان  کی طاقت ایمانی کی ہیبت سے دنیائے کفر و باطل اورعالم صلیب و دہر لرزاں تھے۔ عالم اسلام کے اتحاد کے داعی  ان اہل ایمان غلامان مصطفوی و مرتضوی راہبروں کی سیرت و غیرت سے اقوام عالم میں ناموس و مرتبہء ملت اسلامیہ بلند و بالا تھا۔ موجودہ دور میں روشن خیالی اور امن پسندی کے نام پرایک سوچی سمجھی صلیبی سازش کے تحت مجاہدین ملت سلطان صلاح الدین ایوبی، ٹیپو سلطان اور حکیم الامت علامہ اقبال کے بارے مضامین تعلیمی نصاب سے خارج کر کے سرحدی گاندھی باچا خان جیسے ننگ وطن کرداروں کو قومی ہیرو قرار دینے والے مضامین شامل کیے جا رہے ہیں۔ مقصد نئی نسل کو تحریک آزادی کے حقائق و واقعات سے لاعلم اور اپنے ملی و قومی ہیروز کی جہدوجہد آزادی اور جذبہ جہاد وحب الوطنی سے سے دور رکھنا ہے۔ سامراج اور صلیبی  بادشاہ  گروں کے احکامات کے تابع حکمرانوں کا انداز غلامی و جی حضوری یہی رہا تو قومی امکان ہے کہ مستقبل کی نصابی کتب میں قائداعظم اور علامہ اقبال کی جگہ الطاف حسین اور ملالہ یوسف زئی کے حالات زندگی اور البیرونی اورعمر خیام کے علمی کارناموں کی بجائے مادھوری ڈکشٹ کے ہوش ربا رقص، شاہ رخ خان کی اداکاری اور وینا ملک کے فنون بوس و کنار پر بھی مضامین پڑھنے کو ملیں گے۔

ارض فلسطین اور بیت المقدس سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہہ کے زمانہ ء خلافت میں فتح ہوا۔ جس کے بعد پانچ سو برس سے زیادہ عرصہ تک یہ مقدس سر زمین مسلمانوں کے قبضہء حکومت میں رہی۔ یاد رہے کہ اس دور کے مسلمان حکمرانوں کے دل اور ضمیر قبضہء فرنگ میں نہیں تھے۔ ان کا تکیہ و ایمان کائنات کی حقیقی مقتدر اعلی ذات الہی پر اور جانان واموال رضائے قدرت پر قربان ہونے کیلیے ہمہ وقت تیار تھے۔ وہ اپنے خالق حقیقی کے کلی تابعدار، نبیء آخرالزماں ص کے وفادار، دین برحق کے جانثار اور ملک و ملت کے حقیقی غمخوار تھے۔ وہ اہل ایمان اکابرینِ ریاست حقوق اللہ اور حقوق العباد سے ہر حال باخبر اورخدمت خلق، رموز سیاست، عنان ریاست اور فنون حرب سے مکمل آشنا تھے۔ لہذا عیسائیوں کو اس زمانہ دراز تک اس خطہء مقدس پرمسلم قبضے کے خلاف سر کیا آواز تک اٹھانے کی جرات نہ ہوئی۔ لیکن گیارھویں صدی کے آخر میں سلجوقی سلطنت کے زوال کے آغاز میں خطہء ترک و عرب میں پھیلی خانہ جنگی اور طوائف الملوکی سے مسلم امت کو ایک پرچم تلے اکٹھا کرنے والی آخری قوت کا بھی خاتمہ ہونے لگا تو اسلام دشمنی سے بھرے اہلیان یورپ نے اسے موقع غنیمت جانتے ہوئے بیت المقدس کو مسلمانوں سے واپس لینے کی دیرینہ صلیبی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کا آغاز کیا۔

زمانہء خلافت راشدہ و ما بعد کی پے در پے شکستوں کے انتقام کی آگ میں جلتے، مذہبی جنگی جنون میں مبتلا عیسائیوں نے گیارویں صدی آخر سے لیکر تیرھویں صدی آخر تک خطہء عرب، ارض فلسطین اور بالخصوص بیت المقدس پر عیسائی قبضہ بحال کرانے کیلیے یورپ کے جنونی عیسائیوں نے مسلمانوں کے خلاف جو جنگیں لڑیں انہیں تاریخ عالم میں “صلیبی جنگوں“ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ امت اسلامیہ کو بنیاد پرست کہنے والے متعصب و منافق عیسائیوں نے فلسطین اور شام کی حدود میں یہ جنگیں اپنی مذہبی بنیاد ” صلیب” کے نام پر لڑ کر ازخود اپنے بنیاد پرست ہونے کا عملی ثبوت فراہم کیا ۔ صلیبی جنگوں کا یہ سلسلہ ایک طویل خوں ناک عرصہ تک جاری رہا۔ ہر جنگ میں ہزیمت آمیز شکست کے بعد انتقام کی آگ میں جھلسے ہوئے عیسائیوں نے ایک سو ستر برس کے دوران نو بار مذہب اور مقدس صلیبی جہاد کے نام پر ملت اسلامیہ  کیخلاف طبل جنگ بجایا۔ مگر ہر بار شرمناک شکست ان کا مقدر اور دیار عرب میں مقدس سپاہوں  کے قبرستان ان کا انجام بد رہے ۔ مذہبی بالادستی، تعصب اور انتقام کی بنیاد پر لڑی گئیں ان صلیبی جنگوں میں انتہائے تنگ نظری ، مذہبی و نسلی تعصب ، کھلی بدعہدی ، انسانیت سوز بداخلاقی اور درندہ صفت سفاکی کا جو مظاہرہ، امن کے نام نہاد علمبردار مغرب کے ان جنگی جنونی عیسائیوں نے کیا وہ امن اورانسانی حقوق کے ٹھیکیداروں کی پیشانی پر ایسا شرمناک و بدنما داغ ہے جس کا  مرثیہ عالمی نقاد ہی نہیں خود یورپی مورخین بھی پڑھتے ہیں۔

صلیبی جنگوں کی شروعات اوران کے مذہبی و سیاسی اسباب کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ مغرب کے عیسائیت نے  ہر فتنے کو پروان چڑھانے کیلئے  خود ساختہ ڈراموں کا سہارا لیا ہے۔  ان جنگوں کی شروعات کیلئے ماحول کو گرمانے کیلئے پورے یورپ میں ایک افواہ پھیلا دی گئی کہ حضرت عیسی علیہ السلام دنیا میں دوبارہ نزول فرما کر عیسائیوں کے سب مصائب کا خاتمہ فرمائیں گے لیکن ان کا نزول اس وقت ہوگا جب یروشلم کا مقدس شہر اور بیت المقدس مسلمانوں کے “غاصبانہ قبضہ ” سے آزاد کرا لیا جائے گا۔ اس من گھڑت  عقیدے کی جنونی تشہیر نے پوری دنیا کے عیسائیوں کے مذہبی جوش اور جنگی جنون میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی  پادریوں نے یہ خود ساختہ نظریہ بھی عام کر دیا کہ اگر کوئی چور اچکا، بدمعاش اور بدکردار شخص بھی بیت المقدس کی زیارت کر آئے گا تو وہ بھی جنت کا عین مستحق ہوگا۔ لہذا اس ابلیسی عقیدے کی بنا پر بڑے بڑے بدکردار لوگ بھی مقدس زائر بن کر بیت المقدس آنا شروع ہوگئے۔ شہر مقدس میں داخل ہوتے وقت وہ شراب مے نشہ میں بدمست، بین باجوں کی دھنوں پر والہانہ رقص اور شوروغل کرتے ہوئے اپنی طاقت و برتری کا اظہار کرتے تھے ۔ ان عیسائی زائرین کی ان نازیبا حرکات، سیاہ کاریوں ، بدنظمی اور امن سوز سرگرمیوں کی وجہ سے شہر کی مسلمان انتظامیہ کی طرف سے ان پر کچھ اخلاقی حدود اور پابندیاں لگا دی گئیں۔ لیکن ان فتنہ گر زائرین نے واپس جا کر اسے مسلمانوں کے ظلم اور زیادتیوں کے من گھڑت افسانوں کی صورت میں نشر کر کے مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز ماحول پیدا کرنے اور عیسائیوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے میں شیطانی کردار ادا کیا۔

قارئین یاد رہے کہ مغربی نقادوں کے مطابق بھی، اس وقت دنیا بھر کے عیسائی نظریاتی اور مسلکی اعتبار سے دو حصوں میں تقسیم ہو چکے تھے۔ پوپائے روم کے مغربی کلیسا کے زیر اثر پہلے حصے کا مرکز روم تھا۔ جبکہ مشرقی یا یونانی کلیسا کہلانے والے دوسرے حصے کا مرکز موجودہ ترکی کے شہر قسطنطنیہ میں واقع تھا۔ دونوں مکاتب فکر کے چرچ کے ماننے والے عیسائی، آج کے مسلمان مسالک دین کے پیروکاروں کی طرح ایک دوسرے کے زبردست نظریاتی مخالف تھے۔ پوپائے روم مغرب کے ساتھ مشرقی کلیسا کی سربراہی بھی حاصل کر کے ساری عیسائی دنیا کا واحد و مشترکہ روحانی پیشوا بننے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ اہل اسلام کو بنیاد پرست، مذہبی جنونی اور جہادی شدت پسند جیسے خودساختہ نام دینے والے اہل مغرب اوراسلامی جہاد و شہادت کے حوالے سے جنت اور حوروں کی نسبت سے فحش و شرمناک کہانیاں لکھنے والے لبرل فاشسٹ حضرات کیلئے صیبی جنگوں کی شروعات کی تاریخ ایک زور دار طمانچے سے کم نہیں۔ امت مسلمہ پر شدت پسندی اور مذہبی جنیویت کا الزام لگانے والے کیونکر جھٹلا سکتے ہیں کہ وہ عیسائیوں کا روحانی پیشوا پوپائے روم ہی تھا جس نے اپنی فطری اسلام دشمنی کے علاوہ اپنے مذموم مذہبی و سیاسی عزائم کو پورا کرنے کیلیے مذہبی جنونیت اور شدت پسندی میں ڈوبا یہ دجالی اعلان کیا تھا کہ ساری دنیا کے عیسائی شہر یروشلم اور بیت المقدس کو مسلمانوں کے غاصبانہ قبضے سے آزاد کروانے کیلیے تیر و تلوار لیکر اٹھ کھڑے ہوں۔

اہل یورپ اور ان کے سیکولر و روشن خیال حواریوں کو یاد رہے کہ یہ  جہاد کے شہیدوں اور مقام بہشت کو تمسخرانہ کلمات کا نشانہ بنانے والے عیسائیوں کے چیف پاردی کا ہی آتش فشانی فتوی تھا کہ جو عیسائی اس  جنگ میں مارا جائے گا، اس کے سب گناہ دھل جائیں گے اور وہ جنت کا عین حقدار ہوگا۔ جنگ میں جیتے ہوئے مال غنیمت کو مسلم لوٹ مار قرار دینے والے سیکولر و فاشسٹ حضرات، پوپائے روم کے یہ الفاظ تاریخ سے کیسے مٹا پائیں گے کہ عیسائیت کی فتح کے بعد مسلمانوں سے جو مال و زر حاصل ہوگا وہ ان میں برابر تقسیم کر دیا جائے گا۔ مذہبی اکابرین کے ان جنگی فتووں کے بعد عیسائی دنیا مسلمانوں کے خلاف دیوانہ وار اٹھ کھڑی ہوئی۔ تاریخ کا سچ یہی ہے کہ صلیبی جنگوں کا اصل محرک مغربی یورپ کے کلیسا کا سربراہ پوپ اربن ثانی ایک مذہبی جنونی، شدت پسند، جاہ پرست اور جنگ باز فطرت رکھنے والا مذہبی رہنما تھا۔ جب یورپ کے حکمرانوں میں اس کا وقار کم ہونا شروع ہوا تو اس عیار و مکار شخص نے اپنی ساکھ بحال کرنے اور پوری عیسائیت کی مذہبی گدی کے حصول کیلیے عیسائیوں میں مذہبی جنگی جنون پھیلانا شروع کر دیا۔ دراصل وہ بھی امرکی صدر بش و اوبامہ کی طرح جنگ و جدل سےعیسائیوں کی بالادستی اور مسلمانوں کو تقسیم کر کے ان کی شکست و ریخت کا قائل تھا۔ تاریخ عالم ثابت کرتی ہے کہ ملت اسلامیہ کیخلاف نفرت پھیلا کر پوری عیسائی دنیا کو مذہبی جنگوں کی آگ میں جھونک دینے والا عیسائیوں کا مذہبی پیشوا پوپائے روم ہی دراصل مغرب کی اسلام دشمنی، مذہبی جنونیت اور شدت پسندانہ رویوں کا اصل بانی و محرک اورعالمی امن کا سب سے بڑا دشمن تھا۔

قابل توجہ ہے کہ نہ تو اس وقت مسلمانوں نے کسی عیسائی ریاست پر حملہ کیا تھا اور نہ ہی دور جدید میں افغانستان، عراق، لیبیا جیسے کسی مسلمان ملک نے کسی امریکی یا مغربی ریاست کیخلاف جارحانہ کاروائی کی ہے۔ صلیبی جنگوں کے دور میں بھی مغرب کے عیسائیوں کے مقدس لشکر ہزاروں میل دور مسلمان ریاستوں اور مقامات مقدسہ پر حملہ آور ہو کر حقیقی شدت پسند اور مذہبی دہشت گرد ثابت ہوئے اور آج بھی امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی ہزاروں میل دور سے درانداذ ہو کر اسلامی ریاستوں پر غاصبانہ قبضہ جمائے بیٹھے، عالم اسلام سے ازلی دشمنی نباہ کر اپنے صلیبی آبا و اجداد کی مذہبی و جنگی تقلید میں ازخود عیسائیوں کو دنیا کے بدترین دہشت گرد اور قاتلان امن ثابت کر رہے ہیں۔ پر امن عالم اسلام کے دفاعی و جہادی نظریات پر دجالی تنقید کرنے والے اس وقت کے پرامن مسلمانوں کیخلاف پوپائے روم پوپ اربن دوئم کے اس مقدس” اعلان جہاد ” کو بھی یاد رکھیں۔ جس کے بعد یکے بعد دیگرے چار عظیم الشان لشکر بیت المقدس کی فتح کا عزم لیے روانہ ہوئے۔ راہب پیٹر کی سپہ سالاری میں تیرہ لاکھ عیسائیوں کا ایک انبوہ کثیر قسطنطنیہ کیلیے روانہ ہوا۔ ان غنڈہ گردوں نے راستہ میں جگہ جگہ اپنی ہی ہم مذہب عیسائی برادری کو بھی بڑی بیدردی سے قتل و غارت کر کے لوٹ مار کا نشانہ بنایا۔ اس صلیبی لشکر کے راستے میں جو بھی انسانی بستی آئی وہاں نوجوان لڑکیوں اور عمر رسیدہ عورتوں کی سرعام آبروریزی کی گئی ۔ حتی کہ کمسن بچے تک ان جنونی ابلیسوں کے جنسی تشدد سے محفوظ نہ رہے ۔

بلغاریہ سے گزرنے کے بعد جب یہ درندے قسطنطنیہ پہنچے تو رومی بادشاہ نے ان کی قتل و غارت اور اخلاق سوز حرکتوں کی وجہ سے زبردستی ان کا رخ ایشیائے کوچک کی طرف موڑ دیا۔ جونہی یہ عیسائی لشکراسلامی حکومت کے زیرنگیں علاقے میں داخل ہوا، سلجوقی حکمران قلج ارسلان نے اسے تہہ و بالا کر کے  ایک کثیر تعداد کو قتل کر دیا، سو صلیبیوں کی یہ مہم کلی طور پر ناکام و نامراد رہی۔ صلیبیوں کا دوسرا بڑا جنگی گروہ ایک جرمن سپہ سالار راہب گاؤس فل کی قیادت میں روانہ ہوا۔ پہلے صلیبی لشکر کی طرح شراب و شباب کے نشے میں بدمست غنڈہ گردی اور مشرقی یورپ میں اپنی ہم مذہب عیسائی دوشیزاؤں کی عزتیں تار تار کرنے والے یہ جنونی جنگجو جب ہنگری سے گزرے تو ان کی بد فطرتی اور اخلاقی بدکاریوں سے تنگ آ کر اہل ہنگری نے ان کو کچلتے ہوئے اپنے ملک سے باہر دھکیل دیا سو یہ دوسری  جماعت بھی پہلے لشکر کی طرح عبرت ناک انجام کو پہنچی۔ صلیبیوں کے تیسرے جنگی گروہ میں انگلستان ، فرانس اور فلانڈرز کے جنگجو رضاکار اس مقدس جنگ کیلیے روانہ ہوئے۔ ان جنگی رضاکاروں کے ہاتھوں دریائے رائن اور موزیل کے کئی ایک شہروں کے عیسائی اور یہودی نشانہ ء ظلم  و ستم بنے۔ دوسرے عیسائی لشکر کی طرح یہ ابلیسی لشکری بھی جب ہنگری سے گزرے تو بے باک اور منظم اہل ہنگری نے ان کا مکمل صفایا کرکے ہنگری کی سرزمین کو ان کا قبرستان بنا دیا۔

سب سے منظم اور زبردست چوتھا صلیبی لشکر اس دور کے جدید سامان حرب سے لیس دس لاکھ مقدس جنگجوؤں پر مشتمل تھا۔ اس ہیبت ناک لشکر میں انگلستان ، فرانس، جرمنی ، اٹلی اور جزائرسسلی کے نامور جنگجو سردار اور ریاستی شہزادے بھی شامل تھے۔ اس متحدہ فوج کی کمان ایک شہزور فرانسیسی سپہ سالار گاڈ فرے کے سپرد تھی۔ خوفناک ٹڈی دل کا یہ لشکر ایشیائے کوچک کی طرف روانہ ہوا۔ مشہور شہر قونیہ کا محاصرے ہونے کے بعد سلجوقی حکمران قلج ارسلان نے شکست کھائی ۔ کسی طوفان کی مانند پیش قدمی کرتے ہوئے یہ عیسائی انطاکیہ پر بھی قابض ہو گیے۔ جہاں حسب معمول تمام مسلمان آبادی کو تہ تیغ کرتے ہوئے ان مقدس جنگجوؤں نے اہل اسلام پر ہر حد سے تجاوز کرنے والے وہ شرمناک مظالم ڈھائے کہ تاریخ کے اوراق پڑھ کرہی انسانیت کی روح کانپ اٹھتی ہے۔ بچے بوڑھے اورجوان یا عورتیں، کوئی بھی ان کی جنسی ہوس، شیطانیت اور سفاکیت سے بچ نہ پایا ۔ یوں قلیل وقت میں ایک لاکھ سے زائد نہتے مسلمان شہری بیدردی سے قتل کر دیے گیے ۔ مابعد یہ فاتح لشکر شام کے متعدد شہروں میں قتل و غارت اور قبضہ کرتے ہوئے اہم شہر حمص پہنچ گیا۔ حمص پر قبضہ کرنے کے بعد صلیبیوں نے اپنے اصل حدف بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا۔ چونکہ فاطمی ریاست کی طرف سے شہر کے دفاع کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہ کیا گیا تھا سو انہیں کسی کڑی یا منظم مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اور پھر چشم مسلم پھوٹ پھوٹ کر روئی کہ 15 جون 1099ء کو ان مذہبی جنونی “امن پسندوں” نے بڑی آسانی سے مسلمانوں کے قبلہء اول بیت المقدس پر قبضہ کر کے صدیوں سے سلگتی انتقام کی آگ خون مسلم سے بجھائی۔

اس  جنگ میں  پوپ اربن دوئم کی “خودساختہ جنت” کے حصول کیلیے نکلے، مقدس عیسائی جہادیوں نے، بیت المقدس کی حرمت و تقدیس کو پامال کرتے ہوئے اس شہر کے ” جائے پیدائش مسیح ” ہونے کا بھی کوئی احترام و لحاظ نہ کیا ۔ ستر ہزار سے زائد مسلمانوں کا انتہائی  وحشیانہ قتل عام کرنے کے بعد  تمام مال و اسباب لوٹ لیا گیا۔ مسلمان ہی نہیں یورپی  مورخین بھی ان شرمناک مظالم کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔ غیر جانبدار ناقدین کے مطابق  ان جہادی جنگجو عیسائیوں کا اس وقت کے پرامن مسلمانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک اس حلیمانہ رویہ سے بالکل برعکس تھا جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کچھ صدیاں پہلے فتح بیت المقدس کے موقع پر اس مقدس شہیر کے عیسائیوں کے ساتھ اختیار کیا تھا۔ بیت المقدس کی فتح اور نواحی علاقہ جات پر قبضے کے بعد فرانس سے تعلق رکھنے والے سفاک کمانڈر  گاڈ فرے کو بیت المقدس کا بادشاہ بنا دیا گیا۔ مفتوحہ اسلامی علاقوں کی بندر بانٹ کر کے انہیں برادر عیسائی مملکتوں میں بانٹ دیا گیا۔ جس میں طرابلس، انطاکیہ اور شام کے علاقے شامل تھے۔ صلیبی جنگوں کے آغاز میں اس  تکلیف دہ اور مختصر دورانیے کی شکست کے اسباب بھی وہی تھے جن کا شکار دور حاضر کا عالم اسلام آج بھی ہے۔ یعنی امت اسلامیہ کی باہمی نا اتفاقی و ناچاکی، اسلامی ریاستوں میں نظم و نسق کا فقدان اور سدا بہار سیاسی انتشار کا عمل تھا۔ لیکن اس کے بعد عمادالدین زنگی ، نورالدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی نے دوسری سے لیکر نویں صلیبی جنگوں کے اگلے صلیبی لشکروں کے ساتھ جو دندان شکن اور آہنی سلوک کیا اس کا دکھ اور تکلیف سابقہ امریکی صدر بش کی نائین الیون کے بعد کی گئی اس تقریر میں محسوس کی جا سکتی ہے۔

سابقہ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے قصر ابیض میں ایک خطاب کے دوران وار اگینسٹ ٹیرر کو مقدس صلیبی جنگ کا نام دیا تھا۔ 16 ستمبر 2001ء کو اپنے خطاب کے دوران صدر بش نے کہا۔۔۔۔۔۔” ہم امریکیوں کو کل اپنے کام کاج پر واپس جانے کی ضرورت ہے اور ہم جائیں گے۔ لیکن ہمیں بیحد مستعد اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کے خبیث لوگ اب تک بھی موجود ہیں۔ ہم نے ایک طویل عرصے سے اس طرح کی بربریت نہیں دیکھی۔ کوئی شخص اس بات کا تصور بھی نہ کر سکتا تھا کہ ایسے خود کش حملہ آور ہمارے ہی معاشرے میں چھپ بیٹھیں رہیں گے اور پھر ایک ہی دن اپنے ہوائی جہاز، ہمارے امریکی ہوائی جہاز، اڑا کر معصوم لوگوں سے بھری عمارات سے ٹکرا دیں گے اور کسی قسم کی پشیمانی ظاہر نہیں کریں گے۔ اس صلیبی جنگ ، دہشت گردی کے خلاف جنگ کا طبل بجنے جا رہا ہے۔ اور امریکی عوام کو صبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ میں بھی صبر کا مظاہرہ کروں گا۔ لیکن میں امریکی عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ میں ثابت قدم ہوں، اور پیٹھ نہیں دکھاؤں گا۔ میری توجہ اس امر پر مرکوز ہوگی کہ نہ صرف ان کو بلکہ ان کی مدد کرنے والے سب افراد کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لاؤں۔ جو دہشت گردوں کو پناہ دیں گے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اب وقت آن پہنچا ہے کہ ہم 21 ویں صدی میں اپنی پہلی جنگ فیصلہ کن انداز میں جیتیں، تاکہ ہمارے بچے اور ہماری آنے والی نسلیں 21 ویں صدی میں پرامن انداز میں رہ سکیں “۔

میری نظر میں صدر بش کی یہ تقریر مسلمانوں کیخلاف اس دسویں صلیبی جنگ کا اعلانیہ طبل جنگ تھا جو افغانستان و وزیرستان کے کوہساروں اور عراق و شام کے مزاروں سے ہوتی ہوئی اب ترکی کے دیاروں تک جا پہنچ رہی ہے۔  صدر بش، باراک اوبامہ اور نیٹو کے صلیبی لشکروں کے سلگتے ہوئے دکھ اور کرب کا اصل سبب، دوسری سے نویں صلیبی جنگوں تک بندگان حق عمادالدین زنگی، نورالدین زنگی اور فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبی کی یلغاروں کی لہو گرما دینے والی داستانان سرفروشاں اور ان کے آبا و اجداد کے جنونی صلیبی لشکروں کی ہزیمت آمیز شکستوں کے حوالے سے  اس سلسلہء تحریر کا حصہ دوئم  شائع کر دیا گیا ہے ( جاری ہے)۔

نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر، عرب و عجم کا اتحاد ِعالم ِ اسلام وقت کی اشد  ضرورت ہے

فاروق درویش — واٹس ایپ ۔۔ 3224061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

2 Comments

Click here to post a comment

Leave a Reply

  • بہت خوبصورتی سے تاریخ کو ایک تحریر میں سمویا ہے – یہ نام ، یہ شخصیتیں اب کہاں ذہنوں میں باقی رہ گئیں؟ باطل بہت سرگرداں ہے اور ہم غفلت کی قبروں دفن پڑے ہیں- پتہ نہیں یہ مردہ دل، مردہ ضمیر اور بےحس غلام قوم کب جاگے گی؟

    • برادر عظیم جاوید ہمیں بحرحال اپنے حصے کا فرض اور امت کا قرض ادا کرنا ہے۔ اللہ سبحان تعالیٰ مردہ دلوں کو زندہ کرنے والا مقتدر اعلی ہہے۔ سدا خوش آباد و خوش مراد

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

Featured

%d bloggers like this: