تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ ریاست اور سیاست

جمہوریت اور آمریت کے دیسی اور بدیسی دلال


خبر و اخبار سے اندازہ ہوتا ہے کہ  شاہانِ رائیونڈ اور بنی گالہ کے نیے پاکستان کے انقلابی  لیڈر،  خطے کے حساس حالات و واقعات سے بے خبر صرف تخت بچانے اور تاج  پانے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ امریکہ نے جن افغان طالبان کو خطرناک دہشت گرد قرار دیکر افغانستان میں سولہ سال  تک غاصبانہ قبضہ  رکھ کر پاکستان کے عسکری اداروں اور معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا،  آج  صدر اوبامہ کے مطابق وہ سب افغان کمانڈر دہشت گرد نہیں ۔ کل تک جن  مطلوب ” دہشت گردوں ”  پر ڈرون حملوں میں  معصوم اور نہتے  لوگ  مر رہے تھے ، آج انہی القاعدہ  و  طالبان  پر آئیندہ  کوئی حملہ نہ کرنے کے خیر سگالی بیانات امریکی منافقت اور دوغلے کردار کی کہانی سنا رہے  ہیں ۔ امریکہ کی اس ” یو ٹرن پہ یو ٹرن ” پالیسی ہی سے ہمارے سیاست دانوں نے بھی زمانے کو بیوقوف بنانے کی ”  کامیاب سیاست ” کے جدید انداز سیکھے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ خان کی یو ٹرن سیاست کو سمجھنے کیلئے ” عمرانیات “ میں ایم فل کرنا ضروری ہے۔ لیکن خان صاحب کو سمجھنے کیلئے دراصل امریکی بازی گروں کی شیطانی سرکس کے مضمون میں پی ایچ ڈی سے پہلے جمہور کی اس نگری کی مچھلی منڈی میں سرگرداں سیاسی ہرکاروں اور بدیسی دلالوں کا کردار سمجھنا ضروری ہے ۔

 قومی و ملی غیرت باقی ہو تو  امریکہ بھارت گٹھ جوڑ کی نئی سازشوں سے بے نیاز سیاستدانوں کیلئے سابق امریکی سفیر رابرٹ بلیک ول کا بھارتی حمایت میں یہ دھمکی آمیز بیان ہی کافی ہے کہ ، ”  دہشت گرد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ملک میں آئندہ دہشت گردانہ حملے کی صورت میں پاکستان کے خلاف طاقت کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر بھارت میں کوئی بڑا دہشت گردانہ حملہ ہوا اور اس کی کڑیاں پاک فوج یا پھر آئی ایس آئی سے ملتی ہوئی نظر آئیں  تو مودی فوری طور پر پاکستان کیخلاف فوجی طاقت کے استعمال کو ترجیح دینگے “۔ ۔ امریکی پریس اور پنٹاگون اہلکاروں کی طرف سے افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کے بارے مسلسل  ہرزا سرائی ان امریکیوں کی غلاظت آلودہ خصلتِ بے وفا اور پاکستان دشمنی کا عیاں ثبوت ہے۔ یہود و نصاری کے مشترکہ  حواری بھارت کی حمایت میں امریکی جنونِ وفا اس حد تک ترقی پذیر ہے کہ  کل کو مودی کی لیڈٰی سیکریٹری کے حاملہ ہونے پر اس  کی ” عزت افزائی ” کا الزام بھی لشکر طیبہ یا آئی ایس آئی کے سر تھوپا جا سکتا ہے۔ اپنی فوج اور عسکری اداروں سے والہانہ محبت رکھنے والی پاکستانی قوم  اس امریکی دھمکی کی سخت مذمت کرتی ہے،  مگر افسوس کہ کسی بھی غیرت مند قومی لیڈر کو اس امریکی بڑھک کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ شاید ان سب لیڈروں کیلئے ” ہنوز دلی دوراست ” ہے ۔ لیکن اب ہمارے حکمرانوں کیلئے ایسا سوچنا اور امریکی تھنک ٹینک کا ایک ایٹمی طاقت پاکستان کو مودی کے بھارت دیش کا ترنوالہ سمجھ کر انڈر اسٹیمیٹ کرنا انتہائی خطرناک حماقت ثابت ہو گا کہ ہمارے ایٹمی میزائیل کسی شو کیس میں سجانے کیلئے نہیں ۔ ۔ ۔

نئے اور پرانے یاروں کے مسلسل ڈنگ اور سیاسی دلالوں کی سازشوں کا شکار ہو کر گوشہ نشین ہوئے جاوید ہاشمی  کہتے ہیں  کہ زرداری کی سیاست کو سمجھنے کیلئے پی ایچ ڈی ضروری ہے۔ مگر میرے مطابق زرداری کو سمجھنے کیلئے اس نوشیرواں عادل کی تاریخ پڑھنا ضروری ہے، جس نے تاج و تخت کیلئے اپنے اٹھارہ بھائیوں کو موت کی نیند سلا دیا تھا ۔ صرف زرداری ہی نہیں پاکستان کے سب  سیاست دانوں  کے دوغلانہ کردار اور ست رنگی سیاست کو سمجھنے کیلئے، ” حصول تخت ” اور ” غداریء ملک و ملت ” کے مضمون میں پی ایچ ڈی سے مہان ڈگریاں بھی ناکافی ہوں گی۔ جس ملک میں شیخ  رشید جیسے اقراری  زنا کار اور سیاست کی پراگندا منڈی کے  ضمیر فروش دلال ہی انقلابی تحریکوں کے محرک ٹھہریں ، وہاں رحمت خداوندی نہیں عذاب الہی نازل ہوتے ہیں۔  یہ خبر ایک الگ موضوع بحث  اور سوالیہ نشان ہے کہ سعودی عرب  نے  ملا قادری کے سعودیہ میں داخلے پر پابندی کن طاقتوں کی ہدایات پر اٹھائی ہے۔  لیکن یہ  خبر بھی کسی چتاؤنی سے کم نہیں کہ  سونامی خان اور ملا  قادری کے درمیان انقلابی دلال کا کردار ادا کرنے والے  فتنہ خیز شیخ رشید  نے سعودی عرب  میں خوابوں والی سرکار سے طویل ملاقات کی  ہے ۔ پلوں کی تعمیر کے ماہر صاحبان اقتدار کیلئے اجمل نیازی صاحب  کی  یہ گہری بات ” مشتری ہوشیار باش ”  جیسا اعلان ہے کہ ” پہلا پل خستہ اور کمزور ہو گیا ہے۔ اب دوسرے پل کی تعمیر کا کام جاری ہے”۔ مگر خیال رہے کہ اگر یہ نیا پل تعمیر ہوا تو پھر اس پر سے ملکی معیشت و افلاس کا تازہ جنازہ یا سیاسی گاڑیوں اور انقلابی دلالوں کی ریل کی بجائے ٹینکوں کی ہیوی ٹریفک بھی گزر سکتی ہے۔

 اجمل نیازی صاحب کے کالم کی ان سطور میں بڑے گہرے پیغامات اور کئی سوالیہ نشانات بھی ہیں کہ ، ” ضرب المثل ہے کہ بدترین جمہوریت بھی آمریت سے اچھی ہے۔ اس کیلئے بھی کئی تنازعات ہیں اور عمران خان نے تو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ جنرل مشرف کی آمریت موجودہ جمہوریت سے بہتر تھی؟ بہرحال سیاست دان کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی اچھی صورت حال پیدا ہو۔ جمہوریت کے ثمرات عام لوگوں تک پہنچیں اور سلطانی جمہور کا زمانہ آئے۔ لوگ خوشحال ہوں اور قانون کی حکمرانی ہو۔ لوگ حکمرانی کو اپنے گھر کی رانی نہ بنا لیں۔ ایسے زمانے کی امید رکھنا چاہئے “۔ ۔  موجودہ مفلس شکن حالات میں ایسی ننگِ اوصاف جمہویت کا کسی غریب دوست آمریت سے بہتر ہونا ایک مذاق لگتا ہے۔ ہاں شاید اس غیرت مند ایوب خان کی آمریت آج کی اس جمہوریت سے واقعی بدرجہہ بہتر تھی جس نے چینی کی بوری میں صرف دو روپے کے اضافے سے عوامی ردعمل میں ” ایوب کتا ہائے ہائے ” کے ایک نعرے پر دو دن میں تاج و تخت چھوڑ دیا تھا۔ مگر مشرف جیسے سامراجی کٹھ پتلی کی آمریت کو کسی جمہوریت سے بہتر قرار دینے کے الفاظ  تو خان صاحب کے ہیں لیکن ان کے پس پردہ  اصل محرک تحریک انصاف میں جوق در جوق شامل ہونے والی وہ مشرف باقیات ہی ہیں جو خان صاحب کو اپنے اشاروں پر نچا کر کروڑوں کو تگنی کا ناچ  نچوا رہی ہیں۔ ایسے مفار پرست لوگ جمہوریت ہو یا آمریت،  ہر دور میں صرف بے پیندے لوٹے اور سیاسی دلال کہلائے جاتے ہیں۔ میرے نزدیک سیاست دانوں کی دیرینہ و حالیہ کوششیں محمد شاہ رنگیلے جیسی احمقانہ سعیء بیکار اور ان حالات میں بہتری کی کوئی امید،  دشت عشق کے مجنوں کی بے چراغ شب ہجر میں صبحِ وصلِ لیلیٰ کی امید جیسی ہے۔ ماچس لئے بندروں کے ہاتھ آئے ہوئے پاکستان کے سیاسی جنگل میں سلطانیء جمہور کے زمانے کا مزا بھی خدانخواستہ فاقہ کش فقیروں کی بے مراد قضا کے سوا کچھ نہ ہو گا  ۔ ۔

 پٹرول کے بحران اور موسم گرما سے پہلے سردی کے ” ائرکنڈیشنڈ سے بے نیاز ” موسم میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے حکومت کی بہترین ٹیم اور کاذب وعدوں کا بھانڈا سر راہے پھوڑ دیا ہے۔ عوامی فلاح و بہبود سے بے نیاز رائیونڈی  تاجداروں کو آج بھی اس سیفما برانڈ خوشامدی دانشور ٹولے اور عاصمہ جہانگر جیسی بال ٹھاری داسیوں کی خلوتوں سے فرصت نہیں جن کی مشاورتیں ماضی میں سول حکومت اور عسکری اداروں کے ٹکراؤ کی وجہ تھیں۔ جب تک عاصمہ جہانگیر، حامد میر اور نجم سیٹھی جیسے کردار  وڈے اور چھوٹے  میاں صاحب کے گرد ڈیرا ڈالے ہیں ، حکمرانوں کے تکبر و رعونت میں کمی اور جمہوریت گاڑی کی بے ہچکولہ روانی ناممکن ہے۔ مستقبل کے ممکنہ سیاسی منظر نامے کے حوالے سے یہ معاملہ بھی ابھی تک پراسرار و پر تجسس ہے کہ پاکستانی ملکہ قلوپطرہ بننے کی امیدوار ریحام خان کا اصل صلیی مشن کیا ہے اور تحریک انصاف میں ان کا سیاسی کردار کیا ہو گا۔ لیکن صبح کا  پیر،  رات کا سامراجی مرید شاہ محمود قریشی،  میڈم ہم جنس پرستی فوزیہ قصوری، گستاخ قرآن و اسلام گویا سلمان احمد بحر حال اپنے اپنے دجالی کردار بخوبی نبھا رہے ہیں۔ خان صاحب کو اس غیر سیاسی حقیقت کا  ضرورخیال رہے کہ جہاں ہم سب کی عقل فہم و فراست اور وجد و وجدان کا اختتام ہوتا ہے وہاں سے مالک کائنات کی قدرت کا آغاز ہوتا ہے۔  میرا دعوی ہے کہ  جب تک تحریک انصاف میں ایسے اسلام دشمن و گستاخانہ کردار اور فتنہ انگیز جمہوری دلال موجود ہیں،  خان صاحب کی کامیابیوں اور تحریک انقلاب کے مشن میں افلاک سے خیر و برکت ممکن ہی نہیں ۔

 آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ کوئی جرات مند کالم نگار اور حق پرست دانش ور بھی  قوم کو درپیش کشان عشق کے سفر میں کسی راہنما  کا پتہ  اور مفلسانِ وطن کے مرض الموت کا علاج بتانے سے قاصر ہے۔ حرف آخر یہی ہے کہ انسانوں کی سیاست کے اس حیوانی باڑے میں بھی بھینسیں ہی بھینسوں کی بہنیں ہیں ۔ سیاسی افہام و تفہیم کے نام پر اقتدار کی بندر بانٹ کے گورکھ دھندے  کے ساتھ ساتھ  دیسی و بدیسی دلالوں کی سیاسی دوکانداری بھی چلتی رہے گی ۔ یقین نہ آئے تو دیکھ لیجئے گا کہ کراچی کے بلدیہ ٹاؤں میں بھتہ نہ ملنے پر فیکٹری کو آگ لگا کر تین سو افراد کو وحشیانہ انداز میں زندہ جلا  دینے والے شہرہ آفاق بھتہ خور مجرموں کی شناخت ہمیشہ ” نامعلوم افراد” ہی رہے گی ۔ اور پیشہ ور قاتل اسی گورنر ہاؤس میں مقیم  رہیں گے جہاں کبھی کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی اور اقتدار کی بتی بھی کبھی جاتی ہی نہیں ۔ ۔ ۔ ۔

( فاروق درویش – 03224061000 )

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: