بین الاقوامی تاریخِ عالم و اسلام تاریخِ ہند و پاکستان سیکولرازم اور دیسی لبرل نظریات و مذاہبِ عالم

جاوید چوہدری کے قصیدہء احمقیہ کے جواب میں


محترم جاوید چوہدری صاحب!  دو مغربی پیاروں ڈاکٹر عبدالسلام اور ملالہ یوسف زئی کے حوالے سے آپ کا تعریفی کالم نظر سے گزرا تو انتہائی افسوس اور بیحد دکھ ہوا۔ بلاشبہ آپ ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہیں اور فتنہء قادیانیت کے زبردست مخالف بھی رہے ہیں ۔ سو ممکن ہے قادیانیت کے بارے نرم گوشہ رکھنے والی اس محبت بھری تحریر کی وجہ آپ پر فتنہء قادیانیت کے بااثر گروہ، ان کے میڈیا برانڈ حواریوں یا قاداینیوں اور ملالہ جی کے مشترکہ سرپرست مغربی بادشاہ گروں کا کوئی دباؤ ہو۔   لیکن نبیء آخرالزماں ص کا امتی پاکستانی ہونے کے ناطے میں بھی بے خوف و خطر اصل حقائق سے پردہ اٹھانے اور تفصیلی جواب کا حق رکھتا ہوں۔

چوہدری صاحب آپ نے لکھا ہے کہ ” ڈاکٹر عبدالسلام نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنس دان تھے‘ یہ قادیانی مذہب کے ساتھ تعلق رکھتے تھے اور یہ پاکستانی آئین کے مطابق اقلیت اور غیر مسلم تھے لیکن یہ غیر مسلم ہونے کے باوجود پاکستانی تھے اور ان کا نوبل انعام پاکستان کا اعزاز تھا‘ ڈاکٹر صاحب کی کہانی انتہائی دلچسپ تھی‘ ڈاکٹر عبدالسلام ساہیوال کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے‘ والد جھنگ میں معمولی ملازم تھے “۔

جاوید چوہدری صاحب قادیانیت صرف آئین پاکستان ہی نہیں قرآن و شریعت کے مطابق کفر اور زندیقیت ہے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام کو اپنی جماعت کی خدمات پر ’’فرزند احمدیت‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ اپنی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد کے حکم پر 1966ء سے انجہانی ہونے تک قادیانی مجلس افتاء کا باقاعدہ ممبر رہا۔ اس زندیق کا ماموں حکیم فضل الرحمن بیس سال تک گھانا اور نائیجریا میں قادیانیت کے دجالی مذہب کا باقائدہ مبلغ رہا۔ ڈاکٹڑ عبدالسلام کا باپ چوہدری محمد حسین جنوری 1941ء میں انسپکٹر آف سکولز ملتان ڈویژن کے دفتر میں بطور ڈویژنل ہیڈ کلرک تعینات ہوا۔ اپنی ہی بیٹی سے مونہہ کالا کرنے والے دوسرے قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے اسے قادیانی جماعت ضلع ملتان کا امیر مقرر کیا۔ اس ملعون نے خانیوال میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر قادیانی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم اور نبیء کاذب مرزا قادیانی کا (نعوذ باللہ) موازنہ شروع کیا تو اجتماع میں موجود مسلمانوں میں کہرام مچ گیا اور انھوں نے اشتعال میں آ کر پورا جلسہ ہی الٹ دیا۔ چند نوجوانوں نے چوہدری محمد حسین کو پکڑ کر اس کی جوتوں سے پٹائی بھی کی۔ پولیس نے گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا لیکن دو دن بعد ملتان میں ایک قادیانی اعلیٰ پولیس افسر کی مداخلت پر رہا کر دیا گیا۔

چوہدری صاحب آپ نے لکھا کہ ” ڈاکٹر صاحب کا بچپن انتہائی غربت میں گزرا‘ ابتدائی تعلیم جھنگ سے حاصل کی‘ اعلیٰ تعلیم کے لیے گورنمنٹ کالج میں داخل ہوگئے‘ پنجاب حکومت نے دوسری جنگ عظیم کے دوران عوام پر وار ٹیکس لگا رکھا تھا‘ 2 ستمبر1945ء کو جنگ ختم ہو گئی‘ پنجاب حکومت نے وار ٹیکس ختم کر دیا مگر یہ ٹیکس ختم ہوتے ہوتے بھی صوبائی خزانے میں ٹھیک ٹھاک رقم جمع ہو گئی‘ اس وقت پنجاب کے وزیراعظم خضر حیات ٹوانہ تھے‘ ٹوانہ صاحب نے یہ فنڈ انگریز سرکار کے حوالے کرنے کے بجائے یہ رقم پنجاب کے ذہین طالب علموں کی تعلیم پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا‘ ڈاکٹر عبدالسلام اس وقت گورنمنٹ کالج سے ریاضی میں ایم ایس سی کر رہے تھے اور یہ پنجاب کے ذہین طالب علموں کی فہرست میں شامل تھے‘ پنجاب حکومت نے انھیں بھی وظیفہ دے دیا‘ یہ اس وظیفے سے کیمبرج یونیورسٹی گئے‘ انھوں نے وہاں سے فزکس اور ریاضی میں ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی کی”۔

جاوید چوہدری صاحب آپ ایک نامور صحافی ہیں سو آپ کیلئے میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ اپنی ساکھ کو قائم رکھنے کیلئے تاریخ اور خصوصی طور پر خضر حیات ٹوانہ جیسے انگریزغلام غداریں ملک و ملت کے بارے اپنا مطالعہ وسیع تر کریں۔ آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ سردار خضر حیات ٹوانہ انگریزوں کی کٹھ پتلی اور قائد اعظم کی مخالف سیاسی جماعت یونینسٹ پارٹی کا بانی تھا۔ قائد اعظم کے جیالے مسلمان اس ملعون کیخلاف مظاہروں میں اس کے فرضی جنازے اٹھائے پھرتے تھے۔اس بدبخت غدار نے قائد اعظم کی مسلم لیگ کے جلوسوں پر لاٹھی چارج ہی نہیں ہندوؤں کے ذریعے پتھر بھی برسوائے تھے جن میں ایک مسلمان طالب علم عبدالمالک شہید بھی ہوا تھا۔ اس مسلم لیگی جلوس میں تحریک پاکستان کے نامور کارکن اور نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی، جناب ڈاکٹر منیرالدین چغتائی اور جناب ڈاکٹر رفیق احمد بھی شریک تھے۔ محمد مالک شہید کے خون کے قطرے جناب مجید نظامی کی قمیض پر بھی پڑے تھے کہ اس شہید طالب علم نے نظامی صاحب کے بازوؤں میں ہی جان جان آفرین کے سپرد کی تھی۔ آپ کے علم میں اضافے کیلئے یہ بھی عرض ہے کہ وزیر اعظم پنجاب کی حیثیت سے خاکسار تحریک کے جلوس پر گولی چلانے کا حکم دیکر ان کا قتل عام کرنے والا غدارِ مسلم بھی سردار خضر حیات ٹوانہ ہی تھا ۔ لہذا اگر اس غدار سردار خضر حیات ٹوانہ نے اپنے آقا انگریزوں کے ایک دوسرے بغل بچے اور یہو و نصاریٰ کے سپوت ڈاکٹر عبدالسلام کو وظیفہ دیا تو یہ اس نے اپنے انگریز مالکوں کے ہی ایک دوسرے گماشتے کی مدد کر کے دراصل اپنے مشترکہ اسلام دشمن آقاؤں سے وفاداری کا حق ادا کیا تھا۔ اورآپ یہ حقائق بھی جانتے ہی ہوں گے کہ آج سرگودھا میں سردار خضر حیات ٹوانہ کے بال بچے جس لمبی چوڑی جاگیر کے مزے لوٹ رہے ہیں وہ سب زمینیں بھی انگریزوں کی طرف سے ان غداریوں کے صلے میں ہی عطا کردہ ہیں۔

چوہدری صاحب آپ نے ایک ننگ دین و وطن صلیبی گماشتے قادیانی کے بارے لکھا کہ  ” یہ 1951ء میں پاکستان آئے اور گورنمنٹ کالج لاہور میں ملازمت اختیار کر لی‘ یہ ریسرچ کرنا چاہتے تھے لیکن ہمارے معاشرے کا کمال ہے یہ سینہ ٹھونک کر اہل لوگوں کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے‘ گورنمنٹ کالج کی انتظامیہ بھی ڈاکٹر صاحب کے خلاف سینہ سپر ہو گئی‘ ڈاکٹر صاحب نے پرنسپل سے درخواست کی، آپ مجھے ایک چھوٹی سی لیبارٹری بنا دیں میں وہاں ریسرچ کرنا چاہتا ہوں، پرنسپل نے اس درخواست پر ’’عمل‘‘ کرتے ہوئے انھیں فٹ بال ٹیم کا کوچ بنا دیا‘ ڈاکٹر صاحب نے احتجاج کیا تو انھیں ہاسٹل کا وارڈن بنا دیا گیا‘ ڈاکٹر صاحب تنگ آ گئے اور یہ1954ء میں انگلینڈ شفٹ ہو گئے‘ ہمیں ماننا پڑے گا ہمارے دشمن معاشرے علم‘ ذہانت‘ برداشت اور اعلیٰ ظرفی میں ہم سے بہت آگے ہیں‘ یہ ذہین لوگوں کو مذہب سے بالاتر ہو کر پذیرائی دیتے ہیں “۔

چوہدری صاحب یہ بات ہر مسلمان کے علم میں ہے سو ضرور آپ کے علم میں بھی ہو گی کہ مرزا غلام احمق قادیانی کے دور کفر سے ہی گوروں کی بھرپور سپورٹ کے ساتھ قادیانیوں کی طرف سے دجالی تبلیغ کا سلسلہ جاری ہے۔ آج انٹر نیٹ کے عام ہونے کے بعد وہ سلسلہ سوشل میڈیا اور سائبر پلیٹ فارمز تک پھیل چکا ہے۔ آج یہ زندیق سوشل میڈیا کے ہر کونے ہر فورم پر بھی اپنی دجالی تبلیغ کا نیٹ ورک چلا رہے ہیں ۔ آج بھی ملک کے طول عرض کی یونیورسٹیوں اور کالجوں سے قادیانی طلبا کی طرف سے خفیہ قادیانی تبلیغ کے حوالے سے خبریں چھپتی رہتی ہیں۔ جس دور میں ڈاکٹر عبدالسلام گورنمنٹ کالج کا ملازم تھا اس دور میں قادیانیوں کو کافر قرار نہیں دیا گیا تھا سو یہ لوگ اپنی تبلیغ میں آج کی نسبت آزاد اور فعال تر تھے ۔ چوہدری صاحب میں بھی گونمنٹ کالج لاہورکا طالب علم رہا ہوں، سو عبدالسلام کے اس دور ملازمت میں اسی کالج کے طالب علم رہنے والے میرے ایک معزز پروفیسر کی زبانی مجھےجو حقائق پتہ چلے تھے ان کے مطابق، گورنمنٹ کالج لاہور کی اس وقت کی انتظامیہ، اساتذہ اور طالب علم جس وجہ سے اس قادیانی سپوت سے نالاں و رنجیدہ تھے وہ اس کے مرزا غلام احمقی خمیر کے اندر موجود وہ زندیقانہ غلاظت تھی جو ہر قادیانی کی دجالی فطرت میں شامل ہے اور رہے گی ۔ دوسرے قادیانی زندیقوں کی طرح یہ ملعون بھی کالج میں قادیانیت کی دجالی تبلیغ کا مبینہ نیٹ ورک بنانے کیلئے کوشاں تھا۔ جس کے باعث مسلمان طلبا اور اساتذہ میں قادیانیت مخالف جذبات کا بھڑکنا اور اس قادیانی سپوت سے ان سب کی نفرت عین فطری ردعمل تھا۔

چوہدری صاحب آپ نے بڑی معصومت سے اس قادیانی سپوت کو معصوم و مظلوم گردانتے ہوئے لکھا کہ ” ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی غیر مسلم برطانیہ نے عزت‘ نوکری اور ریسرچ کا بھرپور ماحول دیا‘ ڈاکٹر صاحب نے اس ریسرچ کی بنیاد پر 1979ء میں فزکس کا نوبل انعام حاصل کیا‘ یہ پاکستان اور سائنس دونوں کے لیے اعزاز کی بات تھی مگر پاکستان میں یہ اعزاز قادیانیت کی نذر ہوگیا‘ ہم نے اس اعزاز کو مرتد قرار دے کر قبول کرنے سے انکار کر دیا اور یوں ڈاکٹر صاحب جان‘ عزت اور علم بچانے کے لیے غیر ملک میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے”۔

محترم جاوید چوہدری صاحب میں نہیں جانتا کہ کیا آپ یہ بھی جانتے ہیں یا نہیں کہ آپ کے محبوب یہودی بغل بچے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کی دوسری عیسائی بیوی ڈیمی لوئیس جانسن ایک مصدقہ اسرائیلی ایجنٹ تھی جو 2012 تک مرتے دم تک اسرائیلی پالیسیوں کی تشہیر و حمایت کرتی رہی۔ 1968 میں لندن میں ڈاکٹرعبدالسلام قادیانی سے شادی کرنے والی یہی عیسائی عورت  دراصل اس ڈاکٹر اور یہودی آقاؤں کے درمیاں رابطوں کا پل بنی رہی ۔ امت مسلمہ کے خلاف سازشوں کے صلے میں انعام کے طور پر اس اسلام دشمن عیسائی خاتون پر بھی زندگی بھر تمام مغربی اعزازات اور یہودی عنایات کی دیوی مہربان رہی۔ اس عیسائی خاتون کی کوکھ سے جنم لینے والے دو  ڈاکٹری نطفے آج بھی اپنے اسلام دشمن ماں باپ کی طرح یہودی لابی کیلئے سرگرم ہیں۔ آپ اتنے بھی بھولے نہیں ہیں کہ یہ بھی نہ جانتے ہوں کہ اپنے بنائے گئے دجالی مذہب فتنہء قادیانیت کے اسلام دشمن نیٹ ورک کو انگلستان کی زرزمین پر مرکزی ہیڈکواٹرز، فنی اورافرادی قوت فراہم کرنے والے بھی یہی گورے ہیں جنہوں نے ہر اسلام دشمن اور اینٹی پاکستان کو اپنے دیس میں صرف ریڈ کارپٹ استقبال کے ساتھ پناہ ہی نہیں بلکہ اپنی ممتا جیسی مخملی گود اور سنہری میزبانی بھی فراہم کی ہے۔ چوہدری صاحب اپنی معلومات درست کیجئے کہ ڈاکٹر عبدالسلام کو کسی نے نکالا نہیں بلکہ وہ پاکستان کو دھتکار کر خود اپنے آقاؤں کے دیس بھاگ گیا تھا ۔

یاد دلانا چاہتا ہوں کہ 10 ستمبر 1974ء کو ڈاکٹر عبدالسلام نے وزیراعظم کے سائنسی مشیر کی حیثیت سے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے سامنے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ اس کی وجہ اس نے اس طرح بیان کی: ’’آپ جانتے ہیں کہ میں احمدیہ (قادیانی) مذہب کا ایک رکن ہوں۔ حال ہی میں قومی اسمبلی نے احمدیوں کے متعلق جو آئینی ترمیم منظور کی ہے، مجھے اس سے زبردست اختلاف ہے۔ کسی کے خلاف کفر کا فتویٰ دینا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ کوئی شخص خالق اور مخلوق کے تعلق میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ میں قومی اسمبلی کے فیصلہ کو ہرگز تسلیم نہیں کرتا لیکن اب جبکہ یہ فیصلہ ہو چکا ہے اور اس پر عملدرآمد بھی ہو چکا ہے تو میرے لیے بہتر یہی ہے کہ میں اس حکومت سے قطع تعلق کر لوں جس نے ایسا قانون منظور کیا ہے۔ اب میرا ایسے ملک کے ساتھ تعلق واجبی سا ہوگا جہاں میرے فرقہ کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہو۔‘‘ ۔ فروری 1987ء میں ڈاکٹر عبدالسلام نے امریکی سینٹ کے ارکان کو ایک چٹھی لکھی کہ ’’آپ پاکستان پر دباؤ ڈالیں اور اقتصادی امداد مشروط طور پر دیں تاکہ ہمارے خلاف کیے گئے اقدامات حکومت پاکستان واپس لے ۔ 30 اپریل 1984ء کو قادیانی جماعت کا سربراہ مرزا طاہر احمد قادیانی آرڈیننس مجریہ 1984ء کی خلاف ورزی پر مقدمات کے خوف سے بھاگ کر لندن چلا گیا۔ رات کو لندن میں اس نے مرکزی قادیانی عبادت گاہ ’’بیت الفضل‘‘ سے ملحقہ محمود ہال میں غصہ سے بھرپور جوشیلی تقریر کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبدالسلام مرزا طاہر کے سامنے صف اوّل میں بیٹھا ہوا تھا۔

چوہدی صاحب آپ نے فرمایا کہ ” اٹلی نے کروڑوں ڈالر خرچ کر کے ٹرائیسٹ میں نظری طبیعات کا ادارہ بنایا اور ڈاکٹر عبدالسلام کو اس انسٹی ٹیوٹ کا پہلا ڈائریکٹر تعینات کر دیا اور ڈاکٹر صاحب آخری عمر تک اس انسٹی ٹیوٹ میں دنیا بھر کے سائنس دانوں کو فزکس اور نوبل انعام لینے کی ٹریننگ دیتے رہے‘ شاعر مشرق علامہ اقبال کے صاحبزادے ڈاکٹر جاوید اقبال ایک بار ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کے لیے ٹرائیسٹ گئے‘ ڈاکٹر صاحب نے انھیں گلے لگایا اور رونا شروع کر دیا‘ ان کا کہنا تھا دنیا بھر سے لوگ مجھ سے ملنے آتے ہیں مگر آپ پہلے پاکستانی ہیں جو مجھ سے ملاقات کے لیے آئے‘ کاش میں اپنے ملک جا سکتا”۔ “

یہ بات اہل علم سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اسرائیل کے معروف یہودی سائنس دان یوول نیمان کے ڈاکٹر عبدالسلام سے دیرینہ تعلقات رہے ۔ یہ وہی یوول نیمان ہیں جن کی سفارش پر تل ابیب کے میئر نے وہاں کے نیشنل میوزیم میں ڈاکٹر عبدالسلام کا مجسمہ یادگار کے طور پر رکھا۔ معتبر ذرائع کے مطابق بھارت نے اپنے ایٹمی دھماکے اسی یہودی سائنس دان کے مشورے سے کیے جو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ یوول نیمان امریکہ میں بیٹھ کر براہ راست اسرائیل کی مفادات کی نگرانی کرتا رہا ہے۔ اسرائیل کے لیے پہلا اٹیم بم بنانے کا اعزاز بھی اسی شخص کو حاصل ہے۔ پاکستان ہمیشہ اس کی ہٹ لسٹ پررہا تھا اور اس سلسلے میں اس نے بھارت کے کئی خفیہ دورے بھی کئے تھے۔ یہ بھی واضح رہے کہ امریکی کانگریس کی بہت بڑی لابی اس وقت یوول نیمان کے لیے نوبیل پرائز کے حصول کے لیے کوشاں رہی تھی۔ اس کی زندگی کا پہلا اور آخری مقصد امت مسلمہ کو نقصان پہنچانا رہا ۔ سو وہ ہمیشہ اپنے نصب العین کے حصول کے لیے ہر وقت مسلمانوں کے خلاف کسی نہ کسی سازش میں مصروف رہتا تھا ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ تل ابیب یونیورسٹی اسرائیل کے شعبہ فزکس کا سربراہ بھی رہا ہے۔ اس سے پہلے یہ شخص اسرائیل کا وزیر تعلیم و سائنس و ٹیکنالوجی بھی رہا۔ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام پر اس کی خاص نظررہی ۔

چوہدری صاحب اور وہ لوگ کہ جن کی آنکھوں میں ڈاکٹر قدیر خان کانٹا بن کر چبھتا پے، یہ  چشم کشا حقائق کیسے جھٹلائیں گے کہ ، ڈاکٹر عبد السلام کے بھارتی لیڈر نہرو کے ساتھ گہرے دوستانہ مراسم تھے۔  نہرو نے ڈاکٹر عبدالسلام کو کھلی آفر کی تھی کہ آپ انڈیا آ جائیں، ہم آپ کو آپ کی مرضی کے مطابق ادارہ بنا کر دیں گے۔ اس پر ڈاکٹر عبدالسلام نے کہا کہ ’’میں اس سلسلہ میں اٹلی کی حکومت سے وعدہ کر چکا ہوں لہٰذا معذرت چاہتا ہوں لیکن آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے وہاں کے سائنس دانوں سے تعاون کروں گا۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام کی بھارتی ’’خدمات‘‘ کے عوض ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ برائے بنیادی تحقیق بمبئی، انڈین نیشنل سائنس اکیڈمی نئی دہلی اور انڈیا اکیڈمی آف سائنس بنگلور کے منتخب رکن رہے۔ گورونانک یونیورسٹی امرتسر ، نہرو یورنیورسٹی بنارس ، پنجاب یونیورسٹی چندی گڑھ  نے انہیں ’’ڈاکٹر آف سائنس‘‘ کی اعزازی ڈگریاں دیں۔ کلکتہ یونیورسٹی نے انہیں سر دیو پرشاد سردادھیکاری گولڈ میڈل اور انڈیشن فزکس ایسوسی ایشن نے شری آرڈی برلا ایوارڈ دیا۔ اب گورے یا بھارتی کن ہستیوں کو اور کیوں اپنے اعلی ایوارڈز دیتے ہیں اس کے بارے آپ اور میں ہی نہیں، سارا عالم خوب واقف ہے۔

چوہدری صاحب آپ نے فرمایا کہ ” ہم مسلمان ہیں‘ ہم نبی اکرم کو آخری نبی مانتے ہیں اور میرے سمیت اس ملک کا ہر شخص دل سے یہ سمجھتا ہے ہمارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک ہم اللہ اور اس کے رسول کو اپنے آپ‘ اپنی آل اولاد اور زمین جائیداد سے زیادہ اہمیت نہ دیں ‘قادیانیوں کو غیر مسلم بھی سمجھتے ہیں لیکن یہ اس کے باوجود پاکستانی شہری ہیں اور انھیں اس ملک کی دوسری اقلیتوں کی طرح تمام حقوق حاصل ہیں مگر ہم مذہب‘ عقائد اور نظریات میں اس قدر آگے چلے جاتے ہیں کہ ہم ان لوگوں کی شہریت تک سے منحرف ہو جاتے ہیں‘ ہم انھیں پاکستانی اور بعض اوقات انسان تک ماننے سے انکار کر دیتے ہیں اور ہمارا یہ رویہ صرف چند اقلیتوں تک محدودنہیں بلکہ ہم کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت اپنی نفرت اور حسد کی صلیب پر چڑھا دیتے ہیں اور اس کے بدن میں نفرت کی کیلیں ٹھونک دیتے ہیں “۔

چوہدری صاحب آپ ہی بتائیں کہ جو زندیق اقلیت آئینِ پاکستان اور قوانینِ عالمِ اسلامیہ کے مطابق خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم ہی نہ کرے بلکہ خود کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کے فیصلے پرآن ریکارڈ دورانِ بحث قانون ساز اسمبلی اور ما بعد ابتک اس متفقہ علیہ آئینی اورشرعی فیصلے کے خلاف سب مسلمانوں کو کھلےعام کافراورجہنمی قراردے کرخودکو کافریاغیر مسلم نہیں بلکہ زندیق ( یاد رہے کہ زندیق وہ کافر ہے جو کافر ہونے کے باوجود مسلمان ہونے کا دعوی کرے اور جواباً اصل مسلمان کو کافر قرار دے) ثابت کرے تو پھرایسی اقلیت کے ساتھ کیا سلوک کیا جانا چاہیے؟ اگر آپ قیامِ پاکستان کے بعد کےاور خصوصا قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیے جانے کے بعد کے حقائق و واقعات پڑھ کر دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ خود کو کافر اوراقلیت قرار دیے جانے کے بعد انتقام کی آگ میں جلتے ہویے قادیانیوں نے مسلم دشمن ممالک کو بھاگ کرکافروں کی پناہ اور حفاطتی گود میں بیٹھے ملت اسلامیہ اور خصوصا پاکستان کے وجود اور سلامتی کے خلاف ہر سازش میں شریک ہو کرسب قوم فروش غداروں؛ مغرب میں بیٹھے مفرور قاتل سیاستدانوں اور دشمنانِ پاکستان کے حواری بن کر ہرغداری کی ہر حد چھونے کو اپنا اہم ترین مذہبی فریضہ سمجھا ہے سو ایسی دشمن ِ اسلام اقلیت کو قانون اور آئین کے دائرے میں رکھنے کیلئے اور آئینی فیصلوں کے خلاف شیطانی بغاوت اور پاکستان کے خلاف عالمی سازشوں کا آلہ کار بننے سے روکنے کیلیے اس کی ناک میں نکیل ڈالنی بھی بیحد ضروری ہے۔

امید ہے کہ قادیانیوں کو امن پسند غیر مسلم اقلیت قرار دینے والے عقلمند دوست فتنہء قادینیت کی پاکستان کے وجود کے خلاف سازشوں اورقاتلانِ مسلم یہودیوں کے دیس میں قادیانیوں کے دفاتر کھلنے کی وجہ کے بارے ضرور بغور مطالعہ فرمائیں گے۔ ذرا قادیانیوں کے وہ مضامین ضرور پڑھیں جس میں عقایدِ اسلام اوراس آئین پاکستان کی تضحیک و تذلیل کھل کھلا کر کی گئی جس آئین میں انہیں غیر مسلم اقلیت قراردیا گیا ۔محسن پاکستان ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے بارے میں قادیانیوں کے ریگولر ریمارکس اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے پاکستان دشمن ملکوں کی ویب ساییٹس پر زہر اگلتے قادیانیوں کے پاکستان مخالف مضامین پڑھیں۔ آپ قادینیوں کے فیس بک والز پر قرآن حکیم میں تضاد کے شیطانی دعوے، اھلِ بیت، صحابہ اکرام، اولیا اللہ اوراکابرین پاکستان کے بارے فحش ترین زبان میں لکھی ہویی مضحکہ خیز کہانیاں اور وجودِ پاکستان کے بارے میں منحوس شیطانی دعوے پڑہیں تو آپ کو خبرہو کہ مغربی صلیبوں اور قادیانی جماعتِ کے چیف پادری مرزا مسرور کی سرپرستی میں زہر اگلنے والے ہر قادیانی کےاندر بدبخت شاتمِ اسلام سلمان رشدی جیسا ایک ملعون و مکروہ کردار چھپا بیٹھا ہے۔

 کاش آپ چناب نگر ربوہ کے قبرستان میں انجہانی قادیانیوں کی قبروں پر لگے کتبوں پر”امانتا دفن” کے الفاظ پڑھیں تو آپ کو ان کے ان مکروہ عقاید و نظریات سے آگاہی ہو کہ یہ اپنے انجہانی مردوں کو بھی صرف اس شیطانی عقیدے اور کافرانہ امید کے ساتھ چناب نگر ربوہ کے قبرستان میں امانتا دفناتے ہیں کہ ان کے دجالی سرپرستوں کا خاکم بدھن اکھنڈ بھارت کا دیرینہ شیطانی خواب پورا ہو گا اور پھر یہ اپنے انجہانی مردوں کی ہڈیاں بھارت میں واقع اپنے شیطان مرزا کے لعنت کدہ قادیان کے قبرستان میں دفن کریں گے۔ یہ سب زندہ حقائق اس سوال کا مکمل جواب ہیں کہ قادنیانی محظ ایک غیر مسلم اقلیت ہیں یا خود کو اقلیت قرار دیے جانے کے بعد پاکستان دشمن بھارتی اور صیہونی ایجنٹوں کا کردار ادا کر کے عالم ِ اسلام اور مملکت ِ پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں یہ سب حقایق و واقعات ثابت کرتے ہیں کہ قادیانی فتنے کے دجالی کفار اب ایسے مسلم دشمن زہریلے سانپ بن چکے ہیں کہ جن کو قانون اورآئین کے ڈبے میں بند رکھنا، ان کے زہریلے دانت نکال پھینکنا یا پھر ان کے ڈسنے سے پہلے ان کا سر کچلنا اشد ضروری ہے

 چوہدی صاحب آپ نے ملالہ کی پذیرائی میں فرمایا کہ ” کیا ملالہ کو جنرل اسمبلی میں تقریر کا اعتماد بھی میڈیا نے دیا تھا؟ اور یہ بھی میڈیا کی سازش ہے جس کے ذریعے ملالہ سی این این اور بی بی سی پر اعتماد کے ساتھ بات کررہی ہے اور پاکستان اور سوات کا نام لے رہی ہے اور کیا ملالہ کے سر پر چادر اور بدن پر پاکستانی شلوار قمیض بھی میڈیا اسٹنٹ ہے‘ خدا خوفی کریں‘ یہ بچی سو فیصد جینوئن‘ بااعتماد اور ذہین ہے اور یہ ہر لحاظ سے نوبل انعام کی حق دار تھی‘ کاش ملالہ کو یہ انعام مل جاتا تو ہم اقوام عالم میں سرخ رو ہو جاتے‘ یہ الگ بات ہے اس کے بعد ملالہ یوسف زئی بھی ڈاکٹر عبدالسلام کی طرح باقی زندگی یورپ یا امریکا میں گزارتی اور دنیا بھر کے لوگ اس سے ملاقات کے لیے آتے مگر یہ اپنے پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کا راستہ دیکھتی رہتی”۔

محترم جاوید چوہدری صاحب میں نہیں جانتا کہ ڈیلی ڈان کی طرف سے ملالہ کے پولش عیسائی ہونے کی طنزیہ یا درحقیقت اصلی رپورٹ پر آپ کا کیا موقف ہے۔ لیکن میں یہاں آپ کے اس ملالائی قصیدے کے جواب میں اتنا ضرور لکھوں گا کہ آپ جیسے نامور صحافیوں یا امن کی آشا برانڈ دوسرا زرخرید میڈیا، غلام ابن غلام سیاسی بازیگروں اوربال ٹھاکری این جی او مسخروں کی بھرپور فنکاری کے باوجود مغرب و سامراج کا سٹیج کیا گیا ملالائی ڈرامہ حقارت عالم کا نشانہ بن رہا ہے۔ لیکن ڈھیٹائی کی انتہا ہے کہ امریکی اندھیروں میں غرق روشن خیال فاشسٹ، فتنہء قادیانیت کے بچونگڑے وحواری اورتمام اسلام دشمن سیاسی و سماجی عناصرابھی بھی اس ٹھس غبارے میں ہوا بھرنے میں مصروف ہیں۔ گو کہ اس کھیل کے فلاپ ہونے سے ملالائی آقاؤں کو وہ مطلوبہ نتائج تو حاصل نہیں ہوئے جن کیلئے یہ سارا ڈرامہ رچایا گیا۔ لیکن ہاں اس فتنہء ملالہ سے مغرب و سامراج کو اتنی کامیابی ضرور ملی ہے کہ اس نے پہلے سے منقسم قوم کو مزید تقسیم کر دیا ہے۔ بحرحال میں اس مضمون کو مذید طول دیکر قارئین پر بوجھ نہیں بننا چاہتا ۔ وقت ملے تو اس حوالے سے میرے یہ چند آرٹیکل ضرور پڑھئے گا۔ جن کا جواب شاید آپ کے پاس نہ ہے اور نہ ہو گا۔ اللہ سبحان تعالیٰ آپ کے علمِ حق اور عملِ صالح  میں برکت عطا فرمائے اور آپ کو فتنہء قادیانیت اور ان کے آقاؤں کیلئے استعمال ہونے سے محفوظ رکھے۔ ۔آمین یا رب العالمین ۔۔ خیر اندیش ۔۔۔۔ فاروق درویش

تم جگ جگ جیو ملالہ ۔۔ پرستارِ ملالہ سے مکالمہ ۔۔۔۔ فاروق درویش

لارنس  آف عریبیہ ہو یا جین ملالہ ۔ ہر شکل ہے صد چہرہ مگر عکس ندیدہ  

 چناب نگر کے انجہانیوں کا خوبِ اکھنڈ بھارت

           ( فاروق درویش –  03224061000)

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

%d bloggers like this: