بین الاقوامی تاریخِ عالم و اسلام حالات حاضرہ

سقوطِ بیت المقدس ۔ صلیبی جنگیں حصٓہ دوئم


 گیارھویں صدی کے آخری عشرے میں  امن مسلمانوں کیخلاف صلیبی جنگ کے آغاز کیلئے پوپائے روم پوپ اربن دوئم کے خصوصی مقدس” اعلان جہاد ” کی مذہبی تحریک پر  یکے بعد دیگرے  چار  ہیبت ناک لشکر بیت المقدس کی فتح کا عزم لیے روانہ ہوئے۔  راہب پیٹر کی سپہ سالاری میں تیرہ لاکھ عیسائیوں کا  جنگی قافلہ قسطنطنیہ کیلیے روانہ ہوا۔ تو عیسائیت کے ان مقدس مجاہدوں  نے راستہ میں جگہ جگہ اپنی ہی ہم مذہب عیسائی برادری کی پر امن بستیوں کو بھی بڑی بیدردی سے قتل و غارت کر کے لوٹ مار کا نشانہ بنایا۔ اس صلیبی لشکر کے راستے میں جو بھی انسانی بستی آئی وہاں  نوجوان لڑکیوں اور عمر رسیدہ عورتوں کی سرعام آبروریزی اور گروپ ریپنگ کی گئی ۔ حتی کہ کمسن بچے اور بچیاں تک بھی ان جنونی وحشیوں کے جنسی تشدد سے محفوظ نہ رہے .مشرقی یورپ میں بلغاریہ  سے گزرنے کے بعد جب یہ لشکری قسطنطنیہ پہنچے تو رومی بادشاہ نے ان کی ہولناک قتل و غارت اور اخلاق سوز جنسی درندگیوں  کی وجہ سے پوری قوت سے  ان کا رخ ایشیائے کوچک کی طرف موڑ دیا۔ اور پھر جونہی یہ عیسائی لشکراسلامی حکومت کے زیرنگیں علاقے میں داخل ہوا، مشہور سلجوقی مسلمان حکمران قلج ارسلان نے اسے پوری طرح تہہ و بالا کر کے  لاکھوں عیسائیوں کو موت کے گھاٹ اتار کر یورپ کی طرف واپس پلٹنے پر مجبور کر دیا۔ لہذا پہلے صلیبی لشکر کی یہ غیر قدرے منظم  مہم جوئی اپنی ہی بدکرداری اور اخلاق سوز حرکات کی وجہ سے مکمل  طور پر ناکام  رہی۔

دوسری طرف یورپ سے ان جنگجوؤں کا  جو دوسرا بڑا  گروہ ایک جرمن سپہ سالار راہب گاؤس فل کی قیادت میں روانہ ہوا۔ وہ بھی اپنے ہی کمانڈروں کے کنٹرول سے  باہر تھا ، لہذا  اس نے بھی پہلے صلیبی لشکر کی طرح شراب و شباب کے نشے میں بدمست ہر طرح کی غنڈہ گردی اور انسانیت سوز حرکات میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ مگر   مشرقی یورپ میں اپنی ہم مذہب عیسائی دوشیزاؤں کی عزتیں تار تار کرنے والے یہ جنونی جنگجو جب ہنگری سے گزرتے ہوئے بھی اپنی اسی بے لگام انسانیت سوزی روش سے باز نہ رہے  تو ان کی بد فطرتی اور اخلاقی بدکاریوں سے تنگ آ کر  ہنگری کے غیرت مند عیسائیوں نے ان کو بڑی جوانمردی سے کچلتے ہوئے اپنے ملک سے باہر دھکیل دیا ، اور یوں  اس دوسرے  عیسائی جہادی لشکر  کی مہم جوئی بھی ، پہلے لشکر کی طرح بیت المقدس تک پہنچنے سے  پہلے ہی  عبرت ناک انجام کو پہنچی۔ صلیبیوں کے تیسرے جنگی گروہ میں انگلستان ، فرانس اور فلانڈرز کے جنگجو رضاکار اس مقدس صلیبی جنگ کیلیے روانہ ہوئے۔ ان جنگی رضاکاروں کے ہاتھوں دریائے رائن اور موزیل کے کئی ایک شہروں کے عیسائی اور یہودی بستیاں سفاکیت اور ظلم و بربریت کا نشانہ  بنیں۔ اور پھر دوسرے عیسائی لشکر کی طرح تیسرے صلیبی لشکر کے یہ مقدس عیسائی سپاہی  بھی جب ہنگری پہنچے تو  ان کے ناقابل برداشت مظالم پر آگ بگولہ ہونے والے، بے باک اور پہلے سے زیادہ منظم اور تیار اہل ہنگری نے ان کا مکمل صفایا کرکے ہنگری کی سرزمین کو ان جنسی درندوں کا قبرستان بنا کر اس تیسری لشکری جماعت کو بھی عبرت ناک انجام سے دوچار کیا۔

یورپ سے نکلنے والے متحدہ عیسائیوں کے سب سے ہیبت ناک لشکر میں انگلستان ، فرانس، جرمنی ، اٹلی اور جزائرسسلی کے نامور جنگجو سردار اور ریاستی شہزادے بھی شامل تھے۔ اس متحدہ فوج کی کمان یورپ کے ایک نامور جنگجو  فرانسیسی سپہ سالار گاڈ فرے کے سپرد تھی۔ خوفناک ٹڈی دل کا یہ لشکر ایشیائے کوچک کی طرف روانہ ہوا۔ مشہور شہر قونیہ کا محاصرے ہونے کے بعد اس بار مسلمان سلجوقی حکمران قلج ارسلان نے صلیبی لشکر سے شکست کھائی ۔ اور پھر  کسی طوفان کی مانند پیش قدمی کرتے ہوئے یہ عیسائی جہادی انطاکیہ پر بھی قابض ہو گیے۔ جہاں حسب معمول تمام مسلمان آبادی کو تہ تیغ کرتے ہوئے ان مقدس جنگجوؤں نے نہتے مسلمانوں  پر ہر حد سے تجاوز کرنے والے وہ شرمناک اور وحشیانہ مظالم ڈھائے گئے کہ تاریخ کے اوراق پڑھ کرہی انسانیت کی روح کانپ اٹھتی ہے۔ بچے بوڑھے اور جوان یا عورتیں، کوئی بھی ان کی جنسی ہوس، شیطانیت اور سفاکیت سے بچ نہ پایا ۔ مختصر وقت  میں ایک لاکھ سے زائد نہتے مسلمان شہری بیدردی سے قتل کر دیے گیے ۔ اور پھر فتح کے نشہ میں  بدمست یہ لشکر شام کے متعدد شہروں میں مسلم آبادیوں میں قتل و غارت اور قبضہ کرتے ہوئے اہم شہر حمص پر قابض ہو  گیا۔ حمص پر قبضہ کرنے کے بعد صلیبیوں نے اپنے اصل حدف بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا۔ چونکہ اس وقت اسماعیلی فاطمی ریاست اہل مغرب کی ہم نوالہ ہم پیالہ بن کر عیاشیوں اور امت مسلمہ کیخلاف سازشوں میں مصروف تھی، اور ان کی طرف سے اس مقدس شہر کے دفاع کا کوئی خاطر خواہ انتظام بھی نہیں کیا گیا تھا۔ لہذا اس متحدہ صلیبی لشکر کو بیت المقدس پر قبضہ کرنے کیلئے کسی کڑی یا منظم مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اور پھر چشم مسلم پھوٹ پھوٹ کر روئی کہ 15 جولائی 1099ء کو ان نام نہاد  “امن پسندوں” نے بڑی آسانی سے مسلمانوں کے قبلہء اول بیت المقدس پر قبضہ کر کے صدیوں سے سلگتی ہوئی اپنے انتقام کی آگ نہتے مسلمانوں کے وحشایہ قتل عام سے ٹھنڈی کی۔

اس  صلیبی جنگ میں  پوپ اربن دوئم کی “خودساختہ جنت” کے حصول کیلیے نکلے ہوئے  مقدس عیسائی جہادیوں نے، بیت المقدس کی حرمت و تقدیس کو پامال کرتے ہوئے اس شہر کے ” جائے پیدائش مسیح ” ہونے کا بھی کوئی احترام و لحاظ نہ کیا ۔ یروشلم کے گلی کوچوں میں ایک لاکھ مسلمانوں کے انتہائی  وحشیانہ قتل عام سے خون کے نالے بہانے والوں نے  ان پر امن مسلمان شہریوں کا سارا  مال و اسباب تک لوٹ لیا ۔ سقوط بیت المقدس کے موقع  پر درند صفت سفاکیت کے حوالے سے صرف مسلمان ہی نہیں یورپی  مورخین بھی ان شرمناک مظالم کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔ غیر جانبدار ناقدین کے مطابق  ان جہادی جنگجو عیسائیوں کا اس وقت کے پرامن مسلمانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک اس حلیمانہ رویہ سے بالکل برعکس تھا جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے احکامات کے مطابق اسلامی لشکر نے کچھ صدیاں پہلے فتح بیت المقدس کے موقع پر اس مقدس شہر کے عیسائی شہریوں کے ساتھ اختیار کیا تھا۔ بیت المقدس کی فتح اور آس پاس کے مسلم  علاقہ جات پر غاصبانہ قبضے کے بعد فرانس سے تعلق رکھنے والے  جنگجو کمانڈر  گاڈ فرے کو بیت المقدس کا بادشاہ بنا دیا گیا۔ مابعد اس عیسائی لشکر کے فتح کردہ جن اسلامی علاقوں کی تقسیم  کر کے انہیں برادر عیسائی مملکتوں میں بانٹ دیا گیا۔ ان مفتوحہ علاقوں میں طرابلس ، انطاکیہ اور شام کے وسیع و عریض علاقے شامل تھے۔

قارئین کرام قابل غور حقائق ہیں کہ ان قدیم صلیبی جنگوں کے آغاز میں بیت المقدس کی اس  تکلیف دہ اور مختصر دورانیے کی شکست کے اسباب بھی وہی تھے جن کا شکار دور حاضر کا عالم اسلام آج بھی ہے۔ یعنی اس دور میں امت اسلامیہ کی باہمی نا اتفاقی و ناچاکی، اسلامی ریاستوں میں نظم و نسق کا فقدان اور سدا بہار سیاسی انتشار کا عمل آج کے تقسیم در تقسیم ہوتے ہوئے عالم اسلام تھا۔ لیکن پھر اس  کے بعد عمادالدین زنگی ، نورالدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی اور پھر بیبرس جیسے مردانِ حق نے دوسری سے لیکر نویں صلیبی جنگوں کے اگلے صلیبی لشکروں کے ساتھ جو دندان شکن اور آہنی سلوک کیا اس کا دکھ اور تکلیف سابقہ امریکی صدر بش کی نائین الیون کے بعد کی گئی اس تقریر میں محسوس کی جا سکتی ہے۔

سابقہ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے قصر ابیض میں ایک خطاب کے دوران وار اگینسٹ ٹیرر کو مقدس صلیبی جنگ کا نام دیا تھا۔ 16 ستمبر 2001ء کو اپنے خطاب کے دوران صدر بش نے کہا۔۔۔۔”  اس صلیبی جنگ ، دہشت گردی کے خلاف جنگ کا طبل بجنے جا رہا ہے۔  لیکن میں امریکی عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ میں ثابت قدم ہوں، اور پیٹھ نہیں دکھاؤں گا۔ میری توجہ اس امر پر مرکوز ہوگی کہ نہ صرف ان کو بلکہ ان کی مدد کرنے والے سب افراد کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لاؤں۔ جو دہشت گردوں کو پناہ دیں گے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اب وقت آن پہنچا ہے کہ ہم 21 ویں صدی میں اپنی پہلی جنگ فیصلہ کن انداز میں جیتیں، تاکہ ہمارے بچے اور ہماری آنے والی نسلیں 21 ویں صدی میں پرامن انداز میں رہ سکیں “۔

میری نظر میں صدر بش کی یہ تقریر مسلمانوں کیخلاف اس دسویں صلیبی جنگ کا اعلانیہ طبل جنگ تھا جو افغانستان و وزیرستان کے کوہساروں اور عراق و شام کے مزاروں سے ہوتی ہوئی ، کسی نہ کسی شکل میں اب عرب و عجم کے  سب دیاروں تک  پہنچ رہی ہے۔ اور اس مسلسل جاری صلیبی جنگ میں اب امریکہ اور یورپ کو ایران جیسی اس بغل بچہ ریاست کی بھی درپردہ معاونت  حاصل ہے، جو مغرب و سامراجی استعمار کی آلہ کار بن فرقہ واریت کے پھلاؤ اور امت مسلمہ کی تقسیم در تقسیم کیلئے سرگرم ہے ۔  صدر بش، باراک اوبامہ، ٹرمپ  اور نیٹو کے  کے سلگتے ہوئے دکھ اور کرب کے اصل اسباب،  دوسری سے نویں صلیبی جنگوں تک بندگان حق عمادالدین،  زنگی، نورالدین زنگی اور فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبی کی یلغاروں کی لہو گرما دینے والی داستانان سرفروشاں اور مغرب کے آبا و اجداد کے جنونی صلیبی لشکروں کی ہزیمت آمیز شکستوں کے حوالے سے  اس سلسلہء تحریر کی اگلی قسط ۔ فتح بیت المقدس ، صلیبی جنگیں ۔ حصہ سوئم   شائع کر دی گئی ہے ( جاری ہے

نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر، عرب و عجم کا اتحاد ِعالم ِ اسلام وقت کی اشد  ضرورت ہے

فاروق درویش — واٹس ایپ ۔۔00923224061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: