تاریخِ عالم و اسلام حالات حاضرہ ریاست اور سیاست نظریات و مذاہبِ عالم

وہ جو عمر ابنِ خطاب سے فاروقِ اعظم ہوا ۔ ۔


رب کائنات نے اگر کسی ایک انسان کو  جملہ خصائصِ انسانیت و کمالاتِ بشر ، حُسنِ  کردار و خوبی ء سیرت ، لاثانی عظمت و بے مثال رفعت اور آفتاب و ماہتاب سے تابندہ تر اوصافِ حمیدہ سے نواز کر اس عالم فانی میں بھیجا تو وہ ذاتِ ، بعداز خدا بزرگ ہستی، پیکرِ حسن و جمال ، مسیحائے دوعالم ، تاجدار نبوت، امام الانبیاء ، نبیء آخر الزمان محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی ذات اقدس ٹھہری۔ میرے آقائے نامدار رحمۃ العالمین  کی بعثت ہوئی تو آپ اپنی ذات میں علم آدم کے امین ، تبلیغ نوح کے علمبردار، خلیل اللہ کی دعا، حُسن یوسف کی صورتِ اکمل ، موسیٰ کے جلال کی تصویر، صبر ایوب ؑکے مظہر اور حلم و کمالِ عیسیٰ ٹھہرے۔ میرے نبی کریم ﷺ کی سیرت اقدس اور کمالات مصطفےٰ پر کتابوں کے انگت انبار موجود ہیں، عشاقِ پیغمبر تاقیامت لکھتے رہیں گے ، سمندروں کی سیاہی ختم ہو جائے گی مگر میرے آقا کے اوصاف حمیدہ کی توصیف و مدحت بیاں نہ کر پائیں گے۔

احاطہ کیا کروں درویش اوصاف ِ محمد (ص) کا
قلم بے بس ہے اور ادراک کو ہے سامنا حد کا

اور جو لوگ بھی عالم و آدم کے اس مقتدا و امام کی نگاہِ نور سے فیض یاب ہوئے وہ صدیق اکبر، فاروق اعظم، عثمان غنی اور حیدر کرار بن کر دشمنانِ اسلام کیلئے ننگی تلوار بن گیے ۔ اور  اسی نظام جہد و عدل  کے داعی سپاہ گر صلاح الدین ایوبی، طارق بن زیاد، یوسف بین تاشفین، سلطان محمد فاتح  اور  ٹیپو سلطان  کی صورتِ طوفانی میں عالم دہر و باطل کی قوتوں کیلئے ہیبت بنے رہے ۔میرا حق الایمان ہے کہ خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کے تمام تر اوصاف و صفات اور سیرت و کردار کی عظمتیں رسول کامل و برحق کی باکمال حجت و تربیت کا اثر شیریں ہیں. آج  سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اُس باکمال و صاحب جلال ہستی پر قلم اٹھاتے ہوئے بھی لہو میں جذبہء عجب اور آنکھوں میں سرخی و نم اتر آئے ہیں کہ جو مرادِ رسالت مآب اور انتخاب نظر نبوت ہیں ۔ ذرا سوچیں کہ فاروق اعظم کی اس ہستیء کمال و خوبی کا عالم کیا ہو گا ، کہ جس کی ذات کو کامل و اکمل نظر پیغمبرِ حق نے اسلام کی سر بلندی سے منسوب فرما کر بارگاہِ الہی میں یہ دعا فرمائی کہ ، ” عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو طاقت و عزت عطا فرما”۔ بلا شبہ تمام صحابہء اجمین مریدان رسول و عشاق نبوی ہیں لیکن سیدنا فاروق اعظم مرید رسول ہونے کے ساتھ ساتھ، مراد رسول منشائے رسالت اور طلبِ رسالت بھی ہیں ۔ یہ باکمال رسول برحق کی صحبت ِ مجلس و محفل اور نگاہِ فیض کا معجزہ ہی تھا کہ جس نے عمر بن خطاب کو ِ حق و باطل میں فرق کرنے والا فاروق اعظم بنا کر فخر ملت اسلامیہ بنا دیا۔

آپ  فرماتے ہیں کہ جب میں کلمہ توحید پڑھ کر حلقہ بگوشِ اسلام ہوا تو میرے قبول اسلام کی خوشی میں حضرت ارقم  کے گھر میں موجود تمام مسلمانوں نے اس قدر زور سے نعرہ ء تکبیر بلند کیا کہ وادیء مکہ کے ہر کونے تک سنا گیا ۔ پھر سب مسلمان اس گھر سے دو صفیں بنا کر نکلے ۔ ایک صف میں سیدنا حمزہ اور دوسری صف میں عمر، مسلمانوں کے ہمراہ کعبۃ اللہ میں داخل ہوئے تو قریش نے مجھے اور حضرت حمزہ کو دیکھ کر لب کھولنے کی جرات نہ کی ۔ یاد رہے کہ اس دن رسول اللہ نے حضرت عمر کو فاروق کا لقب عطا فرمایا ۔ جو اس بات کا اعلان تھا کہ اسلام زمانے کے سامنے ظاہر ہو کر حق و باطل کا فرق واضح ہو گیا ۔  آپ پیغمبر ء اسلام کے سچے فدائی و شیدائی اور اشاعت دین کیلئے آپ کا کردار و خدمات تاریخ کا سنہرا باب ہیں ۔ آپ  کی سیرت و کردار کا مطالعہ کرنے والے غیر مسلم بھی آپ کو تاریخ کا عظیم ترین حکمران ہی نہیں بلکہ یہ کہنے پر بھی مجبور ہیں کہ اگر ایک عمر اور ہوتا یا اتنی عمر اور ہو زندہ رہتا تو دنیا میں سوائے اسلام کے دوسرا کوئی مذہب مقتدر نہ ہوتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ سیدنا عمر فاروق نے اپنے دس سالہ دور خلافت کے مختصر عرصہ میں دنیائے اسلام کا نقشہ بدل کر اسلامی ریاست کو جن سرحدوں اور عظمت و رفعت تک پہنچایا ، اس کے سامنے یونان کے سکندراعظم، سلطنت روما کے جولیس سیزر اور قیصر و کسری سمیت دنیا کے تمام عظیم فاتحین کے کارنامے بھی بصد ہیچ نظر آتے ہیں ۔ فاروق اعظم کی تقلید کے دعوی کرنے والے سیاست دان اور ننگ اسلاف حکمرانوں کو یاد رہے کہ ان کی اصلاحات کا  یہ عالم تھا کہ پولیس ، ڈاک ، سرائیں ، شاہرات اور طب و جراحی سمیت ایسے انقلابی اقدامات فرمائے کہ آج کسی بھی ریاست میں ان اقدامات کے بغیر نظام حکومت و معاشرت چلانا ہی نا ممکن نظر آتا ہے۔

 افسوس کہ آج ہمارے میدان سیاست میں ” فاروقِ اعظم جیسی اسلامی فلاحی ریاست” کا نعرہ محض ام المنافقین لیڈروں کا ایک انتخابی نعرہ، سیاسی دھوکہ اور ریاستی فریب بن کر رہ گیا ہے۔ آپ نے عوام الناس کی خوشحالی کیلئے جو عظیم الشان اقتصادی و معاشرتی نظام نافذ کیا اس کی مثال انسانی تاریخ میں کہیں اور موجود نہیں ۔ میرا دعوی ہے کہ آج بھی اگر وہ مثالی نظام سیاست و ریاست اختیار کیا جائے تو ریاست سے بھوک و افلاس ، بیماری اور جہالت کے سیاہ بادل چشم زدن میں چھٹ سکتے ہیں۔ مگر اس کیلئے کون ایسا حکمران ہے،  جو یہ اعلان کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو کہ دجلہ و فرات سے نیل تک اگر ایک فرد بھی بھوکا  پیاسا و بے لباس ، مظلوم و مجبور رہا تو روز قیامت مجھے اس کا حساب دینا ہو گا ؟ کون ایسا حکمران ہے ، جسے آپ کی طرح انسانی فلاح و بہبود کی دن رات فکر دامن گیر رہتی ہے ۔ فاروق اعظم جیسی فلاحی ریاست بنانے کے کون سے ایسے دعویدار ہیں جو آپ کی طرح راتوں کو گشت کر کے عوام کے حالات اور تکالیف معلوم کرنے کی کوشش اور موقع پر  امداد واعانت کرتے ہیں؟ ہمارے کھرب پتی سیاست دانوں میں کون ایسا ہے جو  عمر فاروق کی طرح اپنی ذات کیلئے یہ دعوی کر سکتا ہو کہ ”میرے لئے ایک گرمی اور ایک سردی کیلئے صرف دو کپڑے ہی حلال ہیں ۔ حج وعمرہ کیلئے صرف ایک سواری درکار ہے ۔ میری اور میرے اہل خانہ کی خوراک وہی ہو گی ۔ جو قریش کے کسی متوسط الحال فرد کی ہوتی ہے ” ۔ جبکہ ہمارے حکمرانوں کیلئے، کینالی کے سینکڑوں ٹائی سوٹ، بیسیوں شیروانیاں، کھربوں کی صنعتیں اور  ہزار باورچیوں یا خادمین کا پورا لشکر موجود ہے۔

آپ نے بیت المقدس پر پہلی مرتبہ ملت اسلامیہ کا فاتحانہ پرچم لہرایا تو مسلم سلطنت کی سرحدیں ایک جانب افریقہ کے صحراﺅں اور دوسری جانب عراق و شام، فلسطین و مصر اور ایران تک پہنچ چکی تھی ۔ اس قلیل ترین مدت میں ایسی عظیم الشان فتوحات پر بنی نوع انسان کی  تاریخ حیران اور فاتحین عالم کا خواب دیکھنے والے سکندراعظم جیسے مہان جرنیلوں کی روحیں بھی پشیمان ہوں گی ۔ بلا شبہ ریاست مدینہ سے دور میدان جنگ میں ان اسلامی فتوحات کا سہرا حضرت خالد بن ولید ، حضرت ابو عبید ہ بن جراح ، حضرت عمرو بن العاص ، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت معاویہ بن سفیان جیسے عظیم  جرنیلوں کے سر رہا ۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ سیدنا فاروق اعظم نہ صرف ہر محاذ جنگ کی تازہ ترین صورتحال سے کلی باخبر رہتے تھے بلکہ مورچہ بندی سے لے کر جنگی حکمت عملی آپ ہی کی ہدایت کے مطابق تشکیل دی جاتی تھی ۔ یہی سبب تھا کہ اس دور کے مہان حکمران اسلامی لشکر سے ہیبت زدہ اور عوام  ان کے نام  سے سر اسیمہ اور خوفزدہ ہو جاتے تھے ۔ یاد رہے کہ اسلامی تقویم سن ہجری بھی آپ ہی کے عہد خلافت میں شروع کی گئی تھی ۔ آپ کے دور میں چار ہزار سے زائد مساجد تعمیر ہوئیں ۔ ہزاروں کی تعداد میں نئے پل ، کشادہ سڑکیں، مسافر خانے، زرعی سہولت کیلئے نہریں اور مینے کے پانی کے کنویں وغیرہ تعمیر کئے گئے ۔ آپ نے عرب و عجم کے مفتوحہ علاقوں میں لا تعداد مدارس قائم کئے گئے ۔ جہاں قرآن و حدیث ، تفسیر و فقہ ہی نہیں زبان و ادب اور دوسرے علوم کی تعلیم کا اعلیٰ انتظام بھی تھا ۔ مسجد نبوی کی پہلی توسیعی تعمیر کا اعزاز بھی آپ ہی کو حاصل ہے۔

آہ کہ 26 ذی الحج 23 ہجری کے دن ملت اسلامیہ کے دن یہ عظیم ترین جرنیل اور دوسرے خلیفہ ء راشد نماز فجر کی امامت کے دوران خنجر کے واروں سے شدید زخمی ہوئے۔ زخموں سے خون رواں تھا تو آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ مجھ پر حملہ کرنے والا کون تھا ؟ صحابہ نے بتایا کہ وہ ایران سے تعلق رکھنے والا ایک پارسی غلام ابو لولو فیروز تھا۔ امیر المومنین نے فرمایا ، الحمد للہ کہ میرا قاتل مسلمان نہیں ہے۔ آُپ یکم محرم الحرام 24 ہجری کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے تو آپ کی شہر نبوی میں شہادت کی دعا قبول اور دلی تمنا پوری ہوئی ۔ سبحان اللہ کہ آپ کو بعد از شہادت یہ عظیم مقام اور اوج مقدر نصیب ہوا کہ آپ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہہ سے اجازت پانے پر سبز گنبد خضراء تلے محبوب و حبیب کبریا و خاتم المرسلین ، اپنے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم اور امام العاشقین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدفون ہوئے۔ بلا شبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہ عظیم ملی شخصیت ہیں کہ جنھوں نے علمی و فکری، سماجی و سیاسی، حکمی و اقتصادی اور عسکری و انتظامی غرضیکہ ہر میدان علم و عمل میں عالم انسانیت و روحانیت کیلئے ایسے عدیم النظیر و قابل صد تقلید نقوش چھوڑے کہ جن سے آج کی ترقی پذیر و ترقی یافتہ دنیا بھی راہنمائی حاصل کرنے پر مجبور ہے ۔ یہ وہی  فاروق اعظم تھے کہ جن کے بارے میں نبیء آخر الزمان نے یہ فرمایا تھا کہ اگر میرے بعد کوئی بھی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا ۔ دراصل فاروق اعظم ہی ملت اسلامیہ کے وہ عظیم ترین انقلابی راہنما تھے کہ جن کا نصب العین ، مظلوم و مجبور لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے آزاد کر کے ایک مقتدراعلی کی بندگی و غلامی میں سونپنا تھا ۔ ۔ بلا شبہ سیدنا فاروق اعظم کا انقلاب ہی انسانیت کیلئے امن اور حقیقی اسلامی انقلاب کا پیغام تھا ۔

    وہ عمر جس کے اعدا پہ شیدا سقر – : – اس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں سلام
ترجمانِ نبی،  ہم زبانِ نبی – : – جانِ شانِ عدالت پہ لاکھوں سلام

 فاروق درویش – واٹس ایپ کنٹیکٹ – 00923224061000  

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

%d bloggers like this: