تاریخِ عالم و اسلام حالات حاضرہ سیکولرازم اور دیسی لبرل

میاں صاحب کاش فاطمہ میری شہید بیٹی ہوتی


دو برس قبل میاں نواز شریف صاحب نے لندن میں یہودی و نصارٰی کے اتحاد کی طرف سے ترکوں کیخلاف معرکہء گیلی پولی کی صد سالہ تقریبات میں عالم اسلام پر حملہ آور صلیبی لشکروں کے مقتولین کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے خصوصی شرکت کی تو درد ملت رکھنے والے دلوں کو انتہائی صدمہ ہوا۔ گمان ہوتا ہے کہ یا تو انہیں تاریخ سے قطعی کوئی واقفیت ہی نہیں یا پھر وہ دوام اقتدار کیلئے خود کو تاجدار برطانیہ کا ابدی غلام ثابت کرنے کی والہانہ سعی کر رہے ہیں۔ مگر افسوس کہ اس حوالے سے قومی آزادی و اںساف کے نام نہاد داعی عمران خاں ، حزب اختلاف  کے کسی سیاست دان یا کسی بھی مرد صحافی و اینکر کی کوئی صداء حق  بلند نہیں ہوئی ، البتہ نوائے وقت کی ایک خاتون کالم نگار نازیہ مصطفے نے اپنے ایک کالم ” ایک غلام کی خاموشی ” سے غیرت کا آئینہ دکھا کر حق گوئی کا حق ادا کیا ہے۔ میری تحقیق کے مطابق گیلی پولی کا اہم معرکہ دراصل صلیبی جنگوں کے شکست خوردہ مغربی صلیبی اتحاد کے فتنہ پرور یہودیوں سے خفیہ گٹھ جوڑ اور اسرائیل کے قیام میں مدد کے بدلے ان کی خفیہ حمایت سے عالم اسلام پر کاری وار کرنے کی عسکری مہم کا اہم حصہ  تھا۔ ہمارے حکمران  اس امر سے بے خبر ہیں کہ صلیبی اتحاد نے عالم اسلام کی یک جہتی کے آخری نشان خلافت عثمانیہ کو مٹانے کیلئے جس عیاری و مکاری سے عسکری مہمات کے تسلسل کا جال بنا وہ اس مختصر سی تاریخ سے واضع ہے۔

ستمبر 1911 ء میں اٹلی نے مغربی ساز باز سے طرابلس پر حملہ کیا  تو برطانیہ نے ترکوں کو مصر سے گزر کر لیبیا جانے کی اجازت نہ دیکر گھناؤنا کردار ادا کیا ۔ اٹلی نے مغربی طرابلس میں فوج اتاری تو ترکوں نے انتہائی جرات سے مقابلہ کیا مگر اطالوی بحریہ نے شام کے ساحلوں پر گولہ باری سے تمام رسد کاٹ کر ترکوں کو بے بس شکست سے دوچار کر دیا ۔ علامہ اقبال نے اسی جنگ میں مجاہدین کو اپنے مشکیزے سے پانی پلاتے ہوئے شہادت پانے والی لڑکی فاطمہ بنت عبداللہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مشہور نظم ’’فاطمہ تو آبروئے امت مرحوم ہے‘‘ لکھی۔ اور فاطمہ پوری ملت اسلامیہ کیلئے غیرتِ ملی ، جذبہء جہاد  و حریت کا نشان بن کر امر ہو گئی۔ علامہ کی بصیرت مستقبل کے اس امر سے واقف تھی مسلمانوں کی یہ تحریک آزادی کبھی نہ دب سکے گی کہ جس قوم کی کمسن بچیوں کے جذبہء ملی و شہادت کا یہ ایمان افروز عالم  ہو اس کے جوانوں کی وفائے ملی اور شوق شہادت ناقابل شکست ہو گا ۔ اقبال کی بصیرت و امید کے مطابق یہ کاروانِ تحریک حریت  اپنی منطقی منزل مراد پر پہنچ کر سرخرو ہوا ۔

بیسویں صدی کا آغاز گذشتہ بیس صدیوں کے دو باہمی دشمنوں یہود اور نصارٰی کے مابین مشترکہ دشمن یعنی عالم اسلام کیخلاف مشترکہ عسکری مہم جوئی کے دجالی نظریہء ضرورت کے تحت اتحاد کا آغاز تھا۔ نومبر 1917 ء میں برطانوی وزیر خارجہ لارڈ آرتھر بالفور نے ورلڈ جیوز آرگنائزیشن سے خفیہ معاہدہ میں فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کا وعدہ کیا تو بدلے میں یہودی سائنس دان، شائم وائزمین نے تیل کا متبادل ایسی ٹون کا فارمولا برطانیہ کے حوالے کر دیا۔ بعد میں یہی وائزمین 16مئی 1948ء کو اسرائیل کا پہلا صدر بھی بنا۔ دو یہودی کیمسٹ نے عام بارود سے بہتر نیا تباہ کن بارود، ٹرائی نائٹروٹالوٹین ایجاد کیا تو اس کا فارمولے کے عوض لارڈ بالفور سے اسرائیل کے فوری قیام کا مطالبہ کر دیا گیا ۔ اس عالمی سازش کے آغاز میں ایک برطانوی کٹھ پتلی شریف حسین مکہ نے جون 1914ء کو ترکوں کے خلاف بغاوت شروع کی ۔ تو اس نے برطانوی جاسوس لارنس آف عریبیہ کے ہمراہ مدینہ منورہ میں ترک افواج پر حملہ آور ہو کر 7 جون کو حجاز کی آزادی کا اعلان کر دیا۔ 10 جون کو مکہ مکرمہ میں تعینات ترک فوج نے بھی کر ہتھیار ڈال دیے۔ 29 اکتوبر کو اس شریف حسین مکہ نے پورے عرب کی بادشاہت کا اعلان کر دیا ۔ اور پھر جب  15 دسمبر کو فتنہ گر برطانیہ نے اپنے اس زرخرید غدارِ کو شاہِ حجاز تسلیم کر لیا۔ تو اس غداریء ملت پر علامہ اقبال کا دردَ ملت کا ترجمان  قلم بھی چیخ اٹھا کہ ۔ ۔ ۔ ۔
بیچتا ہے ہاشمی ناموسِ دینِ مصطفی : خاک و خوں میں لوٹتا ہے ترکمان سخت کوش

مارچ 1914 ء میں برطانیہ نے عراق اور 8 دسمبر کو برطانوی جنرل ایلن بی نے بیت المقدس پر قبضہ کیا تو اس نے یروشلم میں داخل ہوتے ہوئے چیخ کر کہا کہ ، ’’میں بیت المقدس کا آخری صلیبی فاتح ہوں‘‘۔ یوں سلطان صلاح الدین ایوبی کی فتح کے سات سو تیس سال بعد صلیبی فوجیں ایک بار پھر مسلمانوں کے قبلہء اول پر قابض ہو گئیں ۔ اس موقع پر برطانوی وزیراعظم لائیڈ جارج کے یہ الفاظ غیرت مسلم جگانے کیلئے بہت کافی ہیں کہ ” آج عیسائیوں نے صلیبی جنگوں کی شکست کا بدلہ لے لیا۔۔ بیت المقدس پر برطانوی قبضہ پر ہند میں انگریز حکومت کو رحمت الہی قرار دینے والے مسلمہ بن کذابِ ثانی مرزا قادیانی کی دجالی امت نے بھی خوشیاں منا کر اپنے آقا تاجدار برطانیہ سے وفاداری کا اظہار کیا۔ اس  سقوط بیت المقدس پر اشکبار حضرت اقبالؒ رحمۃ اللہ علیہ نے دلفگار ہو کر لکھا تھا۔
لے گئے تثلیث کے فرزند میراثِ خلیل : خشتِ بنیادِ کلیسا بن گئی خاکِ حجاز

سقوط قدس کے فوری بعد گیلی پولی کے صلیب شکن معرکہ کے آغاز میں ترک فوج کو اسماعیلیہ کے مقام پر شکست ہوئی۔ تو برطانیہ نے  آسٹریلیا، کینیڈا، ہندوستان، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا کی فوجوں کے ساتھ درہ دانیال پر حملہ کر دیا۔ 18 مارچ 1915 ء کو اتحادی فوجیں گیلی پولی کے ساحل پر اتریں تو ترکوں نے شدید گولہ باری سے برطانوی بحریہ کی کمر توڑ دی ۔ 25 اپریل 1915 ء سے 8 جنوری 1916 ء تک جاری رہنے والی اس خونریزی میں ترکوں کی جواں مردی و جرات کے باعث صلیبی فوجیں شکست کھا کر جزیرہ نما گیلی پولی سے نامراد  بھاگ گئیں۔ اس جنگ میں صلیبی اتحادیوں کے ایک لاکھ فوجی ہلاک اور اسی ہزار ترک شہید ہوئے۔ مابعد پہلی جنگ عظیم میں زچ ہوئے ترکوں نے جنگ بندی قبول کر کے آبنائے باسفورس اور درہ دانیال کھول دیا ۔ جنرل ٹاؤن شینڈ سمیت تمام قیدی واپس کر کے فوجیں میدان جنگ سے ہٹا لی گئیں۔ ترکی کے اتحادی آسٹریا نے 4 نومبر اور جرمنی نے 11 نومبر کو شکست تسلیم کر لی۔ پھر صلیبی اتحادیوں میں مفتوحہ مسلم ممالک کی بندر بانٹ ہوئی اور ادالیہ اٹلی اور سمرنا یونان کے قبضہ میں چلا گیا ۔ برطانوی فوج اورشریف مکہ کا لشکر کرنل لارنس کی قیادت میں اکتوبر 1918 ء کو دمشق پر قابض ہوا تو فرانس نے 7 اکتوبر کو بیروت، 15 اکتوبر کو حمص اور 24 اکتوبر کو حلب پر قبضہ کر لیا۔ 3 ستمبر 1919ء کو یہودی بغل بچے اتا ترک نے میثاق ملی کا اعلان کیا اور 8 دسمبر 1919 ء کو قسطنطنیہ کا نظم و نسق برطانیہ اور اتحادیوں نے سنبھال لیا۔ اسی برس ہندوستان میں مولانا محمد علی جوہر اور شوکت علی جوہر کی قیادت میں تاریخی تحریک خلافت کا آغاز ہوا۔

مسلم علاقوں کی بندر بانٹ کے دوسرے صلیبی برانڈ معاہدہ سیورے میں غیر ترک علاقوں سے سلطنت عثمانیہ کی دست برداری، حجاز میں شریف مکہ کی خودمختاری، شام پر فرانس، عراق و فلسطین پر برطانیہ کی عمل داری، سمرنا پر پانچ سالہ یونانی تسلط ، جزائر دوازدہ اور روڈس پر اٹلی کا قبضہ اور آرمینیا کی خودمختاری کے اسلام دشمن فیصلے صادر ہوئے۔ ترک خلیفہ کی طرف سے شدید احتجاج ہوا تو اتا ترک نے بھی دنیا کو بیوقوف بنانے کیلئے ظاہری احتجاج کیا مگر قسطنطنیہ پر قابض صلیبی اتحاد کیلئے ان کا احتجاج کسی ہجڑے کی آہ و زاری سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ اس صلیبی ڈرامے کے آخری ادوار میں مارچ 1921 ء کو اتا ترک صلینی اتحادی اٹلی سے دوستی کا معاہدہ کرکے اپنے صلیبی ایجنٹ ہونے کا مصدقہ ثبوت دے دیا۔ جبکہ دوسرے اتحادی فرانس نے سلیشیا کا علاقہ خالی کرنے کے عوض اقتصادی مراعات حاصل کر لیں۔ یکم اکتوبر 1922 ء کو اتا ترک نے ترک سلطنت کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ سلطان محمد سادس قسطنطنیہ سے سنگاپور چلا گیا ۔ 18 نومبر کو اس کے چچازاد عبدالحمید ثانی کی رسمی خلافت کا اعلان ہوا، تو یہود کے کٹھ پتلی اتا ترک نے اسلامی شرعی قوانین کے خاتمے کا اشارہ دے دیا۔ ایک معاہدے کے تحت 23 اگست 1923 ء کو اتحادی فوجیں قسطنطنیہ سے نکلیں اورآئیندہ کیلئے انقرہ دارالحکومت قرار پایا۔ 29 اکتوبر کو ترکی میں جمہوریت کا اعلان ہوا، اتا ترک کمالپاشا صدر اور عصمت انونو وزیر اعظم بن گئے۔ جنہوں نے 3 مارچ 1924 ء کو خلافت منسوخ کر کے خاندانِ عثمانیہ کے تمام افراد جلا وطن کر دیے گیے ۔ اور یوں ایک یہودی ایجنٹ ’’غازی‘‘ کے ہاتھوں عالم اسلام کی وحدت کی علامت ، خلفائے راشدین سے جاری تیرہ صدیوں سے زائد عرصہ سے قائم عظیم الشان خلافت اسلامیہ کا خاتمہ ہو گیا۔

عالم اسلام کیلئے زہریلے سانپ کا کردار ادا کرنے والے مصطفی کمال پاشا نے اقتدار حاصل کرتے ہی کینچلی بدلی اور وہ تمام اسلام دشمن اقدامات کیے جن کا وہ اپنے سرپرست یہود و نصاریٰ سے وعدہ کر چکا تھا۔ مسلم شریعت کے تابع تعّددِ ازواج کی تنسیخ کر کے نئے ولائتی قوانین طلاق کا نفاذ ہوا اور شرعی عدالتیں اور علما کے حلقے توڑ دیے گئے۔ مردوں کیلئے ترک ٹوپی پہننے اورعورتوں کیلیے برقعہ اور پردے کی مکمل ممانعت کر دی گئی۔ اسلام کے سرکاری مذہب ہونے کی دفعہ منسوخ ہوئی۔ پہلے سرکاری اجازت کے بغیر مساجد میں وعظ کی ممانعت اور مابعد مساجد کو مکمل تالے لگا دئے گیے۔ مردوں کیلیے انگرزی لباس یعنی کوٹ پتلون اور ہیٹ پہننا لازم قرار دیا گیا۔ عربی رسم الخط ختم کر کے ترکی زبان پر لاطینی رسم الخط ٹھونس دیا گیا ۔ پہلے عربی کی بجائے ترک زبان میں اذان اور مابعد اذان پر مکمل پابندی لگا دی گئی۔ انگریز خلافت کے نام ہی سے اس قدر خوف زدہ تھے کہ عثمانی خلافت ختم ہونے پر شریفِ مکہ نے خلیفہ بننے کی کوشش کی تو برطانیہ نے اسے سختی سے انتباہ کیا کہ ’’نہیں، ہمیں تمہارا خلیفہ بننا نہیں صرف بادشاہ ہونا قبول ہے‘‘۔ لہذا کٹھ پتلی شریف مکہ نے بادشاہ کہلانے پر ہی اکتفا کیا۔ غداریوں کے صلے میں اس کا ایک بیٹا عراق اور دوسرا اردن کا بادشاہ بنا دیا گیا۔ عراق کا شاہ فیصل ہاشمی تو بغاوت میں قتل ہو گیا لیکن اردن میں آج بھی اسی غدارِ ملت کی اولاد برسراقتدار ہے ۔

سوال یہ ہے کہ کیا میاں نواز شریف اس تاریخ سے اور اس عیاں حقیقت سے نا واقف تھے کہ معرکہ گیلی پولی عالم اسلام اور برادر ترکوں کیخلاف برپا ہوا تھا؟ اور کیا ہمارے خارجہ پالیسی ساز اعلی اداروں میں بیٹھے ذہین و فتین لوگ بھی تاریخ سے کلی نا آشنا ہیں؟ نہیں ایسا ہرگز نہیں کہ یہ لوگ تاریخ سے اس حد تک ناواقف ہوں۔ میرے مطابق نواز شریف کو گیلی پولی کی تقریبات میں خصوصی دعوت دینا دراصل سامراج و برطانوی استعمار کی اس دیرینہ سازشی پالیسی کا تسلسل ہے، جس کے تحت وہ امت مسلمہ کے اتحاد کو پارہ رکھنا چاہتا ہے ۔ صلیبی استعمار کو دنیا میں مظبوط قوت بنتے ہوئے ترکی،  والیاں ِ حرمین شریفین اورعالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان کا ایک دوسرے کے قریب آنا کسی قیمت پر بھی گوارا نہیں۔  لیکن کیا میاں صاحب عالمی سیاست کے طفلِ نابالغ ہیں؟ کیا  وہ عاصمہ جہانگیر اور نجم سیٹھی جیسے سامراجی و ہندوتوا مشیرانِ شتر گڑبہ کی دجالی مشاورت پر بار بار  مات کھا جاتے  ہیں؟ افسوس کہ زرداری ہو یا میاں صاحب ہمارے سب سیاست دان اور ان کی اولادیں اقتدار کے حصول و دوام کیلئے گوروں کی ابدی غلامی کو اقتدار کا سرچشمہ جان کر ملک و ملت سے وفا بھلا چکی ہیں۔ بینظیر یا مریم نواز جیسی سیاسی شخصیتوں سے جنگ طرابلس میں مجاہدین کو پانی پلاتے ہوئے شہید ہونے والی اس کمسن فاطمہ بنت عبدللہ کی عظمت بہت بلند تر ہے کہ جس کے پاؤں میں جوتی تک نہ تھی ۔ اے کاش کہ  فاطمہ میری حقیقی بیٹی ہوتی تو باخدا مجھ  فقیر کا سر فخر سے امتِ مرحوم میں سب سے بلند ہوتا ۔

 فاطمہ! تو آبروئے امت مرحوم ہے
ذرہ ذرہ تيري مشت خاک کا معصوم ہے
 فاطمہ! گو شبنم افشاں آنکھ تيرے غم ميں ہے
نغمہ ءعشرت بھي اپنے نالہ ماتم ميں ہے
رقص تيري خاک کا کتنا نشاط انگيز ہے
ذرہ ذرہ زندگي کے سوز سے لبريز ہے
ہے کوئي ہنگامہ تيري تربت خاموش ميں
پل رہي ہے ايک قوم تازہ اس آغوش ميں

( علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ)

( فاروق درویش—03224061000  )

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: