تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ ریاست اور سیاست

اُس خان کی آزادی ہے اِس قوم کو درکار ۔ ۔


سلطنت عثمانیہ کے تاجدار جب تک اسلامی اقدار کے پاسبان رہے مغربی طاقتوں کو کراری شکستوں سے دوچار کرتے رہے اور فلاح عوام میں بھی ایک مثال رہے۔ مگر جب ہمارے حکمرانوں کی طرح مغرب پسندی میں دین سے دور ہوئے تو نہ ان کا سامنا کرنے کے اہل رہے، نہ برابری کی سطح پر معاملات طے کرنے اور نہ ہی اپنے ریاستی و ملی مفادات کا تحفظ کرنے کے قابل ٹھہرے۔ پھر وہی ہوا جو ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو حاتم طائیانہ مراعات دینے والے رنگ رنگیلے شاہوں کے ساتھ ہوا تھا۔ جن یورپی باشندوں کو عثمانیوں نے خصوصی مراعات اورقانون کی پابندیوں سے مستشنٰی قرار دے کر اپنی ریاست میں رہنے اور تجارت کی کھلی اجازت دی، وہی گورے مہمان ان کا بیڑا ڈبونے کیلئے مسلم غداروں کے ساتھ ملکر مبینہ سازشوں میں مصروف ہو کر سر اٹھانے لگے۔ عثمانی خلافت کے آخری دور میں ان مغربی مہمانوں کیلئے احمق حکمرانوں کی “مہمان نوازی” کا عالم یہ تھا کہ ان کے سنگین جرائم پر مقدمات ریاستی قوانین کےمطابق نہیں بلکہ ان بدیسی باشندوں کے ملکی قوانین کے مطابق انہی کی عدالتوں میں چلائے جاتے تھے اورعدالتوں میں وکلا بھی انہی کے ممالک کے پیش ہوتے تھے۔ پھر انجامِ بھی وہی ہوا جو سدا سے عیاش اور مغربی غلاموں کا ہوتا آیا ہے۔ اور مسلمانوں کی عظیم الشان سلطنت عثمانیہ کا سنہری دور اپنے سیاہ ترین اختتام کو پہنچا۔ آج تک جیکب آباد اور تربیلا میں امریکہ کو ملنے والی ملک دشمن مراعات اور ریمنڈ ڈیوس جیسے بلیک واٹرز کرداروں کے ساتھ حکومتی حسن سلوک کی داستانیں بتا رہی ہین کہ پاکستان میں بھی گورے مہمانوں کیلیے حکومتی پذیرائیوں کے ریکارڈ ٹوٹتے رہے ہیں اور ٹوٹے رہیں گے۔

تماشائے عجب کہ شہدائے ماڈل ٹاؤن کیلئے حصول انصاف اور انتخابی دھاندلی کیخلاف احتجاج کے نام پر میوزک شوز اور آزادانہ رقص و مجرا کی محافل یوں منعقد کی گئیں ، گویا پولیس گردی کا شکار ہونے والے شہیدوں اور سیلابی اموات کا رنگ برنگی جشن مرگ منایا جا رہا ہو۔ انتہائے منافقت کہ جن سیاست دانوں کے اپنے بچے یہودی اور عیسائیوں کے عبات خانوں میں نظر آتے ہیں وہی پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے نعرے لگا کر قوم کو سبز باغ دکھا رہے ہیں۔ منافقت، جھوٹ اور دورنگی سیاست کی بدترین مثال ہے کہ جٹ دے کھڑاک جیسی بڑھکیں مارنے والے خان صاحب کو کراچی کے جلسے میں الطاف اینڈ کمپنی کی طرف سے تاریخ کی بدترین اور مسلسل دھاندلیوں کیخلاف زبان تک کھولنے کی جرات نہیں ہوئی۔ انتہائے نوسربازی ہے کہ اگلے ضمنی الیکشن میں جاوید ہاشمی کیخلاف اپنے بیٹے کو ٹکٹ دلوانے والا  ڈبہ پیر شاہ محمود قریشی  ہی خاندانی سیاست اور موروثی حکمرانی کیخلاف جہد کا نعرہ لگا کر اپننی کھلی کذب بیانی کا اعلان کر رہا تھا۔

مگر ہائے صد افسوس کہ میوزک شوز اور رقص و شباب کے دلدادہ عاشقین سونامی روشن خیالی کی رو میں بہہ کر اس حد تک اندھی تقلید کا شکار ہو چکے ہیں۔ کہ حقائق سے پردہ اٹھانے پر صرف گو نواز گو کے نعرے، فحش طبروں اور بازاری گالیوں کی گردانیں سننے میں آتی ہیں۔ احباب تاریخ گواہ ہے کہ امت مسلمہ میں روشن خیالی کی یہ حالیہ ایمان لیوا بیماری کوئی نیا مرض الموت نہیں ہیں۔ اٹھارویں صدی ہی سے کچھ مسلمان مغرب سے والہانہ محبت کے مرض میں مبتلا رہے تھے۔ مغربی زر خرید ایرانی دانشور ملکوم خان اور آقاخان کرمانی بھی ایرانیوں کو یہ سبق پڑھاتے رہے کی کہ قرآن و شریعت کی جگہ جدید سیکولر قانونی نظام اپنائیں کیونکہ ترقی کا واحد راستہ یہی ہے۔ ایرنی قوم کو اس روشن خیال سبق کا شرمناک نتیجہ شاہ ایران جیسے عیاش حکمران اورشراب و شباب برانڈ کلچرکی صورت میں بگھتنا پڑا۔ اسی طرح مصر کے ایک سیکولر ادیب رفاح التحتوی بھی اسی روشن خیال نظریئے کے علمبردار بنے اور نتیجہ بھی بعین ویسا ہی برامد ہوا، مصری قوم پر بھی سامراجی مفادات اور مغرب زدہ افکار کے داعی انوار السادات اور حسنی مبارک جیسے سامراجی غلام اور عوام دشمن حکمران مسلط ہوئے۔

پاکستان میں روشن خیالی اور فتنہء دہر سے محبت کے دجالی درس کا جو سلسلہ مشرف صاحب نے شروع کیا تھا، اس سامراجی تحریک کی جان نشینی اب قادری صاحب جیسے مذہبی شعبدہ بازوں اور خاں صاحب جیسے ” اصل سیاسی مشن سے بھٹکے ہوئے” سیاست دانوں کے ہاتھ آ چکی ہے۔ اور قوم کی شومئی قسمت کہ ان کے نام نہاد انقلاب کی تشہیر کرنے کیلئے حسن نثار اور ایاز امیر جیسے لبرل اور فاشسٹ دانشور نما مسخرے اور ہندوآتہ اور کفر قادینیت کے حواری بال ٹھاکری صحافی بھی موجود ہیں۔ آزادی و انقلاب کے اس معیشت و امن کش ڈرامے میں طوائف، تماش بین اور دلال کے کردار نبھانے کیلئے جامعیہ حفصہ کے قاتل، اقراری زانی شیخ رشید اور مصدقہ صیہونی ایجنٹ خورشید محمود قصوری کے ساتھ ساتھ ہم جنس پرستی کی علمبردار فوزیہ قصوری اور گستاخ قرآن و اسلام  پاپ سنگر  سلمان احمد جیسے تمام  روشن خیال خدمت گاروں کی پوری ٹیم ہمہ وقت فعال و سرگرم ہے۔ گستاخین قرآن و رسالت کو پروموٹ کرنے والی متحدہ، سیکلور طبقے اور وہ قادیانی نواز سیاسی بہروپیے بھی اپنے اپنے حصے کا رول ادا کر رہے ہیں جو قوم کو کسی نیلے انقلاب کا سبز باغ دکھا کر اسالامی جمہوریہ پاکستان کو سرخ سیکولر ریاست بنانے کی نارنجی صلیبی سازش میں درپردہ  فتنہء مغرب و سامراج کے حواری ہیں۔ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ خان صاحب کے سونامی انقلاب کی آڑ میں لبرل ازم اور حسینیت کے جعلی علمبرداروں کے بھیس میں چھپے ہوئے حقیقی یزیدوں کی مغرب پرست روشن خیالی جیسا ایک ڈرامہ جدید مصر کے نام نہاد بانی محمد علی پاشا کا متنازعہ دور بھی تھا۔ جس نے مصر کو ترکوں سے آزاد کروا کر اسے کسی حد تک جدید دنیا میں شامل تو کیا لیکن اس کے طریق کی سفاکی اور اسلام پسند سیاسی مخالفوں کا قتل عام، نازی ڈکٹیٹر ہٹلر کی خونخواری اور پرویز مشرف جیسے آمروں سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھا۔ اس روشن خیال مصری دور میں بھی اس ملک کو سیکولر بنانے کیلئے مذہبی طور پر وقف شدہ جائیدادوں کو ضبط کرلیا گیا تھا۔ ایک منظم طریقے سے علماء حق کو مساجد تک محدود کر کے تمام انتظامی و آئینی اختیارات واپس لے لئے گئے۔ اور پھر بالآخر قدامت پسند مگر آزاد مصر کو ایک جدید سیکولر ریاست بنانے والوں کی ضروت سے زیادہ روشن خیالی کا سیاہ انجام یہ نکلا کہ آزاد  مصر مغربی آقاؤں کی غلامی کے اندھیروں میں غرق ہو کر ایک برطانوی نوآبادی بن کر رہ گیا۔

پاکستان میں امریکہ، برطانیہ اور بھارت کا پسندیدہ اسلام نافذ کرنے کیلیے کوشاں روشن خیال،اسلام کو اولڈ فیشن مذہب قرار دینے والے احباب اور لاہورمیں شرعی اور ڈنمارک میں صلیبی فتوی دینے والی خوابی کی سرکار کے پیروکار، معروف مصنفہ کیرن آرم سٹرانگ کی کتاب ” اسلام کی مختصر تاریخ” ضرور پڑھیں۔ وہ اسلام کو جدید مذہب قرار دیتے ہوئے لکھتی ہیں۔ ” درحقیقت اسلام تو تمام اعترافی مذاہب میں سب سے زیادہ عقلی اور ترقی یافتہ مذہب ہے۔ اس کی کڑی وحدت پرستی نے انسانیت کو اساطیر کی خرافات سے نجات دلائی اور قرآن مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ فطرت کا قریبی مشاہدہ اور غور و فکر کریں نیز اپنے اعمال کا مستقبل تجزیہ کرتے رہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عقلیت پسندانہ روح جس نے جدیدیت کو جنم دیا ہے، حقیقت میں اسلام سے ہی نکلی تھی۔” پاکستان میں روشن خیال اور انقلاب کا منجن بیچنے والے سیاست دانوں کے دام فریب میں آئے لوگوں کو مسلم سلطنتوں کے زوال اور مسلمانوں کی زبوں حالی کے بارے اسلامی طرز فکر اور طریق ریاست کے حامی ان مغربی دانشوروں کی تحریریں بھی ضرور پڑھنی چاہئیں۔ جو لکھتے ہیں کہ نو آبادیاتی نظام کی حکمرانی اور مغرب کی نقالی میں تہذیب مغرب کی تقلید کی وجہ سے مسلمان اپنی بنیادی اسلامی اقدار و دینی تعلیمات سے ہٹ گئے تھے۔ انہوں نے دوسروں کی نقل کی تو وہ مذہبی ، ثقافتی او سیاسی اعتبار سے دوغلے ہوتے گئے اور جب کوا ہنس کی چال چل کر اپنی بھولا تو پھر نتائج ہمیشہ کی طرح ہولناک اور تباہ کن ہی نکلے۔

سیاسی جلسوں میں ایک گستاخ قرآن گویے کے میوزک شوز کروانے والے آزاد خیال، گستاخئ قرآن و رسالت سے بے نیاز سونامی خان کے پرستار، اسلام دشمنی اور مغرب کی نقالی میں اپنا مونہہ طمانچے مار مارکر سرخ کرنے سے خوشحالی کی طرف نہیں بلکہ تباہی اور زوال کی طرف گامزن ہیں۔ جلسوں اور تقریروں کو میوزک شو بنانے والے تاریخ کا مطالعہ کریں کہ جن اسلام دشمن سیکولر حکمرانوں نے مغبی تہذیب کی پیوندکاری کیلئے مسلم معاشرے پر وحشیانہ مظالم تک کیے، وہ نہ عبرتناک انجام سے بچ نہ پائے اور نہ ہی مورخ کی آنکھ سے ان کی ننگ آدم خباثت محفوظ رہی ۔ اس امر پر قومی اتفاق رائے موجود ہے کہ تمام دینی مدارس دہشت گردی کے فروغ میں ملوث نہیں ہیں۔ لیکن افسوس کہ قادری صاحب جیسا عالم دین بھی مغربی اشاروں پر پاکستان میں دینی مدارس کو جہالت کی نرسریاں قرار دے رہا ہے۔ یاد رہے کہ سیکولر اتاترک نے ترکی میں تمام مدارس کو بند کر کے صوفی سلسلوں کو بھی تہس نہس کر کے رکھ دیا تھا۔  مشرف کی لبرل مہم کی طرح مردوں اور عورتوں کو جدید مغربی طرز زندگی اختیار کرنے اور مغربی ماڈرن لباس زیب تن کرنے پر مجبور کیا گیا۔

نہ صرف یہ کہ جبری طور پر لباس مغربی کروایا گیا۔ انتہائے فتن کہ قوم پرستی کے نام پر عربی اور اسلام سے شدید نفرت پیدا کر کے حفاظ قرآن کو اس خیال  سے چن چن کر شہید کیا گیا کہ سینوں میں موجود عربی کلام الہی بھی مٹ جائے۔ لعنت افلاک ایسی جدت پسندی اور روشن خیالی پر کہ ترکی میں اٹھائیس برس تک اذان تک نہ ہوسکی۔ فتنہء اتا ترک کے کافرانہ حکم سے نمازوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ مگر اللہ اکبر کہ پھر زمانے نے وہ ایمان افروز مناظر بھی دیکھے کہ جب اٹھائیس برس بعد انہیں مساجد سے اذانوں کی صدائیں گونجیں تو بچے، بوڑھے اورجوان مساجد کی جانب روتے ہوئے ایسے دیوانہ وار بھاگے جیسے ماؤں سے بچھڑے ہوئے بچے، ان کے مل جانے پر آغوش میں پناہ لینے دوڑ رہے ہوں۔ صد افسوس کہ بعد ازاں اذان کی پابندی ختم کرنے والے مسلم حکمران کو بھی سیکولر ترک فوج نے پھانسی دے دی ۔ لیکن کیا اس مذہبی جبر و استحصال سے ترک قوم کے دلوں میں دین و ملت سے محبت ختم ہو سکی ؟ نہیں ہرگز نہیں ! عالم گواہ ہے کہ آج اسی ترکی میں مساجد پہلے سے زیادہ آباد، حفاظ قرآن کی تعداد دس گناہ اور دین و ملت سے عشق کی شمع جل اٹھی ہے۔

خان صاحب یقین کیجئے آپ میوزک شوز اور رقص و مجرا سے مزین انقلابی دھرنوں سے ہزاروں کی تعداد میں مادر پدر آزاد کڑیاں منڈے تو ضرور اکٹھے کر سکتے ہیں۔ آپ خطہء افریقہ میں قادیانیت کے فروغ کیلئے سرگرم قادیانی کلٹ کے آفیشل  نمائیندے عاطف میاں کو اپنا وزیر خزانہ بنانے کی خواہش کا اظہار فرما کر اسلام دشمن قادیانیت کے مغربی سرپرستوں کو اپنی والہانہ وفاؤں کا یقین تو ضرور دلا سکتے ہیں ۔ لیکن  لندن یا واشنگٹن برانڈ  انقلاب کے نام پر پراگندا و متعفن مغربی تہذیب اور ” طوائف خانوی معاشرت ” کو فروغ دینے میں کلی ناکام ٹھہریں گے۔ ہمیں جنرل اسلم بیگ اور دوسرے ذرائع کی طرف سے کئے گئے ایسے حالیہ انکشافات سے کوئی غرض نہیں کہ آپ  نے قتل قوم اور قتل معیشت کی یہ انقلابی گیم  کسی لندن پلان کے تحت شروع کی یا اس کا مقدس سکرپٹ ایران میں  لکھا گیا۔ ہمارا حق الیقین ہے کہ اس ملک و قوم کا ہر دشمن ہمیشہ ناکام و نامراد ہی رہے گا۔ ہمارا ایمان ہے کہ نواز شریف یا آپ رہیں نہ رہیں، مملکت خداداد پاکستان سدا سلامت و آباد رہے گی۔

آپ چودہ شہداء  کے سفاک قتل عام کا  مجروں  اور میوزک شوز کی رنگینیوں سے سجا  جشن مرگ منا  کر چودہ کروڑ پاکستانیوں کو مزید بیوقوف ہر گز نہیں بنا سکیں گے۔ انقلاب ناچ  گانوں اور مادر پدر آزاد معاشرت کے قیام کی مہمات سے نہیں بلکہ ان سیاسی و ملی افکار کے فروغ کی اس مخلصانہ  جدوجہد اور اٹل فیصلوں  سے برپا  ہوتے ہیں جن پر آپ آج  سے دس برس قبل تک قائم  تھے ۔ ۔ آج قوم کو وہی گم شدہ عمران خان مطلوب ہے جو معاشی و معاشرتی نا انصافی، لوٹا کریسی اور لا دینیت و لاقانونیت کیخلاف سب سے مظبوط اور کھری آواز تھا ۔ مگراس کیلئے آپ کا شاہ محمود قریشی، خورشید قصوری، جہانگیر ترین اور شیخ رشید جیسے ابن الوقت ٹولے  اور  قادری  اور الطاف جیسے مفادیاتی گروہوں کے دجالی چنگل سے آزاد ہونا اب پہلی اور آخری شرط ٹھہرا ہے۔ قوم کو موروثی سیاست اور ظلم و جبر کے نظامِ سیاہ ست سے حقیقی آزادی دلانے سے پہلے خود  بھی مغرب زدہ سیاہ ست  اور سامراجی ڈانز کی قید و زندان سے آزادی  حاصل کرنا ہو گی۔ اور پھر ہم  بھی کسی حفاظتی کنٹینر میں نہیں بلکہ سرعام سر پر کفن باندھ کر آپ کے شانہ بشانہ ساتھ ہوں گے ۔ ۔ کہ اُس خان کی آزادی ہے اِس قوم کو درکار جو خاں  کبھی سامراج اور مغرب کے بادشاہ گروں کی قید اور سیاہ ست کے ابلیسوں سے سے آزاد ، ” ایک آزاد منش  انقلابی” مگر اب ریحام خان جیسی کئی مغربی رقاصاؤں کی زلفوں کا اسیر ہے  ۔۔۔۔۔ آخر میں خاں صاحب کی  نذر میرے دو اشعار محبت کے ساتھ ۔ ۔ ۔ ۔۔

  میکدے کے جام میں ڈوبے سبھی اسباقِ عشق
یاد پھر محمل ، شبِ  لیلیٰ  نہ وہ صحرا رہا

  امن کے دستورِ چنگیزی درندوں نے لکھے
فاختہ کے گھونسلے پر  باز کا پہرہ  رہا

( فاروق درویش)
03224061000واٹس ایپ کنٹیکٹ۔۔۔۔۔

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: