تاریخِ عالم و اسلام تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ

مغربی استعمار و برہمن کیلئے زندہ و جاوید ہیبت – جنرل حمید گل


 یہ باروہیں صدی عیسویں ہے کہ جب عیسائی کلیسا کی نفرت انگیز تحریک اور پادریوں کے دہشت گردانہ احکامات کے پابند ، یورپ کے شاہان حشمت کا اتحاد مسلم ریاستوں اور بالخصوص بیت المقدس پر یلغار در یلغار میں جنون کی حدوں سے ماورا وحشتِ حرب میں مبتلا تھا۔ اسی دورِ خون رنگ میں ملی جذبہء جہاد میں نئی روح پھونکنے والے اک پروانہء رسالت نور الدین زنگی کی نگاہ  بندہ شناس اس نوعمر سپاہ گر کو سالارِ لشکر مقرر کرتی ہے جو صرف چھبیس برس کی عمرمیں اتحاد بین المسلمین کی دشمن فاطمی خلافت کا جنازہ نکال کر  فاتحِ مصر اور اگلے ہی عشرہ میں فاتح حطین بنتا ہے۔ اور جب وہ فرزندِ ملت ہاتھ میں تلوار لئے گھوڑے کی پیٹھ کو تخت اور میدان جہد و جہاد کو اپنی مسند گردانتا ہے تو پورے یورپ کے شہنشاہانِ ہیبت اپنے ٹڈی دل  صلیبی لشکروں کے ہمراہ ناکام و نامراد ٹھہرتے ہیں۔  اور پھر اللہ اکبر کہ کائنات کا مقتدرِاعلی اس کے سر پر فاتح القدس کا سنہرا تاج سجا دیتا ہے۔ جی ہاں یہ جانباز عالم اسلام کا وہ عظیم فرزند تھا ، جسے دنیا سلطان صلاح الدین ایوبی اور عالم کفر و باطل ناقابل شکست مرد آہن کے نام سے یاد کرتا ہے۔ تاریخ عالم اور خود مغربی مورخین بھی  گواہ ہیں کہ اس کی جنگ حکمت عملیوں کے سامنے پورے یورپ کے سب تاجدارِ حشمت اور ہیبت ناک  لشکر کلی بے بس و نامراد ہو کر بس زندہ قبرستان ٹھہرے۔ یہ ملت کے اس بطلِ جلیل کا ہی تیار کردہ دفاعی نظام،  ناقابل تسخیر جنگی حکمت عملی اور پھر مابعد کے مسلم حکمرانوں کی طرف سے اس کے جذبہ و حکمت کی  تقلید کا تسلسل ہی تھا کہ اگلے 691 برس تک بیت المقدس پر اسلام کا سبز پرچم صلیبیوں کے سینے پر مونگ دھر کر ان  کے کلیجوں میں تندور جلاتا رہا ۔ ۔ ۔

احباب  تاریخ ماں کی کوکھ سے واقعات کا جنم  اور انسانی ماں کی کوکھ سے بچوں کی پیدائش ،  نظام قدرت اور سنت الہی کا حصہ ہے۔ سلطان محمد فاتح، محمود غزنوی اور سلطان ٹیپو کارناموں کو جنم دینے والی تاریخ ماں  اپنے ماڈرن دور میں داخل ہو رہی ہے۔ اس بار اس تاریخ کی ماں کی کوکھ سے جنم لیکر اسلام دشمن استعمار کو لوہے کے چنے چبوانے والا ایک اور جرنیل عالمی سیاست کے منظر پر چھا جانے والا ہے۔ اور یہ وہ  اہم دور ہے کہ جب  بیسویں صدی کے آخری عشرے میں جدید زارانِ روس کی نظریں گرم پانیوں اور مغربی استعمار کی عالم اسلام پر مرکوز ہیں ۔

 یہ کرشمہ قدرت اور عطائے رب ذولجلال ہی تھی کہ اس نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر میں ہر پروموشن، اس کیلئے درکار کورس مکمل کرنے سے پہلے حاصل کی۔ چشمِ عالم محوِ حیرت تھی کہ وہ ایک مختصر عرصہ ہی میں اس مقام اوج تک جا پہنچا کہ وہ خود تو ایک میجر تھا لیکن اس کی تخلیق کردہ انٹیلی جنس حکمت عملی سکول آف ملٹری انٹیلی جنس میں کرنل اور سینئر رینک آفیسرز کو پڑھائی جا رہی تھی ۔ وہ اس پاک دھرتی کا وہ بطلِ حریت و سپاہ گری تھا کہ جس نے بطور بریگیڈیئر برطانیہ کے عالمی شہرت یافتہ رائل وار کالج کا عسکری کورس یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ” یہ انگریز کون ہوتا ہے مجھے جنگ سکھانے والا، وطن کا دفاع اپنی مٹی کے جس فہم سے آتا ہے، وہ میرے لہو میں دوڑتا ہے“۔ یہ وہی بندہء ادراک و خودداری تھا کہ جس نے بطور بریگیڈئر ، جنرل ضیاءالحق کو مخاطب کر کے برملا کہا کہ ،

“You are a man of status quo”

 یہ وہی پیشہ ور قائد لشکر تھا، کہ جس کی کمان میں جب  پاکستان آرمڈ ڈویژن نے ملتان سے کشمیر کی جانب طوفانی  پیش قدمی شروع کی تو اس ڈرامائی پیش قدمی کی ہیبت سے لرزاں بھارتی قیادت کو اپنی ملکی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی مشق ”براس ٹیک“ منسوخ کرنی پڑی۔ اسی کفر شکن سپاہ سالارِ حرمتِ وطن نے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی مشق ضرب مومن کی قیادت کی ۔ مسخرے نقادوں کو یاد رہے کہ یہ وہی بندہ ء فقر تھا کہ جس نے اپنی فوجی سروس اور ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی ذاتی حفاظت کیلئے کبھی سیکورٹی گارڈ نہیں رکھے۔ یہ انتہائے تقوی اور عجز و  انکساری تھی کہ وہ بطور ڈی جی آئی ایس آئی اپنے گاﺅں بھی بغیر سیکورٹی گارڈ  عام سول لباس میں ملبوس ہوتا تھا ۔

اس کی بیباکی و حق گوئی کا یہ عالم تھا کہ جب ا سے  جنرل ضیاء الحق نے یہ کہا  کہ  ” سنا ہے تم  نے وزیر اعظم محمد خان جنیجو کو ان کی برطرفی کے منصوبے سے پیشگی آگاہ کر دیا تھا ؟“ تو اس نے بلا خوف و خطر جواب دیا کہ ”جی ہاں ! بطور ڈی جی آئی ایس آئی یہ میری عین  ذمہ داری تھی “ ۔ جی ہاں  یہ وہی غازی مرد تھا، جسے بطور کور کمانڈر پہلی بار راولپنڈی آنے پر دسویں کور کی سیکورٹی ٹیم نے ائیر پورٹ پر حصار میں لیا تو اس نے  ٹیم کو یہ کہہ کر رخصت کر دیا کہ ”  تمہاری ماﺅں نے تمہیں حمید گل کی حفاظت کیلیے نہیں وطن کے دفاع کیلئے جنم دیا  ہے۔  وہ مقلدِ  سیرتِ  اسلاف تھا ، سو کور کمانڈر کی حیثیت سے دسترخوان پر بھی محمود و ایاز کو یکجا کر کے اپنے سپاہیوں کے ساتھ  زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتا۔  وہ سنتِ پیغمبری اور عفو و در گزر کی وہ زندہ مثال تھا کہ جس نے آئی ایس آئی جیسی طاقتور ایجنسی کا ڈائریکٹر جنرل ہوتے ہوئے بھی اپنی سگی بیٹی کے قاتل شوہر کو معاف کر دیا۔ وہ پاکستان کا واحد جرنیل تھا جس نے دشمنان ملک و ملت کے من گھڑت الزامات کے جواب میں بحث و تکرار برانڈ دفاع کی بجائے خود کو ہر فورم کے روبرو کھلے احتساب کیلئے پیش کر کے ایک عظیم روایت قائم کی ۔

امن کی آشا برانڈ ناقدین اور ماروی سرمد و نجم سیٹھی مارکہ بھارتی غلام دانشوروں کو یاد رہے کہ یہ  وہی مرد مومن تھا کہ جس نے وطن عزیز کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والی سپرپاور روس کو سبز کہساروں سے لیکر سنگلاخ چٹانوں میں گھری وادیوں اور میدانوں تک  در بہ در دھول چٹا کر صرف ٹکڑے ٹکڑے ہی نہیں کیا ۔ بلکہ اس کی کافرانہ کوکھ سے وسطی ایشیا میں کئی آزاد اسلامی ریاستوں کے جنم میں ناقابل فراموش تاریخی کارنامہ سرانجام دیکر ویسا ہی کردار ادا کیا، جیسا سلطان محمد فاتح نے عیسایہت کے ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے قلعے قسطنطنیہ کو تسخیر اور ایوبی سلطان نے بت المقدس کے ارد گرد قائم عیسائی دنیا کے عسکری حصار کو تہس نہس  کر کے ادا کیا تھا ۔ اور یوں روسی استعمار کے زیر انتظام  دیار کفر کی جن مسجدوں پر کئی صدیوں سے قفل پڑے تھے ، ان کے خاموش میناروں سے ایک بار پھر سے اللہ اکبر کی صدائیں گونجنے لگیں۔۔۔

امت اسلامیہ اور پاکستانی قوم کیلئے باعث صد فخر ہے کہ عطائے ایزدی صلاحیتوں سے مالا مال یہی وہ سالارِ حران وطن تھا کہ جسے فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ایوبی سلطان کی طرح دنیا کا خطرناک ترین جرنیل اور افغانستان میں امریکہ و مغربی اتحاد کی پے در پے عبرت ناک شکست کا ماسٹرمائینڈ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ وہی مردِ ہیبت تھا کہ جس کے بارے ہندوستان کے کئی نامور صحافیوں  نے بھی  اقرار کیا کہ جنرل حمید گل ریٹائرمنٹ کے بعد اور زیادہ مہلک دشمن ثابت ہوئے۔ اسی نامور جرنیل کی فکری و عسکری صلاحیتوں کے اعتراف میں جرمن حکومت نے بالآخر ٹوٹنے والی دیوار برلن کا ایک  ٹکڑا اس تحریر کے ہمراہ بھجوایا کہ ” یہ ٹکڑا اس جنرل حمید گل کے نام کہ جس نے دیوار برلن پر پہلی کاری ضرب لگائی“ ۔

خبر و اخبارکی یاداشت رکھنے والے احباب جانتے ہیں کہ جب بھارتی کلرز کا لبادہ اوڑھے اسرائیلی طیارے بھارتی سرزمین سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو تباہ کرنے کیلئے تیار کھڑے تھے تو وہ یہی جرنیل تھا جس نے اسرائیلی قیادت کو بروقت یہ ” موت کا پیغام ” بھیجا تھا کہ، یہودی قیادت کو خیال رہے  پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر کسی بھی حملے کی صورت میں پاکستان پورے اسرائیل کو محض چند منٹوں میں ہمیشہ کیلئے صفحہ ء ہستی سے مٹانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ اور پھر اس جراتمندانہ پیغامَ تنبیہہ کے فوری بعد وہ اسرائیلی طیارے اپنے حیفہ اور لد کے اسرائیلی ائر بیسوں کی طرف واپس لوٹ گئے تھے۔ ماضی قریب کی تاریخ گواہ ہے کہ ہندوتوا اور سامراج کے غلام ابن غلام  ملک فروشوں کی غداریوں کے باوجود اسی جرنیل نے افغان اور فلسطینی مجاہدین کا پشت بان بنکر دہر و باطل کے ایوانوں کو متزلزل اور امن کی آشا برانڈ فتنہء صحافت  سے ٹکرا کر جہاد کشمیر کو زندہ و تابندہ  رکھا ۔۔۔

دنیائے سیاہ ست و عوام الناس نے یہ تماشہ  حق گوئی و بیباکی بھی دیکھا کہ ، جب سامراجی غلام  حکمرانوں  حکمرانوں نے ایک پاکستانی شہری ایمل کاسی کو برطانیہ کے ہاتھ بیچ دیا تو یہ راست گو جرنیل ہی اس ایمل کاسی اور حریتِ ہموطن کا جری وکیل بن کر پاکستانی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانے والا واحد پاکستانی بھی تھا اور اسی مرد حر نے عافیہ صدیقی کیلئے ہمیشہ آواز بلند بھی کی اور اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک اس کے اہلخانہ کی ڈھارس بھی بندھاتا رہا۔۔

 اس دبنگ شخص کو دنیا کا سب سے طاقتور جنرل اور پاکستان کی تاریخ کا سب سے کم عمر لیفٹیننٹ جنرل ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ اسی  شخص نے  ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا کا چارج اس پیشہ ورانہ منطق کے ساتھ ٹھکرا دیا تھا کہ ”میں فوج میں ٹینک بنانے کیلئے نہیں، بلکہ ٹینک چلانے کیلئے آیا ہوں، میں کسی فیکٹری کا منیجر نہیں پاکستان کا سپاہی ہوں“۔

 میں یہ حلفاً قسماً  بیان  کر رہا  ہوں کہ جون 2015 میں ڈرگ و لینڈ مافیوں اور ڈبل شاہ برانڈ جعلسازوں  کے مذموم دھندے  بینقاب کرنے پر  قاتلانہ حملوں اور وحشیانہ تشدد کے بعد میں  بیرون ملک ہجرت پر مجبور ہوا تو  آنکھوں کا شدید عارضہ لاحق ہوگیا۔ میں نے  اداروں اور میڈیا سے وابستہ لوگوں سے اپریشن کیلئے پاکستان میں اخلاقی  تحفظ کی درخواست کی۔ لیکن ہر طرف سے بے رحم خاموشی کے بعد وہ صرف  جنرل حمید گل مرحوم ہی کی ذات تھی۔ جس نے مجھ جیسے بے سہارا شخص کو راولپنڈی میں اپنے ہاں  قیام و طعام، علاج و معالجہ میں ہر اعانت اور مکمل تحفظ  فراہم کیا۔ لیکن آہ  کہ میرے اس قیام کے دوران ہی  میرا وہ  محسن عظیم اس جہان فانی سے کوچ کر گیا۔ اور میرے  لئے سدا ایک مسیحا و سایہء رحمت بنے رہنے والے اس  فرشتہ صفت کے انتقال سے مجھ جیسے کئی فقیرِ دشت ہی نہیں بلکہ وہ مفلسان وطن بھی یتیم ہو گئے، جن کیلئے اس نے  اپنے گاﺅں میں  ماڈل ویلیج بنا کر پچپن مکانات مفت تقسیم کیے تھے۔ تلخ حقیقت ہے کہ مفلسوں او فاقہ کش عوام کے دکھوں سے بے نیاز ہمارے حکمرانوں  کے عالی شان محلات کے پڑوس میں لوگ اپنے بیوی بچوں سمیت اجتماعی خود کشیاں کرتے ہیں ۔ لیکن اس  سخی و تونگر عاشق رسول  نے سرگودھا میں یتیم بچیوں کیلئے عالمی معیار کا جو یتیم خانہ تعمیر کیا۔ وہاں اسّی کے قریب جو  یتیم بچیاں مقیم ہیں انہیں خالص دودھ کی فراہمی کیلئے بھینسیں بھی موجود ہیں۔ میں ذاتی طور پر اس امر کا بھی گواہ ہوں کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی ساری پینشن ہی نہیں اپنی کل  آمدنی کا نوے  فیصد خیرات کر دیتا تھا۔ وہ سینکڑوں بچوں کی فیسیں، مریضوں کے علاج کے اخراجات حتٰی کہ کئی غریب لوگوں کے گھروں کے کرائے تک اپنی جیب سے ادا کرتا تھا۔۔۔۔

یہ وہ عظیم  شخص تھا جس کے جذبہ ء حب الوطنی اور جہد ملی پر اس کے بد ترین نظریاتی  مخالف بھی رشک کرتے تھے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا وہ واحد خوش نصیب ملی و قومی کردار تھا، جس کی نماز جنازہ میں بچے نوجوان اور بوڑھے سیاسی جماعتوں کے جھنڈے نہیں ، پاکستان کے سبز ہلالی پرچم لئے ، تیری جان میری شان پاکستان، پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ اور نعرہء تکبیر اللہ اکبر  بلند کرتے رہے۔ اور اسے گڑھی خدا بخش جیسے کسی عالیشان فرعونی مقبرے یا قصر رائیونڈ جیسے شاہی محل میں نہیں بلکہ  پاکستان آرمی کے قبرستان میں  شہدائے وطن کےعین جلو میں دفنایا گیا۔

خوشا کہ اسے قدرت کی طرف سے  یہ عظیم و منفرد مقام بھی عطا ہوا کہ اس کی غائبانہ نماز جنازہ مسجد نبوی، حرم کعبہ ، غزہ و مقبوضہ کشمیر کے بائیس اضلاع، افغانستان ، ترکی ، سوڈان، ایران، اجمیر شریف، امریکہ ، روس، لندن، بیلجیم، ڈنمارک اور وسط ایشیائی ریاستوں سمیت سمیت چالیس سے زائد ممالک میں ادا کی گئی۔ یہ وہی سپوتِ ملت تھا جس نے ہمیشہ امریکہ اور نیٹو کیخلاف برسرپیکار افغان مجاہدین کی مردانہ وار ہمنوائی کی۔ اس کی رحلت پر افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور نے  کہا کہ ”جنرل حمید گل کے انتقال سے ہم یتیم ہو گئے ہیں، ان کی وفات کا دکھ کسی بھی طور پر ملا عمر کے وفات سے کم نہیں۔ بلا شبہ انہوں نے ملا عمر کی وفات کے بعد تحریک طالبان افغانستان میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا“۔

انگنت عسکری و آفاقی صلاحیتوں سے مالا مال  اور حقیقی طور پر عشق محمد سے سرشار یہی وہ حمید گل ہے ۔۔۔۔ جس کے ذکر سپاہ گری اور جذبہء حریت پر پوری ملت اسلامیہ نازاں اور اہل دہر و باطل پر بعد از مرگ بھی ایک  لرزہ و ہیبت طاری ہے ۔ بلاشبہ وہ فاتح جہادِ افغانستان  روسیوں، بھارت واسیوں  اور مغربی استعمار کیلئے ایک ڈراؤبا خواب  ہی نہیں،  اس  دور کا وہ صلاح الدین ایوبی تھا کہ جس نے اپنے اس قدیمی  پیش رو کی طرح صرف جدید ِ زاران ِ روس ہی کو نہیں مغرب و سامراج  کے جدید صلیبی لشکروں کو بھی تا حدِ نظر و  فکر عین زچ کر کے ہر مقام پر شہہ مات کا نعرہ لگا کر عبرت ناک و ہزیمت خیز شکست در شکست فاش دی ،،، والعصر کہ حمید گل اور جذبہء حمید گل کبھی ریٹائرڈ نہیں ہوتا، زنگی و ایوبی کی طرح وہ بھی کبھی نہیں مرتا ۔۔

   رات درویش کی تربت پہ تھے گریاں تارے : صبح چھیڑے گی صبا نغمہء رنجور میاں

فاروق درویش : واٹس ایپ کنٹیکٹ 00923224061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: