حالات حاضرہ سیکولرازم اور دیسی لبرل

غیرت بریگیڈ کا پرامن قلمی میزائل ۔ اوریا مقبول جان


اوریا مقبول جان جیسےغیرت مند صحافی اگر مغرب زدہ سیکولر حضرات کو ” صرف اسلام سے بغض رکھنے والے” فتنے قرار دیتے ہیں تو یہ عین درست ہے۔ انصار عباسی جدت پسند لبرلز کو تاریخ و حقائق کا آئینہ دکھاتے ہیں تو جواب میں طعن و دشنام کا سیل ِ آلودگی امنڈ آتا ہے۔ سیکولر طبقہ  کی ہر ایک دورنگی سےعیاں ہے کہ یہ سوائے اسلام کے دنیا کے باقی تمام مذاہب، ان کے  پیشواؤں اور رسوم و رواج تک کا مکمل احترام کرتے ہیں۔ یہ اخلاق باختہ لوگ عریانی و فحاشی کی دلدل میں دھنستے ہوئے رنگین مزاج مغرب اور عریانیت کو کامیابی کی کنجی ماننے والے بھارت دیش کی فاحشانہ تقلید میں اخلاق سوزی کی تمام حدود عبور کرنا ماڈرن ایڈونچر سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق فحاشی کیخلاف اٹھنے والی ہر آواز ان کی جنسی آزادی اور حقِ عریانیت  کا کھلا استحصال ہے۔ ان کیلئے  بابری مسجد شہید اور احمد آباد میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے ہندو حقیقی بھائی  اور مساجد کی شہادت پر احتجاج کرنے والے مسلمان شدت پسند  ہیں۔ ان کی نظر میں  مغرب کی بے لباس رنگینی اور بھارت کا حیا سوز بولی وڈ مانیہ دہشت گردی  و مصائب کا شکار دکھی انسانیت کیلئے محبتوں اور خوشگوار لمحوں کا باعث ہیں ۔ انہیں نیم عریاں سے عریاں ہوتے ہوئے میڈیا چینلز اور جنسی بے راہ روی کے فروغ کا باعث بننے والے کمرشل اشتہارات یعنی ” فحاشی پراڈکٹ”سے بیحد لگاؤ ہے۔ لہذا ان کے مطابق  پریس اینڈ میڈیا کی  شہوت انگیز عریانیت پر تنقید کرنے والے اہلِ شرافت دنیا میں  شدت پسندی پھیلانے کا سبب  اور آزادیء اظہار کیلئے سنگین خطرہ بن رہے ہیں۔

انتہائی تکلیف دہ امر ہے کہ جہاں برطانیہ میں ہم جنس پرستی کیلئے ووٹ دینے والے چوہدری سرور اب تحریک انصاف میں ہیں۔ وہاں مندروں میں پوجا پاٹ اور ہم جنس پرسی کی علمبرداری کرنے والے میئر آف لندن محمد  صادق  نون لیگ کے حمایت یافتہ ہیں۔ اگر ایک طرف گستاخ قرآن و اسلام سنگر سلمان احمد، شیریں مزاری اور فوزیہ قصوری جیسے لبرل سونامی لیگ میں ہیں۔ تو دوسری طرف پرویز رشید اور عاصمہ جہانگیری جیسے لبرل  فتنہ پرور نون لیگ کے اربابِ وزارت اور حلقہء مشاورت میں ہیں۔ قومی المیہ یہ  ہے کہ ایسے مغربی آلہ کار ہر سیاسی جماعت کے تھنک ٹینکس میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا پر ڈراموں، ٹاک شوز اور خصوصاً ٹی وی کمرشل اشتہارات میں عریانی و فحاشی اور ہندوتوا کلچر کی بھرمار نظر آتی ہے۔ یہ لوگ صرف میڈیا ہی نہیں ، قومی قیادت کے ڈرائینگ رومز تک رسائی اور قومی اداروں میں بھی تباہ کن اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ یہ پاکستان میں اپنے محبوب مغرب کی اس پراگندا تہذیب کے علمبردار ہیں جس میں آزادانہ جنسی تعلقات عام اور  پریس میڈیا میں ایکس ریٹڈ  شہوت پرستی کو ایک فنکاری و کمرشل آرٹ سمجھا جاتا ہے ۔ یہ کوئی تماشائے آلودگی نہیں بلکہ ان لبرل کی غیرت جگانے کیلئے با غیرت  دلیل  ہے ہماری ایشیائی تہذیب کے برعکس ان لبرلز کے پسندیدہ مغرب و سامراج کی آزاد جنسی تہذیب میں نوجوان بیٹی کا بوائے فرینڈ نہ ہونا والدین کیلئے حیرت و پریشانی کا باعث بنتا ہے۔

دم بہ دم برہنہ ہوتی ہوئی گوری تہذیب کی اندھا دھند ترقی کا یہ عالم ہے کہ آزاد جنسی روابط اور ہم جنس پرستی کے طوفانِ غلاظت کے بعد اب فیملی سیکس کی ننگِ آدم چادر اوڑھ کر بھائی اور باپ جیسے خونی رشتوں کے ناجائز بچے پیدا کرنا بھی انسانیت کی جذباتی ضرورت قرار دیا جاتا ہے۔ لہذا کچھ بعید نہیں کہ اس مادر پدر آزاد مغربی تہذیب کے پرستار عملی زندگیوں میں خود بھی اس محبوب تہذیب کی سنتِ حیوانیت پرعمل پیرا ہوں۔ عریانیت اور بے لباس معاشرے کیلئے سرگرم ان لبرل مسخروں کیلئے عریانی وفحاشی ہی اصل جدت پسندی ہے۔ لیکن فاروق درویش کے مطابق  یہ ” دیسی مرغی ولائیتی انڈہ ” برانڈ لبرل سوسائیٹی  کا  حیا اور لباس سے آزاد دورِ جہالت اور پتھر کے زمانے کی طرف الٹا سفر ہے۔ یورپ کے غیر انسانی ہونے کا اس سے سچا  ثبوت کیا ہو گا کہ وہاں کی سپریم کورٹس میں اب ہم جنس پرست ہی نہیں بلکہ گوری مٹیاروں کی گھوڑوں اور ولائتی بابوؤں کی کتیوں سے شادیوں کے آئینی و قانونی مقدمات بھی عالمی خبروں کا حصہ  ہیں۔ مغرب کی کوکھ سے نمودار ہونے والا انسانیت اور حیوانیت کا یہ انوکھا جنسی امتزاج جو ابلیسی شترگڑبے دکھائے گا اسے دیکھ  کر لبرلز کے روحانی پیشوا  آئین سٹائن جیسوں کی روحیں بھی بحیرہء حیرت میں ڈوب جائیں گی ۔

احباب یہ کوئی نئی بات نہیں کہ مغرب اور ہندوتوا کے پرستار بھارتی چینلوں پر پوجا پاٹ کو مذہب کی بے جا تشہیر نہیں سمجھتے۔ لیکن کسی پاکستانی فلم میں اذان کی آواز ہی سے ان کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں۔ ان کیلئے میڈیا اشتہارات میں نیم عریاں خواتین اور جنسی شہوت انگیز مناطر انسانیت کی جذباتی تسکین اور قوم کے مردہ  دلوں میں  لہو گرمانے کا باعث ہیں۔ لہذا جب بھی کوئی حق گو ان کی مادر پدر آزاد عریانیت کیخلاف ایمانداری سے قلم اٹھاتا ہے ، یہ عناصر انتہائی ضدی اور اخلاق باختہ انداز میں شور و غوغا مچاتے ہیں۔ میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ اوریا مقبول جان کے کالم پراڈکٹ پر واویلا مچانے والے وہی ماڈرن لوگ ہیں جو  ویب کیم پر رات بھر آن لائن بے لباس رہتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کے سائبر سیکس ایڈونچرز ، ڈیٹنگ اور جنسی جرائم سے واقف ہونے کے باوجود ان کی اخلاق سوز سرگرمیاں روکنے میں صرف اس لئے معذور و مجبور ہوتے ہیں  کہ ان کی  ماڈرن اولادیں خود اپنے ماں باپ کے ماڈرن معاشقوں اور بوڑھے یارانوں سے پوری طرح آگاہ ہوتی ہے۔

قارئین یہ سائبر غنڈہ گردی اور سیکولر دہشت گردی کی انتہا ہے کہ سوشل میڈیا اور ویب لنکس پر قرآن و رسالت کے بارے گستاخانہ مواد کی بڑھتی ہوئی اشاعت کو یہ آزادیء اظہار قرار دیتے ہیں۔ جبکہ عالم اسلام کے بدترین دشمن قادیانی زندیقوں اور گستاخین قرآن و رسالت سے محبت بھرے  ادبی و معاشرتی روابط و تعلقات ان کا اولین فریضہ ہے۔ ان کیلئے ان کے قادیانی حلقہء احباب کیخلاف بلند ہونے والی ہر آواز شدت پسندی ہے۔ انتہائی خطرناک صورت حال یہ ہے کہ قرآن و رسالت کے بارے ان کی دریدہ دہنی اور گستاخانہ اشاعتوں کو بینقاب کرنے والے بلاگرز اور صحافیوں کی آواز دبانے کیلئے ان کی پوسٹوں اور مراسلات پرعریاں تصویربازی ، فیک کافرانہ بیانات پر مبنی فیک سائٹس اور جعلی آئی ڈیاں بنا کر ان کے مسلم عقائد کے بارے خطرناک حد تک ڈس انفارمیشن پھیلانا ان کا گھٹیا ترین طریقہ ء خباثت ہے۔

آئین سٹائنی پیروکار ملحدوں کو خیال رہے کہ عریانی و فحاشی اور زناکاری کیخلاف نہی المنکر کا پیغام اوریا مقبول جان جیسے لکھاریوں کا نہیں بلکہ حکمِ مالکِ کائنات ہے۔ جنسی بدکاری و عریانیت  کی مخالفت دراصل سنت الہیہ و شیوہء پیغمبراں ہے۔  یہ صدائے حق، صرف  قرآن حکیم ہی نہیں ، انجیل مقدس اور دوسری الہامی کتابوں کا مشترکہ فلسفہ و بیان بھی ہے۔ اوریا صاحب کے پیغام حق کے ردعمل میں فحش کلام جوابی یلغار سے سیکولر دہشت گردوں کی کافرانہ جہالت اور جنسی میم جوئیوں کیلئے اضطراب صاف عیاں ہے۔ عریانیت کی پراگندگی کیخلاف اوریا صاحب کےعالمانہ ابطال کے جواب میں ان ملحدوں کی جوابی جنگ زیادہ تر فیک زنانہ آئی ڈیوں یا اپنے الحاد پر نازاں ایک ماڈرن ملحد خاتون اقدس سندھیلہ جیسی مغرب زدہ بلاگرز کے ذریعے جاری ہے۔ اپنے حلیہ سے دم مارو دم مٹ جائیں غم برانڈ نظر آنے والی اس تعلیم یافتہ خاتون نے ہٹ دھرمی سے الہامی احکامات کو پس پشت رکھتے ہوئے جو بچگانہ و جاہلانہ اندازاختیار کیا ہے وہی دراصل ہر ملحد و سیکولر کے پراگندا ذہن کی حقیقی ترجمانی اور نمائیدگی کرتا ہے۔ موصوفہ نے لکھا ہے کہا

” ۔۔۔”اوریا صاحب کو شاید یہ لگا کہ اس طرح سے شاید وہ ہمیں ڈرا لیں گے، لوگوں کو ہمارے قتل پر اکسائیں گے تو ہم لکھنا چھوڑ دیں گے۔ مگر ایسے نا کوئی خاموش ہوا  اور نہ ہی کوئی ہو گا۔ وہ کہتے ہیں نا کہ ۔۔۔۔۔ ہم نہ ہوں گے تو کیا؟ ہماری کہانیاں تو ہوں گی ۔ جو سچ بات کہتے ہیں، جو انسانیت کی بات کرتے ہیں، جن کا پیغام محبت ہو، جو امن کا دیپ جلانا چاہیں، ان کوکوئی اوریا مقبول نہ مٹا سکا ہے، نہ مٹا پائے گا- کوئی نہ کوئی ان کی کہانی بیان کرتا رہے گا، کوئی نہ کوئی اس امید کی لو کی خون جگر سے آبیاری کرتا رہے گا۔ ۔۔۔۔۔ تم اپنے، عقیدوں کے نیزے ۔۔۔۔ ہر دل میں اتارے جاتے ہو۔۔۔۔ ہم لوگ محبت والے ہیں۔۔۔ تم خنجر کیوں لہراتے ہو۔۔۔۔ اس شہر میں نغمے بہنے دو۔۔۔ بستی میں ہمیں بھی رہنے دو “۔

قوم لوط و عاد و ثمود کی سنتِ ابلیسی پر گامزن ایسی محترماؤں  کے الفاظ اور اشعار سے ان کے دل کی گہرائیوں تک عریانیت و گمراہی سے والہانہ محبت عیاں نظر آتی ہے۔ افسوس کہ یہ مغربی تہذیب زدہ خاتون فحاشی کو تو، سچی حقیقت ، امن کی روشنی اور پیغام محبت سمجھتی ہیں مگر اس فحاشی کیخلاف قرآنی پیغام الہی کو نیزے اور خنجر جیسا قاتل گردانتی ہیں۔ الفاظ سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ عریانی و فحاشی اور شہوتِ نفسانی کی لذت کے نشہ میں غرق یہ سیکولر طبقہ کس قدر گمراہ ہو چکا ہے۔ ہوسِ جنس  میں نغمے بہانے کی شہوانی خواہشات میں کیا کیا غلاظتیں بہائے جانے کی ضدی حسرتیں پھوٹ رہی ہیں۔ کتنی عاجزانہ منت و سماجت کے ساتھ عریانی و فحاشی کی سلامتی کی خیر منائی اور اپیلیں کی جا رہی ہیں۔ یاد رہے کہ لوط علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو بدفعلی سے روکا تو ان کا ضدی جواب بھی کچھ اسی مسخرانہ انداز میں تھا کہ ، ” نکالو ان لوگوں کو اپنی بستیوں سے، یہ بڑے پاکباز بنتے ہیں “۔  جبکہ آج کے ان گمراہوں کی طرف سے بھی  روکنے والوں کیلئے کچھ ایسے ہی طعن و دشنام ہیں جو عذاب الہی کا نشانہ بننے والی گمراہ قوموں کے تھے۔ آج بھی ماڈرن گمراہ عریانی و فحاشی کی مخالفت کو اپنے نام نہاد انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ظلم و جبر گردانتے ہیں۔

 ملحدوں کا عامیانہ طریقِ دلائل ملاحظہ کیجئے کہ محترمہ لکھتی ہیں کہ ، ” کسی کے پاس یہ اٖختیار نہیں کہ دوسرے کے مذہب پر انگلی اٹھائے۔ اگر کوئی ملحد بھی ہے تو ہے تو انسان نا۔ یہ اس کی مرضی وہ خدا کو مانے یا نہ مانے۔ اپنے اعمال کیلیے اللہ کے سامنے وہ خود جواب دہ ہے، آپ اپنے اعمال کی فکر کریں صاحب۔ قرآن نے متنبہ فرمایا ہے کہ اِسے کوئی معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے، اِس لیے کہ انسان کی سماعت و بصارت اور دل و دماغ، ہر چیز کو ایک دن خدا کے حضور میں جواب دہ ہونا ہے۔ قرآن پاک میں سورت حجرات میں ارشاد ہوتا ہے کہ۔۔۔۔۔  “اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو “۔

 ان شہوت زدہ  ملحدوں کے  عقل و فہم سے عاری بے ہنگم دلائل گھسے پٹے لطیفوں سے کم مسخرانہ نہیں ہوتے۔ غور طلب ہے کہ ایک طرف یہ لوگ اپنے ملحد اور خدا کو نہ ماننے کا اعلان کرتے ہیں۔ مگر ساتھ  اللہ کے سامنے جواب دہ ہونے کا مومنانہ عقیدہ اور اسی قرآن کے حوالے بھی پیش کرتے ہیں، جس قرآن کے منکر ہونے کی بنا پر یہ اپنے روشن خیال ہونے کے دعویدار ہیں۔ کیا یہ نابالغ  اذہان اور گمراہ  لکھاری نہیں جانتے کہ تحقیق اس امر کی جاتی ہے جو پوشیدہ اور مشکوک ہو۔ جبکہ میڈیا ڈراموں، ٹاک شوز اور نیم عریاں اشتہارات کی آلودگی چھپ کر نہیں بلکہ کھلے عام دکھائی جا رہی ہے۔ عریانی کی اس حیا باختہ تشہیر سے جڑے تمام ننگے کردار سب کے سامنے ہیں۔ ایک ایک فحش اشتہار دن میں بیسیوں بار چلایا جاتا ہے تاکہ کوئی معصوم دیکھنے کی روشن ثوابی سے محروم ہی نہ رہ جائے۔ ان جہالت آلودہ لبرل لکھاریوں کی طرف سے عریانیت کا دفاعی جنگ کو کلی باطل ثابت کرنے کیلئے قرآن حکیم کی یہ ایک، جی ہاں صرف یہ ایک آیت ہی کافی ہے۔ جس میں اللہ سبحان و تعالیٰ نے بغیر کسی ابہام کے صاف اور واضع الفاظ میں فرما دیا  ہے کہ فحاشی کو اللہ نے حرام کردیا ہے خواہ ان کی نوعیت پوشیدہ ہو یا ظاہر کی ۔۔ ” تمہارے پروردگار نے تم پر کیا کچھ حرام کیا ہے۔۔۔۔ یہ کہ فحاشی کے قریب بھی نہ جاؤ، خواہ یہ کھلی ہوں یا چھپی ہوں ۔۔”  (الانعام 151

.(۔۔

  آخر میں جان اوریا مقبول کی حق گوئی و بیباکی پر طعن و دشنام کا طوفانِ بدتمیزی اٹھانے والوں کیلئے عالم افلاک سے  ہدایت کی ڈھیروں دعائیں ہیں ۔ دعا گو ہوں  کہ ملالہ جی کی طرح مغرب کی آنکھ کے تارے بننے کیلئے کسی صلیبی لشکر کی طرح  سرگرم  لکھاریوں کی زندگیاں اصلی یا نقلی شدت پسندوں کے شر سے محفوظ رہیں۔ عریانیت و فحاشی کے دفاع میں ” شرم و حیا آنکھوں میں ہوتی ہے” کا مضحکہ خیز نعرہء بےغیرتی  لگانے والے مادر پدر آزاد لبرلوں، گستاخ قرآن و رسالت  قادیانی زندیقوں، اندھیرے میں لتھڑے  نام نہاد روشن خیالوں اور ابو المنافقین ملحدوں سے دست بستہ  اپیل ہے،  کہ اپنے روشن خیال موقف کا عملی مظاہرہ کرنے کیلئے اپنی بہنوں بیٹیوں کو بے لباس نہیں تو کم از کم مغرب برانڈ ساحلی لباس ہی میں کسی عوامی مقام پر دیدارِ عام کیلئے بھجوا کر ثواب مغربین حاصل کریں ،  تاکہ اندازہ ہو جائے کہ جنسی شہوت انگیزی پر خلقِ خدا کی فطری عدم برداشت کا جوابی مظاہرہ کیسا ہوش ربا ہوتا ہے۔ کیا ہی مزا ہو کہ اگر ایسے خوش نظر مظاہرے کی قیادت اس نعرہء صد فتن کے بانی جناب حسن نثار فرمائیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بے حجاب آج چلی لیلیٰ سوئے دشتِ جنوں۔۔۔۔ پارسائی کسی مجنوں کی کہاں ٹھہرے گی

درد خاموش ہے درویش سمندر کی طرح ۔۔۔۔ خامشی بن کے جنوں حشر فشاں ٹھہرے گی

  ( فاروق درویش ۔ واٹس ایپ کنٹیکٹ ۔ 03224061000)

 

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: