تاریخِ عالم و اسلام حالات حاضرہ نظریات و مذاہبِ عالم

حسن بن صباح ثانی کی تحریک سونامی و سیاہ ست


یہ بندہء فقیر اول و آخر پیدائشی مسلم لیگی ضرور ہے لیکن کسی ماڈرن مسلم لیگ کے قاف میم نون برانڈ سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ نون لیگ سے بھی خونی رشتے اور تعلق داریاں ہیں اور جماعت اسلامی و تحریک انصاف والوں سے بھی دیرینہ روابط ہیں۔ تحریک نظام مصطفے کے جرم کی پاداش میں بھٹو صاحب کے شاہی قلعہ کے عقوبت خانہ کا قیدی بھی رہا اور پھر افغان جنگ کے اس مشن میں روسی استعمار کی خون آشامیوں کا مزا بھی چکھا جسے امریکہ بھی تحریک حریت و آزادی قرار دیتا تھا۔ پرویز مشرف جیسےآمر کی سلاخیں بھی دیکھیں اور اس کے خفیہ ٹارچر سیلوں میں یہ قلم بردار  انگلیاں تڑوانے کا تجربہ بھی ہوا۔ لیکن کسی ظلم و تشدد یا دھونس کے نتیجہ میں سچ اور حقائق لکھنے سے نہ کبھی توبہ کی نہ کروں گا۔ میرا ہی نہیں بیشتر صحافیوں کا بھی کہنا ہے کہ کسی بھی سیاسی لیڈر کے پرستاروں نے اپنے لیڈروں کے بارے تنقیدی تحریروں پر ایسا پرتشدد اور غلاظت آلودہ رویہ نہیں اپنایا جو خاں صاحب کے سیاسی سپاہیوں کا وطیرہ بن چکا ہے۔ لیکن اس سائبر غنڈہ گردی اور دھونس سے بے پروا حق اور سچ کی بات عین عبادت اور اپنا بنیادی اور جمہوری حق سمجھ کر تادم مرگ لکھتا رہوں گا یہ مسلمہ بات ہے کہ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں لیکن عمرانی پرستاروں کے نزدیک ان کے لیڈر  سے اختلاف کفر سے سنگین جرم ہے۔  کارکنان انقلاب و مریضان تبدیلی، خان صاحب  کے دکھائے ہوئے خوابوں کے نشہ میں اس قدر بدمست ہیں کہ خوابوں والی اس سرکار کے بھی اسیر بن چکے ہیں جس کی خوابوں سے لیکر صلیبی برانڈ فتووں تک ہر امر ہی اک فتنہء دہر ہے۔ خاں صاحب کی نام نہاد ” آزادی و انصاف ” کے خواب  تاریخ کے بدترین فتنہء جہل و دہشت حسن بن صباح کی خود تخلیقی جنت جیسے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ تحریک سونامی بتدریج حسن بن صباح کی بدنام زمانہ دہشت گرد تحریک حشاشین کی طرح  دینی  و قومی نظریات سے متصادم  فتنہء دہشت و دہریت کا روپ دھار رہی ہے۔

    شاہِ ست رنگ نے اک حشر سجایا ہے نیا
بندگی دہر کی اب حکم رواں ٹھہرے گی

حسن بن صباح اسماعیلی فرقے کی اس خفیہ دہشت پسند جماعت حشاشین کا بانی تھا جس نے عالم اسلام کی طاقت ور حکومتوں کی بھی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں تھیں۔ ایران سے تعلق رکھنے والا یہ ابلیس صفت 1071ء میں مصر پہنچا اور فاطمی خلیفہ المستنصر کے مفادات کے داعی کے روپ میں ایران واپس آ کر فاطمیوں کے نظریات کا علمبردار بن گیا ۔ یہ عالم اسلام کے عظیم دانشور خواجہ حسن نظام الملک اور مشہور شاعر عمر خیام کا ہم عصر و ہم سبق تھا۔ لیکن مابعد خواجہ نظام الملک سے اختلاف ہونے پر سلجوقی حکمران ملک شاہ اول نے اسے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ اس نے پہلے کوہ البرز میں الموت اور پھر مصر کے فاطمیوں کی مدد سے کئی قلعوں پر قبضہ کر کے ان اسماعیلیوں سے بھی قطع تعلق کا اعلان کر دیا۔ اور کینیڈین نام نہاد ” شیخ الاسلام ” کی طرح خود کو ” شیخ الجبال ” قرار دے کر قلعہ الموت کے آس پاس کے علاقے میں ایک آزاد ریاست قائم کر لی ۔ اس کے بعد اس نے اپنے پیروکار بنانے کا جو دہشت گردانہ سلسلہ شروع کیا اس میں داعی اور فدائی بہت مشہور ہیں۔ فدائیوں کا کام خان صاحنب کے سونامیوں کی طرح صرف اپنے فلسفے کو سچا اور دوسروں کے نظریات کو باطل ثابت کرنا تھا۔ جبکہ فدائیوں کے فرائض میں مخالفین کو خفیہ طور پر ہلاک کرنا سرفہرست تھا۔ دہشت انگیزی کی یہ خوفناک تحریک اتنی فعال و منظم تھی کہ قریب کے تمام طاقت ور مسلم حکمران بھی اس سے لرزاں تھے۔

خاں صاحب اور حسن بن صباح کے خواب دکھانے کے طریقہ کار میں فرق  یہ تھا کہ وہ اپنے فدائیوں کو بڑی مقدار میں حشیش کے نشے میں مدہوش کر کے وادی ء الموت میں بنائی اپنی خود ساختہ جنت کی سیر کراتا تھا، اور خاں صاحب موسیقی اور رقص و شباب سے مست کر کے لذت و رعنائی کی مغربی تہذیب برانڈ آزادی کے حسیں خوابوں کی جنت میں لے جاتے ہیں۔ حشیش کے نشہ میں دھت شکاروں کو حسن بن صباح کی سیکس سروس فورس کی قیامت خیز جوانیوں کے ذریعےعریانیء حسن کی لذت و چاشنی کا عادی اور شراب کے جادو کا رسیا بنا کر واپس اس  کے قدموں میں لا کر چھوڑا جاتا- ان کی دماغی اور جسمانی تربیت کیلئے انہیں شیر، چیتوں اور شکاری کتوں کا گوشت کھلایا جاتا تاکہ ان میں درندگی کی صفات پیدا ہو سکیں۔ انہیں یہ باور کرایا جاتا تھا کہ اگر وہ ہمیشہ کیلئے ان حسن پریوں کے عریاں اجسام کی لذت و رعنائی، مدہوشیء مشروب اور ” صباحی جنت ” چاہتے ہیں تو پھر انہیں صرف حسن بن صباح کے نظریہ کی تشہیر کرنا ہو گی، صرف اسی کیلیے جینا ، مرنا اور اپنے مخالفین کو مارنا بھی ہو گا۔ لہذا اس تربیت  کے بعد حسن بن صباح کا عاشق ، مذہب و مسلک اور اخلاقیات کی ہر قید سے آزاد ایک ایسی بھٹکی ہوئی آتما بن جاتا جو اپنے لیڈر کے خلاف بولنے والی ہر آواز کو کلمہ ء کفر اور ریاست سے غداری سمجھتا تھا۔ حسن بن صباح نے اپنے ایسے ہی ایک فدائی کے ذریعے  عظیم دانش ور خواجہ حسن نظام الملک کو شہید کروایا۔ اور خان صاحب بھی اپنے مخالفین اور سرکاری اہلکاروں کو اپنے برسراقتدار آنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے نظر آتے ہیں۔

آج عمران خان کی تحریک سونامی بھی حسن بن صباح کی اسی فتنہ انگیز تحریک حشاشین جیسی مادر پدر آزاد و دہشت گرد تحریک بنتی جا رہی ہے۔ جلسہ گاہوں اور جلوسوں میں رقص و شباب کی بدمست فضائیں , جدید فیشن اور خوش رنگ طلسمات سے لیس پری زادوں کے غول , حسن پرست تماش بینوں کے طائفے, حشیش اور چرس کی دم مارو دم محفلیں، حسن بن صباح کی تحریک حشاشین کا نظارہ پیش کرتی ہیں۔ خاں صاحب کی مغربی تہذیب کی ہوش ربائی سے آراستہ خیالی جنت میں معاشرتی انصاف اور آزادیء نسواں کے حوالے سے دودھ اور شہد کی نہروں جیسے خوابی مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ اور یوں یقین کرنے والے پڑھے لکھے جاہل حضرات کی حسن بن صباح کے فدائین جیسی ایک ایسی نسل تیارہو رہی ہے جو عقل و فہم سے بیگانہ، آنکھیں کے باوجود اندھی، کانوں کے ہوتے ہوئے بھی بہری ہے۔ دراصل ان سونامی پیروکاروں کو صرف وہ ” نیا پاکستان” اور آزادانہ فضا چاہئے جہاں سرعام رقص و شباب کی محافل ، سلمان احمد جیسے گستاخ قرآن و رسالت لوگ ہوش ربا میوزک پروگرام میں تتلیان رقصاں،  فوزیہ قصوری جیسی امریکی باندیاں اپنے سکولوں میں ہم جنس پرستی کے مباحثے اور رمضان بھی مخلوط میوزیکل پروگرامز سے دلوں کو گرما رہی ہوں۔ مغربی تہذیب جیسے فری سیکس ماحول کیلئے مر مٹنے کو تیار لوگوں کی بلا سے کہ قائد اعظم کا یہ پاکستان سلامت رہے یا خاکم بدہن نہ رہے، مگر میوزک اور ڈانس شوز میں دعائیں ہیں کہ حسن و عاشقی کے سدا بہار مواقعوں سے آراستہ ” نیا پاکستان” بن جائے۔ حسن بن صابح کے پیروکاروں کے نزدیک ان کے لیڈر کا ہر مخالف قابلِ دشنام  اور واجب القتل تھا۔ بعین سونامی حضرات کیلئے بھی فلسفہء عمران سے ذرہ برابر اختلاف رکھنے والا ہر شخص جہالت زدہ، غدار پاکستان اور فحش گالیوں کا ہی نہیں ڈنڈوں کا بھی مستحق ہے۔

    بے حجاب آج چلی لیلیٰ سوئے دشت جنوں
پارسائی کسی مجنوں کی کہاں ٹھہرے گی

بلا شبہ نواز شریف نے زرداری کا لوٹا ہوا دھن واپس لانے کے قومی وعدوں سے کلی انحراف کر کے قوم کے ساتھ ناقابل برداشت زیادتی کی ہے۔ سانحہء ماڈل ٹاؤن کے سلسلے میں تحقیقات کے نتائج میں اس قدر دیر بھی ناقابل فہم ہے۔ قوم جاننا چاہتی ہے کہ عوام پر گولی چلانے کا حکم صادر کرنے والے وہ بدبخت لوگ کون تھے، جنہوں نے اس سانحے کی بدولت لاشوں پر سیاست کرنے آئے ایک کینیڈین شہری کو فتنہ برپا کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اگر یہ حکومت عوامی مسائل اور رفاحی انقلاب برپا کرنے میں جزوی یا کلی طور پر ناکام ٹھہری ہے تو اس حکومت کو مذید ایک سال کا عرصہ دیکر پوری طرح بے پردہ ہونے کا  انتظار کرنا چاہئے۔ سونامی تحریک میں فتنہء قادری جیسی صلیبی قوتوں کا امتزاج اور خاں صاحب کی طرف سے ماورائے آئین جلد از جلد وزیر اعظم بننے کی بے چینی بہت سارے شکوک و شبہات کا سبب بن رہی ہے۔ خان صاحب کی غیر پارلیمانی زباں، تشدد کی سیاست کے فروغ اور ملک میں خانہ جنگی کروانے کی عالمی سازش کا اشارہ دیتے ہیں۔ یاد رکھا جائے کہ معاشرے اور سیاست میں انقلاب کے کسی بھی داعی کا شخصی کردار انہتائی اہم ہوتا ہے۔ لیکن تلخ حقیقت ہے کہ اپنی بیٹی ٹائرن خان کو والد کی شناخت دینے سے انکاری اور دونوں بیٹوں کو یہودی ماحول کے رحم  و کرم پر چھوڑ دینے والے ” انقلاب انصاف کے داعی ” اپنی اولاد کے ساتھ بھی انصاف کرنے میں ناکام رہے  ہیں۔

    شیخ و واعظ کا بیاں، فلسفہ ء عشقِ بتاں
شاعری دیر و کلیسا کی اذاں ٹھہرے گی

بیوٹی پارلر زدہ حسن و رقص سے ماڈل ٹاؤں کے شہدا کا ” جشن مرگ” نما احتجاج کرنے والے خواتین و حضرات جس مغربی انداز زندگی کیلئے جنونی ہیں، شاید اس تہذیب کی غلاظت و اثرات سے نا واقف ہیں۔ جو آزادانہ ماحول و مادر پدر آزاد تہذیب پاکستان پر مسلط کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اس امریکی معاشرے میں بیس سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے اسی فیصد لڑکیاں کنواری ہی نہیں رہتیں۔  ماں کی طرف سے بھی توجہ نہ حاصل کرنے کی وجہ سے بے راہ روی کا شکار ہوکر معاشرے میں بگاڑ اور خرابیوں کا سبب بن جاتے ہیں۔ آج پاکستان میں ایسی ہی گوری تہذیب کا ہر داعی اور اسلامی معاشرت و شرم و حیا کی تہذیب کا ہر مخالف، خان صاحب کی سونامی تحریک کا داعی بن چکا ہے۔ یہ حقیقت اہل وطن کیلئے لمحہء فکریہ ہے کہ آج قادیان کی ملت مرتدہ اور فدائین گوہر شاہی سمیت  تمام گستاخین قرآن و رسالت سیکولر قوتیں اس ماڈرن تحریک حشاشین کے ساتھ  کھڑی ہیں ۔ اور خان صاحب کے سامراجی و یہودی آقا بھی اس حقیقیت سے خوب واقف ہیں ایسے کار آمد اسلام “حسن بن صباح” تاریخ میں صدیوں ہی پیدا ہوتے ہیں

اللہ سبحان و تعالی ظالم و جابر کی رسی دراز کرتے ہیں تو اس ظالم کا انجام بھی دردناک کرتے ہیں۔ حسن بن صباح نے نوے برس کی طویل عمر پائی لیکن اس کی مادر پدر آزاد فحاشی و عریانی اور دہشت گردانہ تحریک کا عبرت ناک انجام بھی ” سیر کو ملے سوا سیر ” کے مصداق تاریخ کے سفاک قصاب ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔ تاتاری بھیڑیے ہلاکو خان نے قلعہ الموت کو فتح کرکے حسن بن صباح کے آخری جانشین رکن الدین کو گرفتار کر کے اس تحریک کے  ہزاروں فدائیوں کو بڑی بیدردی سے قتل کر دیا۔ خدارا اپنی اگلی نسل کو عریانی و فحاشی اور مغربی تہذیب کے ان علمبرداروں کے ہاتھوں کھلونا بننے سے بچائیے۔ اس ملک میں انقلاب لانے کیلئے مسٹر یو ٹرن یا صلیبی اسلام مارکہ طاہر القادری نہیں سلطان صلاح الدین ایوبی جیسا جری، سلطان ٹیپو جیسا خود دار اور مہاتیر محمد جیسا قوم سے مخلص و ایماندار وہ رہنما درکار ہے جو موروثی سیاست زدہ حکمرانوں، پیشہ ورانہ سیاست زدہ جاگیر داروں، رعونت زدہ وڈیروں اور سامراجی گماشتین پر مشتمل،  سیاسی گروہوں میں دور دور تک کہیں نظر نہیں آ رہا۔ حرف آخر یہی ہے کہ یہود و نصاریٰ کیلئے جس مسلم ایٹمی طاقت کو، بھارتی گولی اور بارود سے ختم کرانا ممکن نہیں رہا، اب وہ اسے عریانی، فحاشی اور بے غیرتی و بے حیائی کے سونامی سیلاب میں ڈبو کر ختم کرنے پر تلے ہیں ۔۔۔ لیکن انہیں یاد رہے، یہ پاکستان میرے اللہ کا انعام خاص ہے، یہ تا قیامت سلامت و آباد رہے گا کہ میرا وطن مملکت خداد پاکستان ہے کسی ماڈرن حسن بن صباح جیسی  ست رنگی مغربی کٹھ پتلیوں کے باپ کی جاگیر نہیں ۔

( فاروق درویش ۔ واٹس ایپ کنٹیکٹ — 00923224061000 )

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: