بین الاقوامی تہذیبِ مشرق و مغرب حالات حاضرہ سیکولرازم اور دیسی لبرل

زمانہء قدیم و جدید کے روشن خیالوں کا سیاہ انجام


زمانہء قدیم کا فرعون ہو یا نمرود، شداد ہو یا سامری، قوانین قدرت اور رضائے الہی سے ٹکرانے والے “دنیاوی خدا” کبھی بھی اپنی منشا کے مطابق نتائج حاصل نہ کرسکے۔ وقت اور تاریخ اپنا سفر طے کرتے ہوئے دسویں گیارویں، بیسویں اور اکیسویں صدی میں داخل ہوئے تو بھی خود کو خدا سمجھنے والے ہی نہیں بلکہ انہیں آقا و ناخدا بنانے والے بھی ہوس زر اورحصول و طوالت اقتدار کے فتن میں گرفتار ہو زندانِ اجل کے ابدی قیدی ٹھہرے۔ سیدنا آدم علیہ السلام سے لیکرنبیء آخرالزماں محمد صلی اللہ علیہ و الیہ وسلم تک اللہ کے ہرسچے نبی اور پیغمبر نے اللہ کے قوانین سے روگردانی کو مالک کائنات سے دشمنی اورعذاب الہی کو دعوت دینے کے مترادف قرار دیا۔ بدھ مت اور ہندو مت کے قدیم مذاہب ہوں یا ایک دو صدی قبل جنم لینے والے سکھ اور بہائی جیسے نوزائیدہ مذاہب، کسی بھی مذہب کی مقدس کتاب یا روحانی پیشوا نے اپنے پیروکاروں کو خلاف قانون و اخلاق ، جنسی تعلقات کی مادر پدرآزادی کا فلسفہ یا کسی بھی نوعیت کے معاشرتی و معاشی جرائم کی کھلی چھٹی ہرگز نہیں نہیں دی۔ سیدنا عیسی علیہ السلام کی اصل تعلیمات سے بھٹک جانے والی عیسائی قوم کے کسی پوپ یا مہا پادری نے جنسی آزادی اور ہم جنس پرستی کو مکروہ گناہ اورسنگین اخلاقی جرم کی لسٹ سے خارج قرارنہیں دیا۔  مگر صد افسوس کہ  پھر بھی آج  کا مغربی معاشرہ اس متعفن غلاظت میں ڈوب کر از خود ہولناک تباہی کےانجام بد کی طرف بڑھ رہا ہے۔

قابل غور امر ہےکہ اللہ کے شدیدعذاب کا شکار ہونے والی اطالوی قوم پومپیائی کی تباہی کے مرکز سے قریب ہی حالات پومپیائی والوں کی بے راہ روی اورشہوت پرستی سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں ۔ تعجب ہے کہ جہاں کبھی پومپیائی شہر میں قوم لوط کی طرح عذاب الہی نازل ہوا وہاں آج بھی آتش فشاں کے جان لیوا لاوے میں لتھڑے، پتھرا چکے اجسام عبرت ناک انجام کی داستان بیان کر رہے ہیں مگر اس کے قریب و جوارکے لوگوں نے وہاں نازل ہونے والے عذاب الہی سے اب تک کوئی خاص عبرت حاصل نہیں کی۔ آج بھی اس مقام عبرت کے نزدیک ہی کیپری کا جزیرہ ہم جنس پرستوں اور بےلباس فحش کرتوتوں کا حسین ترین مرکز بنا ہوا ہے۔ یاد رہے کہ مغربی میڈیا پرجنسی عیاشی کے دلدادہ سیاحوں کیلئے شائع یا نشر ہونے والے خوش رنگ اشتہارات میں کیپری کو’’ہم جنس پرستوں کی جنت‘‘ کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ معاملہ صرف اٹلی یا کیپری جنریرے تک ہی محدود نہیں، بلکہ قریب قریب ساری اعلی تعلیم یافتہ و پاکیزہ مغربی دنیا، امن اور انسانیت کےعلمبرداروں کا خطہء امریکہ، مشرق بعید اور پاکستانی پر ثقافتی یلغارکرنے والے،روشن خیالوں کے پسندیدہ ملک سیکولر بھارت کی بھی یہی صورتحال ہوتی جارہی ہے۔

احباب یہ قدرت کا سیدھا سادا قانون ہے کہ جب انسان اپنے مذہب اورقانون کےمطابق کی گئی شادی کےعلاوہ کسی سے بھی غیرمذہبی اورغیرقانونی تعلق رکھے گا اُس کے نتائج بحرصورت ہولناک ہی ہوں گے۔ لہذا مغرب میں بے حیائی کے نام پر دی جانے والی ہر قسم کی آزادی کا خمیازہ وہاں کے معاشرے کے ساتھ قانون سازوں کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ روشن خیالوں کے نظریاتی والدین امریکہ اور برطانیہ سمیت پورے مغرب میں جنسی بیماریوں اور نتیجاً معاشرتی بے سکونی میں ہولناک اضافہ ہو رہا ہے۔ اپنے شہریوں کو جنسی ملاپ کے ہر شعبے میں فری ہینڈ دینے والی حکومتیں معاشرے میں جنسی و اخلاقی جرائم میں ہوشربا اضافے کے ہاتھوں زچ ہیں مگر لذت گناہ کا نشہ اورغلاظت و فتن کا تعفن آمیز کمبل کیسے چھڑوائیں، کوئی نہیں جانتا۔ بلکہ صورت حال کچھ یوں ہے کہ انجام کی طرف لڑھکتا ہوا معاشرہ اس پریشانی کے عالم سے نکلنے اور “سکون کی تلاش” میں شراب،حشیش، مارفیہ،ہیروئین اور کوکین جیسے دوسرے کمبلوں میں تہہ در تہہ دھنستا جا رہا ہے۔ پاکستانی یا اسلامی طرز معاشرت کو دقیانوسی اورتاریک خیال قراردینے والے ذرا اپنے آقا مغربی ممالک کا حال ِ بدحال دیکھیں جہاں سکولوں کے بچے بلوغت سے پہلے ہی پراگندا سیکس کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔

کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سیکس کےعلاوہ تمباکو نوشی، شراب اورمختلف قسم کےنشےکرکے تمام کرتب دکھانے والے ہیرو اور ہیروئنیں صرف اپنی زندگیاں نہیں پورا معاشرتی نظام تباہ کر رہے ہیں۔ عالم بے نگاہ کی نظروں میں ترقی کی منازل تہہ کرتا ہوا تعلیم یافتہ اورمہذب مغربی معاشرہ اس چکاچوند”روشنی” میں اس حدتک اندھا ہو چکا ہےکہ ہم جنس پرستی تو بہت دورکی بات ٹھہری، جنسی بدفعلی کی گھٹیا ترین حالت فیملی سیکس کو ہائی پروفائیل فیشن بنا کراپنے” بےلگام حیوان” ہونے کا اعلان کررہا ہے۔ صرف ہالینڈ جیسے فری سیکس ملک میں حاملہ ہونے ہونے والی بیس فیصد سے زائد بالغ لڑکیاں اپنے ہی باپ، بھائی، چچا ماموں کے روشن خیال کارناموں سے” روشنی” ٹھہرتی ہیں۔ یہ خدا کے نظام اور قوانین الہی سے ٹکرانے کا ہی نتیجہ ہے کہ دنیا میں مظلوموں کیلئے مسیحائی کے نام نہاد ٹھیکیداروں کی اعلی منصوبہ بندی، اعلی تعلیم دانشوروں اور جدید ٹیکنالوجی کی مرہون منت،  ہوشربا ترقی کی منازل طے کرنے والی انتہائی تہذیب یافتہ عوام ، اپنے مسیحائی حاکموں کی کلی آشیرباد اور مشفق سرپرستی میں ایڈز، سوزاک اورسفلس جیسی انتہائی غلیظ اور گھناؤنی جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہو، سسک سسک کر مر رہی ہیں۔

اب میں اپنی قوم کے خودساختہ  دردمندوں،  روشن خیالوں کےنام نہاد صاف ستھرے، اعلی تعلیم یافتہ، پاکیزہ مغرب و ہندوآتہ معاشرے کا مختصر حال بیان کرنے کے بعد اس “خوبصورت تابوت” کیلئے تعریفوں کے پل باندھنے، ان خوش کفن مردوں کی اندھی تقلید میں خود کو تھپڑ مار مار اپنے گال لال کرنے کی ترغیب دینے والے یا اپنے آقائی  دیش بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دینے اورادلوانے والے ننگ ملک و ملت مافیوں، بھٹکے ہوئے یہود و نصاریٰ کی تقلید کو معاشرتی اور معاشی فلاح کی ضمانت قراردینے والے میڈیا اور”حقوق خواتین” اور انسانی حقوق کے ٹھیکیداراین جی اوزکی خدمت میں بصد احترام عرض کرتا چلوں کہ ماتھے پرجوگیا تلک لگا کر مہاتما گاندھی کی تصویر اور ہنومان کی مورتیون کو پرنام کرنے والے “عاصمہ جہانگر برانڈ” ننگ دین کرداروں کیلئے شاہ رخ خان، نصیرالدین شاہ، عامرخان جیسے لبرل مسلمانوں کی ہندو سکھ اورعیسائی بیویاں اوران کا بیک وقت مسجد مندر اورگرجا جانا عین روشن خیالی اور قابل تقلید کارنامے ہوں گے۔ سو ان کی طرف سے پاکستان میں بھی کسی “دین اکبری” کا نیا ورژن بنانے کی کاوشیں ، انہیں مغربی آقاؤں کی طرف سے تفویض کیے گئے بنیادی فرائض میں شامل ہو سکتا ہے۔

لیکن ہم سب دیس بگھت پاکستانیوں اور پاکستان کا مطلب کیا صرف لا الہ الاللہ پر یقین رکھنے والے بنیاد پرستوں کا حق الیقین ہے کہ ہمارے جاہل اورتاریک خیال معاشرے میں کوئی بھی ماں باپ مغربی گماشتین کے آئیڈیل مغرب کی تقلید میں اپنی بیٹی کو بوائے فرینڈ رکھنے کیلئے ترغیب نہیں دے پائے گا۔ یہاں کوئی بھائی اپنی بہن کی ہمسائے کے بیٹے کے ساتھ کھلی رنگ رلیاں منانے پر اپنے دوستوں کی محفل میں سر اونچا کر کے نہیں جا سکے گا۔ یہاں کوئی پڑھی لکھی ماں بھی اعلی ترین یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ اورخاوند کی زندگی میں ہی دس بوائے فرینڈ رکھنے والی مہذب مغربی ماں کی طرح اپنی روشن خیال بیٹی کے ناجائز بچے کو برداشت نہیں کرسکے گی اور نہ ہی کوئی تعلیم یافتہ مسلمان خاندان اپنی ماڈرن بیٹی یا بیٹے کو کسی ہندو سکھ اورعیسائی کو اپنا قانونی جیون ساتھی بنانے کی اجازت دے گا۔ پاکستان کے دقیانوسی اور تاریک خیال مسلمان کسی بھی قیمت پر حدود کے قوانین کو روند کرفری سیکس کی فرینڈ شپ تنظیمیں یا ہم جنس پرستی کی آرگنائزیشنیں بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

یاد رکھیں کہ اگر مغربی امریکی اور ہندوآتہ معاشرہ  اپنے ہی مذاہب کی طرف سے نافذ کردہ  فلسفہء حیات کی دھجیاں بکھیر کر غلاظت کے متعفن کنویں میں چھلانگ لگا رہا ہے تو ہم اس روشن مغرب اورسیکولر ہندوآتہ کی پیروی میں اتنے روشن خیال نہ ہوئے تھے نہ کبھی ہو سکیں گے۔۔۔ ہاں کہ ہم فطری طور پر بنیاد پرست ہیں ۔۔۔۔ ہاں کہ ہم ازل سے تاریک خیال ہیں ۔۔۔۔ ہاں کہ ہم مغرب اورہندوآتہ جیسی چکاچوند روشنی میں راستے سے بھٹکنا نہیں چاہتے ۔۔۔ ہاں کہ ہم “جاہل” جو ٹھہرے ۔۔۔  کاش یہ تعلیم یافتہ لوگ ہم جاہلوں کی درخواست پر ہی کتاب لاریب، کلام الہی قرآن حکیم میں درج قوم لوط سمیت دوسری “عذاب یافتہ” اقوام کے پراگندا کردار، ان کے عبرت  ناک انجام  ، اور تاریخ عالم میں رقم قوم پومپائی کے انجام جیسے وہ تمام صفحات پڑھ لیں جن کے الفاظ انہیں مغرب سے درامد شدہ ” چکاچوند کر دینے والی روشنی” میں نظرنہیں آتے ۔۔۔۔ بالکل ویسے ہی جیسے ہم جنس پرستوں کی دنیاوی جنت جزیرہء کیپری کے ارد گرد کے ماڈرن روشن خیالوں کو آتش فشاں کےلاوے میں زندہ حنوط ہو جانے والے قوم پومپیائی کے ان تہذیب یافتہ مردوں کے پتھرائے جا چکے لاشوں پرپیغامات عبرت نظر نہیں آتے جو اپنے دور کی تہذیب یافتہ “پاکیزہ ترین” قوم کے روشن خیال باشندے تھے ۔۔۔۔۔

فاروق درویش ۔واٹس ایپ۔00923224061000 ۔

اپنی رائے سے نوازیں

Featured

%d bloggers like this: