تاریخِ عالم و اسلام تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ

صحافت کے جھوٹ اور سچی تاریخ ۔ جاوید چوہدری کے نام


مجھے ممتاز کالم نگار جاوید چوہدری صاحب جیسے ان تمام صحافتی دانشوروں سے اصولی اختلاف ہے جو اپنے موقف کو سچا ثابت کرنے کیلئے تاریخ کو یا تو مسخ کردیتے ہیں یا  پھر نظریہ ء ضرورتِ صحافت کے تحت صرف ادھورا سچ بیان کرتے ہیں۔  اکتوبر 2013 میں انہوں نے اپنے کالم ” ملالہ کیلئے ” میں  مغرب کی لاڈو ملالہ اورجماعت قادیان کے  سپوت ڈاکٹرعبدالسلام کا والہانہ قصیدہ لکھا۔ میں نے ان کی طرف سے دی گئی انتہائی غلط انفارمیشن کا بڑی تفصیل سے مدلل علمی جواب اپنے کالم ” جاوید چوہدری کے قصیدہء احمقیہ کے جواب میں ” پیش کیا۔ مجھے قوی امید تھی کہ چوہدری صاحب، انگریزوں کی بغل بچگی کے صلے میں نوبل پرائز پانے والے ڈاکٹر عبدالسلام اور ملالہ کے دیگر مداحوں کے دل سے اس قادیانی کیلئے خوش گمانی رفع ہو جائے گی،  لیکن سیکولر حضرات کے منفی ردعمل کے حوالے سے میرے اندازے غلط ثابت ہوئے۔ لیکن  قابل تحسین بات تھی کہ ملالہ کے بارے میں یہ حقائق سامنے آنے کے بعد کہ اس کی گستاخانہ  کتاب کی اصل لکھاری مشہور برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب تھی، چوہدری صاحب نے اپنے ایک کالم میں ملالہ کی کتاب کی  تعریف و تحسین پر قدرے معذرت کا اظہار کیا۔

مگر افسوس کہ چوہدری صاحب نے ایک بار پھر اکتوبر 2014 میں میڈم ملالہ اور ڈاکٹر عبدالسلام  کی  پہلے سے بڑھ کر والہانہ قصیدہ گوئی میں ایک اور تعریفی کالم ” ملالہ کبھی پاکستان نہیں آ سکے گی ” لکھ مارا۔ خدا جانے کہ یہ محض ایک اتفاق ہے کہ چوہدری صاحب جب بھی ملالہ جی کی تعریف میں کوئی کالم لکھتے ہیں، قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام کی مداحی اور ” ظالم کو مظلوم ثابت کرنے کی ضدی کاوش ” بھی اسی کالم کا خصوصی حصہ ضرور ہوتی ہے۔ اور پھر ان کے ایسے کسی کالم کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر سرگرم اور فعال قادیانی حضرات اپنی  منظور نظر میڈم ملالہ اور اپنے ڈاکٹر عبدالسلام کی تصاویر اپنی اپنی پروفائلوں پر سجا کر  دین اسلام اور نظریہ پاکستان کے خلاف زہر اگلنے لگتے ہیں۔ چونکہ چوہدری صاحب ایک راسخ العقیدہ مسلمان اور قادیانیت کو کفر مطلق مانتے ہیں،  لہذا  ان  کو  یہ احساس  ہونا چاہئے کہ ان  کی طرف سے ایک قادیانی غدارِ ملک و ملت کی شان میں لکھے گئے ایسے قصیدے دراصل فتنہء قادیانیت کے  دجالی پراپیگنڈا اور نیٹ ورک  کی  تقویت  اور بڑھوتی  کا سبب بنتے ہیں۔

اپنے کالم  ” سچ کا سفر” میں انہوں نے اپنے میڈیا گروپ ایکسپریس کے کھرب پتی اسماعیلی مالک اور کتاب ” سچ کا سفر ” کے مصنف،  صدر الدین ہاشوانی صاحب کی قصیدہ گوئی کیلئے  پر امن  مذہب اسماعیلی مذہب  کی تعریف میں جو مختصر تاریخ بیان کی ہے، وہ  صرف ادھوری ہی نہیں،  بلکہ یک طرفہ طور پر جانبدارانہ بھی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ” صدر الدین ہاشوانی ملک کے ممتاز بزنس مین ہیں‘ یہ اسماعیلی ہیں‘ پرنس کریم آغا خان کو اپنا روحانی پیشوا مانتے ہیں‘ اسماعیلیوں کی تین نشانیاں ہیں‘ علم دوستی‘ بزنس اور خیراتی ادارے۔ آپ کے لیے شاید یہ انکشاف ہو‘ مصر کے دارالحکومت قاہرہ کی بنیاد بھی اسماعیلیوں نے رکھی تھی اور جامع الازہر بھی انھوں نے بنائی تھی”۔

چوہدری صاحب بلاشبہ جامعۃ الازہر کی بنیاد تو بیت المقدس گنوانے والے اسماعیلیوں ہی نے رکھی لیکن اس کی عظمت کے حقیقی بانی و معمار ، نور الدین زنگی، صلاح الدین ایوبی اور بعد کی مسلم سلطنتوں کے وہ حکمران تھے، جنہوں نے  سات صدیوں یعنی آٹھویں صلیبی جنگ تک مغربی لشکروں کے دانت کھٹے کر کے بیت المقدس کا کامیاب دفاع بھی کیا اور عوام  کی فلاح و بہبود کےعظیم کارنامے بھی سرانجام دیے۔ اسماعیلی خیراتی اداروں یا دوسری مغرب نواز این جی اوز کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ اسماعیلی کمیونیٹی کے ” بزنس” اور پاکستانی معشیت میں ” اہم کردار” کی سب سے گھناؤنی مثال، پرویز مشرف کے ہاتھوں پرنس آغا خان کو حبیب بینک کی اونے پونے داموں مجرمانہ فروخت ہے۔ آپ ان مصدقہ حقائق کے بارے کبھی نہیں لکھ پائیں گے کہ کھربوں کے اثاثے رکھنے والا حبیب بینک، حسین داؤد کی پنتالیس ارب کی آفر کے باوجود صرف ساڑھے چھبیس ارب میں آغا خان کو دیکر صنعت بینکاری اور معشیت پر جو کاری ضرب لگائی گئی، وہ ملک فروشی اور مالی کرپشن کی بدترین مثال ہے۔

چوہدری صاحب اب میں آپ کو مصر میں صدیوں تک قائم رہنے والی اسماعیلیوں کی فاطمی خلافت کے ” سیاہ کارناموں ” کی تاریخ بھی یاد دلاتا ہوں۔ پہلی صلیبی جنگ میں حمص پر قبضے کے بعد  عیسائیوں نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا، تو اسماعیلی حکومت  کی طرف سے قبلہء اول کے دفاع کا نہ کوئی انتظام  تھا اور نہ ہی انہوں نے صلیبی فوج  کیخلاف کوئی مزاحمت کی۔ لہذا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی فتح بیت المقدس کے چار صدی بعد وہ سقوط و سانحہ برپا ہوا جس پر پورا عالم اسلام شرمسار و اشکبار ہوا۔ نااہل و عیاش اسماعیلی خلفا کی بدولت مغرب کے عیسائیوں  کے متحدہ لشکر نے 15 جون 1099ء کو بغیر کسی مزاحمت کا سامنا کئے آسانی سے  بیت المقدس پر قبضہ کر کے لاکھوں مسلمانوں کا بے دریغ  قتل عام کیا۔

قارئین خیال رہے کہ اسماعیلی دراصل شیعہ مسلک ہی کی ایک شاخ ہیں۔ یہ پر امن اور شریف الطبع لوگ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ تک تو تمام اماموں کو مانتے ہیں لیکن اس کے بعد ان کے  بڑے صاحبزادے اسماعیل کے علاوہ کسی دوسرے شعیہ امام کو نہیں مانتے۔  ان سماعیلیوں کے چند انوکھے عقائد  بھی شعیہ مسلم عقیدے سے بالکل مختلف ہیں۔ مثلاً ان کے مطابق پرنس آغا خان سمیت ان کے ہر امام میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ  کی روح حلوت ہوتی ہے، ( استغفراللہ )، لہذا اس ناطے  وہ  جیتا جاگتا حضرت علی ہی ہوتا ہے۔ 567 ھ  میں مجاہدِ ملت نور الدین زنگی نے اس  باطل حکومت کا خاتمہ کیا اور پھر صلاح الدین ایوبی اور ان کے جانشینوں نے اس کی باقیات کا مکمل صفایا کر دیا۔ یاد رہے کہ قلعہ  الموت میں اپنی جنت اور دوزخ بنانے والی بدترین دہشت گرد تنظیم  حشاشین کا بانی اور تاریخ اسلام کا دجالی فتنہ حسن بن صباح بھی اسی اسمعیلی مذہب ہی کا ایک خون آشام کردار تھا۔ مابعد قلعہ الموت کے مقام پر ہلاکو خان کی فوجوں کے ہاتھوں اس دہشتگرد تحریک کا ہولناک انجام اور مکمل خاتمہ ہوا۔۔

اپنے کالم ” گری دیواروں تلے ”  میں چوہدری صاحب نے جہاں  نوشیرواں عادل کی عوام دشمنی اور سفاکیت کا ذکر کیا وہاں اس کی توصیف میں یہ حقیقت بھی لکھی کہ ” نوشیروان قدیم ایران کا وہ  عادل بادشاہ تھا جس کے عدل نے اسے تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا “ ۔ چوہدری صاحب بلا شبہ آپ کا یہ کالم پاکستان کے سیاسی منظر کی حقیقی عکاسی کے قریب ترین تھا لیکن اگر آپ  نوشیروان عادل  سے جڑا  یہ  تلخ سچ بھی بیان کر دیتے تو عوام  جان جاتے کہ حکمران کتنے ہی نیک و پارسا ہی کیوں نہ ہوں، ان کیلئے مذہب، عدالت، رعایا  اور  خونی رشتوں سے عزیز تر اقتدار ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ انصاف کے دیوتا کہلانے والے  اس سنگ دل بادشاہ نے تخت نشین ہوتے ہی اپنے اقتدار کی بقا  کیلئے اپنے اٹھارہ سگے بھائیوں میں سے صرف ایک کو زندہ چھوڑ کر باقی تمام کے تمام سترہ کو انتہائی سفاک انداز میں قتل کر کے اپنا تخت مظبوط کیا تھا۔

چوہدری صاحب خدارا اس حقیقت کو یاد رکھیں کہ ڈاکٹر عبدالسلام صرف  قادیانی کافر نہیں بلکہ زندیق تھا۔ اور زندیق اس کافر کو کہتے ہیں جو کافر ہونے کے باوجود خود کو مسلمان اور اصل مسلمان کو کافر قرار دے۔ قادیانیوں کے اسی باطل نظریہ پر انہیں آئین پاکستان نے کافر قرار دیا۔ قادیانی  آج تک اس آئینی فیصلے کیخلاف بغاوت پر آمادہ خود کو ایک غیر مسلم اقلیت تسلیم نہیں کرتے  اور اسی فیصلے کیخلاف احتجاج میں ڈاکٹر  عبدالسلام بھی دوسرے باغی قادیانیوں کی طرح  پاکستان چھوڑ کر اپنے آقاؤں کے گورے دیس میں پناہ گزیں ہوا تھا۔ میڈم ملالہ بھی دین و ملت کی غدار اور مغرب کی لاڈو بن کر انہیں گوروں کی مخملی مقدس گود کے مزے لوٹ رہی ہے۔ آپ مجھے سو بار اپنے فیس بک پیجز پر بلاک کیجئے مگر خدارا تاریخ کے ادھورے سچ  نہیں،  مکمل حقائق لکھئے۔ آپ صاحب علم ہیں تو  یہود و نصاری  کے گیت گانے والے حسن نثار اور نجم سیٹھی مت بنئے۔ ہمیں ہومر، افلاطون، نوشیرواں اور تیمور لنگ سے ہٹ کر کبھی نور الدین زنگی، صلاح الدین ایوبی، سلطان محمد فاتح اور ٹیپو سللطان کی تاریخ بھی یاد دلائیے۔ خدارا صاحبانِ مغرب و سامراج کی ہمنوائی نہیں،  اس ملک خدادا پاکستان اور ملت اسلامیہ سے وفا کیجئے ، روز محشر مالک روز جزا  کے انعام اور نبیء آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے عین حقدار ٹھہریں گے۔۔۔۔۔۔ با خدا یہ سودا مہنگا نہیں۔۔۔۔

( فاروق درویش ۔۔ واٹس ایپ ۔۔ 03224061000 )

چوہدری صاحب کے  کالموں کے جواب میں  میرے  گذشتہ  کالمز کے لنکس

جاوید چوہدری کے قصیدہء احمقیہ کے جواب میں

جاوید چوہدری اور میڈونا کا مشترکہ مقدس ٹاسک

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: