تہذیبِ مشرق و مغرب حالات حاضرہ سیکولرازم اور دیسی لبرل

روشن خیال میڈیا کا بھارت برانڈ جنسی مافیہ


برصغیر پاک و ہند  کے لوگ بھی عجیب لوگ ہیں ۔ مذہب و سیاست اور معاشرت حتیٰ کہ سیکس کے بارے بھی ان کے رویے خود ساختہ نظریات کے تابع تضادات کا رنگ برنگہ نمونہ ہیں۔ کہنے کو ان کیلئے شرم وحیا ایک عظیم  مذہبی و اخلاقی قدر ہے۔ لہذا سیکس کے بارے عمومی گفتگو کو بھی مہان عیب قرار دیتے ہیں۔  مغربی تہذیب کی جنس پرستی  کا  ذکر ہو یا کسی تعمیری مقصد کیلئے سیکس کے موضوع پر قلم کاری کی جائے۔ یہ اسے عریانی و فحاشی کی تشہر اور ”  ٹھرک ”  قرار دیکر بے ہنگم  تنقید کا طوفان کھڑا کر دیتے ہیں۔ لیکن دوغلے پن کا عالم یہ ہے کہ نیٹ پر سیکس کے موضوعات، عریاں تصاویر کی تلاش اور معاشرے میں بڑھتے ہوئے جنسی جنون کی رفتار کسی سپر سانک طیارے جیسی  ہے۔ جبکہ اس کے برعکس سیاست اور مذہبی اقدار میں دو رنگی پہچان رکھنے والے مغربی معاشرے، اگرچہ فحاشی و عریانی کی تمام حدود سے ماورا،  جنسی  طوفان میں غرق ہیں۔ لیکن وہ بحرحال سیکس کے معاملے میں دوغلے رویوں کا شکار نہیں  ۔ مغربی معاشرے کو اپنے اس مذموم امر پر ابلیسی فخر ہے کہ انہوں نے اپنی نوجوان نسل کو شخصی آزادی کے نام پر سیکس سمیت ان تمام  سرگرمیوں  کی مادر پدر آزادی دی ہے، جو مشرقی تہذیب میں معیوب سمجھی جاتی ہیں۔ لہذا مغرب میں والدین کیلئے یہ امر کسی ناگواری کا باعث نہیں کہ ان کی سولہ سالہ بیٹی کے غیر مردوں سے جنسی تعلقات ہیں۔ بلکہ کسی بالغ لڑکی کا بوائے فرینڈ نہ ہونا،  اس حوالے سے تجسس اور پریشانی کا باعث ہوتا ہے کہ کہیں ان کی بیٹی کی سیکس میں عدم دلچسبی، کسی جنسی یا نفسیاتی بیماری کا نتیجہ تو نہیں۔ گویا مشرقی اور مغربی معاشرے کا دلچسب و  چشم کشا فرق یہ ہے کہ مشرق میں بیٹی کا بوائے فرینڈ ہونا اک عذاب اور مغرب میں نہ ہونا اک درد سر ہے۔

 پاکستان میں سازشوں کے جال بننے  ، بلوچ باغیوں کی مدد و اعانت اور امن دشمن عناصر کی سرپرستی کے ساتھ ساتھ یہاں میں  فحاشی پھیلانے کیلئے بھارتی ثقافتی یلغار عروج پر ہے۔ یاد رہے کہ  ہندو معاشرہ ازل ہی سے تقدیس عورت کا مجرم اور جنسی جنون کا مریض رہا ہے۔  ہندو معاشرت میں ہندوتوا کے ہاتھوں انکی اپنی خواتین کی عزت بھی محفوظ نہیں رہی۔ امن کی آشا کے پیامی میڈیا کے محبوب دیش کی تہذیب ہی  مغربی تہذیبوں کی ماں ہے۔ ہندو معاشرے نے صنف نازک کو زیرعتاب رکھ کر جس قدر جسمانی اور روحانی تذلیل کی، تاریخ میں اس کی مثال مشکل ہے۔ مفتی مصر ڈاکٹرعلی جمعہ کے مطابق قدیم ہندو تہذیب میں عورت کا درجہ جنسی باندی جیسا تھا۔  بعض ہندو فرقوں میں بیوی ، بہن اور بیٹی میں کوئی فرق ہی نہیں تھا۔ ان کے عقیدے کی پلیدگی کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنی بہن اور بیٹی جیسے رشتوں سے جنسی تعلقات کے پلید فعل کو عورت کی بنیادی ضرورت پوری کرنے کا فریضہ اور ذریعہ نجات سمجھتے تھے۔ یہ گواہی میرے اس موقف کو عین درست ثابت کرتی ہے کہ مغربی معاشرے میں فیملی سیکس کا بڑھتا ہوا رحجان دراصل قدیم ہندو تہذیب ہی کا  گورا بہروپ و تسلسل ہے۔

انتہائی خطرناک امر ہے کہ مودری کے برسراقتدار آنے کے بعد آج اسی ہندوتوا تہذیب کی بے نیام تلوار، ہمارے ہی بے لگام میڈیا کے ہاتھوں ہمارے  معاشرے پر حملہ آور ہے۔ گو کہ میڈیا کی ترقی اور شعور و آگہی کی روشنی سے معاشرے میں واضع تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ لیکن ان تبدیلوں کے محرک اس میڈیا نے ہر جائز ناجائز طریقے سے ایڈورٹائزنگ کے حصول اور کاروبار چمکانے کیلئے نئی نسل کے جنسی جنون اور سفلی جذبات کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ جنسی محرک اشتہارات، آزاد مزاج مارنگ شوز، ماڈرن مٹیاروں کے ہوش ربا انداز میزبانی اور بھارتی اشتراک سے تیار کردہ جنسی جنوں خیزی کے میوزیکل شوز کے نتیجے میں نئی نسل کے رویوں دبی آگ جیسی جو خاموش تبدیلی آ رہی ہے، وہ کسی ہولناک طوفان کا پیش خیمہ  ہے۔  یہ میڈیا کے گھوڑے پر سوار بھارتی ثقافتی یلغار ہی کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستانی معاشرے میں با حجاب ماں کے ساتھ نوجوان بیٹی مغربی تہذیب اوڑھے  بے حجاب نظر آتی ہے۔ یہ میڈیائی یلغار ہی ہے کہ آج عورت  جائز و ناجائز پابندیاں توڑنے کیلیے معاشرتی و خاندانی نظام سے بغاوت پر آمادہ ہے

 انسانی نفسیات بھی عمل اور رد عمل کی تھیوری جیسی ہے۔ انسان پر مزاج کے برعکس پابندیاں عائد کی جائیں تو وہ مزاحمت ضرور کرتا ہے۔  ہماری تہذیب کی عورت کا بھی یہی معاملہ ہے۔ جس کی ایک وجہ  معاشرے کے دوغلے اور تفریقی رویے بھی ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ  ہے کہ  خاوند اپنی بیوی سے بے وفائی میں کسی عورت سے ناجائز تعلقات رکھے تو اس کا جرم تو قابل معافی ہے۔ لیکن اگر بیوی اپنے خاوند سے بے وفائی میں ایسی حرکت کرے تو اس کی سزا موت بھی ہو سکتی ہے۔ عورت کی کچھ بغاوتیں ناجائز و خود ساختہ مذہبی و معاشرتی پابندیوں کا نتیجہ بھی ہوتی ہیں۔ جیسے کہ بیٹی کے جائز اعتراضات کے باوجود اسکی مرضی کیخلاف شادی اور جدید تعلیم کے حصول پر پابندی جیسے معاملات انتہائی جاہلانہ سوچ کی علامت ہیں۔ میرے نزدیک وہ ماں باپ اولاد کے ساتھ ساتھ ، معاشرتی و اقتصادی ترقی کے بھی مجرم ہیں جو  وسائل رکھنے کے باوجود  بیٹی کو اعلی تعلیم  سے محروم رکھتے ہیں۔ جبکہ اسلامی نظریات عورت کی اعلی تعلیم، ملازمت اور باوقار شخصی آزادی کے خلاف ہرگز نہیں۔

تسلیم کرنا ہو گا کہ آج ہماری معاشرتی تباہی اور تہذیبی بربادی کی وجہ،  بھارتی غلام  میڈیا کی  ثقافتی یلغار، بدیسی اور ملکی این جی او مافیہ کے زیر انتظام قحبہ خانوں کے نیٹ ورکس  اور سیاسی گروہوں کی مغربی تہذیب کی تقلیدی کمپین کے ساتھ ساتھ ، کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے ہوئے ماں باپ کی مجرمانہ غفلت و عدم توجہ بھی ہے۔ ہم نے اپنے نوجوان بچوں کو بیڈ روم کی پرائیویسی، نیٹ اور موبائیل کی جدید سہولتیں تو دی ہے۔ لیکن ان کے نیٹ اور موبائیل استعمال، میل جول اور دیگر سرگرمیوں کو یکسر نظر انداز کر کے جو غافلانہ رویہ اختیار کرتے ہیں، اکثر اس کے بھیانک نتائج  نا خوشگوار واقعات کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ ماں باپ کی اکثریت اس امر سے ناواقف رہتی ہے کہ ان کی بیٹی یا بیٹا رات گئے تک کن دوستوں کے ساتھ ، کس نوعیت کی ویڈیو چیٹ یا کیسی فلمیں دیکھنے میں مصروف رہتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ان  قدیم و جدید اقدار میں پھنسے  انسان کو کیا رویہ اختیار کرنا ہو گا ؟ اس حوالے سے اگر عریانی و فحاشی کے بارے قرآن و شریعت  کے ان نظریات کی بات کریں، جو ہر لحاظ سے عقل کیلئے قابل قبول  و باوقار ہیں، تو مغربی تہذیب کے پیروکاروں کی طرف سے ملائیت و فتوی سازی کا الزام اور طعن و دشنام کا انعام لازم ہے۔  جیالوں کے سندھ فیسٹیول میں شراب و شباب ، نون لیگ کے ثقافتی شوز میں طالبات کے رقص ، سونامی دھرنوں میں میوزیکل رقص و مستی پر تنقید کی جائے تو سیاسی مجاہدوں کی وہ  یلغاریں ہوتی ہیں کہ بس الامان الحفیظ ۔ اور اگر انقلاب اور تبدیلی کے داعی راہنماؤں کی ” مادر پدر آزادی” کے حوالے سے نئی  نسل کی گمراہی کی بات کریں تو ” لفافہ برانڈ صحافت” کا الزام اور تبروں کا انعام یقینی ہے۔ حقیقت  ہے کہ اس قوم نے کسی بھی معاملے میں افراط و تفریط سے اجتناب اور اعتدال پسندی کا رویہ اختیار کرنا سیکھا ہی نہیں۔ آج مغربی تہذیب کے طلسم اور جنسی جنون میں پاگل نسل کا جارحانہ مزاج اور ضدی رویہ کسی ہولناک خطرے  کی گھنٹی بجا رہا ہے۔

آپ سلمان احمد جیسے گستاخ قرآن  کی سیاسی شرکت، فوزیہ قصوری کی ہم جنس پرست تحریک یا کسی لیڈر کی منافرت اور جنسی سکینڈل کی بات کریں۔ تو ” ہمارا لیڈر زندہ باد ” کے نعرے کے بعد یہ منطق پیش ہوتی ہے کہ  لیڈروں کے ذاتی فعل اور نجی زندگی کا حوالہ جہالت ہے۔ مغرب کی اندھی تقلید میں دیوانے احباب کیلئے کوئی حجت و دلیل نہیں لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ ۔۔۔۔ افسوس کہ ہم لوگ کسی شخص کو اپنا داماد بنانے سے پہلے، اس کے حسب و نسب اور ماضی و کردار کی چھان بین تو کرتے ہیں۔ لیکن کسی سیاست دان کو ملک و قوم کا حکمراں بناتے ہوئے، اس کا ماضی و کردار تو کیا قرآن و شریعت کے آفاقی احکام اور فلسفہء اخلاق  ہی بھول جاتے ہیں۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کا قول ہے کہ جس قوم کی نوجوان نسل میں فحاشی عام ہو جائے، وہ بغیر جنگ کے ہی شکست کھا جاتی ہے ۔۔۔۔ ہوشیار باش کہ آج بھارت و سامراج ، وطن عزیز کیخلاف اسی ابلیسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ پاکستانی قوم کیلئے  فحاشی و عریانی کے میڈیائی ہتھیار اور بھارتی غلام این جی او مافیوں کے زیر نگرانی  قحبہ خانی میزائیل بھی خود کش بم دھماکوں جیسے مہلک و خطرناک ہیں

    بے حجاب آج چلی لیلٰی سوئے دشتِ جنوں : پارسائی کسی مجنوں کی کہاں ٹھہرے گی
( فاروق درویش ۔۔ واٹس ایپ – 03224061000)

اس مضمون کیلئے  تاریخ اور قرآنی علوم کے معروف محقق جناب مبشر نذیر کی تحریروں سے مدد لی گئی ہے

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: