بین الاقوامی حالات حاضرہ

بے برگ و نوا حلب اور ایران کا جشن مرگ


جہاں عالم اسلام و انسان سقوط حلب اور مقتل  مسلم کا نوحہ لکھ رہا ہے ، وہاں ایران اور اس کے حلیف طبقات شام کے نہتے مسلمانوں کی اموات پر جشن مرگ منا رہے ہیں۔ انسان اور انسانیت بھول جانے والی ریاستِ ایران کو یاد دلایا جائے کہ عرب و عجم کے انسانیت سوز معاشروں میں  تذلیلِ  آدم و حوا جب طریقِ حیوانیت تک جا پہنچی تھی تو رب العالمین نے،  سرزمینِ انبیاء، صحرائے عرب میں نبیء آخرالزماں ﷺ کو رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا۔ اور میرے نبی، جبر و استحصال میں جکڑی سسکتی ہوئی انسانیت کے اس دشتِ زماں میں پیغمبرِ اسلام نہیں بلکہ پیغمبرِ انسانیت بن کر آئے۔ آپ ﷺ نے اسلام اور مسلمانوں کیلئے سنگین و جارح عزائم رکھنے والے سفاک مشرکوں کیلیے جہاد کے احکاماتِ الہی تو پہنچائے۔ کعب بن اشرف جیسے ضدی گستاخین کی سرکوبی کا حکم تو صادر کیا۔ لیکن جنگ کے دوران بھی نہتے شہریوں، عورتوں اور بچوں کیخلاف ہتھیار اٹھانے کی سخت منانعت فرمائی۔ یہ آپ ﷺ کی ان انسان دوست تعلیمات ہی کا اثر تھا کہ ریاست مدینہ کے جانشیں خلفائے راشدین اور مابعد مسلم حکمرانوں نے تاریخی فتوحات میں دشمن کی عورتوں اور بچوں کو کبھی نقصان نہیں پہنچایا۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ ﷺ کے کسی امتی نے فتح کے بعد عورتوں اور بچوں کا قتل عام کر کے لاشوں پر جشن منایا ہو۔ وحدتِ ملت اور انسانیت کے پیغمبر ﷺ کے سچے امتی صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد عیسائی شہریوں کو مکمل امان دی۔ اسی شہر یروشلم میں مسلمانوں کا سفاکانہ قتل عام کرنے والے عیسائیوں کو بھی عام معافی دیکر امن سے شہر چھوڑنے کی اجازت دیکر ثابت کیا کہ مسلمان کفار کیخلاف فتح کے بعد عورتوں اور بچوں کے کا وحشیانہ قتل عام یا لاشوں پر جشن نہیں مناتے بلکہ ہر حال میں اپنے نبی کی تعلیمات پر عمل پیرا رہتے ہیں۔

میرے نبی ﷺ تو فتح مکہ میں نومسلم ابوسفیان کے گھر میں پناہ گزیں مشرکوں کو بھی جان کی امان بخشتے ہیں۔ مگر اس نبیء انسانیت کے دین میں تقسیم کی سازشیں کرنے والے عناصر، ابولولو فیروز کے ہاتھوں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قتل کروا کر ایران میں شیرینیاں بانٹ کر فاروقی لشکروں کے ہاتھوں اپنی ہزیمت ناک شکستوں کا غم ہلکا کرتے ہیں۔ ایرانی نژاد حسن بن صباح کی دہشت گرد عالمی تنظیم حشاشین، اسلام کے عظیم مجاہد نور الدین زنگی کو زہر دیکر شہید کرنے میں کامیاب ہوتی ہے، تو قلعہ حضر موت میں واقع اس دہشت گرد تنظیم کے مرکز اور پورے ایران میں ان کے حمایتی گروہ  جشنِ فتح منا کر اعلان کرتے ہیں کہ مصر و فلسطین میں فاطمی شکستوں کا بدلہ چکا دیا گیا ہے۔ ایران ہی سے تعلق رکھنے والا  کنزالدولہ صلاح الدین ایوبی کے قتل  کا منصوبہ بنا کر ان کی زندگی خاتمہ کرنے میں تو ناکام رہا لیکن  یہ ضرور ثابت کر گیا کہ ایرانی  حلقے دراصل شروع ہی سے بیت المقدس پر قبضے کیلئے سرگرم رہنے والے صلیبی اور یہودی گروہوں کے کٹھ پتلی رہے ہیں۔

احباب 1258ء میں برپا ہونے والے سقوط بغداد میں مسلمان مرد و زن ہی نہیں ، معصوم بچوں کو بھی نیزوں میں پرویا جاتا ہے۔ بغداد میں ہر طرف خونِ مسلم کے دریا بہتے ہیں۔ منگول درندے صرف مسلم خواتین کو نہیں، ننھی بچیوں کو بھی جنسی درندگی کا نشانہ بناتے ہیں۔ ہلاکو خان کو بغداد پر حملے کی دعوت دینے والے ایرانی نژاد ابن علقمی اور اس کے ساتھی خواجہ نصیر الدین طوسی ایرانی کو غداری کے صلے میں اعلی عہدوں اور مسندوں سے نوازا جاتا ہے۔ تاریخ نوحہ کناں ہے کہ اجڑے ہوئے بغداد میں ایک طرف مسلمانوں کی لاشوں کے مینارے کھڑے تھے اور دوسری طرف ابن علقمی اور خواجہ طوسی مسلمانوں کے قتل عام پر جشنِ مرگ منا رہے تھے۔ ایرانی نژاد وزرا کی غداری کے نتیجہ میں منگول حملے سے مسلم علم و حکمت کا نشان، شہرِ بغداد مکمل طور پر تباہ ہو کر ایک کھندڑ نما قبرستان بن گیا تھا۔ شہری انسانی آبادیاں ہی کیا ، مسلمانوں کی علمی وراثت ، کتب خانے بھی چنگيزى افواج کی وحشتوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔ صد حیف کہ ایک طرف منگول درندے  بيت الحكمة سمیت تمام مسلم کتب خانوں کو نذر آتش کر کے اسلامی علمی ورثہ تباہ و برباد کر رہے تھے۔ دوسری طرف ابن العلقمی اور خواجہ طوسی اپنے رفقا کے ہمراہ رقص و سرود کی محافل میں اپنی کامیابی اور محشرِ مسلم  کا جشن مرگ منا رہے تھے۔

تاریخ گواہی دیتی ہے کہ بے برگِ نوا اہل حلب پر ڈھائے جانے والے وحشیانہ مظالم اور دلدوز قتل عام پر ایرانی حلقوں میں شیرینیوں کی تقسیم اور قتلِ مسلم پر جشن مرگ تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہلاکو خان بغدار کی تباہی کے بعد دیگر مسلمانوں کیلئے موت کا پیغام بن کر اسی سرزمین شام میں داخل ہوا تھا تو ایک ایرانی نژاد کمانڈر  کمال الدین بن بدر التفلیسی اور اس کے حواریوں نے اس منگول درندے کا استقبال کرتے اور قتلِ مسلم پر جشنِ مرگ منا کر یہ خاموش اعلان کرتے ہیں کہ منگول درندوں کے ہمنوا ان غدارین امت گروہوں کا بھی نبیء انسانیت  ﷺ کی امت سے کوئی رشتہ یا کوئی تعلق نہیں تھا۔

سقوطِ بغداد کے پچاس برس بعد 1492ء میں اسپین میں آخری مسلم ریاست کے خاتمہ کا سقوط غرناطہ برپا ہوا۔ تاج قشتالہ اور تاج اراغون کی ملکہ آئزابیلا اور شاہ فرڈیننڈ نے ہسپانیہ کے آخری تاجدار ابو عبداللہ کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا تو مسلمانوں کا صدیوں پر محیط سنہری دور ہمیشہ کیلئے ختم ہوگیا۔ معاہدے کے وقت مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی کی یقین دہانی کروانے والے عیسائی حکمران اپنے وعدوں سے کلی منحرف ہوئے تو  تمام مساجد کو گرجا گھروں میں تبدیل کر کے مسلمانوں کو جبری عیسائی بنانے کی ظالمانہ تحریک کا آغاز ہوا۔ جنہوں نے عیسائی ہونے سے انکار کیا انہیں یا سفاکی سے قتل یا جبراً جلاوطن کردیا گیا۔ حلب کے شہداء اور وحشیانہ مظالم سہنے والے مسلمان ہی نہیں، پورا عالم اسلام تاریخ کے اس تکلیف دہ باب کو کبھی نہیں بھول سکتا۔

سقوط غرناطہ کے بعد عیسائیوں کے ہاتھوں قتل عام پر جہاں عالم اسلام غمزدہ تھا، وہاں پوری دنیا میں بنو امیہ کی مخالف شعیہ مسلمان برادری، ان کے اقتدار کے خاتمے اور قتل عام پر ایسا ہی جشن مرگ منا رہی تھی، جیسا کہ گذشتہ دنوں سقوطِ حلب اور ایرانی میلشیا کے ہاتھوں وہاں کی مسلمان آبادی کے سفاکانہ قتل عام پر ایران اور دنیا بھر کے ایرانی حلقوں نے منایا۔  قابلِ توجہ امر ہے کہ عالم اسلام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کیلئے اس 1492ء کے بعد ہر سال اس مسلم شکست کی سالگرہ پر شہر کے چوراہے پر ایک اسی شکست کے مناظر کے بارے ایک ڈرامہ مسلسل دہرایا جاتا ہے۔ جس کے دوران ایک عیسائی اداکار غرناطہ کے اسی شکست خوردہ شاہ عبداللہ  کا رول ادا کرتے ہوئے، شاہ عبداللہ جیسے شاہانہ عربی لباس میں ، شہر کی چابیاں ہاتھ میں پکڑے سر جھکائے چلتا ہوا ، گلوں میں صلیبیں ڈالے ہوئے ہسپانیہ کے اس وقت کے فاتح بادشاہ فرڈینینڈ اور ملکہ آئزیبیلا کے کردار ادا کرنے والے اداکاروں کے حوالے کرتا ہے۔ افسوس کہ ہر سال اس ڈرامے کے دوران اسپین میں موجود ایرانی طبقات اس ” تماشہء دجالیت ” کی بھرپور پذیرائیی کرتے اور دل کھول کر داد دیتے ہیں۔ یہ اس امر کا واضع اعلان ہے کہ امتِ مسلمہ کی شکستوں اور قتل عام پر جشن مرگ منانے والے، نبیء آخر الزماں، پیغمبرِ انسانیت ﷺ کی تعلیمات سے کوسوں دور  ہو چکے ہیں ۔

میں گذشتہ کالم میں ذکر کر چکا ہوں کہ اسماعیل صفوی نے ایران کی سنی آبادی پر جس وحشیانہ جبر کا آغاز کیا وہ  سنی اور شعیہ سمیت تمام ایرانی مسلمانوں کیلئے بڑا کڑا امتحان تھا۔ یاد رہے کہ اسماعیل صفوی نے شیعیت کو ایران کا سرکاری مذہب قرار دیکر صحابہ اکرام اور امہات المومنین پر جبری تبرا کروانے کی تحریک شروع کی تو اس وقت کے شعیہ علما اور فقہ جعفریہ کے معتدل مزاج دانشوروں کی اکثریت نے اس تحریک کی شدید مخالفت کی۔ لیکن افسوس کہ شاہ اسماعیل صفوی نے لاکھوں سنی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عالم اسلام میں امن  اور تفرقہ بازی کے خاتمہ کے خواہاں ان تمام شعیہ علما اکرام کو بھی بیدردی سے قتل کروا دیا ۔ ہائے افسوس صد افسوس کہ اس دور میں بھی اس شعیہ سنی مسلم قتل عام پر ایک ایسا ایرانی طبقہ بھی تھا جو اس محشر مسلم پر شیرینیاں بانٹ کر اسماعیل صفوی کی فتح اور قتلِ مسلم پر جشن مرگ منا رہا تھا۔ دراصل یہ شعیہ مسلمان طبقہ بھی صدیوں سے جاری قتلِ مسلم پر جشن مرگ منانے والے تمام ایرانی طبقات کی طرح اس حقیقت سے ناواقف تھا کہ  ریاست اور حکمرانوں کا کوئی مذہب کوئی مسلک نہیں ہوتا۔

 گو کہ صدیوں سے جاری ہر سقوطِ امت ، کبھی اپنوں اور کبھی اغیار کے ہاتھوں قتلِ مسلم پر ایرانی طبقات کی جشن ِ مرگ منانے کی دیرینہ روایات بڑی تکلیف دہ ہیں۔ لیکن فاروق درویش کو آج بھی یہ خوش گمانی ہے کہ ایک نہ ایک دن میرے تمام شعیہ مسلمان احباب کو بھی اس بات کا ادراک ہو جائے گا کہ ایران کی پالیسیوں پر تنقید شعیت پر تنقید نہیں۔ بلکہ شعیہ حضرات صدیوں سے ایرانی ریاست کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن کر امت مسلمہ کی تقسیم در تقسیم کی جس سازش کا حصہ بن رہے ہیں ، اور جس انداز میں حلب کے مظلوم شہداء اور محشرِ انسانیت کا جشن مرگ منایا جاتا ہے۔ یہ اس  پیغمبر ِ انسانیت ﷺ کی تعلیمات سے کھلا انحراف ہے۔ جس کا درس اتحادِ امت، ایک مسلمان بھائی کیلئے دوسرے دل ِ مسلم میں نرم گوشہ اور فرقہ واریت سے کلی اجتناب ہے۔ وہ احکامات قرآنی ہوں، فرمانِ  نبوی ہوں، طریقتِ صحابہ و اسلاف  ہو یا افکارِ مجتہدین ، سفاکیت کا شکار قتل ہونے والے نہتے بچوں ، بوڑھوں اور عورتوں کی لاشوں پر جشنِ مرگ  اور جنسی بھیڑیوں کے ہاتھوں سرِ بازار و پاتال لٹتی ہوئی عصمتوں پر جشنِ فتح منانے والوں کا ملت اسلامیہ سے کوئی ملی تعلق کوئی دینی واسطہ یا کوئی نظریاتی رشتہ نہیں ہے۔ لہذا اہل تشیع احباب پر عین فرض ٹھہرا ہے کہ وہ مملکت ایران کی ایسی عسکری و امن دشمن مہم جوئیوں کیخلاف آواز اٹھائیں ، جو اتحادِ عالمِ اسلام کیلئے سخت نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔

احباب ہم کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں ، ہم دشتِ قضا و کرب و بلا  میں گھرے ہوئے ان مظلوم و مجبور اور  بے برگ و نوا  اہل حلب کے برگِ نوا بن جائیں، کہ جن کا کوئی ہمدم ، کوئی دمساز و ہم آواز نہیں ہے۔ وہ حرمینِ شریفین ہو، بحرین ہو، کویت، ہو متحدہ عرب امارات ہوں یا ارض پاکستان ، آئیں ایک امت واحدہ کی طرح ہر فتنہء باطل کیخلاف عرب و عجم کی ہر سر زمینِ مسلم کی حفاظت کیلئے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں ۔ ورنہ کل ہمیں سر ٹکرانے کیلئے کوئی دیوار تو کیا شاید رونے کیلئے سایہء دیوار بھی نہ ملے گا ۔۔۔

اتحاد عرب و عجم زندہ باد، اتحاد ملت اسلامیہ پائیندہ باد

تحریر ۔ فاروق درویش واٹس ایپ کنٹیکٹ 00923224061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: