بین الاقوامی تاریخِ عالم و اسلام حالات حاضرہ

جے ایف 17 تھنڈر ڈیل روہنگیا مسلمانوں کا تحفظ ہے


انسان نما بدھ درندوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام کی جو محشرِ صغری برپا ہے، اس پر  امت مسلمہ کی آنکھیں اشکبار اور دل و جگر دریدہ ہیں۔ میں اس قلم  قبیلے سے ہوں جو کشمیر، فلسطین، موصل، حلب اور برما سمیت پوری دنیا کے مظلوم مسلمانوں پر ظلم و جبر کیخلاف صدا بلند کرنا اپنا ملی و قومی فریضہ سمجھتا ہے ۔ امت کیلئے دردِ دل رکھنے والے احباب کی طرح میری بھی خواہش ہے کہ ان سفاک وحشیوں کو پوری قوت سے کچل دیا جائے۔ لیکن تاریخ کے اسباق، عالمی بادشاہ گروں کی شطرنج ، نئی پرانی لابیوں کی تازہ کھچڑی اور خطے کے حالات و واقعات کچھ اور ہی گفتگو کرتے ہیں۔ اس صورت حال میں لوگوں کا جذباتی ہونا  فطری ہے۔ لیکن مصائب کی ایسی گھڑیوں میں ہمت اور حوصلے کے ساتھ ساتھ زیرک حکمت عملی  کیلئے ٹھنڈے دماغوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ فقیر آدمی ہوں میڈیائی لارڈز کی طرح بڑھک مار کالم  نہیں، کڑوے سچ اور زندہ حقائق لکھتا ہوں۔ سو بھلے آپ اسے بزدلی یا غداری کہیں مگر میں یہی کہوں گا کہ برمی درندوں  کیخلاف  انفرادی  جہادی مہم جوئیوں کی باتیں بہر حال قومی اور ملی ساکھ خراب کرنے کا سبب بنیں گی۔
 
برما میں گذشتہ ایک دھائی سے جاری مسلم قتل عام میں جب بھی شدت آتی ہے،  ایرانی طبقات انہیں بچانے کی ذمہ داری سعودی عرب پر ڈال دیتے ہیں۔ حکومت مخالف حلقے کہتے ہیں کہ ہماری لولی لنگڑی حکومت برما کیخلاف فوری انتہائی اقدامات کرے۔ اور فوج کیخلاف پراپیگنڈا مہم کیلئے موقع کے منتظر لوگوں کا پہلا سوشل میڈیا بیان  یہ ہوتا ہے کہ ایٹمی طاقت کی حامل فوج برما کیخلاف لشکر کشی یا میزائیلوں کی بارش کیوں نہیں کر رہی۔ اس اعصاب شکن اور جذباتی صورت حال میں کچھ  دوستوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ برما کو جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارے فروخت کی ڈیل منسوخ کی جائے۔  گرم جذبات کی اس آندھی میں مجھ فقیر نے برما کو ان جنگی طیاروں کی فروخت کا معاہدہ برقرار رکھنے کی حمایت کی تو کچھ اختلافی آرا کے ساتھ ساتھ ان بکس میں  لعنتوں کے میسج ایسے موصول ہوئے، گویا کہ میں ہی صدی کا سب سے بڑا غدارِ ملت ہوں۔ جبکہ میرا موقف ہے کہ یہ آرم ڈیل کا معاملہ اب ملی جذبات سے زیادہ خطے میں پاکستانی مفادات ہی نہیں بلکہ روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کی بھی جنگ بن چکا ہوں۔ البتہ ان طیاروں کی فروخت کے اس اہم کارڈ کو کیسے کھیلنا ہے، یہ حکومتی تھنک ٹینک اور عسکری اداروں کی فہم و فراست کا  امتحان ہے۔
 
اکثر لوگ اس ڈیل کے معاشی، عسکری اور بین الاقوامی پہلوؤں اور دورس نتائج سے کلی ناواقف ہیں. جبکہ مجھے صرف ایک یہی اشارہ ہی تحقیق و عمیق بینی پر مجبور کرتا ہے کہ بھارت اس پاکستانی پراجیکٹ سے انتہائی خوف زدہ اور ان طیاروں کی برما کو فروخت کا سخت مخالف ہے۔ چین کے اشتراک سے پاکستان کی جنگی طیارہ سازی کی صلاحیت، جے ایف 17 تھنڈر پراجیکٹ کا تابناک مستقبل اور بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کیلئے خریداروں کی دلچسبی سے بھارت کی نیندیں حرام ہیں۔ پہلے عمومی اور برما میں کشیدہ حالات میں اب بھارت کی خصوصی سرتوڑ کوشش ہے کہ پاکستان کسی بھی طرح یہ طیارے برما کو فروخت کرنے کی ڈیل کینسل کرے۔ اور جدید جنگی طیاروں کے اس اہم پراجیکٹ کیلئے ضروری مالی فنڈز کو ناقابل برداشت دھچکہ لگنے سے اس حساس پراجیکٹ کو شدید نقصان پہنچے۔ اور پھر اس صورت میں بھارت کیلئے برما کو اپنے تیار کردہ وہ “تیجس” جنگی طیارے فروخت کرنے کی راہ ہموار ہو جن کی فروخت کیلئے ماضی میں اس کی برما سے ڈیل کی ہر کوشش ناکام رہی تھی۔
 
پاکستان کے عسکری ادارے اس امر سے  واقف ہیں کہ پورے خطے میں دہشت گردی کو فروغ دینے میں مصروف بھارتی حساس ادارے” را ” کو پاکستان اور برما کے مابین طیاروں کی فروخت کا یہ معاہدہ منسوخ کروانے کا خصوصی مشن سونپا گیا ہے۔ میرے مطابق برما میں جاری قتل ِ مسلم کے حالیہ خونی کھیل میں بھارتی مداخلت کو کسی صورت رد نہیں کیا جا سکتا۔  حالات و واقعات بتا رہے ہیں کہ بھارت کے خفیہ ادارے اور ان کا بغل بچہ بنگلہ دیش بھی برما میں مسلمانوں کے قتل عام میں بدھوؤں کی درپردہ اعانت کر کے حالات مذید خراب کرنے کی انتہائی کوششوں میں مصروف ہیں. حتیٰ کہ جو مسلمان جان بچا کر کسی نہ کسی طرح بنگلہ دیشی سرحد تک پہنچ جاتے ہیں، بھارتی رکھیل حسینہ واجد کی فورسز انہیں سرحد کے اندر داخل نہیں ہونے دیتیں۔ اور ان میں سے اکثر بے اسرا لوگ کھلے آسمان تلے بھوک اور پیاس سے دم توڑ جاتے ہیں
 
 خیال رہے کہ بھارت پورے خطے میں خطرناک گیم کھیل رہا ہے اور ہمیں برما میں وحشیانہ قتل عام کرنے والے اسلام دشمن عناصر کو سبق سکھانے کے ساتھ ساتھ اپنے حساس قومی مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہے۔ میرے مطابق برما میں مسلمانوں کے اس سفاک قتل عام کے بعد برما کو جے ایف 17 طیاروں کی فروخت اب زیادہ ضروری ٹھہری ہے۔ اس کی چند اہم وجوہات میں اول یہ کہ اس سودے کی منسوخی سے ایٹمی اثاثوں کے بعد پاکستان کے حساس ترین جے ایف 17 تھنڈر پراجیکٹ کو پہنچنے والا شدید مالی نقصان اس منصوبے کیلئے بیحد خطرناک ثابت ہو گا۔ میں جانتا ہوں کہ پاکستان کے محدود مالی وسائل جانتے ہوئے بھی کچھ جذباتی لوگ مالیاتی نقصان کے ان خدشات کو قومی مفادات کو ملی مفادات پر ترجیح دینا اور خودی کی موت قرار دیں گے۔ لیکن میرے مطابق ہم برما کو طیارے فروخت کر کے ایسی نکیل ڈال کر اپنے اور ملی مفادات کیلئے استعمال کر سکتے ہیں، جس سے چھٹکارا اس کیلئے مشکل ہی نہیں ناممکن ہو گا۔  خیال رہے کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ان جنگی طیاروں کی فروخت کے بعد ان طیاروں کے  ہارڈویئر، اپ ڈیشن، پرزہ جات اور تکنیکی  سروسز کی اجارہ داری پاکستان کے پاس ہو گی۔  طیارے خریدنے کی صورت میں برما  کبھی پاکستان کے مفادات سے ٹکراؤ یا ناراضگی کا متحمل نہیں ہو سکے گا کہ ان طیاروں کے پرزہ جات، تربیتی کورسز اور دیگر انتہائی لازم سروسز کے منقطع ہونے کا خوف ہمیشہ اس کے سر پر ہو گا۔
 
جو لوگ امریکہ سے ایف سولہ طیاروں کے حصول کے بعد ان کے ضروری پرزہ جات کیلئے پاکستان کی طرف سے امریکہ کو کئی سالوں تک کی جانے والی منتیں اور ترلوں سے واقف ہیں ، وہ میرے اس نقطے کو بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ بین الاقوامی مارکیٹ سے جنگی طیارے لینے کے بعد ، فاضل پرزہ جات اور سروسز کا منقطع ہونا، دفاعی سیٹ اپ کی بقا کیلئے کس قدر اہم ہوتا ہے۔ لہذا اس طرح ہم خطے میں بین الاقوامی سیاست کی بساط پر بھارتی عزائم کیخلاف جوڑ توڑ اور روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کے ایشوز پر برما سے بہر صورت اپر ہینڈ اور بہتر بارگین کی پوزیشن میں ہوں گے۔ دوسرے اس سودے کی مخالفت کرنے والے احباب سے میرا سوال ہے کہ پاکستان سے سودا منسوخ ہونے پر اگر برما نے اپنے ظاہری خیرخواہ اور پاکستان کے بدترین بھارت سے تیجس طیارے خرید لئے تو پھر صورت حال کیا ہو گی؟ یقینی طور پر پھر  برما بھی بنگلہ دیش کی طرح بھارت کا اٹوٹ پراکسی پارٹنر بن جائے گا اور ایشیا کے دہشت کردوں کا سرپرست بھارت دیش برما کو بلیک میل کر کے ان وحشی بدھوؤں کو اپنے اشاروں پر نچا کر قتل مسلم کرواتا رہے گا۔
 
عسکری معرکہ آرائیاں ہوں یا ملی و قومی کرائسس، کامیابی اور مصائب سے نجات  کیلئے جذبات و جنون کے ساتھ ساتھ پرمغز حکمت عملی اولین شرط ہوتی ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھئے کہ نورالدین زنگی نے ایک حکمت عملی کے تحت مصر کے اردگرد دشمن ریاستوں سے بھی معاہدے کئے۔ صرف پچیس سالہ نوجوان صلاح الدین کو مصر کی فاطمی خلافت کیخلاف لشکرکشی کیلئے بھیجا تو عوامی طبقات کی طرف سے بیحد تنقید کی گئی۔ لیکن جب اسی نوجوان نے کسی آندھی کی طرح فاطمی خلافت کا چراغ گُل کر دیا تو سب ناقدین کے مونہہ بند ہو گئے۔ اور پھر جب وہی صلاح الدین ایوبی بن کر تخت نشیں ہوا تو اس نے صلیبی جارحین کے خلاف وہ حیران کن جنگی حکمت عملیاں اختیار کیں کہ اس فتح بیت المقدس کی زخم خوردہ پوری عیسائی دنیا کو آنے والے برسوں میں کبھی چین کی نیند نہیں سونے دیا۔
 
آپ سوچیں گے  کہ ایوبی سلطان کی معرکہ آرائی کا برما میں کےقتل عام یا برما کوجے ایف 17 طیاروں کی فروخت سے کیا تعلق ۔ تو وہ تعلق تاریخ کا یہ سبق ہے کہ مقاصد کے حصول اور مصائب و آلام  کے حل کیلئے پہلے عاقلانہ حکمت عملی وضح کرنا اور پھر  اس پر عمل پیرا ہو جانا ہے۔ ایوبی نے حجاز کے قافلوں کو لوٹنے والے صلیبی جنگجو سردار ریجنالڈ کے شر سے بچاؤ کیلئے اس سے چار برس معاہدہ کئے رکھا۔ یہ  آج کے دور میں ہوتا تو سوشل میڈیا کے سارے “عقلمند مسلمان” اسے دین کا غدار قرار دے دیتے۔  وہ تخت نشینی  کے دو برس بعد  ہی اتنا طاقتور تھا کہ بیت المقدس پر حملہ آور ہو سکتا تھا۔ لیکن اس نے وہ منفرد حکمت عملیاں اختیار کیں کہ پورے یورپ کے اتحادی لشکر بھی اس کی کامیابیوں کا راستہ نہ روک سکے۔ اس پر بھی  ہم پاکستانیوں جیسے  جنونی اور جذباتی عوام کا دباؤ رہا ۔ لیکن وہ  قریبی ریاستوں کو فتح کرتا یا ان سے تعلقات بناتا رہا۔ وہ یروشلم  کے گرد  چھاؤنیاں بنا کر اپنا گھیرا تنگ کرتا رہا۔ اور بالآخر دس برس کے طویل انتظار کے بعد جب اس نے بیت المقدس کو فتح کیا تو اگلے 691 برس تک وہاں اسلامی  پرچم لہراتا رہا۔ اور ہاں جس صلیبی سردار ریجنالڈ سے اس نے وقتی حکمت عملی کے تحت معاہدہ کیا تھا، اسی درندے کو جنگ حطین میں عبرت ناک شکست دیکر اس کا اپنے ہاتھوں سے  سرقلم کیا ۔ اسے کہتے ہیں کہ جب عظیم مقاصد  کیلئے سوچ سمجھ کر بنائی گئی حکمت عملی پر پورے یقین کے ساتھ عمل درامد کیا جائے، تو پھر یقیناً نتائج بھی عظیم اورشاندار ہوتے ہیں۔ یہی ہماری عظمتِ رفتہ کی سنہری داستان ہے ، یہی ہماری  تاریخ اسلاف ہے۔۔
 
چراغِ چشمِ جنوں سے حباب اٹھیں گے ۔۔ خرد کے دیدہء حیرت سے خواب اٹھیں گے
جہانِ تازہ  کی ان تازہ کربلاؤں سے ۔۔ صلیب ِ دہر کے تازہ نصاب اٹھیں گے
 
تحریر ۔ فاروق درویش ۔۔ واٹس ایپ کنٹیکٹ ۔ 00923224061000
اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: