بین الاقوامی حالات حاضرہ

بھارتی را اور سی آئی اے کی انٹی پاکستان مہم جوئیاں


چین اور پاکستان کے باہمی منصوبوں کی ممکنہ کامیابی سے خوف زدہ سامراج و مغرب اور ان کے یہود و ہنود بغل بچوں کے پیندوں سے دھواں برامد ہو یا نعرہء تکلیف اوئی اللہ کی چیخ و پکار اٹھے، انشاللہ العزیز یہ منصوبے پاک چین دوستی زندہ باد کے نعروں کی گونج میں اپنی منزل با مراد تک پہنچ کر ہی رہیں گے۔ پاک چین معاہدوں سے مغرب  اور ہندوتوا کے مذموم عزائم و مقاصد کی جواں مرگی پر کریا کرم کی رسومات میں شرکت کیلئے دنیا بھر کی انٹی پاکستان ایجنسیوں کی بھارت میں آمد کا سلسلہ رہتا ہے ۔ اور بھارت کی طرف سے اپنے ان مہمانوں کیلئے شراب و شباب کی ہوش ربا  محافل کا اہتمام بھی جاری ہے۔ دو برس قبل  بھارتی ہشت گرد خفیہ ادارے ’’را‘‘ کی دعوت پر  سی آئی اے ، موساد  ، افغان  این ڈی ایس اور برطانوی خفیہ ادارے  ایم آئی  6  کے  درجنوں سینئر حکام  نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں بھارتی میزبانی اور مہا بھارت کے زرد دہشت گرد دیش کی حسین و جمیل ماڈلوں کے تھرکتے اجسامِ گل رنگ کے مزے لوٹ رہے تھے۔  ان دنوں ایان علی اگر اڈیالہ کی  فائیو سٹار جیل میں نہ ہوتی تو ممکن تھا کہ وہ بھی نیو دہلی کے کسی فائیو سٹار ہوٹل میں را یا سی آئی اے  کے کسی جاسوس اہلکار کی گود میں بیٹھی دھن دھنا دھن دھن ڈالرز گن رہی ہوتی۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب بھارتی را کی حلیف ایرانی ایجنسیاں بھی پاکستان میں نئے غداروں کی تلاش میں  رنگین تتلیوں کا جال بچھائے سرگرم و متحرک ہیں۔

اپنے عالمی  سرپرستوں کی موجودگی میں شیر بننے والے بھارتی گیدڑ وزیر دفاع منوہر پریکر دھمکی دیتے ہوئے اس قدر جذباتی ہو گئے کہ نے انہوں نے یہ کہتے ہوئے اپنی دہشت گردی کرنے کا اعلانیہ اقرار کیا تھا  کہ ” جو بھی بھارت میں دراندازی کرے گا، وہ مارا جائے گا” اور یہ کہ ” دہشت گرد سے دہشت گرد کے ذریعے سے ہی نمٹا جاسکتا ہے”۔  بھارتی وزیر دفاع کے اس اعلان سے ثابت ہوا کہ آزادیء کشمیر کے جانبازوں کیخلاف بھارتی ریاستی دہشت گردی اور بلوچستان یا کراچی سمیت پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے دہشت گرد بھارتی آشیرباد ہی میں پلتے ہیں۔ لیکن امن کے نام نہاد ٹھیکیدار عالمی اداروں نے بھارتی وزیر دفاع کی طرف سے دہشت گردی کے مقابلے میں دہشت گرد استعمال کرنے کے اس کھلے اقرار کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ لیکن افسوس کہ منوہر پریکر کے اس اعتراف جرم کے باوجود پاکستان کی ان گونگی بہری سیاسی قوتوں کو بھی لب کشائی کی توفیق اور قومی غیرت کی علمبرداری کا حوصلہ نصیب نہ ہوا ،  جو بھارت کی  ہر دہشت گردی کے عیاں ثبوت دیکھ کر بھی  ذاتی مفادات  میں گونگے بہرے اور اندھے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے ہمیشہ  ہی افواجِ پاکستان اور آئی آیس آئی کی اعلی قیادت کی طرف  سے جرات مندانہ حقائق بیانی سنائی دیتی ہے۔

بھارت میں ہونے والے  انٹی پاکستان خفیہ ایجنسیوں کے اجتماعات کا تسلسل اس امر کا  ثبوت ہے کہ سب عالمی طاقتیں پاک چین منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کیلئے مشترکہ طور پر متحرک  ہیں۔ جبکہ ان بھارتی عزائم کو اب پاکستای مفادات کیخلاف سرگرم ہونے والے فتنہ پرور  ایران کی صورت میں چاہ بہاری  اتحادی مل چکا ہے ۔ دیرینہ اطلاعات ہیں کہ مودی کی خصوسی ہدایات پر بھارتی خفیہ ادارے ”را“ کے سربراہ راجندر کھنہ کی نگرانی میں پاک چین اقتصادی راہداری کو ناکام بنانے کیلئے  خصوصی ڈیسک بناکر اس بڑے ٹاسک کیلئے بہت بڑی رقم بھی فراہم کی گئی ۔ عالمی مبصرین کے مطابق بنگلہ دیش کی دجالی تخلیق کے بعد سی پیک کو ناکام بنانا  ”را“ کا  دوسرا بڑا منصوبہ ہے۔ یاد رہے کہ بھارتی را ‘‘ اور اسرائیلی ’’موساد‘‘ کے باہمی رابطے اندرا گاندھی کے اس دور سے استوارہیں ، جب اسرائیل کو ممبئی میں قونصل خانہ کھولنے کی اجازت دی گئی ۔ اور پھر این جی اوز اور سیکس سروس سنٹرز کی آڑ میں جاسوس یہودی لڑکیوں کا نیٹ ورک ممبئی، چنائی، مدراس ، حیدر آباد اور کلکتہ سمیت پورے بھارت میں پھیل گیا۔ راجیو گاندھی کے دور سے را کے ایجنٹ اسرائیل سے خصوصی تربیت کر رہے ہیں۔ اپریل 2003ء  میں را کے سربراہ بننے والے سی ڈی سہالے سے لیکر  راجندر کھنہ تک،  را کا ہر ایک سربراہ  اسرائیلی جاسوس اداروں کا تربیت یافتہ رہا ہے ۔

 پاکستانی حساس اداروں کے پاس تمام  ثبوت اور شواہد موجود  ہیں کہ را  نے پاک چین راہداری منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلئے کا م شروع کر رکھا  ہے۔ ماضی میں کہا جاتا رہا  کہ چودھری نثار بھارتی را کے عزائم کے بارے میں مختلف انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے فراہم کردہ  ناقابل تردید ثبوت  قوم کے سامنے پیش کریں گے۔ لیکن ناجانے پھر  ان حقائق کو عالمی اداروں یا قوم کے سامنے نہ لانے کے پس پردہ کیا وجوہات رہیں، واللہ علم بالصواب۔ جبکہ یہ حقیقت ساری دنیا پرعیاں ہے کہ بھارتی خفیہ اداروں کی ساری توجہ پاک چین منصوبے ناکام بنانے پر مرکوز ہے ۔ اور اسے سامراجی، اسرائیلی اور مغربی ایجنسیوں کی ہر ممکنہ مدد  بھی حاصل ہے ۔ خیال رہے کہ  را کا بنیادی مشن عسکری انٹیلی جنس معلومات  ، حریف ممالک کیخلاف نفسیاتی اور ثقافتی  جنگ ،  دہشت گردی کی سرپرستی ، پاکستان اور ہمسایہ ممالک میں سبوتاژ کی کارروائیاں اور بھارتی عزائم کی مخالف اہم شخصیات کا قتل  ہے۔ را کی دیگر انٹی پاکستان  ایجنسیوں سے فعال ریلیشن شپ کے پس پردہ حقائق اور ان سب کا مشترکہ مفاد، دراصل ان سب کی آنکھوں میں چبھنے والا  پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے۔ اور ان غیر ملکی  ایجنسیوں کے بھارتی را سے تال میل کا دائرہ کار افغانستان اور ایران سے  لیکر لندن، واشنگٹن اور  تل ابیب  تک پھیلا ہوا ہے۔ جبکہ پاکستان میں  جاسوسی اور سہولت کاری کا ذمہ عاصمہ جہانگیر و ماروی سرمد برانڈ این جی اوز اور میڈیائی سپورٹ  کیلئے  حسن نثار اور پرویز ہود بھائی جیسے نام نہاد دانشوروں کی صورت میں سیکولر عناصر موجود ہیں۔ دراصل  ان بتانِ ہوس زر اور ننگِ وطن  مجسموں کے بنا عالمی دہشت گردی کا عجائب خانہ ادھورا ہے۔

 ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارت اسرائیلی ہتھیاروں کی خریداری پر ایک ارب ڈالر خرچ کررہا ہے۔ جبکہ 2015 ء میں دوسرے اسلحہ کے ساتھ اسرائیلی ایروسپیس انڈسٹری سے دو عدد ’’فیلکن‘‘ برانڈ ارلی وارننگ سسٹم کی خریداری کا معاہدہ طے پا چکا تھا ۔ اسی سال بھارتی ایئرشو میں اسرائیل کی پندرہ  کمپنیوں نے اپنے جدید ہتھیاروں کی نمائش کی تھی۔ پاکستانی حساس اداروں کے پاس  اس امر کے بھی ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ اسرائیل  بھارتی مدد سے افغانستان کے راستے فاٹا اور بلوچستان کے شدت پسندوں کو ہتھیار فراہم کر کے یہاں اپنے قدم جمانے کیلئے کوشاں ہے۔ ماضی میں افغانستان میں موجود امریکی اور بھارتی عناصر، بلوچ باغیوں اور شدت پسندوں کو اسلحہ اور مالی فنڈز کی فراہمی کے کھلے مرتکب قرار پائے گئے۔ جبکہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد اب اسرائیلی عنصر اس خطے میں پوری طرح سرگرم و فعال ہو چکا ہے۔ خدا نہ کرے کہ ماضی میں بھارتی را کو مدد کیلئے پکارنے والے متحدہ برانڈ سیاسی دہشت گرد، مستقبل میں اسرائیلی موساد کو مدد کیلئے پکارتے سنائی دیں۔ کراچی میں رینجرز کی طرف سے آپریشن  پر  اندرون سندھ میں بھارتی آلہ کار جسقم کی طرف سے فوجی آپریشن کی مخالفت سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ، تمام بھارتی بغل بچے، اپنے مشترکہ آقاؤں کی ہدایات پر، ایک دوسرے کی سیاسی و اخلاقی مدد کیلئے متحد ہوتے ہیں۔

 بھارتی عوام  کیلئے اس کے اپنے ہی وزیر دفاع کا یہ بیان کسی ڈراؤنے خواب جیسا ہی خوفناک تھا کہ ناکام روسی ٹیکنالوجی کے حاامل بھارتی طیارے، گویا  ہوا میں اڑتے ہوئے تابوت ہیں۔ میرے مطابق پچھلے سات برس میں بیس سے زائد بھارتی طیاروں کا کریش ہونا اور چالیس فیصد سے زائد میزائیل تجربات کا  فیل ہونا، بھارتی اسلحہ و میزائیل ٹیکنالوجی کے سب سٹینڈرڈ کا مونہہ بولتا ثبوت رہا ہے۔  بھارت اور اس کے امریکی و مغربی حلیف جانتے ہیں کہ دنیا کے بہترین فائٹر پائیلٹ مانے جانے والے پاکستانی شاہینوں کی ماہرانہ اڑانوں میں  ایف 16 اور جے ایف 17 تھنڈر جیسے تباہ کن طیاروں میں نصب تباہ کن ایٹمی میزائیل دہلی سے مدراس اور ممبئی سے کلکتے تک پورے بھارت کو پلک جھپکتے میں شمشان گھات بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔  لہذا بھارت کے نئے اتحادی امریکہ نے  اسے مذید طاقت فراہم کرنے کیلئے  بھارتی فضائیہ کو  جدید ایف 16 اور بھارتی بحریہ کو جدید ترین  ایف 18 جنگی طیاروں کی فراہمی کا معاہدہ کر کے اپنے وار اگینسٹ ٹیرر کے  دیرینہ اتحادی پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے جیسی حرکت اور انتہائے احسان فراموشی کا ثبوت دیا ہے۔

 الحمد للہ آج چونکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، لہذا بھارت اور اسرائیل اس مملکت خداداد کے خلاف کسی قسم کی عسکری جارحیت سے لرزاں ہیں، اسی وجہ سے یہ دشمنانِ اسلام کسی نہ کسی طرح ہماری سلامتی کو نقصان پہنچانے کیلئے ہمہ وقت سازشوں میں  مصروف رہتے ہیں۔  گذشتہ برسوں جب  آئی ایس آئی  نے قبائلی علاقوں اور بلوچستان کی دہشت گردی میں بھارت، ایران  اور اسرائیلی ایجنٹوں کے ملوث ہونے کی مصدقہ اطلاعات دیں تو  ان انفارمیشنز کی تصدیق امریکی اخبار انالسٹ نٹ ورک اور دوسری نیوز ایجنسیوں نے بھی کی تھی۔ لیکن افسوس کہ بھارتی دہشت گردی کی سچی داستانوں کو بھی الزامات اور پراپیگنڈا قرار دینے والے پاکستانی  میڈیا دانشور تو بغیر ختنوں کے مارے جانے والے بھارتی سکھ اور گورکھا دہشت گردوں کو بھی افغان طالبان اور مسلمان دہشت گرد ہی قرار دیتے رہے ہیں۔ مگر ان مسلمان دانشوروں کے خود اپنے ختنے بھی ہوئے ہیں یا نہیں، واللہ علم بالصواب۔ باخدا فاروق درویش کچھ نہیں جانتا، ہاں اگر آپ معزز صاحبان کے پاس کوئی شواہد موجود ہیں تو ضرور بتا دیجئے ۔ ۔ ۔ ۔

 تحریر – فاروق درویش  – واٹس ایپ – 00923224061000

اپنی رائے سے نوازیں

Featured

%d bloggers like this: