تاریخِ عالم و اسلام تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ

جولیس سیزر ، شاہ نیرو اور نواز شریف ۔ تاریخی حقائق


مغربی تہذیب کے طلسم اور روشن خیالی کے جادو میں مبتلائے فتن حضرات کہتے ہیں کہ  ریاست و سیاست میں صلاح الدین ایوبی اور نور الدین زنگی  کی بات نہ کریں۔ وہ لوگ دنیا میں امن کے دشمن اور اپنے دور کے طالبان تھے۔ ان کے روشن خیال موقف کے مطابق اسلام کی عظمت رفتہ کے روشن کرداراور برصغیر کی تحریک آزادی کے مجاہدین کی جنگ و جدل کے بارے نصابی مضامین، نئی نسل میں شدت پسندی پھیلانے کا موجب بن رہے ہیں۔ تو صاحب  میری اس تحریر میں ” کار سیاہ ست ” پر میرے تلخ و ترش موقف کے گواہ عظیم سلطنت روم کے دو شہرہ آفاق غیر مسلم بادشاہوں جولیس سیزر اور نیرو کے تاریخی کردار ہیں۔ جولیس سیزر رومی سلطنت کا ہی نہیں بلکہ تاریخ عالم کا پہلا فوجی جرنیل بادشاہ تھا۔ اس سے پہلے شاید کسی بھی فوجی جرنیل نے اقتدار کا ذایقہ نہیں چکھا تھا۔ وہ اپنے آئیڈیل سکندراعظم سے بڑھ کر دنیا کو فتح کرنے کا آرزومند تھا۔ لیکن سکندر کی ہمسری کا خواب شرمندہء تعبیر ہونے سے پہلے ہی اپنے ان ساتھیوں کے ہاتھوں قتل ہوگیا جن پر  بیحد تکیہ کرتا تھا۔ جولیس سیزر نے باغی جرنیل پامپے اور جرنل بروٹس کو شکست دیکر پامپے کو اسکندریہ میں قتل کردیا جبکہ  بروٹس کو معاف کر کے اقتدار کا ساتھی بنا لیا۔ پامپے کا قتل کسی جرنیل کا دوسرے جرنیل کو حصول اقتدار کیلئے قتل کرنے کا پہلا تاریخی وقوعہ تھا۔ لیکن اس کے بعد تاریخَ قدیم و جدید سیاسی مخالفوں کے ہی نہیں بلکہ سگے بہن بھائیوں کے قتال کے واقعات سے بھی بھری پڑی ہے۔ چنگیز خان کی اولاد سے لیکر عالمگیرجیسے پارسا حکمرانوں نے اقتدار کیلئے اپنے حقیقی رشتوں کو بھی نہیں بخشا۔

زرداری کے ہاتھوں بے نظیر کے بھائیوں کا پراسرار قتال بھی ماڈرن سیاست کا ایک اندوہناک باب ہے۔ جولیس سیزر نے مصر فتح کیا تو ملکہء مصر قلوپطرہ کی زلفوں کا اسیر ہو کرایک عرصہ تک وہیں مقیم رہا۔ دیکھا جائے تو شاہوں کے اس عاشقانہ مزاج کی کہانیوں کا تسلسل صدیوں پہلے سے آج تک نہ ٹوٹا ہے نہ ٹوٹے گا۔ وہ الگ بات ہے کہ مسلم تاریخ کے حصے میں عباسی ملکہ زبیدہ جیسی ہستیاں کم اور ممتاز محل جیسی وہ معشوق شہنشاہی زیادہ آئی ہیں جن کی داستانِ عشق کی بدولت عوام کیلئے فلاح اور درسگاہوں کی تعمیر کی بجائے خزانے حسن کے مقبروں کی تعمیر پرخرچ ہوتے رہے۔ تعجب نہیں کہ نہ بازارحسن کی تتلیاں بھٹو صاحب کی دسترس سے دور رہیں، نہ کوئی سابقہ شیر پنجاب مصطفے کھر کو گیارہ بیگمات کرنے سے روک سکا۔ نہ ہی عمران خان کے انگنت معاشقے تھمے اور نہ ہی شیر پنجاب شہباز شریف پر جواں سالہ ہنی سے لیکر کھر کی ساٹھ سالہ مطلقہ تہمینہ درانی کھر تک کے حصول پر کوئی سیاسی و عائلی پابندی ممکن ہوئی ۔ یہ سلسلہء حسن و عشق تو فقیر کی جھگی سے لیکر شاہی محلات تک صدیوں سے رواں ہے اور ہمیشہ دواں رہے گا۔ مصر سے واپسی پر جولیس سیزر روم کا حکمران اور دنیا کا پہلا جرنیل بادشاہ بنا۔

یاد رہے کہ جب روم کی کونسل جولیس کی تخت نشینی کی تاریخ مقرر کر رہی تھی، دوسری طرف اس کا وہی انتہائی قریبی اور وفادار سمجھا جانے والا جرنیل مارکوس بروٹس دیگر باغیوں کے ساتھ مل کر اس کے قتل کی سازش تیار کر رہا تھا۔ ان باغیوں کا موقف یہ تھا کہ سیزر کو بادشاہ بننے کا کوئی حق نہیں کیونکہ بادشاہت روم کے ریاستی آئین و قانون کے برخلاف ہے۔ اور اس سے سیزرکے آمر اور روم کے سیاہ و سفید کا مالک بن جانے کا خدشہ ہے۔ قابل توجہ ہے کہ جولیس سیزر 14مارچ 44 قبل مسیح کو انقلاب اور آزادی کے علمبردار قانون دان سینٹروں کے ہاتھوں قتل ہوا تو ان قاتلوں کا سربراہ اس کا قریبی ساتھی ، روم کا منصف اعلی اور مونہہ بولا بیٹا وہی مارکس بروٹس تھا۔ جس نے سیزر اور پومپے کی جنگ میں پومپے کا ساتھ دیا تھا لیکن سیزر سے اسے معاف کر دیا تھا۔ وہی معافی جولیس سیزر کیلئے موت کا پروانہ ثابت ہوئی۔ دم توڑتے ہوئے سیزر نے اپنے ہی عزیز دوست بروٹس کے ہاتھ میں اپنے خون سے آلودہ خنجر دیکھ کر جو تاریخی الفاظ کہے وہ تاریخ کا حصہ اور ضرب المثل بن گئے کہ ” بروٹس تم بھی؟؟ پھر تو سیزر کو ضرور مر جانا چاہئے”۔ لیکن سیزر کو قتل کرنے والوں کی شومئی قسمت کہ جب اس کے خون سے ہاتھ رنگنے والے آزادی کے نعرے لگا رہے تھے، روم میں اس خونریز خانہ جنگی کا آغاز ہو چکا تھا جس کے دوران سیزر کے غدار قاتل بروٹس نے اپنے ساتھیوں کے قتل کے بعد خود کشی کرلی۔

یاد رہے کہ صرف بروٹس کا یہ محسن شکن کردار ہی تاریخ کا واحد مقدمہ نہیں۔ عباسی خلیفہ مستعصم باللہ کا وزیر العقلمی بھی بروٹس کا ہمزاد تھا اور سلطان ٹیپو کا غدارجرنیل میر صادق بھی بروٹس جیسا ہی قابل صد مذمت کردار تھا۔ نواب سراج الدولہ کا جرنیل میر جعفر بھی اس کا بروٹس تھا۔ دور جدید کی تاریخِ سیاہ ست دیکھیں جائزہ لیں تو بھٹو صاحب کیلئے جرنل ضیا نے بروٹس کا کردار ادا کیا تو میاں صاحب کیلئے پہلے جنرل وحید کاکڑ اور پھرمشرف بروٹس ثابت ہوئے ۔ یہ میاں صاحب کی خوش قسمتی ہے کہ وہ دوسرے بروٹس رسیدہ شاہوں کی طرح شہید ہونے سے محفوظ رہے۔ دلچسب حقائق ہیں کہ نواز شریف نے اپنے پہلے دور اقتدار میں آرمی چیف کا تقرر کرتے ہوئے سنیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر موجود جنرل وحید کاکڑ کو آرمی چیف بنایا پھر دوسرے دور حکومت میں آرمی چیف بنائے جانے والے پرویز مشرف بھی سنیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر تھے اور خدا خیر کرے کہ اب تیسرے دور حکومت میں بھی آرمی چیف بنائے جانے والے جنرل راحیل شریف بھی سنیارٹی لسٹ میں تیسرے ہی نمبر پر ہیں۔ امید ہے کہ اس بار میاں صاحب کا بروٹس، کم از کم  خاندانِ شہداء سے تعلق رکھنے والے ایک  خالص سولجر جنرل راحیل شریف نہیں بلکہ کوئی اور ہی بنے گا۔ اب ان کے اقتدار کی آئینی مدت پوری ہونے سے پہلے ایک بار پھر کب کوئی فوجی یا غیر فوجی، ان کا تیسرا بروٹس بنتا ہے یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ لیکن میاں صاحب کی من مانیاں، ضدی مزاج سیاسی روش اورعاصمہ جہانگری و نجم سیٹھی جیسے مشیرانِ دہر کی برخودراری سلامت رہی تو پھر تختِ اسلام آباد اور تاج رائیونڈ کا سلامت رہنا یقینی طور پر ناممکن نظر آ رہا ہے۔ وہ انہیں سیکولرز کے زیر اثر، کبھی قادیانیوں کو بھائی کہہ کر توہینِ عقیدہء مسلم اور کبھی ہندو سکھوں اور مسلم کو ایک ہی رب کے پجاری قرار دیکر نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریے کی تذلیل کے مرتکب ٹھہرے ہیں۔

ان کے خلافِ دین نظریات پرعوام میں غم و غصے کی لہر کا ابھرنا قدرتی ردعمل اوراللہ کے حضور توبہ عین واجب ہے۔ انہیں خیال رہے کہ انہوں نے تاریخ ہند کے سفاک ترین ہندوتوا درندے نریندر مودی جیسے دوستوں کو آموں کی پیٹیاں اور بنارسی ساڑھیاں بھیجنے جیسی سیاسی مہم جوئیاں ترک نہ کیں تو کوئی ” دل جلا بنارسی ٹھگ ” ان کے اقتدار کے جہاز میں بارودی آموں کی فرشتیانہ پیٹیاں بھی رکھ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں انہیں زرداری کرپشن کنگز کا وہ گروہ بھی نہ بچا پائے گا جن کے بارے انہوں نے لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹنے اور لوٹی ہوئی قومی دولت واپس لانے کے قومی وعدے کئے تھے۔ میرا کڑا موقف ہے کہ جب تک لوٹی ہوئی قومی دولت واپس نہ لائی جائے گی ، اندھیروں میں ڈوبتے، افلاس رسیدہ عوام الناس کو ریلیف دینا نا ممکن ہو گا۔ زرداریوں اور مداریوں کے سہارے تلاش کرنے کی بجائے عوام کو معاشرتی اور معاشی انصاف دینے میں ہی جمہوریت اور حکومت کی بقا ہے۔ خیال رہے کہ ان کی حکومت بچاؤ مہم کے محرک اعتزار احسن جیسوں کے ماتھے پر ہمیشہ ” قابل فروخت” کا بورڈ رہا ہے۔ لہذا کل وہ ان کے مخالف نئے یا پرانے انقلابیوں کی سیاسی وکالت کیلئے کھڑے بھی نظرآ سکتے ہیں موصوف کی طرف سے خالصتان تحریک کے سکھوں کی لسٹیں بھارتی حکومت کو فراہم کیا جانا ان کے ہمہ وقت قابل فروخت ہونے کا مصدقہ ثبوت ہے۔

انہیں یاد رہے کہ جولیس سیزر کا قاتل وہی بروٹس بنا تھا جسے اس نے جرنل پومپے جیسے باغی و غدارِ ریاست کا ساتھ دینے کے سنگین جرم پر معافی دیکر کر اپنا جرنیل اورچیف جسٹس بنایا تھا۔ لہذا کسی معافی شدہ یا بخشش میں عہدے پانے والوں کی بدولت، سابقہ سیاسی سانحات کا مکرر در مکرر نظارہء حسرت کبھی بھی منظر سیاہ ست پر نمودار ہو سکتا ہے۔ مورخین کے مطابق جولیس سیزر ایک جری اور ذہین فوجی جرنیل تھا جسے پامپے جیسوں کی غداری کے باعث مجبوراً عنان حکومت سنبھالنا پڑی۔ اس کے مخالفین کے مطابق وہ اقتدار سنبھال کر ایک حقیقی آمر کی  طرح اپنے من مانے اقدامات کر رہا تھا۔ لیکن اس کے حامیوں کا موقف ہے کہ دراصل وہ عوام کا نجات دہندہ تھا اوراس نے ریاستی ظلم و استحصال کا شکار رومیوں کو کرپٹ سیاست دانوں سے نجات دلائی تھی۔ دیکھا جائے تو ایسے ہی مسائل کئی ترقی پذیر ممالک اور وطن عزیز کے ساتھ بھی درپیش رہے ہیں۔ ایوب ، ضیا اور مشرف جیسے جرنیلوں نے اسی دعوی کے ساتھ اقتدار سنبھالاا کہ نااہل سیاست دانوں نے خزانہ لوٹا اورعوامی مسائل حل نہ کر سکے ۔ کہہ سکتے ہیں کہ جولیس سیزر ہی وہ پہلا فوجی جرنیل تھا جس نے عوام کی فلاح و بہبود کے دعوی و مشن کے تحت حکومت سنبھالی۔ لیکن حکمران بننے والے بیشترجرنیلوں کی طرح آمریت کی باغی ” آزادی پسند ” قوتوں کے ہاتھوں اندوہناک موت اس کا بھی مقدر ٹھہری۔

 جولیئس سیزر کے ہولناک قتل کے بعد جلتے ہوئے روم میں بانسری بجانے والے کے طور پر مشہور شاہ نیرو کا نام آتا ہے۔ وہ 54 سے 68 عیسوی تک اپنی من مانی کا حکمران رہا۔ بھٹو، ضیا ، بے نظیر، مشرف اور نوازشریف کے ملے جلے سیاہ و سفید کاررناموں کی طرح تاریخ دان نیرو کا بھی فیصلہ نہیں کرپائے کہ اُس کے سیاہ کارنامے زیادہ ہیں یا سفید۔ تاریخ میں اس کی شہرت چنگیز، ہٹلراورمشرف جیسے ظالم، جنونی اور خود سرحکمرانوں اور شہری تعمیرات کے حوالے سے خاندانَ شریفاں جیسی ہے۔ نیرو اپنے اس چچا کلاڈئیس کے قتل کے بعد تخت نشین ہوا جس نے بھائی کے مرنے پر اس کی بیوہ ماں اگرپنا سے شادی کر کے نیرو کو باپ کی طرح پالا تھا۔ ملکہ اگرِپنا کا کلاڈئیس سے شادی کرنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ کلاڈئیس کے حقیقی بیٹے بریٹا نیکاس کی بجائے اس کا بیٹا نیرو بادشاہ بنے۔ لہذا ماں نے کلاڈئیس کو قتل کروا کر اپنے سترہ سالہ بیٹے نیرو کی بادشاہت کا راستہ ہموار کیا۔ لیکن کلاڈئیس کو قتل کروانے والی اگرپنا نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا ہو گا کہ جس نیرو کو بادشاہ بنوانے کیلئے وہ اپنے شوہر کو قتل کروا رہی ہے، اس کا وہی بدبخت بیٹا اس کی زندگی کو اجیرن بنا کر بالآخر ایک دن اسے درناک اندازمیں قتل کردے گا۔

نیرو بچپن سے ہی نہایت منہ زور اور جنونی تھا۔ اقتدار نے اس کی اس بد فطرت کو ہوا دے کر ایک سفاک اور کینہ پرور انسان بنا دیا ۔ بادہاشت کا نشہ چڑھتے ہی شادی شدہ پومیا سبینا کا عاشق ہوا تو اسے حاصل کرنے کیلئے اپنی بیوی اوکتاویا کو خود کشی پر مجبوراور پوپیا سبینا کے شوہر کو مروا کر اسے ملکہء روم بنا لیا۔ مابعد اس نے خود کوپالنے والے محسن چچا کلاڈئیس کے بیٹے بریٹانیکاس کو بھی قتل کروا دیا۔ اصلاح کی خواہاں ماں نے ان اقدامات کو اس کی بادشاہت کیلئے خطرہ سمجھتے ہوئے مخالفت کی تو اس نے ماں کو بھی کشتی میں ڈبو کر مارنے کی کوشش کی مگر وہ تیر کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوگئی۔ چارناکام قاتلانہ حملوں کے بعد آخرکار نیرو نے اپنے جلادوں کے ہمراہ ماں پر جان لیوا قاتلانہ حملہ کیا تو دم توڑتی ہوئی ماں ملکہ اگرِپنا نے بدبخت بیٹے پر لعنت بھیج کر بد دعائیں دیں۔ اپنے بیٹے کی بادشاہت کیلئے محسنوں کو قتل کروانے والی اس بدنصیب ماں کے آخری دل ہلا دینے والے الفاظ یہ تھے کہ ” نیرو میری اس کوکھ پر ضرب لگاؤ جہاں سے تم جیسے بدبخت بیٹے نے جنم لیا تھا “۔ تاریخ نیرو کے جن غیر فطری کارناموں کا احوال بیان کرتی ہے۔ اب وہ مغربی تہذیب سے مشرقی ایوانوں اور مغرب زدہ اشرافیہ تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ سونامی کی فوزیہ قصوری، نون لیگ کی حواری عاصمہ جہانگیر اور بھارت برانڈ سیفما ہم جنس پرستی کی علمبرداری میں سرگرم ہیں۔

نیرو کی محبوب بیوی پوپیا سبینا اس کی طرف سے دوران حمل مبینہ تشدد سے مرگئی تو وہ اس کی جدائی اور پچھتاوے میں جنونی اور دیوانہ بن گیا۔ اس نے حسین دوشیزہ میسیلینا سے شادی کی مگراپنی محبوبہ نہ بھلا پایا۔ پھر اس نے جو کارنامہ سر انجام دیا اس نے اس کا نام تاریخ کے پہلے ہم جنس پرست شوہر حکمران کے طور پر لکھ دیا۔ اس نے اپنی مرنے والی بیوی سے شکلی مشاہبت رکھنے والے ایک خوبرو لڑکے سپورس کا مخصوص آپریشن کروا کر اسے ” ملکہ ” بنا کراپنے حرم میں شامل کر لیا۔ سپورس شاہی اورعوامی تقریبات میں ملکہ جیسا زنانہ شاہی لباس پہنتا تھا۔ درباری اورعوام اسے ایمپرس اور لیڈی جیسے شاہی القابات اور پوپیا سبینا کا رنڈوا شاہ نیرو” پیاری پوپیا” کے نام سے پکارا کرتا تھا۔ تاریخ پاک و ہند اور موجودہ دور پر نظر دوڑائیں تو مغلیہ محمد شاہ رنگیلہ اور پنٹاگون کے ایوانوں سے لیکر پارلیمنٹ ہاؤس کے لاجز تک ایسے قصے عام ہیں۔ یہ تاریخی حقائق ہیں کہ زمانہء قدیم و جدید میں جب بھی کسی سچے انسان نے بھٹکے ہوئے حکمرانوں کی اصلاح کرنی کی سعی کی تو انجام موت یا جیل کی سلاخیں ٹھہرا ہے۔ وفائے ملک کے جرم میں مشرف جیسے آمروں کی قید و مظالم سہنے، میاں صاحب کی احسان فراموشی و بے وفائی سے عاجز آ کر نون لیگ چھوڑنے اور پھر سونامی خان کی طفلانہ و ضدی رویوں کا شکار ہونے والے جاوید ہاشمی کی تازہ ترین مثال سامنے ہے۔ نیرو کے اتالیق مشہور فلسفی سینکا نے نیرو کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی تو نیرو نے طیش کھا کر اسے بھی قتل کروا دیا۔ احباب ہم اپنے سیاسی کرداروں کے خصائل و فطرت کا بغور جائزہ لیں تو وہ بھٹو صاحب ہوں، مشرف ہوں، اپنے محسنوں کے بے وفا میاں صاحب ہوں یا سیلاب میں ڈوب کر مرتے ہوئے انسانوں سے بے پروا انقلاب کی بانسری بجانے والے خان صاحب ، ان سب سیاسی کرداروں میں کہیں نہ کہیں، کم یا زیادہ نیرو کے منافقانہ، سفاک اور غیر فطری کردارکی جھلک عیاں نظرآتی ہے۔

 تاریخی حقائق ہیں کہ نیرو کے دورحکومت میں روم میں بھڑکنے والی خوفناک آگ مسلسل پانچ روز تک بھڑکتی رہی۔ اور زمانے کی دکھوں سے بے نیاز نیرو دور بانسری اور اک تارا بجاتا شعلوں کے رقص کا ایسے ہی محظوظ ہوتا رہا، جیسے ہمارے نام نہاد انقلاب خان اور خوابوں والی سرکار سیلاب میں ڈوبتی ہوئی عوام کے آلام و مصائب  سے بے نیاز دھرنوں میں تماشہء رقص سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس ہولناک آتش زدگی کے نتیجے میں روم کے چودہ میں سے تین اضلاع مکمل طور پرخاکستر ہوگئے۔ کچھ مورخین اس بات پر متفق ہیں نیرو نے روم کو خود ہی آگ لگوائی تھی۔ آگ لگانے کی وجہ وہاں مہنگے ترین جواہرات سے مزین عالی شان محلات کی تعمیر کرنا اور عیسائی برادری پر آگ لگانے کا الزام لگا کر ان کے قتل عام کا جواز پیدا کرنا تھا۔ مابعد تاریخ دانوں کا دوسرا مفروضہ اس وقت سچ ثابت ہوا جب 64 عیسوی میں ظالم و سفاک شاہ نیرو نے روم کو آگ لگانے کے الزام میں، عیسائیوں کا وسیع پیمانے پر قتل عام شروع کیا۔ عیسائیوں کے اس وحشیانہ قتلِ عام کیلئے اذیت و تعذیب اور قتل کے جو ہولناک طریقے استعمال کئے ان پر انسانیت کی روح کانپ اٹھتی ہے۔ مشہور تاریخ دان ٹیسی ٹس لکھتا ہے کہ عیسائیوں کو صلیبوں پر لٹکایا ، جنگلی جانوروں کی کھالوں میں سلوایا اور بھوکے کتوں، شیروں اور چیتوں کے سامنے ڈالا جاتا تو سلطنت کے شاہی سٹیڈیم ” کولوزئیم” میں نیرو اپنے درباریوں اور رعایا کے ہمراہ درندوں کے ہاتھوں ان “عیسائی شہدیوں” کی چیر پھاڑ کے ہولناک و انسانیت سوز مناظر سے لطف اندوز ہو کر گرمجوشی سے تالیاں بجایا کرتا تھا۔

انتہائے وحشت و بربریت یہ کہ عیسائی بچوں اورعورتوں پر آتش گیر مادہ اُنڈیل کر رات کو شاہی باغات میں روشنی کیلئے بطور مشعل جلایا جاتا تھا۔ سن 67 عیسوی میں نیرو کے حکم پرعیسائیوں کے پہلے پادری سینٹ پیٹر اور سینٹ پال کو قتل کر دیا گیا۔ ماڈرن دور کے نیرو، ایک آمر مشرف نے بھی شاہ نیرو کی طرح مذہبی منافرت کی بنیاد پر جامعیہ حفصہ میں طالبات کو زندہ جلا کر بربریت کی سیاہ تاریخ رقم کی۔ انتہائے منافقت کہ اسی سانحہ کے قتل عام میں شریک لال حویلی کے شیخ چلی اور چوہدری برادران اور ان طالبات کو ریاست کیخلاف بغاوت کرنے والے دہشت گرد قرار دینے والے  مغربی نژاد سکالرز خود ہاتھ میں ڈنڈے اورغلیلیں لیکر ریاست کی علامت پارلیمنٹ پر حملہ  اوری اور بغاوت کو تحریک آزادی و انقلاب کا نام دے رہے ہیں۔ امت مسلمہ کی بد قسمتی ہے کہ مساجد او معصوم بچوں کی درسگاہوں پر خود کش اور قاتلانہ حملے کرنے والے  بھی خود کو جہادی مسلمان کہہ کر دین اسلام کا چہرہ داغدار اور ملت اسلامیہ کی امن پسند شناخت  مشکوک بنا رہے ہیں۔ لیکن ایسے خود ساختہ اسلام کے داعیوں کو یاد رہے کہ نور الدین زنگی، صلاح الدین ایوبی ، سلطان محمد فاتح اور محمد  بن  قاسم جیسے سچے  مجاہدین  کا وطیرہ و کردار عبادگاہوں  پر حملے، معصوم بچوں کا قتل عام  اور نہتے دشمن پر بھی انسانیت سوز ظلم  ہرگز نہ تھا۔

اور پھر آخرکار وہی تماشہء عبرت ہوا جو عین قانونِ قدرت ہے۔ سن 68 ء میں شاہ نیرو کے مذہبی و سیاسی مظالم کے سبب ، رومی فوج کی سرپرستی میں بغاوتوں نے سر اُٹھایا او فوج نے نیرو کی حکومت کا تختہ اُلٹ کرحکومت کی باگ دوڑ سنبھال لی۔ نیرو شہر سے فرار ہوا تو فوج اور سینٹ کی ہ عدالتی کونسل نے سزائے موت کا حکم جاری کر دیا۔ نیرو نے شہر سے باہر اپنے ایک وفادار سپاہی کے مکان میں پناہ لی، خودکشی کا ارادہ کر کے، اپنے دفن کیلئے قبر کھُدوائی۔ انتہائی بدبختی کہ وہ مرنے سے پہلے اپنی ماں پر یہ کہہ کر لعنت اور ملامت بھیجتا رہا کہ اس ماں نے ہی اسے جنم دے کر شکست کا یہ دن دکھایا ہے ۔ اور پھر جیسے ہی اُسے گرفتار کرنے کیلئے آنے والے سپاہیوں کے گھوڑوں کے ٹاپوں کی آواز سنائی دی، اُس نے اپنے دونوں ہاتھوں اور پیروں کی نَسیں کاٹ کر تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔ اس کی گرفتاری کیلئے آنے والے سپاہی اس کے سر پر پہنچے، تو اپنی مظلوم  رعایا اور ماں کی بد دعائیں پانے والا اکتیس سالہ معزول شاہ  نیرو اپنی بھرپور جوانی کی عمر میں انتہائی اذیت ناک حالت میں  دم توڑ رہا تھا۔ مرتے وقت اس درندہ  صفت ابلیس کی زبان سے جو آخری الفاظ سنے گئے وہ کچھ یوں تھے کہ ” دنیا نے مجھ جیسا کیسا نایاب فن کار کھو دیا ہے”۔

خدا جانے کیا طرفہ تماشہ ہے کہ آج میاں صاحب کہتے ہیں کہ ملک کو ان کے بعد ترقی کی راہ پر گامزن کرنے والا کوئی اور نہیں ملے گا، خاں صاحب کہتے ہیں کہ پاکستان کو ان جیسا انصاف دینے والا کوئی اور میسر نہ ہوگا اور ماشا اللہ ملا قادری صاحب فرماتے ہیں کہ ” مجھے کھو دو گے تو قوم کو پھر کوئی دوسرا طاہر القادری نہیں ملے گا۔ احباب آپ ہی بتائیں کہ میں کس پر یقین کروں کہ ان میں کوئی بھی ایوبی سلطان یا طارق بن زیاد جیسا مسلمان  یا ماؤزے تنگ اور نپولین جیسا انقلابی تو بہت دور کی بات، مہاتیر محمد جیسے کسی مسلم رہنما کے عشر عشیر رہبرانہ صلاحیت کا حامل کردار دکھائی نہیں دیتا۔ ان سب لیڈر حضرات کے پرستاروں سے معذرت کہ فاروق درویش جیسے کسی قدامت پسند اور جاہل کو ان سب میں کہیں جولیس سیزراور کہیں شاہ نیرو کی روحوں کا عکس نظر آتا ہے۔ ۔۔ میں کس کا یقین کروں اور کیونکر کروں ؟ ۔ ۔  شاید میاں صاحب کے پرستار ان تاریخی حقائق اور سخت گیر موقف کو فراخدلی سے قبول فرمائیں گے ۔۔ مگر کچھ لوگ اسے توہین سونامی گردانتے ہوئے حسب عادت و معمول  فحش کلامی اور طبروں کے نذرانے بھی بھیجیں گے ۔ ۔  مگر کیا کروں کہ  تاریخ لکھوں گا  تو قلم سچ بولنے پر مجبور ہے  ۔ ۔ ۔

(  فاروق درویش – واٹس ایپ کنٹیکٹ — 03224061000)

اس مضمون کیلئے مصدقہ تاریخی تحریروں اور محترمہ ثروت عین جیم کے تاریخی مضامین کےبلاگ سے مدد لی گئی ہے۔

اپنی رائے سے نوازیں

%d bloggers like this: