رموز شاعری میری غزلیں اورعروض

لبوں پہ کیا وہ مرے دل میں شہد گھولتا ہے ۔ غزل، بحر و اوزان اور اصول تقطیع


   لبوں پہ کیا وہ مرے دل میں شہد گھولتا ہے
جو   جادو حسن کا سر چڑھ کے میرے بولتا ہے

  سپاہِ عشق کے لشکر سے ہے وفا میری
چلا کے تیر وہ نیزے پہ سر کو تولتا ہے

   جو پیاسا دشت ِ محبت میں جان ہارا تھا
فلک کی اوڑھ سے رازِ شکست کھولتا ہے

   میں اس کو دل کے خرابے میں ڈھونڈھنے نکلا
وہ دل میں چھپ کے مرے دل کے بھید کھولتا ہے

   وہ حسن ساز کی تخلیقِ جاوداں ٹھہرا
میں خاک ٹھہرا مجھے خاک ہی میں رولتا ہے

    سکھایا کس نے یہ شعلوں سے کھیلنا مجھ کو
مرے خدا مرے اندر یہ کون بولتا ہے

     میں اپنی آگ میں کندن بنا تو ڈرنے لگا
زیاں کے خوف سے درویش دل تو  ڈولتا  ہے

 فاروق درویش

 بحر :۔ بحرِ مجتث مثمن مخبون محذوف مقطوع

 ارکان بحر : مفاعِلُن۔۔۔ فَعِلاتُن ۔۔۔مفاعِلُن۔۔۔ فَعلُن
ہندسی اوزان ۔ 2121 ۔۔2211۔۔2121۔۔22۔

آخری رکن یعنی فعلن (22 ) کی جگہ فعلان (122) ، فَعِلُن (211) اور فعِلان (1211) بھی آ سکتے ہیں ۔ اس غزل کے مطلع اور ہر   دوسرے مصرع میں آخری فعلن (22) کی جگہ ، فَعِلن ( 211) استعمال کیا گیا ہے۔

تقطیع

 ل۔۔ بو ۔۔۔ پہ ۔۔۔ کیا ۔۔۔۔۔۔ 2121۔
جو ۔۔۔ م ۔۔۔ رے ۔۔۔ دل ۔۔۔ 2211۔
میں ۔۔ شہ ۔۔ د ۔۔۔ گھو ۔۔۔ 2121۔۔۔
ل ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ہے ۔۔۔۔ 211 ۔

وہ ۔۔۔ جا۔۔۔ دو ۔۔۔ حس ۔۔  2121
ن ۔۔۔ کا ۔۔۔ سر ۔۔۔ چڑ ۔۔۔   2211
کے ۔۔۔ می ۔۔۔ رے ۔۔۔ بو ۔۔۔  2121
ل ۔۔۔۔ تا ۔۔۔ ہے ۔۔ 211 ۔

تقطیع کرتے ہوئے یاد رکھئے ک۔۔۔ “کیا” اور “کیوں” کو دو حرفی یعنی “کا” اور “کوں ” کے وزن پر باندھا جائے گا ۔ گا، گے، گی، کہ، ہے، ہیں، میں، وہ، جو، تھا، تھے، کو، کے ، تے ، رے اور ء جیسے الفاظ دو حرفی وزن پر بھی درست ہیں اور انہیں ایک حرفی وزن میں باندھنا بھی درست ہیں ۔ لہذا ان جیسے الفاظ کیلئے مصرع کی بحر میں جس وزن کی سہولت دستیاب ہو وہ درست ہو گا ۔

ایسے ہی “ے” یا “ی” یا “ہ” پر ختم ہونے والے الفاظ کے ان اختتامی حروف کو گرایا جا سکتا ہے ۔ یعنی جن الفاظ کے آخر میں جے ، گے، سے، کھے، دے، کھی، نی، تی، جہ، طہ، رہ وغیرہ ہو ان میں ے، ی یا ہ کو گرا کر انہیں یک حرفی وزن پر باندھنا بھی درست ہو گا اور اگر دوحرفی وزن دستیاب ہو تو دو حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے۔

اگر کسی لفظ کے اختتامی حرف کے نیچے زیر ہو اسے دو حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے اور یک حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے۔ ( مثال : دشت یا وصال کے ت یا لام کے نیچے زیر کی صورت میں انہیں دشتے اور وصالے پڑھا جائے گا ۔ ایسے الفاظ کی اختتامی ت یا لام کو بحر میں دستیاب وزن کے مطابق یک حرفی یا دو حرفی باندھنے کی دونوں صورتیں درست ہوں گی ) ۔

تقطیع کرتے ہوئے یہ بات دھیان میں رہے کہ نون غنہ اور ھ تقطیع میں شمار نہیں کئے جائیں گے یعنی تقطیع کرتے ہوئے ، صحراؤں کو صحراؤ ، میاں کو میا، خوں کو خو، کہیں کو کہی ۔ پتھر کو پتر، آنکھ کو آک اور چھیڑے کوچیڑے پڑھا جائے گا

 غزل و مضمون : فاروق درویش

 

اپنی رائے سے نوازیں

Featured

%d bloggers like this: