جواں ترنگ دورحاضر کے شعرا رموز شاعری

میں اپنے آئینہء دل کے روبرو بیٹھا : فلائیٹ لفٹیننٹ بہزاد حسن شہاب


میں اپنے آئینہء  دل کے روبرو بیٹھا
خود اپنی شکل کو تکتا ہوں ہوبہو بیٹھا

مئے نظارہ کی خاطر اس انجمن میں تری
لئے ہوئے میں رہا آنکھ کا سبو بیٹھا

اب آنسوؤں کی رواں نہر پر دل ِ خستہ
شب ِ فراق میں اٹھ کر کرے وضو بیٹھا

کوئی نہیں ہے سزا وار ِ خلوت ِ غم ِ جاں
میں اپنے آپ سے کرتا ہوں گفتگو بیٹھا

اُفق میں ڈوب کے سورج جگر سے ابھرا ہے
چراغ ِ زخم کے درپن میں آ لہو بیٹھا

نگارخانہ ء عالم پہ کیوں نظر رکھوں
شہاب خانہ ء دل میں جو میرے ہُو بیٹھا

شاعر ۔ فلائیٹ لفٹیننٹ بہزادحسن شہاب

اپنی رائے سے نوازیں

Featured

%d bloggers like this: