بین الاقوامی تاریخِ عالم و اسلام حالات حاضرہ

برما میں قتل عام اور امت کی غیرت کا امتحان


روم کے قصاب شاہ نیرو نے دو ہزار سال پہلے عیسائیت کا جو محشر و مقتل برپا کیا تھا، مغربی مورخ آج تک اس کا نوحہ لکھ رہا ہے۔ اور ایک ہم مسلمان ہیں جو چند برس قبل احمد آباد میں نریندرا مودی کے دہشت گردوں کے ہاتھوں زندہ جلا دیے جانے والے مسلمانوں کا مرثیہ نہیں، بلکہ اسی قاتل ہندوتوا سے امن کی آشا کے گیت گاتے ہیں۔ کشمیر و فلسطین، افغانستان، عراق، شام، فلپائین، بوسنیا اورچیچنا کی طرح دنیا کے جن خطوں میں مسلمان باشندوں کو ذہنی وجسانی تشدد یا قتل وغارت جیسےمصائب و آلام کے طویل صبرآزما اورکٹھن حالات کا سامنا ہے، ان میں بدھ مت کے پیروکاروں کا ملک برما بھی شامل ہے۔ اپنے مذہب کو انسانیت کا نجات دہندہ اورخود کوامن و شانتی کا علمبردار گرداننے والے بدھ مت کے پیروکاروں نے گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے ہی ہموطن مسلمانوں کے ساتھ جو سفاکانہ سلوک روا رکھا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے ۔ اس ظلم و جبر اور وحشیانہ طرز عمل سے ان کی نام نہاد امن پسندی اور مسلم دشمنی کا سفاکی جذبہ عیاں ہو جاتا ہے۔ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ قتل مسلم کی تازہ ترین وحشیانہ کاروائیوں میں نریندرا مودی کی بھارتی را کے تربیت یافتہ دہشت گرد بھی شامل ہو چکے ہیں۔ 

گزشتہ کئی برسوں میں رونما ہونے والے اذیت ناک اور خون آشام سانحات میں ابھی تک دو لاکھ سے زائد نہتے مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا جا چکا ہے۔ سینکڑوں مسلم بستیاں، اجاڑی ہیں نہیں بلکہ صفحہء ہستی سے مٹا دی گئی ہیں۔ دین محمدی کی پیروکاری کے جرم میں انگنت گاؤں اور ہزاروں آبادیاں ، نہتے اور معصوم زندہ باسیوں سمیت جلا کر خاکستر کر دی گئی ہیں۔ لاکھوں مسلمانوں کو ہمسایہ ممالک میں ترک وطن پر مجبور کر دیا گیا ہے ۔ اور اس پر ستم ظریقی یہ کہ کوئی مسلمان ہمسایہ ملک ان بے یار و مددگارلوگوں کو پناہ دینے کیلئے تیار ہی نہیں ہے۔ مسلم اکثریتی علاقوں میں جبراً کرفیو نافذ کر دیا جاتا ہے، لیکن امن کی جعلی پیامبر عالمی برادری مسلسل خاموش ہے۔ ہم جنس پرستی اور قحبہ خانی تہذیب کیخلاف صدائے حق کو مذہبی شدت پسندی قرار دیکر نے والے سیکولر طبقات کیلئے خون مسلم کا بہنا ظلم نہیں محض ایک تماشہ ہے۔ مہاتما بدھ کی ایک مورتی توڑنے مندروں میں بھجن گا گا کر سوگ منانے والے نام نہاد مندری مسلوں کو مہاتما بدھ کے پیروکاروں کے ہاتھوں مسلمانوں کے زندہ جلنے پر کسی چوک میں ایک ٹوٹی ہوئی موم بتی جلانے کی بھی توفیق نہیں ہوئی۔
 
مسلم علاقوں میں مساجد سیل کر کے ان علاقوں کو سرکاری فوج کی تحویل میں دیکر مسلم آبادی کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے مگر انسانی حقوق کے جعلی ٹھیکیدار، کالی کرتوتوں کے گورے لوگ فتنہ گر ہمسائی کی طرح خاموش ہیں۔ قابل صد لعنت ہے کہ چارلی ایبڈو میں چار گستاخین رسالت قتل ہوتے ہیں تو مشرق و مغرب کی قیادت ان بدبختوں کی پھوڑی پر با جماعت اکٹھی ہو جاتی ہے۔ لیکن جب لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام ہوتا ہے، تو ابو المنافقین مغرب اور برادران یوسف اسلامی ممالک کے ہونٹوں پر تالے پڑ جاتے ہیں۔ ترکی کی طرف سے بروقت صدائے احتجاج اٹھنے اور سوشل میڈیا پر مسلم برادری کے متحرک ہونے پر حالات قدرے بہتر ہوتے ہیں تو چند ماہ بعد محشر و مقتل پھر سے سجا دئے جاتے ہیں۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق یہ فسادات بدھ مذہب کے ” پرامن” پیروکاروں نے اس وقت شروع کئے جب دو بدھ خواتین نے اسلام قبول کیا اور جواب میں تبلیغی جماعت کے بیسیوں افراد کو بیدردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا۔ اس کے بعد پورے ملک میں توحید پرستوں کے سفاکانہ قتل عام سے جو خوفناک حالات پیدا ہوئے وہ امت مسلمہ کیلئے انتہائی تکلیف دہ مگر اسکامی ممالک کی قیادتوں کیلئے ائرکنڈیشنڈ بیڈ روموں میں ٹی وی پر دیکھنے کے اک ایونٹ کے سوا کچھ نہیں۔ کیا قیامت ہے کہ ایک ایک گاؤں سے سینکڑوں مسلم نوجوانوں کو زبردستی اٹھا کر غائب کر دیا جاتا ہے۔ جہاں کچھ دن کے بعد بعض کی جلی ہوئی سوختہ لاشیں ملتی ہیں، مگر احمد آباد کے جلتے ہوئے مسلمانوں پر امن کی آشا کے گیت گانے والے میڈیائی مسخرے خاموش رہتے ہیں۔
 
ظلم و بربریت کا یہ بازار نیا نہیں سجا بلکہ برما کے پر امن اور نہتے مسلمانوں پر آنیوالے یہ سخت ترین حالات ایک طویل عرصے سے انہیں گھیرے ہوئے ہیں۔ مگر انسانیت اور امن کی علمبرادر کوئی منافق سپر طاقت، حتیٰ کہ کوئی مسلم ملک بھی ان کے حق میں موثر آواز اٹھانے کیلئے تیار ہی نہیں۔ یہ سب تماشہ کھرب پتی حکمرانوں اور خواب غفلت میں کھوئی امت مسلمہ کی بے حسی، نا اتفاقی اور سیاسی مصلحتوں کا شرمناک ترین مظہر ہے۔ سامراج اور نیٹو کے صلیبی تاجدار معصوم ملالہ کیلئے تو پراسرار طور پر تڑپ اٹھتے ہیں مگر برما میں ہزاروں بے گناہ مسلمنوں کے سفاکانہ قتل عام پر مونہہ پھیر لیتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سمیت تمام عالمی ادارے اور مغرب زدہ این جی اوز ایک گستاخ عیسائی اور شاتم قرآن قادیانی کی ہلاکت کو بانس پر چڑھا کر پوری دنیا گھماتی ہیں ۔ لیکن پرامن مسلمانوں کے قتل عام پر سب مغربی  طاقتیں،عالمی تگڑے اور نام نہاد امن پسند ادارے پراسرار خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔ فلسطین ہو یا کشمیر، افغانستان ہو یا عراق یا فتنہء نصیری کے قصاب آمر بشار الاسد کے زیر تسلط خون مسلم سے رنگین شام کی سرزمین، ان آدم خور غنڈوں کو لگام ڈالنے والا کوئی نہیں ہے۔
 
کڑوی حقیقت ہے کہ مسلم خطوں میں کہیں حوثی قبائیل اور کہیں دوسرے سامراجی و مغربی آلہ کاروں کی مہم جوئیوں سے اتحاد عالم اسلام کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔ مسلم ممالک کا حکمران طبقہ اپنی سیاسی مصلحتوں یا اقتدار کو طول دینے کیلئے ذاتی مفادات و مسائل میں بری طرح الجھ چکا ہے۔ اسے اتنی طاقت و توفیق ہی نہیں کہ سسکتی ہوئی انسانیت اور امت مسلمہ کو در پیش اجتماعی مسائل و مشکلات کے لئے کچھ عملی اقدام کر سکیں،عملی اقدامات اٹھانا تو درکنار، اب ان میں زبانی مذمت کرنے تک کی جرات نہیں رہی۔ جبکہ عالمی ادارے بھی حسب معمول، روایتی دو چہرہ کردار اورخالص جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ یہی موقع ہے کہ تمام مسلم حکمران اور امت کے ترجمان سب سیاسی، مذہبی اور اشاعتی ادارے اپنا اپنا فعال کردار ادا کریں، ،دنیا بھر میں موجود میڈیا سے وابستہ مسلمان افراد ان جیسے مسائل کی سنگینی سے امت کا آگاہ کریں، پاکستانی میڈیا بھی امن کی آشا اور مغربی غلامی کی پابندی بھلا کر اپے مسلمان بھائیوں پر ہونے والے ان مظالم کے خلاف مسلسل بھر پور آواز بلند کرے تاکہ عالم اسلام میں مجرمانہ غفلت کا ماحول ختم ہو کر ملی بیداری پیدا ہو۔ مسلم حکمران تمام سیاسی اور ذاتی مصلحتیں بھلا کر متحد و متفق ہو کر ان مسلم مظلوموں کے حق میں صدائے حق بلند کریں۔ ان مظلوم مسلمانوں کا قتل عام رکوانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کئے جائیں ۔ سرکاری سطحوں پر بھی ان مظلوموں اور ستم رسیدہ مسلمانوں کی ہر ممکن مدد وقت کا فوری تقاضا ہے۔
 
امت مسلمہ پر لازم ہے کہ ان سنگین حالات سے مجبور ہجرت کر جانے والے بے یارو مددگار اور بے گھر مہاجرین کے مسائل کے حل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ آج فلسطینی ، کشمیری،عراقی، افغانی اور شامی مسلمانوں کی طرح مجبور و بے سہارا برمی مسلمان بھی سوال کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں مسلمانوں پر یہ کڑا اور سخت وقت کب تک آخر کب تک برقرار رہے گا۔ مسلمان کب تک ان سفاک بدھوؤں کے ہاتھوں لہو میں نہاتے رہیں گے۔ کیا آئیندہ بھی ہمیشہ کی طرح صرف اکلوتے ترکی ہی کو یہ ذمہ داری نبھانی ہو گی؟ کیا کسی برادر اسلامی مملک کے بحری بیڑے میں کوئی ایک بھی ایسا جنگی جہاز بھی نہیں جو ترکی کی طرف سے بھیجے جانے والے کسی بحری جہاز کا ہم سفر بن کر امت مسلہ کے اتحاد کا علامتی اعلان ہی کرے؟ قتلِ مسلم کے سانحات کا یہ سلسلہ اس پوری امت مسلمہ کیلئے لمحہء فکریہ ہے جو ہنوز خواب غفلت میں ہے۔ صد افسوس اس مسلم برادری پر جو کبھی کبھار محض سوڈے کی بوتل کی طرح ابلتی ہے، نعرے لگاتی ہے اور پھر بھنگ پی کر سو جاتی ہے۔ خدارا اٹھئے اور اس سے پہلے کہ کشمیری، فلسطینی، افغانی، عراقی، شامی اور برمی مسلمانوں کی طرح صلیبی ، سامراجی اور ہندوتوا طاقتیں آپ کے خون سے بھی ہاتھ رنگنے شروع کر دیں، صدائے حق بلند کیجئے۔ آپ عرب ہیں یا عجم، اپنے ان برمی مسلمان بھائیوں کیلئے صدائے اخوت بلند کیجئے جو کہیں گہرے پانیوں اور کہیں میدانی کرب و بلا میں گھرے نیل کے ساحل سے تا بخاک کاشغر مسلمان بھائیوں کی طرف سے ہر ممکنہ مدد کے منتظر ہیں ۔۔۔

فاروق درویش۔ واٹس ایپ ۔ 00923224061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: