تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ سیکولرازم اور دیسی لبرل

نجم سیٹھی کی بھارتی چڑیا کا نظریہء ابلیسی


لبرٹی مارکیٹ گلبرگ میں واقع الفتح سٹور کی پارکنگ میں سیاہ سرسیڈیز کھڑی کر کے جانے والا چار چشمی دانشور ایک گھنٹہ بعد واپس لوٹا تو اپنی مرسیڈیز کی بجائے ساتھ کھڑی  ہنڈا اکارڈ کو چابی لگا کر دروازہ  کھولنے کیلئے  زور آزمائی کر رہا تھا۔ شاید اس صاحب عقل و فہم دانشور کی نجومی پنڈت چڑیا اسے گاڑی کی شناخت بتانا بھول گئی تھی۔ میں سامنے کھڑا یہ سب تماشہ دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ پاکستان کا یہی مدہوش دانشور طبقہ ملک کی فکری تعمیر کرتا رہا تو اس ملک و قوم کا واقعی اللہ ہی حافظ ہے۔ اسی اثنا ایک سیکورٹی گارڈ نے صاحب کی راہنمائی کرتے ہوئے بتایا کہ دراصل اس کی گاڑی تو ساتھ والی ہے۔ قصور اس معصوم و پارسا چڑیا کا نہیں، شاید اس ولائتی بوتل کا تھا جسے پاکستان کے عظیم صاحبِ صحافت پورا ہی ڈکار آئے تھے۔ یہ صاحب وہی نجم سیٹھی صاحب تھے جن کی بھارتی نژاد چڑیا ممبئی اور دہلی کا دانہ چگتی اور نظریہء پاکستان کے مقدس اوراق پر گستاخانہ چونچیں مارتی رہتی ہے۔ کبھی ان کے بارے جنگ گروپ کے شاہین صہبائی کی طرف سے یورپ میں تین ملین ڈالرز کا بنگلہ خریدنے کا سکینڈل  سامنے آتا ہے۔ اور کبھی یہ طلعت حسین جیسے حق گو صحافیوں کی طرف سے بے نقاب ہونے کے بعد اچانک  روپوش  ہو کر  بدیسی و یہودی  آقاؤں سے تازہ ہدایات لینے ولائیت پہنچ جاتے ہیں۔ 

ان کے  ” قومی شناخت  بمقابلہ مذہبی شناخت ” کے عنوان سے لکھے کالمز  حضرت قائد اعظم اور نظریہء پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی اور مذہب کے بارے زہر آلودہ تحریروں سے محسوس ہوتا ہے کہ سیٹھی صاحب میں مجیب الرحمن، مہاتما گاندھی اور مرزا غلام قادیانی کی روح حلوت کر چکی ہے۔ سیٹھی صاحب کی طرف سے کھلی توہین پاکستانیت اور نظریہء پاکستان کے حوالے سے ان کی اس دجالی تنقید پر نظریہء پاکستان اور فکر قائد اعظم کے علمبردار ہونے کے داعی سیاست دان ان کے کھلے “پاکستان دشمن حملوں ” پر   کلیدی عہدوں سے ہٹا کر ملک بدر کریں۔ پنجاب حکومت سے بھی ان کی نگران حکومت کے دور میں اہم عہدوں پر بٹھائے گیے قادیانیوں کو ہٹانے کی اپیل کی جاتی ہے۔ معزز قارئین کیلیے سیٹھی صاحب کے اس کالم کے کچھ انتہائی قابل اعتراض اقتسابات کے جواب میں اپنا موقف پیش کر رہا ہوں۔

نجم سیٹھی نے لکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے بڑے جذباتی انداز میں کہا ہے کہ وہ پاکستانی شہریت سے زیادہ اپنی ’’اسلامی شناخت‘‘ کو اہمیت دیتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے خود کو ’’مسلمان پہلے اور محب ِ وطن پاکستانی بعد میں‘‘ قرار دیا۔ وہ ’’1971ء کی جنگ کے دوران پاکستان کے جنگی جرائم‘‘ کی پاداش میں بنگلہ دیش کی جماعت ِ اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کو پھانسی دینے کی مذمت کررہے تھے۔ اُنھوں نے شیخ رشید احمد اور جاوید ہاشمی کی پارلیمینٹ میں کی جانے والی تقاریر کے ذریعے ہیجان برپا کرنے کی کوشش کی اورپھانسی کی مذمت میں ایک قرارداد لے آئے تاہم پی پی پی اور ایم کیو ایم کا شکریہ کہ اُنھوں نے اس کی مخالفت کی “۔

سیٹھی صاحب غالباً اب آپ اور بھارتی مندروں میں پوجا پاٹ کو وجہ امن و سکون گرداننے والے فتنہء عاصمہ جہانگیری سمیت ہر دین دشمن دانشور یا پاکستان مخالف روش خیال اندھیرے عناصر پر ابو جہل و ابولہب اور ملعون سلمان رشدی کی طرح رشد و ہدایت کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں۔ کاش آپ کی بھارت نژاد چڑیا دیکھ سکتی کہ سوائے آپ جیسے ان دہریوں کے جن کا ذات الہی اور مابعد از زندگی محشر الہی کے بنیادی مسلم نظریات پر ہی ایمان نہیں، دنیا بھر کے مسلمان اپنے رب کو خالق ہر دو جہاں اور مالک روز جزا مانتے ہیں۔ لہذا وہ خود کو سب سے پہلے فرزندان توحید مسلمان کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ اسی سے ان کے جذبہء ایمان اور آتش عشق مصطفے کی وہ حرارت قائم ہے جس کی تپش سے آپ کے نیویارکی اور دہلوی آقاؤں کے ایوانوں کی گوری کرسیوں کے پیندے آگ کی مانند جلتے اور آپ جیسے سب ولائیتی وظیفہ خواروں کو برہمن کی چتا جیسی اوئی اوئی ہوتی رہتی ہے۔ آپ نے آج کی ماڈرن مکتی باہنی ایم کیو ایم اور سقوط مشرقی پاکستان کی مرکزی کردار پی پی پی کی طرف سے مرد مجاہد ملا شہید کی پھانسی کیخلاف منظور کی گئی قرارداد کی مخالفت کا ذکر کر کے از خود اعلان فرما دیا ہے کہ آپ ہر اسلام دشمن اور پاکستان توڑنے کیلیے سرگرم ہر دجالی گروہ کے ازلی و ابدی ہمنوا اور فطری خیرخواہ صداکار ہیں۔

سیٹھی صاحب نے لکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستانی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سے جب یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ وہ کون ہیں تو ان کا جواب یہ نہیں ہوتا کہ ’’میں ایک پاکستانی ہوں‘‘ بلکہ وہ کہتے ہیں ’’میں ایک مسلمان ہوں‘‘ بھارت میں رہنے والا ایک مسلمان خود کو ’’انڈین‘‘ پہلے کہے گا اور مسلمان بعد میں…پوری دنیا میں ایسا ہی ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم پاکستانیوں کی سوچ دیگر ممالک میں رہنے والے مسلمانوں سے مختلف کیوں ہے اور یہ کہ اس سوچ کے ہماری ریاست اور سوسائٹی پر کیسے اثرات مرتب ہورہے ہیں؟ ” ۔

سیٹھی صاحب صد شکر کہ پاکستان کی نئی نسل میں اسلام سے محبت کی شمعیں روشن تر اور ہاتھوں میں وطن دوستی کی مشعلیں کوبہ کو نور پھیلا رہی ہیں۔ جس بچے کے کانوں میں جنم لیتے ہی صدائے اذان للہ اکبر گونجے گی اس کے اندر سے سولی پر بھی صدائے لا الہ ہی بلند ہو گی۔ لیکن آپ جیسے جن لوگوں کے کانوں میں مندروں کے بھجنوں کا زہر سرایت کر چکا ہو وہ ہمیشہ اپنے مہابھارت کے گن اور قاتل امن کی آشا کے گیت ہی گائیں گے۔ کاش آپ ابولہب کی پراسرار موت، اپنے عزیز و اقارب کے برسنے والے پتھروں سے بنی خودکار قبر اور اپ جیسے اسلام دشمن نظریات کی پرچاری فوزیہ وہاب کی وجہ موت پر بھی تھوڑی سی ریسرچ کر لیں تو آپ کیلیے دین و دنیا کے معاملات اور فہم اسلام کے مرحلے آسان ہو جائیں۔ آپ پاکستانی نوجوان کا موازنہ سیکولر بھارت کے اس نوجوان سے کیسے کر سکتے ہیں جو مسلمان تو ہیں لیکن ہندو سکھ بدھ اور عیسائی سے غیر مسلمانہ شادی کو کوئی گناہ یا عیب نہیں سمجھتے۔ اگر آپ خود کو اعلانیہ خنزیر خور کہنے والے سلمان تاثیر کے ساتھ بیٹھ کر شراب نوشی کو بہتر ” مسلمانی اور پاکستانیت ” سمجھتے ہیں تو معذرت  کہ ایسا کرنے والے کو ہم مسلمان بڑے ہی پراگندا ناموں سے پکارتے ہیں۔آپ ہم  سے شاہ رخ خان، عامر خان اور ملعون سلمان رشدی جیسے ان بھارتی مسلمانوں جیسی مسلمانی کی توقع نہ رکھیں جن کی بیویاں ہندو سکھ اورپارسی ہیں۔  

سیٹھی صاحب نے قائد اعظم اور نظریہء پاکستان کی کھلی توہیں کرتے ہوئے لکھا ۔۔۔۔۔ ” تحریک پاکستان کے رہنمائوں جن میں محمد علی جناح بھی شامل تھے، نے جان بوجھ کر اسلامی جذبات کو ابھارا اور مسلمانوں کو اس بات پر قائل کیا کہ ہندو اکثریت کے ملک ہندوستان، میں ان کے مذہبی تصورات، ثقافت، سیاسی شناخت اور معاشی مفادات خطرے میں ہیں۔ مسلمان مسلم لیگ کے پرچم تلے ایک الگ ریاست کے حصول کیلئے کمر بستہ ہوگئے۔ بدقسمتی سے قیام ِ پاکستان کے بعد بھی اس نئی ریاست کے سیاسی رہنمائوں نے سیاسی مقاصد کے لئے اسی ’’اسلامی شناخت‘‘ کا سہارا استعمال کرنا روا رکھا “۔

سیٹھی صاحب آپ دنیا میں بہت دیر سے تشریف لائے ورنہ دین اکبری کے خالق ست رنگے اکبر بادشاہ کے دین دشمن نورتن ٹولے میں ضرور جگہ حاصل کرتے۔ اہل پاکستان کو تعجب نہیں کہ آپ کی ہر تحریر میں بھارتی اکابرین سردار پٹیل اور پنڈت نہرو جیسی متعفن اسلام دشمنی عیاں ہوتی ہے۔  آپ کی تحریروں سے سرحدی گاندھی اور وشوا ہندو پرشاد کے قاتلان مسلم شودروں کی بدبو آتی ہے۔ آپ بار بار خود کو قائد اعظم  اور  اقبال رح سے بلند تر دانشور ثابت کرنے کی کوشش میں چاند پر تھوکتے ہیں اور ہر بار سب پاکستانی مسلمانوں کی طرف سے چار حرفی کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ آپ اپنی آنکھوں سے ہندوتوا  کی عینک ہٹائیں تو آپ کو پاکستان کے ازلی و مکار دشمن بھارت کے کشمیری مسلمانوں پر سفاک مظالم، احمد آباد میں جلتی ہوئی مسلمان بستیاں اور بابری مسجد کے منہدم گنبد و مینار نظر  آئیں۔ یاد کریں کہ ستر کی دہائی میں بھارت کی آشیرباد لیے بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کی  عسکری تحریک کے مددگاروں میں آپ کا نام بھی شامل تھا۔ آپ اپنی آر ایس ایس چڑیا کا گلہ گھونٹ کر اس کی بک بک سننا بند کریں تو یقیناً آپ کو کراچی اور بلوچستان میں آگ اگلتی ہوئی میڈ ان انڈیا بندوقوں کی آوازیں بھی سنائیں دیں۔ آپ  ہاتھوں سے واشنگٹن کی غلامانہ ہتھکڑی کھول پائیں تو شاید آپ بھی مساجد اور امام بارگاہوں میں بم دھماکے کرنے والوں کی مصدقہ بھارتی شناختوں کا احوال لکھیں۔ لیکن کیا مجال کہ آپ کبھی یہ حقیقت بھی لکھ پائیں کہ اسرائیل کا ہر یہودی بھی پہلے یہودی اور بعد میں اسرائیلی ہونے کا دعویدار ہے۔ اس “اجتناب حقیقت ” کی وجہ اگر ” مونہہ کھاوے تے اکھ شرمائے” کے سوا کچھ اور ہے تو  آپ ہی بتا دیجئے؟

نجم سیٹھی صاحب فرماتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” اسلامی دنیا کے برعکس پاکستان میں مذہبی شناخت کو قومی شناخت پر ترجیح دینے کا دوسرا نقصان یہ ہوا کہ ریاستی اور غیرریاستی عناصر کی طرف سے تشدد کے لئے مختلف نظریاتی جواز تراشے جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ شناخت کو اسلامائز کرنے کا تیسرا نقصان یہ ہوا کہ ریاست ِ پاکستان کو ہمیشہ کے لئے انڈیا کے خلاف سمجھا گیا حالانکہ انڈیا مذہبی شناخت نہیں ہے۔ انڈیا میں رہنے والے مسلمان بھی خود کو انڈین کہتے ہیں۔ ہم پوری دنیا، جو مسلمان نہیں تھی، کو اپنا دشمن سمجھنے لگے “۔

سیٹھی صاحب بلاشبہ آپ جیسے تمام سیکولر و لادین بھارتی برانڈ دانشور پاکستانی سیکورٹی اداروں اور حساس اداروں کے نام نہاد پول کھول کر اپنے بھارتی آقاؤں کو عین خوش رکھتے  ہیں۔ آپ  پاکستان کے دفاعی اور حساس اداروں کے بارے خود ساختہ  زہرفشانی  اپنا دین دھرم سمجھتے ہیں۔ مگر بھارتی دہشت گرد تنظیم ” ابھیون بھارت ” سے وابستگی کے الزام میں گرفتار کیا جانے والے کرنل شری کانت پرساد پروہت کے بارے کبھی یہ مصدقہ حقائق نہیں لکھتے کہ وہ اس وقت بھارتی فوج کا حاضر سروس کرنل تھا۔ اور اس کی سرپرست دہشت گرد تنظیم کو مالیگاؤں، حیدرآباد کی مکہ مسجد، سمجھوتہ ایکسپریس اور درگاہ اجمیر شریف پر حملوں میں شہید ہونے والے سینکڑوں بھارتی مسلمانوں کے سفاک قتل کا مجرم ٹھہرایا جاتا ہے۔ نام اور لبادہ مسلمانوں کا اوڑھ رکھا ہے تو یہ بھی لکھیں کہ خود کرنل پروہت  بھی یہ اقرار کر چکا  ہے کہ وہ بھارتی ملٹری انٹیلیجنس کیلیے کام کر رہا تھا اور بھارتی فوج کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ” ابھینو بھارت ” میں شامل ہوا تھا۔ یاد رہے کہ بھارتی عدالت کا بھی موقف یہی ہے کہ کرنل پروہت پر صرف ہندو راشٹر قائم کرنے کا نہیں ، بلکہ  مسلمانوں کیخلاف دہشت گردانہ بم دھماکوں کیلیے آر ڈی ایکس نامی کیمیکل مواد مہیا کرانے کا بھی الزام ثابت ہے۔

سیٹھی صاحب نے لکھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بنگلہ دیش کی حکمران جماعت محض سیاسی مفاد کے لئے قوم پرستی کے جذبات کو ہوا دے رہی ہے تاہم یہ ان کا داخلی مسلہ ہے۔ چوہدری نثاراور ان کے ’’ہم خیال‘‘ گروہ سیاسی اور اخلاقی بنیادوں پر غلطی کا ارتکاب کررہے ہیں کیونکہ وہ 1971ء کے دور کی مذہبی عصبیت کو اجاگر کرنے کے لئے کوشاں ہیں “۔

سیٹھی صاحب پاکستان کے مفادات کن پالیسیوں سے محفوظ ہیں، ان کے بارے فیصلے کرنا پاکستانی عوام اور منتخب عوامی نمائیندوں کا کام ہے۔ مغربی غلام اور بھارتی آلہ کار میڈیا کے آپ جیسے نام نہاد دانشور بدیسی سفارشات پر نگران وزیراعلی یا کرکٹ بورڈ کے سربراہ جیسی کرسیاں تو حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن پاکستان کی کوئی بھی سیاسی جماعت آپ کی ڈکٹیٹشن کے مطابق مغرب اور بھارت کو سجدے کرنے کا کفر اختیار کرنے کا خطرہ اٹھانے کی جرات نہیں کر سکتی۔ ایسا سوچنے والے کسی بھی سیاسی کردار کا انجام عوامی طاقت کے جذبات ایمانی کے سامنے سومنات کا بت کافر ثابت ہو گا۔ یاد رکھیں کہ اب لاکھ سامراجی دباؤ ہوں یا مغربی احکامات،  کوئی سیاسی اکابر پاکستان کا مطلب لا الہ الاللہ سے سوا کوئی دجالی نعرہ نہیں لگا سکتا۔ اسلام امن کا دین ہے لیکن کشمیر اور احمد آباد کے سفاک قاتلوں سے امن کی اشا برابری کی بنیاد پر ہو گی۔  پاکستان کے مسلمان  بنگلہ دیش کے قاتلانہ اقدامات کی مخالفت میں منظور کی گئی قرارداد پر ان کو مبارکباد اور آپ کو وہی ” چار حرفی انعام ” دیتے دیتے ہیں جس کا حقدار ہر جعفر و صادق ہے ۔  ہر مسلمان سیاسی کارکن  و ہمدرد کا آپ جیسے ہر ننگ ملک و ملت صاحب فتن کیلئے جواب ویسا ہی زناٹے دار طمانچہ ہے جیسا مسلم لیگ اور کانگرس کے اجلاس کے دوران نظریہ پاکستان پر تنقید کرنے والے کانگرسی لیڈر سردار پٹیل کو ایک مجاہد تحریک پاکستان سردار عبدالرب نشتر مرحوم نے سرعام رسید کیا تھا۔ سیٹھی صاحب کبھی غور سے سنیں تو نظریہ پاکستان کے علمبردار اس عقابی مسلمان کے اس زوردار تھپڑ کی گونج دار صدا آپ کو اپنی بھارتی نژاد چڑیا کی چہک کے پس منظر میں بھی صاف سنائی دے گی ۔۔۔۔۔۔۔

فاروق درویش ۔ 03224061000۔

اپنی رائے سے نوازیں

ہمارا مرکزی فیس بک پیج

Advertisement

%d bloggers like this: