تاریخِ ہند و پاکستان ریاست اور سیاست

سیاسی قیادتوں کی نئی نسلیں اور پرانے روگ


بنو امیہ زوال کا شکار ہوئے تو پھر ان کےآخری خلیفہ مروان ثانی کو کہیں پناہ اورعافیت نصیب نہ ہوئی۔ جان بچانے کیلیے بھاگنے والا خلیفہ بالاخر تعاقب کرنے والے عباسیوں کے ہاتھوں مصر میں قتل ہو گیا۔  عباسیوں نے اموی خاندان کا ہر بچہ بوڑھا اور جوان قتل کر ڈالا ۔ خاندان نبوت ہونے کے دعویداروں نے اموی قبروں کو اکھاڑ کر لاشوں پر کوڑے برسائے ۔ لیکن بنوامیہ کے شاہی خاندان سے جو ایک شہزادہ دریائے دجلہ میں چھلانگ لگا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔ اس نے افریقہ کے راستے اندلس پہنچ کر جرات اور بے مثال جدوجہد کی ایک ناقابل فراموش تاریخ لکھی۔ اس عبدالرحمن الداخل نے ہسپانیہ میں جس اموی حکومت کی بنیاد رکھی، وہ تین صدیاں عظمت رفتہ کا یادگار  دور ہے۔ لیکن پاکستانی راجوں کی طرح بنگلہ دیش کی خون آشام رانی حسینہ واجد بھی دور وسطی اور چالیس سال پرانی تاریخ بھی بھول چکی ہے ۔ وہ نہیں جانتی کہ بنگال کا مسلمان نہ انگریزوں کی غلامی کا طعوق پہن کر خاموش بت بنا رہا اور نہ ہی اس نے حسینہ کے غدار باپو مجیب الرحمن اور اس خاندان کے لوگوں کوعبرت ناک انجام تک پہنچانے میں دیر کی ۔ توحید و رسالت کے پروانوں کی گردنیں اڑانے والی بھارتی کٹھ پتلی  کو یہ کیا خبر کہ عارضی شکستوں اور دار و محشر  سے نہ تو نظریات مرتے ہیں اور نہ ہی منزل کی طرف رواں قافلے رکتے ہیں۔ دیارِ دہر میں پرچم توحید لہرانے کیلیے عبدالرحمن الداخل جیسا ایک پرعزم جیالا ہی کافی ہوتا ہے۔ دیش بگھتوں اور میخانہء توحید کے مستوں کو پھانسیوں پر چڑھا کر نظریات کے قتل کی کوشش اگلی نسلوں کے جنونِ مزاحمت اور ردعمل کی قوت و رفتار مذید بڑھاتی ہے۔ میرا دعوی ہے کہ بھارتی کٹھ پتلی حسینہ واجد نے بنگلہ دیش کی بھارتی استعمار سے نظریاتی آزادی کی راہ کھول دی ہے۔ بنگلہ دیش کو سیکولر ریاست بنانے کیلئے کوشاں عناصر میری یہ پیشین گوئی یاد رکھیں کہ اگلے پچیس سالوں میں بنگلہ دیش اسلامی جمہوریہ بنگلہ دیش ہو گا۔

دوسری طرف مسلم رہنماؤں کی پھانسیوں پر خاموش دو رنگی مغرب سے انسانی حقوق کے منافق علمبرداروں اور ان کے پالک سیاست دانوں کیلئے اسی تاریخ میں کئی کڑوے پیغامات ہیں۔ یاد رہے کہ جہاں سلطنت ہسپانیہ اپنے آخری سلاطین کی عیاشیوں اور فلاحِ عوام سے بے نیازی کے سبب زوال کا شکار ہوئی۔ وہاں ان چوبیس سلاطین میں کئی عظیم فلاحی حکمران بھی گزرے ۔ انہیں میں عبد الرحمن ثالث جیسا وہ عادل اور رعایا پرور سلطان بھی ہے، جس کے دور میں حکومتی آمدنی ایک کروڑ بیس لاکھ دینار اور عوام خوش حال تھی۔ اس کا عدل و انصاف ایسا تھا کہ جب ریاست کیخلاف بغاوت کرنے والے بیٹے کو اس کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے اسے فوجیوں کا قاتل ثابت ہونے پر سزائے موت کا حکم دیا۔ ولی عہد نے اپنے بھائی کی معافی کیلئے باپ سے گڑگڑا کرسفارش کی تو اس  سلطان نے جو جواب دیا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کے یہ الفاظ آج کے اقربا پرور حکمرانوں کے مونہہ پر زبردست طمانچہ ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ایک باپ کی حیثیت سے میں اس کی موت پر ساری زندگی آنسو بہاؤں گا لیکن  میں  باپ کے علاوہ ایک مسلم ریاست کا حکمران بھی ہوں۔ اگر باغیوں کے ساتھ  رعایت کروں گا تو سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی “۔

 جبکہ ہمارے ناعاقبت اندیش حکمرانوں اور کرپٹ سیاسی معاشرت کے اخلاقیات سےعاری شہزادوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔  خادم اعلی کے صاحبزادے حمزہ شہباز جان نشین بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ میرے جو دوست یہ سمجھتے ہیں کہ حمزہ شریف میں قومی اور بین الاقوامی حالات سے عہدہ برا ہونے کی سیاسی بصیرت ہے، ان کی خوش فہمیوں کو سلام کرتا ہوں۔ جہاں اس شہزادے کو  زبردستی ” لانچ ” کرنے کی تیاریاں ہیں۔ وہاں  خاندان کے اندر جاری مقابلہء تخت و تاج کیلئے  مریم نواز تیار کی جا رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ آمرانہ موروثیت ہی لیگی جمہوریت ہے، جس میں  قربانیاں دینے والوں کا انجام جاوید ہاشمی جیسا ہوتا ہے۔ اور اگر مجھ فاروق درویش جیسا کوئی دیش بھگت، حالات مفلس، ڈرگ مافیوں، سیاسی کرپشن کنگز اور تمام سیاست دانوں کےحلیف فتنہء قادیانیت کی قومی و ملی سازشوں کے بارے پرامن قلم اٹھائے تو اسے شہباز شریف کی پولیس فورس کی موجودگی میں غنڈوں سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا کر در بہ در جلا وطنی پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ کیا نون لیگی قیادت بھی بھٹو صاحب کی ایف ایس ایف برانڈ گسٹاپو طرز کی سیاست اپنا رہی ہے۔ کیا انہیں بھٹو صاحب کا عبرتناک انجام یاد نہیں رہا۔ شریف برادران کو یاد رہے کہ اگر اللہ کے روبرو محشر اولی میں کسی مظلوم فاروق درویش نے گریبان پکڑ لیا تو وہاں اللہ کی گرفت سے چھڑوانے والی کوئی طاقت نہ ہو گی۔

اسی طرح زرداری مافیہ جس بلاول کو فیوچر کنگ کے روپ میں متعارف کروا رہا ہے۔ اس کے لندن مٹیاروں کے ساتھ سیکس سٹوریز، ہم جنس پرستی کے قصے اور نیم برہنہ تصاویر مغرب کے اخباروں اور رسائل میں عام ہیں۔ بلاول ایک مسلم ملک کے وہ مستقبل ہے جو پاکستان میں عیسائی وزیراعظم دیکھنے کا آرزومند ہے۔ موصوف کی بوتل بردار سیاسی نتھ فورس سندھ فیسٹیول کے نام پر اس وقت بھی محو رقص رہتی ہیں جب بھوک اور پیاس سے مرتے ہوئے  تھر کے ہاریوں کے جنازے اٹھ رہے ہوں ۔ تیسری طرف سونامی شہزادوں کا احوال ان سے بھی تکلیف دہ ہے۔ خان صاحب کے صاحبزادے اپنی بہن ٹائرن خان، ماں جمائما خان اور اپنے یہودی کزنوں کے ساتھ لندن کے غیر مسلم  معبدوں کے کلچر میں بھٹک رہے ہیں۔ خان صاحب کا دعوی ہے کہ وہ وزیر اعظم بنے تو لندن کے لوگ ملازمت کیلئے پاکستان کا رخ کریں گے۔ کیا وہ وزیر اعظم بن کر اپنے بچوں کو لندن میں یہودی دسترس میں جانے سے روک سکیں گے؟

نوجوان  سیاسی جانشینوں کیلئے تاریخ  سے دوسری تابندہ مثال، جنگ کسووو میں شہید ہونے والے مراد اول کے بیٹے بایزید یلدرم کی ہے ، جس نے سلطان بنتے ہی سربیا کے شاہ اسٹیفن لازاریوچ کی بیٹی کے عشق میں مبتلا ہو کر اس عیسائی شاہ کو خود مختاری دینے کے عوض اس کی بیٹی شہزادی ڈسپیانا سے شادی کی۔ اور عیسائی بیوی کے رنگ میں شراب میں خوش مست ریاستی امور سے بے پرواہ ہو گیا۔ مگر جب عیسائیوں نے اسلام کیخلاف جنگ کا اعلان کیا تو اس نے شراب سے توبہ تو کی۔ لیکن عیاشی میں گزرے وقت میں ریاست کمزور ہو چکی تھی۔ تیمورلنگ نے عثمانی سلطنت پر حملہ کیا تو سلطان یلدرم میدان جنگ میں فوجوں کی قیادت کی دوا کرنے کی بجائے شاہی حجرے میں  تلاوت اور دعاؤں میں مصروف تھا۔ تیمور کے ہاتھوں شکست کھانے والا یہ سلطان دورانِ قید اسی غمِ شکست میں انتقال کر گیا۔ تیمور نےعثمانی سلطنت کی ایسی اینٹ سے اینٹ بجائی کہ دنیا کو دوبارہ سنبھلنے کی کوئی توقع نہ تھی۔ مگر یلدرم کے بیٹے محمد اول نے دس سالہ انتھک جدوجہد سے بکھری ہوئی سلطنت کو ایسے ناقابل یقین انداز میں بحال کیا کہ پھر اگلی پانچ صدیوں تک اس عثمانی خلافت کی ہیبت زمانے پر طاری رہی۔ یاد رہے کہ اسی مراد اول کا پوتا محمد ثانی ، نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق عظیم عیسائی سلطنت قسطنطنیہ کو فتح کرنے والا سلطان محمد فاتح کہلوایا۔

اب معاملات موروثیت ، قومی ڈکیٹیوں اور شاہی معاشقوں کی حدود سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔ سنگین حالات قومی و ملی نظریات ، ملکی اور اسلامی خطوں کی سلامتی کے حوالے سے شدید خطرات کی گھنٹیاں بجا رہے ہیں۔ اب ضرورت عرب و عجم کے مابین  رشتوں کے استحکام  اور مسلم خطوں کی سلامتی کیلئے ” عالم سلام کے ابھی یا کبھی نہیں اتحاد” کی ہے۔ میرا موقف ہے کہ جو نوازشریف ماضی میں ایٹمی دھماکے کرنے جیسا مہان کریڈٹ کما کر بھی ملی اور قومی لیڈر نہیں بن سکے، ان میں سیاسی بصیرت کسی بلدیاتی کونسلر سے زیادہ نہیں ہے۔ میاں صاحب نے ساری زندگی ضمیروں کی منڈیاں لگا کر جو سیاست کی اس کا وقتِ زوال شروع ہے۔ ایک طرف بھارتی مندروں میں پوجا پاٹ اور فوجی اداروں کیخلاف زہریلا پراپیگنڈا کرنے والی بال ٹھاکری عاصمہ جہانگیر اور نجم سیٹھی جیسے فتنوں کو عہدے اور اختیارات بانٹنے والے حاکموں اور دوسری طرف فتنہء قادری، گستاخین اسلام سنگرز کو لیکر انقلابی ڈرامہ بازوں نے نظریہ پاکستان اور اسلامی  اقدار کا جنازہ نکال دیا ہے۔

 آج ہماری کسی بھی سیاسی قیادت کی اگلی نسل میں تن تنہا عظیم سلطنت ہسپانیہ کی بنیاد رکھنے والےعبدالرحمن داخل جیسا کوئی باہمت صاحب کردار و بصیرت شہزادہ نہیں ہے۔ یہ شاہان حشمت جن شہزادوں کو مسند نشین بنانے کیلئے تلے ہیں ان میں کوئی بھی سلطنت عثمانیہ کی عظمت اگلی پانچ صدیوں تک بحال کرانے کی جہد کرنے والے سلطان محمد اول جیسا زیرک و باعمل موجود نہیں ۔ ہاں مگر ا بھارتی اداروں کی مددگار جاسوس این جی اوز، غدارین ملک و ملت قادیانی ہمنوا ، سعودی عرب اور عرب ممالک کیخلاف ہرزا سرائی کرنے والے ایران برانڈ طبقات، نظام شریعت کیخلاف  وہ  سیکولرز صحافتی ڈان ضرورموجود ہیں، جو پاکستان کو ایک ڈیفالٹر سیکولرریاست بنانے کیلئے سرگرم ہیں۔  ہم  جمہوریت کا رول بیک نہیں ، قومی لٹیروں، کرپشن مافیوں اور ملک کی نظریاتی سرحدوں پر حملہ آور دجالی کرداروں کیخلاف  آہنی کریک ڈاؤن چاہتے ہیں۔

عسکری ادارے فوجی صفوں میں موجود کرپشن میں لتھڑے کرداروں کا کڑا محاسبہ کر سکتے ہیں ، تو  پانامہ لیکس میں بینقاب ہونے والے ایک دو نہیں سارے چار سو  پراگندا چہروں، قومی خزانہ لوٹنے والے سیاست دانوں، کرپٹ بیوروکریٹس اور مفلسان وطن کے خوابوں کے قاتل کرداروں کیخلاف سنگین کریک ڈاؤن کر کے قوم کی اگلی نسلوں کا مستقبل محفوظ کرنے کیلئے عین انصاف اور راست اقدامات میں دیر کیوں ہے۔  باخدا مادر پدر آزاد سیاست اور بے لگام کرپشن کے ان ” ابھی نہیں یا کبھی نہیں” حالات میں یہ پاکستان اور امت مسلمہ پر  صلاح الدین ایوبی جیسا ایک احسان عظیم ہو گا ورنہ تاریخ ہم سب کو روند کر نکل جائے گی ۔ ۔ ۔

لکھا ہے دشت کے ماتھے پہ میرا نام ابھی -:- جواں ہے منصفوں کا شوق ِ قتل ِ عام ابھی

تماشہ حشر کا درویش عروج پر ہے مگر-:- ہے نا تمام مری ضد کا اختتام ابھی

فاروق درویش : واٹس ایپ کنٹیکٹ : 00923224061000

 

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: