بین الاقوامی تاریخِ ہند و پاکستان

اسامہ بن لادن کے پس پردہ حقائق


بجلی چوری کے سب راز و نیاز سکھا کر بلوں کے خوف سے آزادی دلانے والے عوامی خدمت گار میٹر ریڈروں کی بدولت ائرکنڈیشنڈ گھروں یخ بستہ دفاتراور ٹھنڈی گاڑیوں نے ہماری قوت مدافعت اورعادت کچھ اس قدر بگاڑ دی ہے کہ اگر گرمی کی شدت میں لوڈ شیڈنگ کا عذاب شامل ہو جائے تو ہماری خواتینِ خانہ آباد  کیلئے دو روٹیاں پکانا بھی کسی عذاب سے کم تر نہیں ہوتا اور اگر گیس پریشر کم ہو تو یہ ان کیلئے کچن سے فرار کا نہایت معقول بہانہ بھی بن جاتا ہے۔ پچھلے برس ایسے ہی  گرما گرم اور تپتے ہوئے حالات میں ہم بھی روٹیاں لگوانے چار سڑکیں پار بابے سراج کے تندور پر جا پہنچے جہاں پیٹ کا دوزخ بھرنے والے مزدوروں کے بیچ اسامہ کی شہادت یا ہلاکت پر تپتے تندور کی طرح گرما گرم عوامی بحث جاری تھی۔

بابا سراج ایک لمحے کیلئے رکا اور ماتھے کے پسینے سے تندور میں تڑکا لگا تے ہوئے بولا، بابو جی ایتھے آٹے کا ریٹ ود جاوے یا لوڈشیدنگ وچ گرمی کا بخار چڑھے لوگ کہتے ہیں یہ سب امریکہ نے  کرایا ہے اور اگر امریکہ یا کسی ولائتی ملک میں کوئی گڑبڑ ہو یا گورے کا کتا بیمار پڑجائے تو امریکی کہتے تھے سب اسامہ جی نے کروایا جے، بابو جی امریکہ اسی بہانے سے تو ایبٹ آباد تک پہنچ گیا ہے جہاں سے ہمارا ایٹم بموں والا کہوٹہ زیادہ دور نہیں، اللہ سوہنا کرے کوئی مسلمان لوگ ہمارے لیڈروں کو سمجھاویں تو ایناں نوں کوئی عقل آ جاوے۔ میں اس ساٹھ سالہ بوڑھے نان بائی کی ٹوٹی پھوٹی اردو میں باتیں سنتا ہوا، پسینے میں شرابور اس کے تپتے ہوئے سرخ چہرے پر پڑی جھریوں میں گئے وقت کی تلخیاں اور اپنی دھرتی کیلئے چھپا دکھ پڑھتا ہوا کسی گہری سوچ میں کھو گیا۔

اپنے زمانہء طالب علمی کا وہ جنونی دور تیزی سے میری یادوں کے پردے پر کسی ڈاکومنٹری فلم کی طرح چلنے لگا جب میں بھی اپنے ہزاروں ہموطنوں کے ہمراہ ان افغان اورعرب نوجوانوں کے شانہ بشانہ امریکی اسلحہ اٹھائے ہوئے روسیوں کے خلاف جہاد میں بر سر پیکار، ساری دنیا کےمسلم مجاہدین کی طرح اس اسامہ بن لادن کو اپنا ہیرو مانتا تھا ۔ یہ وہی اسامہ تھا جسے اس وقت کے اسلامی مجاہدین کے سرپرست ِ اعلی امریکہ بہادر نے ہی عرب دیس سے بلوا کر افغان جنگجو سردار عبدللہ عزام کے ساتھ مجاہدین کا سپہ سالار ِ اعلی بنایا تھا ، صدر ریگن اور وائٹ ہاوس انتطامیہ اسے افغانستان کے مظلوم عوام کے نجات دہندہ اور انسانیت کے خدائی خدمت گار کا درجہ دیتی تھی، ہالی وڈ ان مجاہدین پرکروڑوں ڈالرزخرچ کرکے جنگی فلمیں بنا رہا تھا اور ہرپاکستانی اور عرب نوجوان ، مجاہدین کے امریکی ساتھی ماڈل فلمی ہیروجان ریمبو جیسا بننے کے خواب دیکھتا تھا۔ یہ وہی دور تھا جب امریکی خفیہ ایجنسیوں کے سب کرتا دھرتا، مغربی اورامریکی میڈیا اسامہ بن لادن کی ڈیزائین کردہ زمینی سرنگوں اور جنگی نوعیت کے تعمیری کاموں کی کسی مقدس آسمانی فرشتے کے کارناموں کی طرح والہانہ انداز میں تشہیر کرتا تھا۔

روس کے پاؤں اکھڑنے کے بعد 1984 میں اسامہ بن لادن اور عبدللہ عزام کی طرف سے مکتب الخدمت بنائے جانے سے لیکر1988 میں مصر میں قائم ہونی والی تنظیم اسلامی جہاد بننے تک کسی امریکی کو اسامہ کی ان حساس اور عسکری نوعیت کی سرگرمیوں پر کوئی اعتراض نہ تھا مگر اس کے بعد نوے کی دہائی کے آغاز میں عراق کویت جنگی ڈرامے میں امریکی کردار کے بعداسامہ کے خلاف سعودی شاہوں کی صدائے اعتراض کیوں بلند ہوئی اور اس کے ساتھ ہی امریکہ کا من پسند ، چہیتا عسکری ہیرو اور مظلوموں کا نجات دہندہ اسامہ کیونکر اسلامی دہشت گردوں کا لیڈر قرار پایا، اس کا جواب آج تک نہ تومغرب کے نام نہاد مفکرین دے پائے ہیں اور نہ امریکی دانشوروں کا ٹولہ۔ وہ سوڈان میں ہونے والی جہادی سرگرمیاں ہوں، ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے بم دھماکے ہوں یا جنگ بوسنیا میں مسلم کش قتل ِعام میں دوغلے سامراجی کردارکے خلاف مسلم مزاحمت کی داستان ِ خونچکاں، تاریخ کے ہر صفحے پرامریکہ کی دوغلی مسلم کش پالیسی سیاہ حروف میں لکھی ہے۔

آج ایک عام آدمی بھی یہ سوال کرتا ہے کہ وہ کون سے جادوئی حالات اور پر اسرارواقعات سے جڑے جادوگری کردارتھے جن کی غیبی مدد سے اسامہ سلیمانی ٹوپی پہنے 1996میں دوبارہ جلال آباد، افغانستان جا پہنچا مگرجدید ترین جاسوسی آلات اور مانیٹرنگ سسٹمز کے باوجود سب امریکی ومغربی ایجنسیاں بے خبر رہیں جبکہ اس وقت کے امریکی حکام اور تمام مغربی خفیہ اداروں کا دعوی تھا کہ گولڈ میہور ہوٹل، ایڈنز پر حملوں اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے بم دھماکوں میں ملوث ہر مجرم اور اس کے نیٹ ورک کی نقل و حرکت کی مکمل ہسٹری ان کے علم میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسامہ کی افغانستان میں دوبارہ آمد سے لیکر نائن الیون کے حملوں تک امریکہ کے حساس ترین اور دور مار کیمروں سے لیس سیٹیلائٹس کی کوریج جام تھی جو امریکہ کے فول پروف دفاعی مونیٹرنگ سسٹم کے ہوتے ہوئے بھی القائدہ نے اتنا بڑا کارنامہ انجام دے دیا؟

بارہ سال گذرجانے کے باجود آج تک کوئی ذی شعور نائن الیون کے واقعات کی امریکی تحقیقاتی رپورٹ ماننے کیلئے تیار نہیں، آج بھی دنیا گوانٹا نامو اور ابوغریب کے امریکی ٹارچر سیلز میں ہونے والے انسانیت سوز تشدد اور شیطانی مظالم سے جڑے ہوئے دہشت گردی کے افسانوں کی پر اسراریت کے بارے سوال کرتی ہے اور پھرعقل انسانی تھک ہار کر اس بات پر یقین کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ کویت عراق جنگ سے لیکر ورلڈ ٹریڈ سینٹر دھماکوں تک اور حسنی مبارک کے قتل کی سازش سے لیکر افغانستان پر امریکی حملے، پاکستان میں بلیک واٹرز کی ہر کاروائی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے جڑے ہر کردار تک کی ہر داستان الف لیلیٰ ایک امریکی انجینئرڈ مسلم کش ڈرامہ اور عالم اسلام کی سرکوبی کے بہانے کے سوا کچھ اور نہیں اور خدشہ ہے کہ ان حالات سے زبردستی جوڑی گئی ہر اگلی کہانی بھی قتل مسلم کیلئے وائٹ ہاؤس میں تیار کردہ ایک خود ساختہ بہانہ ہو گی۔

آج ایک عام آدمی بھی پوچھتا ہے کہ 2004 میں گردوں کی بیماری کے آخری سٹیج پر قرار دیا گیا وہ مریض جس کے بارے مغربی اور امریکی ایجنسیاں اور ماہرین طب یہ سرٹیفیکیٹ دے چکے تھے کہ وہ ڈائلاسس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور اس کی ممکنہ  زندگی ایک دو سال سے زیادہ ہر گز ممکن نہیں، کیسے 2011 تک مسلسل سفر میں بھی ڈائلاسس اورجدید ترین طبعی امداد کی سہولت کے بنا زندہ رہا۔ افلاطون و جالینوس جیسے طلسماتی طبیبوں کی وہ کون سی ٹیم تھی جو اسے  خضر کا آبِ حیات پلا پلا کر زندہ رکھے ہوئے تھی؟ تاریخ کا علم رکھنے والے یہ بھی جانتے ہوں گے کہ دوسری جنگ عظیم میں  برطانوی وزیر اعظم چرچل پر قاتلانہ حملوں کی لاتعداد کوششیں ہوئیں حتیٰ کہ ونسٹن چرچل کے قتل کی خبر بھی نشر ہوئی مگر بعد میں راز یہ کھلا کہ برطانوی سرجنوں نے پلاسٹک سرجری کی مدد سے  چرچل کے کئی ڈپلیکیٹ بنا رکھے تھے۔ سو اگر 1940 میں چرچل کا ڈمی ڈپلیکیٹ بنانا ممکن تھا تو آج کے جدید دور میں اسامہ بن لادن کا ڈمی  بنانا کیسے ناممکن ہے۔ بحرحال ہمارے رنگ رنگیلے شاہوں کے گورے آقاؤں کے ہاتھوں ہماری قومی خود مختاری کے قتل کے اس پراسرار واقعے پراب عدالتی کمیشنوں میں بالوں کی کھال اتاری جائے یا اس حوالے سے ارمڈ فورسز کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں، دفاعی عمل اور ردعمل، کوتاہیوں اور مجرمانہ غفلتوں کے معاملات زیر بحث آئیں۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کا پھیلتا ہوا حجم، امریکی میرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کیلئے جوہر پروف بنکرز، نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا ٹرائلز میں  وائٹ ہاؤس اور پاکستان دشمن اتحادیوں کی جانب سے دن بہ دن بدلتی ہوئی کہانیاں، امریکی ذمہ داروں اور مغربی عہدیداروں کے متضاد بیانات، اینٹی پاکستان مغربی اور ہندو میڈیا کے افواج پاکستان اور خفیہ یجنسیوں کے بارے شرمناک پراپیگنڈے از خود جس سازش کو بے نقاب کر رہے ہیں اورامریکی سپیشل فورسز کی پاکستان کی زمینی اور فضائی حدود کے اندر دور مار اور کہوٹہ کے نزدیک تک پہنچ کر کی گئی کاروائی جس اگلے ممکنہ شیطانی اقدام کے بارے الارم بجا کر آگاہ کر رہی ہے وہ تو ایک تندوریا بابا سراج بھی جانتا ہے تو  بین الاقوامی سازشوں سے جڑے وہ تمام خدشات اورخطرات ہمارے حکمرانوں ، حساس اداروں اور دفاعی اثاثوں اورایٹمی تنصیبات کی محافظ افواج پاکستان کی ذمہ دار اعلی قیادت کےعلم میں کیوں نہ ہوں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ افواج پاکستان اور تمام عسکری ادارے خطے میں  تیزی سے بدلتے ہوئے حالات اور ملکی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے  کسی بھی صورت حال  کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ لیکن سیاست دانوں اور سول حکومت کا  کبوتر کی طرح آنکھیں بند  رکھنے کا مطلب کیا ہو سکتا ہے۔ شاید مجھ سا کم علم اور نا فہم بندہ نہ جانتا ہو چلیں آپ ہی بتا دیجئے۔ گزشتہ دنوں خبر ملی کہ ملک و ملت کا وہ غمخوار بابا سراج تندور والا انتقال کر گیا۔  ہاں مگرشکیل آفریدی یا  ضیاء الدین یوسف زئی جیسے ننگ ملک و ملت کردار اور اسامہ مر کر بھی ابھی کمیشنوں، تحقیقاتوں، کالموں اور خبروں میں زندہ ہے زندہ رہے گا۔۔۔۔

 اترے ہیں مرے دیس صلیبوں کے درندے
بند آنکھیں کئے بیٹھے کبوتر ہیں ابھی تک

گل رنگ ہوئی دار کہ یاران ِ سحر خیز
درویش سے منصور و قلندر ہیں ابھی تک

( تحریر ۔ فاروق درویش – 0092322406100 )

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

1 Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: